Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب النذور ‹ كتاب النذور · حديث 20141

[ 19928 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في غرائب الشيوخ أنبأ أحمد بن سلمان الفقيه ثنا الحسن بن سلام السواق ثنا عبد الله بن رجاء الغداني ثنا المسعودي عن حبيب بن أبي ثابت عن سعيد بن جبير عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما قال أتى رجل النبي صلى الله عليه وسلم فقال أني نذرت أن أذبح ببوانة فقال في قلبك من الجاهلية شيء قال لا قال أوف بنذرك

20141 ابن عباس فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبیﷺ کےپاس آیا اس نے کہا: میں نے نذر مانی کہ بوانہ نامی جگہ پر ذبح کروں گا آپﷺ نے فرمایا: تیرے دل میں جاہلیت کی کوئی چیز ہے ؟ اس نے کہا: نہیں تو فرمایا: اپنی نذر پوری کر۔

أَوْفِ بِنَذْرِكَ. ← لَا۔ ← في قلبك من الجاهلية شيء ← أني نذرت أن أذبح ببوانة ← أَتَی رَجُلٌ النَّبِيَّ ← بن عباس رضى الله تعالى عنهما ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْمَسْعُودِيِّ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامِ السَّوَّاقُ، ← أبو عبد الله الحافظ في غرائب الشيوخ أنبأ أحمد بن سلمان الفقيه

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Vows › The Book of Vows · Hadith 20141

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17717

[ 17495 ] أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو حامد بن بلال ثنا إبراهيم بن عبد الله أنبأ يزيد بن هارون أنبأ بهز بن حكيم بن معاوية القشيري عن أبيه عن جده قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إنكم توفون سبعين أمة أنتم خيرها وأكرمها على الله عز وجل قال الشافعي ثم أخبر جل ثناؤه أنه جعله فاتح رحمته عند فترة رسله فقال { يا أهل الكتاب قد جاءكم رسولنا يبين لكم على فترة من الرسل أن تقولوا ما جاءنا من بشير ولا نذير فقد جاءكم بشير ونذير } وقال هو الذي بعث في الأميين رسولا منهم وكان في ذلك ما دل على أنه بعثه إلى خلقه لأنهم كانوا أهل الكتاب والأميين وأنه فتح به رحمته وختم به نبوته فقال { ما كان محمد أبا أحد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين }

17717 – حضرت بہنر بن حکیم بن معاویہ قیشر ی اپنے والد سے ا ور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسو اللہﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے تم ستر سے زیادہ امتوں میں تقسیم ہپو جاؤ گئ او تم ان سب سے بہتر اور اللہ کے ہاں مکرم ہو گے امام شافی فرماتے ہیں کہپہلے والے رسل کی رسالت کے منقطع ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی اور آپ کی ذات کو فاتح رحمت قرار دیا ہے فرمایا: اے اہل کتاب ہمارا رسول تمہارے پاس رسول کی آمد کے ایک وقفے کے بعد پہنچا ہے وج تمہاےر لیے صاف صاف بیان کر رہا ہے تاکہ تمہاری یہ بات نہ رہ جائے کہ ہمارے پاس تو کوئی بھلائی برائی سنانے والا ایا ہی نہیں پس اب تو خوشخبری سنانے والا اور آگاہ کرنے والا اپہنچا اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے وہی ہے جس نے نا خواندہ لوگوں میں ان ہیں میں سے ایک رسول بھیجا ان ایات میںآ بات کی وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپ کو اپنی تمام مخلوق کے لیے بھیجا کیونکہ ان میں اہل کتاب بھی تجے اور ناخواندہ بھی اور اپکے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنی رھتم کو کھول ااور سلسلہ نبوت کو ختنم کیا اور اس بارے میں فرمان بھی جاری کر دیا تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﷺ نہیں لیکن آپﷺ اللہ تعالیٰ کے رسو ہیں اور تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17717

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17718

[ 17496 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا أبو الربيع ثنا إسماعيل بن جعفر ثنا العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال فضلت على الأنبياء بست أعطيت جوامع الكلم ونصرت بالرعب وأحلت لي الغنائم وجعلت لي الأرض طهورا ومسجدا وأرسلت إلى الخلق كافة وختم بي النبيون رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن أيوب وغيره عن إسماعيل

17718 – حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: مجھے انبیاء پر چھ چیزوں سے فضیلت دی گئی مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے او رمیری رعب و بدبہ کے ساتھ مدد کی گئی میرے یے مال غنیمت حلال کی اگیا اور میرے لیے زمین کو پاک اور مسجد بنا دیا گیا او رمجھے تمام مخلوق کے لیئے رسول بنا کر بھیجا گیا او رمجھے تمام مخلوق کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا او رمیرے ساتھ سلسلہ نبوت کو ختم کیا گیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17718

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17719

[ 17497 ] أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي رحمه الله أنبأ أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ ثنا محمد بن يحيى الذهلي ثنا عفان بن مسلم ثنا سليم بن حيان قال سمعت سعيد بن ميناء قال سمعت جابر بن عبد الله رضى الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ح قال وثنا إبراهيم بن عبد الله ثنا يزيد بن هارون ثنا سليم بن حيان قال سمعت سعيد بن ميناء قال سمعت جابر بن عبد الله رضى الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مثلي ومثل الأنبياء قبلي كمثل رجل ابتنى دارا وقال يزيد بنى دارا فأحسنها وأكملها إلا في موضع لبنة فجعل الناس يدخلونها ويتعجبون منها ويقولون لولا موضع هذه اللبنة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فأنا موضع تلك اللبنة جئت فختمت الأنبياء رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن سنان عن سليم ورواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة وأبي كريب عن عفان قال الشافعي رحمه الله وقضى أن أظهر دينه على الأديان فقال هو الذي أرسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله الآية قال وقد وصفنا بيان كيف يظهر على الدين كله في غير هذا الموضع

17719 – جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میری او رمجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی ماند ہے جس نے گھر بنایا اور اسے بڑا خوبصورت بناا اور اسے ایک اینٹ کی جگہ کے سوا کھگل بناا لوگ اسمین داخل ہونے لگئے اور اس سے تعھب کرنے لگے اور کہنے لگے: کیوں نہیں ا اینٹ کی جگہ کو پر کیا گیا رسول اللہﷺ نے فمایا:پس وہ اینٹ کی جگہ میں ہوں میں آیا او رمیرے ساتھ انبیاء کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ امام شافعی فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ اس دین کو تمام ادیان پر غلاب کرے جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے وہی اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حﷺ کے ساتھ مبعوث کیا تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کرے اور امام صاحب نےا سکے غالب ہونے کی کیفیت کو دوسری جگہ بیان کر دیا ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: ← سعيد بن ميناء، ← سليم بن حيان، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17719

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17720

[ 17498 ] أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب أنبأ جعفر بن عون أنبأ إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم عن خباب رضى الله تعالى عنه قال شكونا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو متوسد بردة له في ظل الكعبة فقلنا ألا تدعو الله لنا ألا تستنصر الله لنا قال فجلس محمارا وجهه قال والله إن من كان قبلكم ليؤخذ الرجل فيحفر له الحفرة فيوضع المنشار على رأسه فيشق باثنتين ما يصرفه عن دينه أو يمشط بأمشاط الحديد ما بين عصبه ولحمه ما يصرفه عن دينه وليتمن الله هذا الأمر حتى يسير الراكب منكم من صنعاء إلى حضرموت لا يخشى إلا الله أو الذئب على غنمه ولكنكم تعجلون أخرجاه في الصحيح من حديث إسماعيل

17720 – حضڑت خباب فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہﷺ سے کی شکایت کی اور آپ اپنی چادر سے کعبہ کے سایہ میں تکیہ گائے ہوئے تھے ہم نے کہا: آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دع اکیوں نہیں کرتے ہمارے لیے اللہ س مدد کیوں نہیں مانگتے ؟ آپﷺ ا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا او راپ سیدھے بیٹھ گئے پھر آپﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! تم میں سے جو پہلے لوگ تھے ان میں سے کسی ایک کو پکڑا جاتا اور اس کے لیےئ گڑھا کھودا جاتا پھر اسکے سر پر آرار رکھا جاتا اور اس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے یہ چیز بگبی ان کو ان کے دین سے نہ پھیر سکی لوہے کی کنگھیوں سے اس کے پتھوں اور گوشت کے درمیان سے نوچ جاتا اور یہ تکلیف بھی اسے اس کے دین سے نہ روک سکتی اور اللہ تعالیٰ اس دین کو ضرور پٹھوں او رگوشت کے درمیان سے نوچا جاتا اور یہ تکلیف بھی اسے اس ے دین سے نہ روک سکتی اور اللہ تعالیٰ اس دین کو ضرور ضرور غالب اور پورا کرے کہ تم میں سے ایک سوار صنعاء حضرت موت تک چلے گا اور اسے اللہ کے علاوہ کسی کا ڈر نہ ہوگا نہ بھیڑیے کا اپنی بکریوں پر لیکن تم جلدی کرتے ہو ۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17720

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17721

[ 17499 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو عمرو المقري أنبأ الحسن بن سفيان ثنا أبو الطاهر أحمد بن عمرو ثنا بن وهب أخبرني يونس عن بن شهاب حدثني عروة بن الزبير أن عائشة رضى الله تعالى عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم أخبرته قال كان أول ما بدىء به رسول الله من الوحي الرؤيا الصالحة في النوم فكان لا يرى رؤيا إلا جاءت مثل فلق الصبح ثم حبب الله إليه الخلاء فكان يخلو بغار حراء فيتحنث فيه وهو التعبد الليالي أولات العدد قبل أن يرجع إلى أهله ويتزود لذلك ثم يرجع إلى خديجة فتزوده بمثلها حتى فجأه الحق وهو في غار حراء فجاءه الملك فقال اقرا فقال ما انا بقارىء قال فاخذني فغطني حتى بلغ مني الجهد ثم أرسلني فقال اقرأ فقلت ما أنا بقارىء فأخذني فغطني الثانية حتى بلغ مني الجهد ثم أرسلني فقال اقرأ فقلت ما أنا بقارىء فأخذني فغطني الثالثة حتى بلغ مني الجهد ثم أرسلني فقال { اقرأ باسم ربك الذي خلق خلق الإنسان من علق اقرأ وربك الأكرم الذي علم بالقلم علم الإنسان ما لم يعلم } فرجع بها رسول الله صلى الله عليه وسلم ترجف بوادره حتى دخل على خديجة رضى الله تعالى عنها فقال زملوني زملوني فزملوه حتى ذهب عنه الروع ثم قال لخديجة أي خديجة ما لي وأخبرها الخبر قال قد خشيت على نفسي قالت له خديجة كلا أبشر فوالله لا يخزيك الله أبدا والله إنك لتصل الرحم وتصدق الحديث وتحمل الكل وتكسب المعدوم وتقري الضيف وتعين على نوائب الحق فانطلقت به خديجة رضى الله تعالى عنها حتى أتت به ورقة بن نوفل بن أسد بن عبد العزى بن قصي وهو بن عم خديجة بن أخي أبيها وكان امرأ تنصر في الجاهلية يكتب الكتاب العربي ويكتب من الإنجيل بالعربية ما شاء الله أن يكتب وكان شيخا كبيرا قد عمي فقالت له خديجة أي عم أسمع من بن أخيك قال ورقة بن نوفل بن أخي ماذا ترى فأخبره رسول الله صلى الله عليه وسلم خبر ما رأى فقال له ورقة هذا الناموس الذي نزل الله على موسى يا ليتني فيها جذعا يا ليتني أكون حيا حين يخرجك قومك قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أومخرجي هم قال ورقة نعم لم يأت رجل قط بما جئت به إلا عودي وإن يدركني يومك أنصرك نصرا مؤزرا رواه مسلم في الصحيح عن أبي الطاهر وأخرجه البخاري من وجه آخر عن يونس

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ پر وحی کی ابدتا نیند کی حالت میں اچھے خوابوں سے ہوئی اور جو بھی آپ خواب دیکھتے وہ حالت بیدری میں صبح کی روشنی کی طرح پورا ہو جات اپھر آپ کو تنہائی اچھی لگنے گی اور غار حرا میں اکیے رہنے لگے اور کئی راتوں تک وہاں عبادت کرتے اس سے پہلے پہلے جب تک کہآپ کے دل میں گھ رانے کا شوق پیدا ہوتا اوراس کام کے لیے اپنے ساتھ زاد راہ لے جاتے پھر جب تو اتبنا ہی زادراہ پھر حضڑت خدیجہ سے لے جاتے یہاں تک کہ آپﷺ اسی غار حڑا میں تھے کہ آپﷺ کے پاس اچانک وحی آگئی اور آپﷺ کے پا فرشتہ آیا اوراس نے کہا: پڑھیے آپ نے فرمایا: می تو پڑھا نہیں ہوں آپﷺ فرماتے ہیں کہ پھر جبریل نے مجھ کو پکڑ کر ایسا دبا یا کہ میں نئ بے طاقت ہو گیا پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا او رکہا کہ پڑھیے میں نے کہ میں تو پڑھ نہیں سکا پھر انہوں نے مجھے پڑکلیا اور دوسری بار زور سے دبایا کہ میں بے سکت ہو گیا پھر انہو نے مجھے چھوڑ ااور کہا: پڑھ میں نے کہا: میں تو پڑھا نہیں ہوں پھر انہوں نے مجھے پکڑ لیااور تیسری بار پھر زور سے بھینچا کہ میری طاقت نے جواب د دیا پھر مجھے چھوڑ دی ااو رکہا: پڑھیے اس پر دردگار کے نام سے پرھ جس نے بنائیں جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا آپﷺ یہ آیات سن کر لوتے اور آپ کا دل کانپ رہا تھا یہاں تک کہ آپﷺ حضرت خدیجہ کے پاس آئے او رکہا: مجھے کمبل اووڑھا دو مجھے کمبل اوڑھا دو انہوںنے کمبل اوڑھا دیا کہ آپ سے خؤف جاتا رہا پھر آپﷺ نے خدیجہ سے کہا: اے خدیجہ مجھے یا ہو گیاہے او رپورا واقعہ بیان کی ااور کہا کہ مجھے اپنی جان کے بارے میں ڈر ہے حضڑت خدیجہ نے آپﷺ سے کہا: ہر گزر نہیں آپ خوش ہو جاؤ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیی آپ کو کبھی رسو انہیں کرے گا اس لیے کہ آپﷺ تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور سچ بات بیان کرتے ہیں اور ناتوآؤں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور جن کا کوئی کمانے والا نہیں ہوتا ان کے کیے کماتے ہیں اور مہمان نوازی کرتے ہیں اور حادثوں میں حق کی مدد کرتے ہیں پھر حضرت خدیجہ آپ کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی جو حضڑت کدیجہ کے چچا زاد بھائی تھے اوور وہ بت پرستہ چھوڑ کر جاہلیت کے زمانے مین عیسائی بن گئے تھے اور وہ کتاب کو عربی زبان میں لکھتے تھے اور انجیل جو اللہ نے ان سے لکھوانا چاہی عربی میں لکھتے تھے اور وہ بوڑھے ضعیف ہو کر اندھے ہو گئے تھے تو انہیں حضرت خدیجہ نے کہا: اے میرے چچا اپنے بھتیجے سے کی بات تو سنو حضرت ورقہ بن نوفل نے کہا: اے میرے بھتیجے تم نے کیا دیکھا ہے ؟ آنحضرت ﷺ نے جو دیکھا تو وہ ان سے بیان کی ات وورقہ بن بوفل نے آپ سے کپا: یہ وی فرشتہ ہے جو موسیٰ پر نازل کیا ہے کاش میں اس وقت نو جوان ہوتا کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کو آپ کی قو جلا وطن کرتی رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا وہ مجھ کو نکال دیں گے ورقہ نے کہا: ہاں جب کبھی کسی شخس نے ایسی بات کہی جیسی آپ کہتے ہو تو لوگ ا کے دشمن بن گئے اور اگر میں آپ کے اس دن کو پالوں تو میں تمہاری پوری قوت سے مدد کروں گا۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو عمرو المقري أنبأ الحسن بن سفيان

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17721

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17722

[ 17500 ] أخبرنا أبو الحسين بن بشران ببغداد أنبأ عبد الصمد بن علي بن محمد بن مكرم ثنا عبيد بن عبد الواحد ثنا يحيى بن بكير ثنا الليث عن عقيل عن بن شهاب قال سمعت أبا سلمة بن عبد الرحمن يقول أخبرني جابر بن عبد الله رضى الله تعالى عنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول فتر الوحي عني فبينما أنا أمشي سمعت صوتا من السماء فرفعت بصري قبل السماء فإذا الملك الذي جاءني بحراء قاعد على كرسي بين السماء والأرض فخشيت منه فرقا حتى هويت إلى الأرض فجئت أهلي فقلت لهم زملوني زملوني فزملوني فأنزل الله عز وجل { يا أيها المدثر قم فأنذر وربك فكبر وثيابك فطهر والرجز فاهجر } قال أبو سلمة والرجز الأوثان قال ثم حمي الوحي بعد وتتابع

17722 – حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نےر سول اللہﷺ سے سنا آپ نے فرمایا: پھر کچھ دیر مجھ سے وحی کا تو قف ہو گیا اور اسی دوران میں ایک بار جا رہا تھا اتنے میں میں نے آسمان سے ایک آواز سنی آنکھ اتھا کر اسمان کی طرف دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ و میرے پا سغار حرام میں آیا تھا آسمان وزمین کے دمریا میں ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں یہ دیکھ کر ڈر گیا کہ میں زمین کی طرف جھکا اور میں گھر کو وٹا اور ان سے کہا : مجھے کمبل اوڑھا دو مجھے کمبل اؤرھا دو کمبل اؤرھا دو پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں اے کپڑا اوڑھنے والے کھڑا ہو جا او رلوگوں کو ڈرا اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر او اپنے کپڑوں کو پاک رکھ او رناپاکی کو چھوڑ دے اور احسان کر کے زیاہد لینے کی خؤاہش نہ کر۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: ← أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← أبو الحسين بن بشران ببغداد أنبأ عبد الصمد بن علي بن محمد بن مكرم

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17722

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17723

[ 17501 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو سهل بشر بن أحمد المهرجاني ثنا داود بن الحسين بن علي بن عقيل هو الخسروجردي ثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث بن سعد حدثني أبي عن جدي أخبرني عقيل بن خالد عن بن شهاب قال سمعت أبا سلمة بن عبد الرحمن يقول أخبرني جابر بن عبد الله رضى الله تعالى عنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول فتر الوحي عني فترة فذكر الحديث بمعناه رواه البخاري في الصحيح عن يحيى بن بكير ورواه مسلم عن عبد الملك بن شعيب

17723 – حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپﷺ سے سنا آپﷺ نے فرمایا: پھر ایک مدت کے لیے مجھ پر وحی کا نزول بند ہو گیا اس کے بعد اوپر ولای حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔

عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبٍ ← يحيى بن بكير ورواه مسلم ← فتر الوحي عني فترة فذكر الحديث بمعناه رواه البخاري في الصحيح ← رَسُولِ اللَّهِ ← جابر بن عبد الله رضى الله تعالى عنه أنه ← أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن شِهَابٍ ← عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، ← جَدِّي، ← أَبِي ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ← داود بن الحسين بن علي بن عقيل هو الخسروجردي ← أبو سهل بشر بن أحمد المهرجاني ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17723

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17724

[ 17502 ] أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي ثنا أبو حامد بن الشرقي إملاء ثنا عبد الرحمن بن بشر بن الحكم ثنا سفيان عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن عروة عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت إن أول ما نزل من القرآن { اقرأ باسم ربك الذي خلق }

17724 - حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ قران مجید میں جس چیز کا پہلے نزول ہو ا وہ ہے ۔

إن أول ما نزل من القرآن اقرأ باسم ربك الذي خلق ← عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← أبو حامد بن الشرقي إملاء ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17724

سنن الکبری البھیقی · كتاب النذور ‹ كتاب النذور · حديث 20142

[ 19929 ] أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنبأ أبو سعيد بن الأعرابي ثنا سعدان بن نصر ثنا أبو محمد الهلالي وهو سفيان بن عيينة عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال إذا كان يوم الجمعة كان على كل باب من أبواب المسجد ملائكة يكتبون الناس الأول فالأول فالمهجر إلى الصلاة كالمهدي بدنة ثم الذي يليه كالمهدي بقرة ثم الذي يليه كالمهدي كبشا حتى ذكر الدجاجة والبيضة فإذا جلس الإمام طوى الصحف واجتمعوا للخطبة رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى عن سفيان وأخرجاه من وجه آخر عن الزهري عن الأغر عن أبي هريرة ثم كالذي يهدي الدجاجة ثم كالذي يهدي البيضة وروينا في كتاب الحج عن علي وابن عباس رضى الله تعالى عنهم أنهما قالا الهدي من الأزواج ثمانية والله أعلم

سعید بن مسیب حضرت ابو ہریرہ سے نقل فرماتے ہی وہ نبی ق تک اس کو پہنچاتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: جمعہ کے دن مسجد وں کے دروزوں ہپر ملائیکہ موجود ہوتے ہیں جو پہلے انے والوں کے نام لکگتے ہیں پہلے آنے والا نما زکی طرف ایسے ہے جیسے اونٹ کی قربانی کرنے والا۔

أبي هريرة رضى الله تعالى عنه يبلغ به النبي ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أبو محمد الهلالي وهو سفيان بن عيينة ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنبأ أبو سعيد بن الأعرابي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Vows › The Book of Vows · Hadith 20142

سنن الکبری البھیقی · كتاب النذور ‹ كتاب النذور · حديث 20143

[ 19930 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب القاضي ثنا محمد بن أبي بكر المقدمي ثنا فضيل بن سليمان عن موسى بن عقبة حدثني حكيم بن أبي حرة الأسلمي سمع رجلا يسأل عبد الله بن عمر رضى الله تعالى عنهما عن رجل نذر أن لا يأتي عليه يوم سماه إلا وهو صائم فيه فوافق ذلك يوم أضحى أو يوم فطر فقال بن عمر رضى الله تعالى عنهما لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم يوم الأضحى ولا يوم الفطر ولا يأمر بصيامهما رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن أبي بكر المقدمي وفي هذه الرواية مع ما رويناه عن عمران بن حصين رضى الله تعالى عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم لا وفاء لنذر في معصية الله ولا فيما لا يملك بن آدم دلالة على أنه لا يلزم قضاؤه

حکیم بن ابی حڑۃ اسلمی نے اک آدمی سے سنا وہ عبداللہ بن عمر سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کر رہے تھے جس نے ایک دن کا نام لے ر کہ اکہ وہ اس میںر وزہ رکھئ گا اس دن عید الاضحیٰ یا عید الفطر آگئی وت ابن عمر نے فرمای اکہ رسول الہﷺ کی زندگی میں تمہارے لیے نمونہ ہے ۔

رجل نذر ← رجلا يسأل عبد الله بن عمر رضى الله تعالى عنهما ← حَكِيمُ بْنُ أَبِي حُرَّةَ الأَسْلَمِيُّ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Vows › The Book of Vows · Hadith 20143

سنن الکبری البھیقی · كتاب النذور ‹ كتاب النذور · حديث 20144

[ 19931 ] وقد أخبرنا أبو عمرو الأديب أنبأ أبو بكر الإسماعيلي أنبأ يوسف القاضي ثنا محمد بن المنهال ثنا يزيد بن زريع ثنا يونس بن عبيد عن زياد بن جبير قال كنت عند بن عمر رضى الله تعالى عنهما أتاه رجل فقال أني نذرت أن أصوم كل ثلاثاء أو أربعاء ما عشت فإن وافقت هذا اليوم يوم نحر فقال بن عمر رضى الله تعالى عنهما إنه قد أمر الله بوفاء المنذر ونهينا أن نصوم هذا اليوم قال فخيل إلى الرجل أنه لم يفهم فأعاد عليه الكلام الثانية فقال بن عمر رضى الله تعالى عنهما قد أمر الله بوفاء المنذر ونهينا عن صيام هذا اليوم قال يونس فذكرت ذلك للحسن فقال يصوم يوما مكانه رواه البخاري في الصحيح عن القعنبي عن يزيد بن زريع دون قول الحسن وأخرجه مسلم من حديث بن عون عن زياد بن جبير

20144 - زیاد بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر کے پاس تھا ان کے پاس ایک آدمی آیا او رکہا : جب تک میں زندہ رہوں گا منگل یا بدھ کا روزہ رکھوں گا اگرچہ اس دن عید الاضحیٰ کیوں نہ ہو ابن عمر فرماتے ہیں کہ اللہ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اس دن روزہ رکھنے سے بھی منع فرمایا ہے ۔

إِنِّي نَذَرْتُ.. ← كنت عند بن عمر رضى الله تعالى عنهما أتاه رجل ← زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← أبو عمرو الأديب أنبأ أبو بكر الإسماعيلي أنبأ يوسف القاضي ← وقد

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Vows › The Book of Vows · Hadith 20144

chevron_left Previous
1…1,7581,7591,760…1,818
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead