سنن الکبری البھیقی · كتاب الأيمان ‹ كتاب الأيمان · حديث 19862
[ 19647 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الفضل بن إبراهيم ثنا أحمد بن سلمة ثنا محمد بن المثنى ثنا سالم بن نوح عن الجريري عن أبي عثمان عن عبد الرحمن بن أبي بكر قال نزل علينا أضياف لنا قال وكان أبي يتحدث إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من الليل قال فانطلق وقال افرغ من أضيافك قال فلما أمسيت جئت بقراهم قال فأبوا فقالوا حتى يجيء أبو منزلنا فيطعم معنا قال فقلت إنه رجل حديد وإنكم إن لم تفعلوا خفت أن يمسني منه أذى قال فأبوا فلما جاء لم يبدأ بشيء فقال أفرغتم من أضيافكم قالوا لا والله ما فرغنا قال ألم آمر عبد الرحمن قال فتنحيت فقال يا غنثر أقسمت عليك إن كنت تسمع صوت ألا أجبت قال فجئت قلت والله ما لي ذنب هؤلاء أضيافك فسلهم قد أتيتهم بقراهم فأبوا أن يطعموا حتى تجيء قال فقال ما لكم لا تقبلون عنا قراكم فوالله لا أطعمه الليلة قال فقالوا والله لا نطعمه حتى تطعمه قال فقال كالشر منذ الليلة لا تقبلون عنا قراكم قال ثم قال أما الأولى فمن الشيطان هلموا قراكم فلما أصبح غدا على النبي صلى الله عليه وسلم قال فقال يا رسول الله بروا وحنثت قال فأخبره فقال بل أنت أبرهم أخيرهم قال ولم يبلغني كفارة رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن المثنى وقول أبي بكر الصديق رضى الله تعالى عنه أما الأولى فمن الشيطان دليل على أن اليمن على ترك الطعام مكروهة وإنما لم يأمره النبي صلى الله عليه وسلم بالكفارة إن كان لم يأمره بها لعلمه بمعرفته بوجوبها ويحتمل أن ذلك كان قبل نزول الكفارة والأول أشبه
19862 - عبدالرحمٰن بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ ہمارے ہاں مہمان ائے او رمیرے والد رات کو نبی ﷺ سے بات چیت کرتے تھے جاتے ہویے مجھے کہنےلگئ : مہمانوں سے فارغ ہو جانا جب شام کے وقت میں نے کھانا پیش کیاتو انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے: آپ کے والد ہمارے ساتھ کھائیں گے تو ہم کھانا کھائیں گے کہتے ہیں : میں نے کہا: وہ تیز مزاج والے ہیں اگر تم نے کھانا نہ کھایا تو مجھے تکلیف کا اندیشہ ہے لیکن انہوں نے انکار کر دیا جب والد صاحب واپس آئے تو سب سے پہلے پوچھا : مہمانوں سے فارغ ہ و گئے انہوں نے کہا: ہم فارغ نہیں ہوئے فرمایا: کیا میں نے عبدالرحمٰن کو حکم نہیں دیا تھا فرماتے ہیں: میں چھپ گیا حضرت ابو بکر نے قسم دے کر آواز دی اگر سنتے ہو تو مجھے جواب دو کہتے ہیں: میں آیا او رکا: میرا قصور نہیں آپ اپنے مہمانوں سے پوچھ لیں میں نے کھانا پیش کیا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر کھانا واپس کر دیا کہ آپ ان کے ساتھ مل کر کھائیں گے تب وہ کھائیں گے ابو بکر فرماتے ہیں تم نے ہماری مہمانی کو قبول کیوں نہ کیا اللہ کی قس میں آج رات کھانانہ کھاؤں گا ۔
فَقُلْتُ: ← حتى يجيء أبو منزلنا فيطعم معنا ← فَأَبَوْا ← فلما أمسيت جئت بقراهم ← افرغ من أضيافك ← فانطلق ← وَکَانَ أَبِي يَتَحَدَّثُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ مِنْ اللَّيْلِ ← نَزَلَ عَلَيْنَا أَضْيَافٌ لَنَا ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الفضل بن إبراهيم
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 19862
