سنن الکبری البھیقی · كتاب آداب القاضي ‹ كتاب آداب القاضي · حديث 20242
[ 20029 ] وأخبرنا أبو عبد الله أخبرني محمد بن الحسن بن الحسين بن منصور ثنا أبي ثنا محمد بن عبد الوهاب قال سمعت الحسين بن منصور يقول دخلت على يحيى بن يحيى فسلمت فلم يلتفت إلي فجلست ناحية حتى تفرق الناس فدنوت وقبلت رأسه فقلت يا أستاذ أي جناية جنيتها قال بلى جنيت جناية وركبت ذنبا عظيما فقلت ما هي قال أرأيت إذا نادى المنادي يوم القيامة أين أصحاب عبد الله بن طاهر ألست ممن يؤخذ في العدالة قال فقلت أستغفر الله وأتوب إليه قال فدنا مني وعانقني وقال الآن أنت أخي
20242 - حسین بن منصور فرماتے ہیں کہ میں یحییٰ بن یحییٰ کے پاس گیا میں نے سلا م کہا ا س نے میری طرف دیکھا ہی نہی میں ایک کونے می بیٹھ گی ایہاں تکک ہ لوگ بکھر گئے می نے قریب ہو کر ان کے سر کا بوسہ لی ااو رکہا: اے استاد مجھ سے کون سا گناہ سر زد ہو گیا؟ اس نے کہا: ہاں تو نے بہت بڑا جرم و گناہکیا ہے میں نے کپا: وہ کیا ہے؟ وہ کہنے گے تیرا کی اخیال ہے جب قیامت کے دنآوازی جائے گی کہ عداللہ بن طاہر کے شاگرد کہاں ہیں؟ کیا تو ان لوگوں میں سے نہیں جن کا عدالت میں مواخذاہ کیا گیا۔
الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبِي ← محمد بن الحسن بن الحسين بن منصور، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Book of ethics of judge › Book of ethics of judge · Hadith 20242
