Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17914

[ 17693 ] حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني إملاء أنبأ أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري بمكة ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار عن أبي العباس عن عبد الله رضى الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يعني حين حاصر أهل الطائف فلم ينل منهم شيئا إنا قافلون غدا إن شاء الله فقال المسلمون كيف نذهب ولم نفتح فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فاغدوا للقتال فغدوا عليهم فأصابتهم جراحة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إنا قافلون غدا فأعجبهم ذلك فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم رواه البخاري في الصحيح عن علي بن المديني ورواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة وغيره عن بن عيينة

17914 - حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : جس وقت طائف والوں کا محآصرہ کی اگیا اور کچھ حآصل نہ ہوا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: جہم انشاء اللہ کل واپس جائیں گے تو مسلمانوں نے کہا: کیسے واپس جائیں ہم کامیاب تو ہوئے نہیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: صبح لڑائی کے کیے تیار رہو صبح انہوں نے ان پر حملہ کی اتو ان کو زخم لگے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہم کل واپس جائیں گے تو لوگوں نے اسکو پسند کی اتو رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے ۔

أَبِي الْعَبَّاسِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17914

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17915

[ 17694 ] وقد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو بكر بن الحسن القاضي وأبو سعيد بن أبي عمرو قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا أبو النضر ثنا سليمان يعني بن المغيرة عن ثابت عن أنس بن مالك رضى الله تعالى عنه فذكر شيئا من قصة بدر قال فدنا المشركون فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم قوموا إلى جنة عرضها السماوات والأرض قال يقول عمير بن الحمام الأنصاري يا رسول الله عرضها السماوات والأرض قال نعم قال بخ بخ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يحملك على قولك بخ بخ قال لا والله يا رسول الله إلا رجاء أن أكون من أهلها قال فإنك من أهلها قال فأخرج تمرات من قرنه فجعل يأكل منهن ثم قال لئن أنا حييت حتى آكل من تمراتي هذه إنها لحياة طويلة قال فرمى بما كان معه من التمر ثم قاتلهم حتى قتل رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي النضر وغيره عن أبي النضر

حضرت انس بن مالک بدر کا واقعہ کا بیان فرماتے ہیں کہ مشرکین قریب ہوئے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: جنت کی طرف بڑھو وہ جنت جس کی چوڑائی زمین اور آسمان کے درمیان فاصلے کے برابر ہے عمر بن حمام انصاری نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ کیا اس کا عرض آسمان و زمین کے درمیانی خلا کے برابر ہے ؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو عمیر نے کہا: واہ واہ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا تو نے واہ واہ کیوں کہا تو عمیر نے کہا کہ صرف اس امید کی وجہ سے کہ میں ان میں سے ہو جاؤں تو آپ ﷺ نے فرمایا: تو ان میں سے ہے اس نے اپنی پوتلی سے کھجوریں نکال کر کھانا شروع کیں۔

عمير بن الحمام الأنصاري: ← فدنا المشركون ← شيئا من قصة بدر ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، ← ثَابِتٍ، ← سليمان يعني بن المغيرة ← أَبُو النَّضْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← أبو بكر بن الحسن القاضي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← وقد

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17915

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17916

[ 17695 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان عن عمرو سمع جابر بن عبد الله رضى الله تعالى عنه يقول قال رجل للنبي صلى الله عليه وسلم يوم أحد أرأيت إن قتلت يا رسول الله أين أنا قال في الجنة فألقى تميرات كن في يده ثم قاتل حتى قتل أخرجاه في الصحيح من حديث سفيان

17916 – حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے احد کے دن رسول اللہﷺ سے کہا اگر آج میں قتل کر دیا جاؤں تو کہا ہو گا تو آپﷺ نے فرمایا: جنت میں اس نے اپنئ سے کھجوریں پھینکیں اور دشمن سے لڑا اور شہید ہو گیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17916

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17917

[ 17696 ] أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنبأ أبو سعيد بن الأعرابي أنبأ الحسن بن محمد الزعفراني ثنا عبد الله بن بكر ثنا حميد عن أنس رضى الله تعالى عنه أن النضر بن أنس عم أنس بن مالك غاب عن قتال بدر فلما قدم قال غبت عن أول قتال قاتله رسول الله صلى الله عليه وسلم المشركين لئن أشهدني الله قتالا ليرين الله ما أصنع فلما كان يوم أحد انكشف المسلمون فقال اللهم إني أبرأ إليك مما جاء به هؤلاء يعني المشركين وأعتذر إليك مما صنع هؤلاء يعني المسلمين ثم مشى بسيفه فلقيه سعد بن معاذ فقال أي سعد والذي نفسي بيده إني لأجد ريح الجن دون أحد واها لريح الجنة قال سعد فما استطعت يا رسول الله ما صنع فوجدناه بين القتلى وبه بضع وثمانون جراحة من ضربة بسيف وطعنة برمح ورمية بسهم وقد مثلوا به حتى عرفته أخته ببنانه قال أنس كنا نقول أنزلت هذه الآية من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فيه وفي أصحابه كذا في كتابي والصواب أنس بن النضر أخرجه البخاري في الصحيح من أوجه عن حميد وأخرجه مسلم من حديث ثابت عن أنس رضى الله تعالى عنه

17917 – حضرت انس فرماتے ہیں : انس بن مالک کے چچا نضر بن انس بدر کی لڑائی سے غائب رہے جب وہ آئے تو کہا کہ میں پہلی لڑائی سے غائب ہوا ہوں جو رسول اللہﷺ نے مشرکین سے لڑئی ہے اگر میں حا ضر ہوتا تو الہ دیکھتا کہ میں کیا کرتا ۔ جب احد کا موقعہ آیا تو مسلموں نے اس کو ظاہر کر دیا اور اس کے کام کو دیکھ لیا ا سنے کہا:اے اللہ میں مشرکوں کے ارادہ سے بری ہوں اور مسلمان جو کریں میں ا ن کو معذور سمجھتاہوں پھر وہ اپنی تلوار لے کر نکلے اور سعد بن معاذ سے ملے ان کو رسول الل نے کہا کہ اللہ کی قسم مجے احد سے آگے جنت کی خؤشبو آرہی ہے جنت کی خؤشبو کتنی پیاری ہے ۔ سعد کہتے ہیں ہیں اے اللہ کے رسولﷺ! میں اس کی طاقت نہیں رکھتا جو اس نے کیا: ہم نے اسکو مقتولین میں پایا ان کو اسی سے اوپر زخم ائے تھے جس میں تلاور نیز اور تیر سب کے زخم تھے ان کا مثلہ کر دیا گیا تھا۔

حُمَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17917

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17918

[ 17697 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الحسن محمد بن محمد بن الخطاب بن عمر الأنصاري ببغداد أنبأ الحسن بن علي بن شبيب المعمري إملاء ثنا هدبة بن خالد ثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد وثابت عن أنس بن مالك رضى الله تعالى عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم أفرد يوم أحد في سبعة من الأنصار ورجلين من قريش فلما رهقوه قال من يردهم عنا وله الجنة أو هو رفيقي في الجنة فتقدم رجل من الأنصار فقاتل حتى قتل ثم رهقوه أيضا فقال من يردهم عنا وله الجنة أو هو رفيقي في الجنة فتقدم رجل من الأنصار فقاتل حتى قتل فلم يزل كذلك حتى قتل السبعة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لصاحبيه ما أنصفنا أصحابنا رواه مسلم في الصحيح عن هداب بن خالد

17918 – انس بن مالک فرماتے ہیں کہ احد کے میدان میں آپﷺ کے سامنے سات انصار اور وہ قریشی اکیلے رہ گئے جب کافروں نے آپ کو گھیر ے میں لے لیا تو آپ ﷺنے فرمایا: کون ہے جو ان کو روکے اس کے کلیے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا ساتھی ہو گا انصار میں سے ایک اگے آیا دشمن سے لڑا اور شہید ہو گیا انہوں نے پھر گھیرا تنگ کیا تو آپ نے فرمایا: جو ان کو روکے گا اس کے لیے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا ساتھی ہو گا ۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17918

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17919

[ 17698 ] أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنبأ عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا عبد الله بن عثمان أنبأ عبد الله هو بن المبارك أنبأ عبيد الله بن الوازع قال سمعت أيوب السختياني يحدث عن بعض بني أنس بن مالك قال عبيد الله أراه ثمامة بن عبد الله بن أنس عن أنس بن مالك رضى الله تعالى عنه قال مررت يوم اليمامة بثابت بن قيس بن شماس وهو يتحنط فقلت يا عم أما ترى ما يلقى المسلمون أي وأنت ههنا قال فتبسم ثم قال الآن يا بن أخي فلبس سلاحه وركب فرسه حتى أتى الصف فقال أف لهؤلاء ولما يصنعون وقال للعدو أف لهؤلاء ولما يعبدون خلوا عن سبيله أو قال سننه يعني فرسه حتى أصلي بحرها فحمل فقاتل حتى قتل

17919 – حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں: وہ یمامہ کی لڑائی کے دن ثابت بن قیس بن شماس کے پاس سے گزرے وہ مہندی لگا رہے تھے میں نے کہا: آپ کو خبر نہیں کہ مسلمانوں پر کیا لاحق ہو گیا اور اپ یہاں ہیں وہ مسکرائے اور کہا بھتیجے ابھئ چلتے ہیں انہوں نے ہتھیار پہنے اور گھورے پر سوار ہوئے صفوں تک پہنچ گئے اور کہا افسوس ہے ان پر اوران کے خو ن پر اور دشمن سے کہا: افسوس ہے ان پر اور جس کی یہ عیادت کرتے ہیں۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17919

Sahih

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17920

[ 17699 ] وأخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنبأ عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا بن عثمان أنبأ عبد الله أنبأ جعفر بن سليمان عن ثابت البناني أن عكرمة بن أبي جهل ترجل يوم كذا فقال له خالد بن الوليد لا تفعل فإن قتلك علي المسلمين شديد فقال خل عني يا خالد فإنه قد كانت لك مع رسول الله صلى الله عليه وسلم سابقة وإني وأبي كنا من أشد الناس على رسول الله صلى الله عليه وسلم فمشى حتى قتل

17920 – ثابت بنانی سے روایت ہے کہ عکرمہ بن ابی جہل ایک لڑائی میں ایک دن پیدل چلنے لگے تو خالد بنولید نے کہا: ایسا نہ گر تیرا قتل مسلمانؤ پر گراں ہو گا انہوں نے کہا: میرا راستہ چھوڑ دیں اے خالد آپ تو نبی ﷺ کے ساتھ دینے میں مجھ سے آگےئ ہیں جبکہ میں اور میر اباپ اللہ کے رسول ﷺ کے سب سے بڑے دشمن تھے وہ چلے اور شہید ہو گئے ۔

له خالد بن الوليد لا تفعل فإن قتلك علي المسلمين شديد ← ثابت البناني أن عكرمة بن أبي جهل ترجل يوم كذا ← بن عثمان أنبأ عبد الله أنبأ جعفر بن سليمان ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← أبو الحسين بن الفضل أنبأ عبد الله بن جعفر

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17920

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17921

[ 17700 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو بكر أحمد بن الحسن قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن الجهم ثنا حجاج بن محمد الأعور أخبرني السري بن يحيى عن محمد بن سيرين أن المسلمين انتهوا إلى حائط قد أغلق بابه فيه رجال من المشركين فجلس البراء بن مالك رضى الله تعالى عنه على ترس فقال ارفعوني برماحكم فألقوني إليهم فرفعوه برماحهم فألقوه من وراء الحائط فأدركوه قد قتل منهم عشرة

17921 – محمد بن سیرین فرماتے ہیں : مسلمان ایک باغ کے پاس پہنچے جس کا دروازہ بند تھا اوراس باغ میں مشرکین تھے تو براء بن مالک ایک ڈھال پر بیٹھ گئے او رکہا کہ مجھے اپنے نیزوں سے اوپر اٹھاؤ او رمجھے ان کی طرف ڈال دو تو انہوں نے اپنے نیزوںسے اٹھایا او رباغ کی دوسری طرف ڈال دیا جب تک انہوں نے اسکو پایا تو وہ ان کے دس آدمی قتل کر چکے تھے ۔

السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17921

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17922

[ 17701 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه ثنا أبو عبد الله محمد بن نصر الإمام ثنا يحيى بن يحيى أنبأ جعفر بن سليمان ثنا أبو عمران الجوني عن أبي بكر بن أبي موسى عن أبيه أنه كان بحضرة العدو قال فسمعته يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول الجنة تحت ظلال السيوف قال فقام رجل رث الهيئة فقال يا أبا موسى أنت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول هذا قال اللهم نعم قال فرجع إلى أصحابه فسلم عليهم ثم كسر جفن سيفه وشد على العدو ثم قاتل حتى قتل

17922 – ابو بکر بن ابی موسیٰ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب دشمن سے حاضر ہوا تو انہوں نے کہا میں نےر سول اللہﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا جنت تلواروں کے سائے میں ہے ایک آدمی اٹھا پر اگندہ حآلت میں تھا ا سنے کیہا: اے ابو موسٰ تو نے خود رسول اللہﷺ سے یہ کہتے ہوئے سنا؟ ا س نے کہا: ہاں وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا ان کو سلام کی ااور اپنی تلوار کی میان کو توڑا اور دشمن پر زور دار حملہ کیا اور شہید ہو گیا۔

اللَّهُمَّ نَعَمْ ← ھَذَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← يا أبا موسى آنت ← فقام رجل رث الهيئة ← الجنة تحت ظلال السيوف ← رَسُولِ اللَّهِ ← أبيه أنه كان بحضرة العدو ← أَبِي بَکْرِ بْنِ أَبِي مُوسَی ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← يحيى بن يحيى أنبأ جعفر بن سليمان ← أبو عبد الله محمد بن نصر الإمام ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17922

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17923

[ 17702 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو سعيد بن أبي عمرو قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن مرزوق ثنا سعيد بن عامر عن شعبة عن سليمان عن أبي وائل قال قال حذيفة رضى الله تعالى عنه في قول الله عز وجل { ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة } في النفقة أخرجه البخاري من حديث النضر بن شميل عن شعبة وقال غيره عن الأعمش في هذا قال هو ترك النفقة في سبيل الله

حضرت حذیفہ فرماتے ہیں: آیت اور ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو نفقہ کے بارے میں نازل ہوئی ۔

أَبِي وَائِلٍ ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17923

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17924

[ 17703 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو سعيد بن أبي عمرو قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن الفضل الصائغ ثنا آدم بن أبي إياس ثنا شيبان عن منصور بن المعتمر عن أبي صالح مولى أم هانئ عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما في قوله { وأنفقوا في سبيل الله } الآية قال يقول لا يقولن أحدكم لا أجد شيئا إن لم يجد إلا مشقصا فليجهز به في سبيل الله { ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة }

17924 – حضرت عبداللہ بن عباس اللہ کے قول او راللہ کےر استے میں خرچ کرو کے بارے میں کہتے ہیں ہر گز کوئی یہ نہ کہے کہ میرے پا س اللہ کے راستہ میں دینے کو کچھ نہیں اگر اس پاس ایک نیزہ ہوتو اس کے ساتھ تیار کرے اور ہاتھوں کو ہلاکت میں طرف مت ڈالو۔

بن عباس رضى الله تعالى عنهما في قوله الآية ← أبي صالح مولى أم هانئ ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← شَيْبَانَ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← أحمد بن الفضل الصائغ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17924

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17925

[ 17704 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو سعيد بن أبي عمرو قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن مرزوق ثنا أبو عبد الرحمن المقري عن حيوة بن شريح أنبأ يزيد بن أبي حبيب حدثني أسلم أبو عمران قال كنا بالقسطنطينية وعلى أهل مصر عقبة بن عامر وعلى أهل الشام رجل يريد فضالة بن عبيد فخرج من المدينة صف عظيم من الروم فصففنا لهم فحمل رجل من المسلمين على الروم حتى دخل فيهم ثم خرج علينا فصاح الناس إليه فقالوا سبحان الله ألقى بيده إلى التهلكة فقام أبو أيوب الأنصاري صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا أيها الناس إنكم لتأولون هذه الآية على هذا التأويل إنما أنزلت هذه الآية فينا معشر الأنصار إنا لما أعز الله دينه وكثر ناصروه فقلنا فيما بيننا بعضنا لبعض سرا من رسول الله صلى الله عليه وسلم إن أموالنا قد ضاعت فلو أقمنا فيها قد أصلحنا ما ضع منها فأنزل الله عز وجل يرد علينا ما هممنا به فقال وأنفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة فكانت التهلكة في الإقامة التي أردنا أن نقيم في أمولانا نصلحها فأمرنا بالغزو فما زال أبو أيوب رضى الله تعالى عنه غازيا في سبيل الله حتى قبضه الله عز وجل

17925 – حضرت اسلم ابو عمران کہتے ہیں: ہم قسطنطنیہ میں تھے اس وقت امیر عقبہ بن عامر تھے اور شام میں ایک اور آمی امیر تھا جس کا نام فضالہ بن عبید تھا روم سے ایک بڑا شلرک نکلا ہم نے ان کے لیے صف بندی کی ایک مسلمان نے رومیون پر حملہ کریا وہ ان کے پاس داخل ہوا پھر باہر آیاتو لوگ اس کو چینخ کرکہہ رہے تھے اس نے خؤد کو پلاکت میں ڈال دیا ہے ابو ایوب الا نصایر کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ یہ کچھ انصاریوں کے بارے میںنازل ہوئی ہے جب دین کی عزت اور مدد گار زیاہد ہو گئے تو ہم بع ساتھیوں نے رسول اللہﷺ سے پوشیدہ رکھ کر بات کی کہ ہمارے مال ضائع ہو گئے ہیں اگر ہم وہاں ہوں ان کی اصلاح ہو سکے تو اللہ نے ہماری سو چ کی ترید ید اس قول سے کی ہے۔

كنا بالقسطنطينية وعلى أهل مصر عقبة بن عامر ← أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ ← حيوة بن شريح أنبأ يزيد بن أبي حبيب ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17925

chevron_left Previous
1…1,7761,7771,778…1,818
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer25. Group reading doors26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead