Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17842

[ 17620 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه ثنا إسحاق بن الحسن ثنا عفان ثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس رضى الله تعالى عنه أن رجلا من أسلم أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال إني أريد الجهاد وليس معي ما أتجهز به فقال إن فلانا قد تجهز ثم مرض فاذهب إليه فقل إن رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرئك السلام ويأمرك أن تعطيني ما أتجهز به فأتاه فقال لامرأته انظري أن تعطيه ما جهزتني به ولا تحبسي منه شيئا فيبارك الله لك فيه رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة عن عفان

17842 - حضڑت انس فرماتے ہیں کہ بنو اسلم سے ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آی ااور عرض کی امیں جہد پر جانے کا اردہ رکھتا ہوں مر میرے پاس زاد راہ نہیں آپﷺ نے فرمایا: فلاں آدمی نے جہاد کی تیاری کی پھر وہ بیمار ہو گیاتو اس کے پاس جا اور اس کو کہہ کر رسول اللہﷺ تجھے سلام کہتے ہیں اور تجھے حکم دیتے ہیں کہ زاد راہ مجھے دے دے جس سے میں جہاد کی تیار ی کر سکوں وہ آدمی اس کے پاس گ ااور اس کو کہا اس نے اپنی بیوی کو کہ اجو کچھ میرے لیے تیار کیا تھا وہ دیکھ کر اس کو دے وہ اور کوئی چیز روک کر نہ رکھنا اللہ تجھے برکت دے گا۔

إني أريد الجهاد وليس معي ما أتجهز به ← أنس رضى الله تعالى عنه أن رجلا من أسلم أتى النبي ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17842

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17843

[ 17621 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو سعيد بن أبي عمرو قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي عمرو الشيباني عن أبي مسعود الأنصاري رضى الله تعالى عنه قال جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله صلى الله عليه وسلم إنه أبدع بي فاحملني فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس عندي فقال رجل ألا أدلك يا رسول الله على من يحمله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم من دل على خير فله أجر مثل فاعله قال أبو عبد الله في روايته قال أبو معاوية أبدع بي يقول قطع بي رواه مسلم في الصحيح عن أبي كريب عن أبي معاوية

17843 - حضرت اب ومدود انصاری فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس ایک ادمی آکر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ میں تھک گا ہوں مجھےس واری دیں رسول اللہﷺ نے فرمایا: میرے پاس نہیں ہے ایک ادمی نےکہا اے اللہ کےر سول میں ایسا ادمی بتاؤں جو اس کو سواری دے ؟ آپ نے فرمایا: بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والا اور اس پر عمل کرنے والا اجر میں برابر ہیں۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17843

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17844

[ 17622 ] وأخبرنا أبو محمد بن المؤمل أنبأ أبو عثمان البصري ثنا محمد بن عبد الوهاب أنبا يعلى بن عبيد ثنا الأعمش فذكره إلا أنه قال فقال ما أجد ما أحملك ولكن ائت فلانا فاتاه فحمله فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره فقال من دل على خير فله مثل أجر فاعله

17844 – اعمش فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میرے پاس کچھ نہیں جو میں تم کو سواروں کے لیے دوں ہاں تم فلاں آدمی کے پاس جاؤں وہ گیا اس آدمی نے اسکو سواری دییہ آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور خبر دی تو آپ نے فرمایا: بھلائی کی طرف راہنمائی کرنے والا اور اس پر عمل کرنے والا اجر میں برابر ہیں۔

مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ‏.‏ ← ما أجد ما أحملك ولكن ائت فلانا فاتاه فحمله فأتى النبي ← الأَعْمَشُ فَذَكَرَهُ إِلاَّ إِنَّهُ ← محمد بن عبد الوهاب أنبأ يعلى بن عبيد ← أبو محمد بن المؤمل أنبأ أبو عثمان البصري

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17844

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17845

[ 17623 ] أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنبأ عبد الله بن جعفر بن درستويه ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو صالح ومحمد بن رمح قالا ثنا الليث بن سعد عن حيوة بن شريح الكندي التجيبي عن بن شفي عن أبيه عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضى الله تعالى عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال للغازي أجره وللجاعل أجره وأجر الغازي وأن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قفلة كغزوة

17845 – حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: غازی کا اجر ا س کا ہے اور اس کو تیار کرنے والے کا اجر ا س کا ہے غازی کا اجر اور تیار کرنے والے کا اجر برابر ہے اور رسول اللہﷺ نےف رمایا: غازی پر خرچ کر نا لڑئای کی طرح ہے ۔

عبد الله بن عمرو بن العاص رضى الله تعالى عنهما ← أَبِيهِ ← بن شفي ← حيوة بن شريح الكندي التجيبي ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو صَالِحٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17845

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17846

[ 17624 ] أخبرنا أبو علي الروذباري أنبأ أبو بكر بن داسه ثنا أبو داود ثنا إسحاق بن إبراهيم الدمشقي أبو النضر ثنا محمد بن شعيب أخبرني أبو زرعة يحيى بن أبي عمرو السيباني عن عمرو بن عبد الله أنه حدثه عن واثلة بن الأسقع رضى الله تعالى عنه قال نادى رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك فخرجت إلى أهلي وأقبلت وقد خرج أول صحابة رسول الله صلى الله عليه وسلم فطفقت في المدينة أنادي ألا من يحمل رجلا له سهمه فنادى شيخ من الأنصار قال لنا سهمه على أن نحمله عقبته وطعامه معنا قلت نعم فسر على بركة الله فخرجت مع خير صاحب حتى أفاء الله علينا فأصابني قلائص فسقتهن حتى أتيته فخرج فقعد على حقيبة من حقائب إبله ثم قال سقهن مدبرات ثم قال سقهن مقبلات فقال ما أرى قلائصك إلا كراما قال إنما هي غنيمتك التي شرطت قال خذ قلائصك بن أخي فغير سهمك أردنا قال الشيخ رحمه الله فغير سهمك أردنا يشبه أن يكون أراد أنا لم نقصد بما فعلنا الإجارة وإنما قصدنا الاشتراك في الأجر والثواب والله أعلم

17846 – حضرت واثلہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے غزوہ تبوک کے لیے منادی کی میں اپنئ گھر گیا جب واپس آیا تو آپ ﷺ نے ابتدائی ساتھی جا چکے تھے می نے مدینہ کا چکر لگایا اور اعلان کی ا جو شخص ایک آدمی کو سواری دے اس کا حصہ سواری دینےو الے کا ہو گا انصار کے ایک معزور آدمی نے کہا کہ اس کا حصہ ہمارا ہو گا اس کے بدلہ میں ہم اس کوسواری دیں گے اور اس کا کھانا ہمارے ساتھ ہو گا میں نے قبول رک لیا ا سنے کہا: چلو اللہ کی برکت کے ساتھ میں نکلا اپنے بہترین ساتھی کے ساتھ ہمیں لڑائی بنا ہی مال ملا مجھے کچھ اونٹنیاں ملین میں نے ان کو پانی پلایا پھر میں اس کے پاس ایا وہ نکل ااور اونٹ کے کجاوے پر بیتھ گیا پھ اس نے کہا ان کو پانی پلاؤ اتے جاتے ۔

عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو زَرْعَةَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو النَّضْرِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو علي الروذباري أنبأ أبو بكر بن داسه

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17846

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17847

[ 17625 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أحمد بن محمد العنزي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا أبو توبة الربيع بن نافع ثنا بشير بن طلحة عن خالد بن دريك عن يعلى بن منية رضى الله تعالى عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يبعثني في سراياه فبعثني ذات يوم وكان رجل يرحل لي فقلت له ارحل فقال ما أنا بخارج معك قلت لم قال حتى تجعل لي ثلاثة دنانير قلت الآن حين ودعت النبي صلى الله عليه وسلم ما أنا براجع إليه ارحل ولك ثلاثة دنانير فلما رجعت من غزاتي ذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم أعطها إياه فإنها حظه من غزاته وقد مضى في كتاب القسم عن عبد الله بن الديلمي عن يعلى بن منية في معناه

حضرت یعلیٰ بن فیہ فرماتے ہیں کہ نبیﷺمجھے غزوات میں بھیجتے تھے ایک مرتبہ آپ نے مجھے روانہ کیا ایک ادمی میری خچر پر سوار ہوتا تھا میں نے اسکو کہا سواری تیار کرو اور چلو اس نے کہا: میں تیرے ساتھ نہیں جاؤں گا میں نے کہا: کیوں؟ اس نے کہا: پہنے ممیرے لیے تین دنار مقرر کرو میں نے کہا: اب تو میں نکل گیا ہوں او رآپ کی طرف نہیں جاؤں گا سواری تیار کو اور تجھے تین دینار ملیں گے

يعلى بن منية رضى الله تعالى عنه ← خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ، ← بَشِيرُ بْنُ طَلْحَةَ، ← أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أحمد بن محمد العنزي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17847

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17848

[ 17626 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد الصفار ثنا عبيد بن شريك ثنا أبو صالح يعني محبوب بن موسى ثنا الفزاري عن سعيد الجريري عن أبي نضرة عن أبي فراس قال خطبنا عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه فقال في خطبته أيها الناس إني لم أبعث إليكم عمالي ليضربوا أبشاركم ولا ليأخذوا أموالكم ولكن بعثتهم ليعلموكم دينكم وسنتكم فمن فعل به غير ذلك فليرفعه إلي فأقصه منه ألا لا تضربوا المسلمين فتذلوهم ولا تمنعوهم فتكفروهم ولا تجمروهم فتفتنوهم ولا تنزلوهم الغياض فتضيعوهم

حضرت ابو فراس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے خطبہ میں ہمیں کہا: اے لوگو! میں عمال کو تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہارے چمشموں کو بند کر دیں اور تمہارے مال کو لے لیں ان کو اس لیے بھیجتتا ہوں کہ وہ تم کو دین کھائیں اور سنت سھائیں اگر ان میں سے کوئی اس کے علاوہ کام کرے تو اس کا معاملہ مجھ تک پہنچاؤ میںا س سے بدلہ لوں گا خبر دار ! مسلمانوں کو مار کر ان کو ذلیل نہ کر و۔

خطبنا عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه ← أَبِي فِرَاسٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← الْفَزَارِيُّ، ← أبو صالح يعني محبوب بن موسى ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17848

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17849

[ 17627 ] أخبرنا أبو علي الروذباري أنبأ أبو بكر بن داسه ثنا أبو داود ثنا موسى بن إسماعيل ثنا إبراهيم بن سعد أنبا بن شهاب عن عبد الله بن كعب بن مالك الأنصاري أن جيشا من الأنصار كانوا بأرض فارس مع أميرهم وكان عمر رضى الله تعالى عنه يعقب الجيوش في كل عام فشغل عنهم عمر رضى الله تعالى عنه فلما مر الأجل قف أهل ذلك الثغر فاشتد عليه وأوعدهم وهم أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا يا عمر إنك غفلت عنا وتركت فينا الذي أمر به النبي صلى الله عليه وسلم من أعقاب بعض الغزية بعضا

17849 - عبداللہ بنکعب بن مالک انصاری فرماتے ہیں کہ انصار کا لشکر اپنے امیر کے ستاھ فارس میں تھا اور حضرت عمر کا معمول تھا کہ ایک سال بعد لشکر کو واپس بلاتے تھے حضرت عم ان سے غافل ہو گئے جب مقرر وقت گزر گئیا تو سر حد والے لوگ لوت آئے امیر نے ان پر سختی کی اور ڈرایا اور یہ لوگ رسول اللہﷺ نے صحابی تھے انہوں نے عمر سے کہا: اپ ہم سے غافل ہو گئے او راپ نے ہمارے برے میں نبیﷺ کے حکم کو ترک کر دیا کہ لشکر کو تھوڑا تھورا کر کے واپس لایا جائے ۔

إبراهيم بن سعد أنبا بن شهاب ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو علي الروذباري أنبأ أبو بكر بن داسه

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17849

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17850

[ 17628 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن حمشاذ العدل ثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي ثنا إسماعيل بن أبي أويس حدثني مالك عن عبد الله بن دينار عن بن عمر قال خرج عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه من الليل فسمع امرأة تقول تطاول هذا الليل واسود جانبه وأرقني أن لا حبيب ألاعبه فقال عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه لحفصة بنت عمر رضى الله تعالى عنها كم أكثر ما تصبر المرأة عن زوجها فقالت ستة أو أربعة أشهر فقال عمر رضى الله تعالى عنه لا أحبس الجيش أكثر من هذا

17850 – حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رات کو نکلے انہوں نے ایک عورت کی آواز سنی وہ شعر پرھ رہی تھی رات لمبی ہو گئی اور اس کے اطراف سیاہ ہو گئے ہیں میری راتوں کی نیند اڑا دی ہے اس بات نے کہ میر احبیب نہیں ہے اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو میں اس کی دیکھ بھا ل کرتی اور اس چار پائی کے پہلو حرکت کرتے۔

خرج عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه من الليل ← بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← مَالِكٍ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17850

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17851

[ 17629 ] أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي وأبو بكر أحمد بن الحسن القاضي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ الربيع بن سليمان أنبأ الشافعي أنبأ عبد العزيز بن محمد عن جعفر بن محمد عن أبيه عن يزيد بن هرمز أن نجدة كتب إلى بن عباس هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغزو بالنساء وهل كان يضرب لهن بسهم فقال قد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغزو بالنساء فيداوين الجرحى ولم يكن يضرب لهن بسهم ولكن يحذين من الغنيمة أخرجه مسلم في الصحيح كما مضى قال الشافعي ومحفوظ أنه شهد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم القتال العبيد والصبيان وأحذاهم من الغنيمة

حضرت نجدہ نے ابن عباس کو لکھا کہ کیا رسول اللہ ﷺنے عورتوں کے ساتھ مل کر لڑئای ک ی ہے ؟ او رکیا ان کو حصہ دیا ہے ؟ ابن عباس نے جواب دیا : عورتیں آپ کے لشکر کے سات ہوتی تھیںاور وہ زخموں کا علاج معالجہ کرتی تھیں لیکن ان کے لیے مال غنیمت سے حصہ نہیں ہوتا تھا جبکہ آپ ﷺ ان کو عطیہ کچھ دے دیتے تھے ۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17851

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17852

[ 17630 ] أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو حامد بن بلال ثنا يحيى بن الربيع ثنا سفيان بن عيينة عن إسماعيل بن أمية عن سعيد بن أبي سعيد عن يزيد بن هرمز قال كتب نجدة إلى بن عباس رضى الله تعالى عنهما يسأله عن العبد والمرأة يحضران المغنم هل لهما من المغنم شيء قال فكتب إليه ليس لهما شيء إلا أن يحذيا أخرجه مسلم في الصحيح من حديث بن عيينة وذكر أبو يوسف في هذا الحديث عن إسماعيل يسأله عن الصبي متى يخرج من اليتم ومتى يضرب له بسهمه فقال انه يخرج من اليتم إذا احتلم ويضرب له بسهم

17852 – ضرت نجدہ نے ابن عباس کو لکھ اکہ کیا غلام اور عورت کا مال غنیمت میں حآہ ہے ؟ تو انہوں نے ان کو لکھ اکہ ان دونوں کا کوئی حصہ نہیں ہے مگر یہ کہ ان کو عطیہ دیا جائے ۔

نجدة إلى بن عباس رضى الله تعالى عنهما يسأله ← يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ ← أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو حامد بن بلال

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17852

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17853

[ 17631 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو بكر القاضي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنبأ بن وهب أخبرني يزيد بن عياض عن إسماعيل بن أمية القرشي فذكر هذا الحديث وقال فيه وسأل عن اليتيم متى يخرج من اليتم ويقع حقه في الفي فكتب إليه إذا احتلم فقد خرج من اليتم ووقع حقه في الفيء يزيد بن عياض لا يحتج به وسقط من إسناده سعيد بن أبي سعيد

17853 – اسماعیل بن امیہ سے مزکوہر روایت کے بعد یہ منقول ے کہ یتیم کب یتیمی سے نکلتا ہے اور مال فییٰ سے کب اس کا حق رکھا جائے گا تو انہوں نے جواب دیا جب بالغ ہو جائے تو بچہ یتیم نہیں رہتا اس کا حق مال فیٰ مین ثابت ہو جاتا ہے ۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17853

chevron_left Previous
1…1,7701,7711,772…1,818
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer25. Group reading doors26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead