سنن الکبری البھیقی · كتاب آداب القاضي ‹ كتاب آداب القاضي · حديث 20293
[ 20080 ] أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد ثنا محمد بن عبيد ثنا المختار وهو بن نافع عن بن مطر قال خرجت من المسجد فإذا رجل ينادي من خلفي أرفع إزارك فإنه أنقى لثوبك وأتقى لك وخذ من رأسك إن كنت مسلما فمشيت خلفه فقلت من هذا فقال لي رجل هذا علي أمير المؤمنين فذكر الحديث قال ثم أتى دار فرات وهو سوق الكرابيس فقال يا شيخ أحسن بيعي في قميص بثلاثة دراهم فلما عرفه لم يشتر منه شيئا ثم أتى آخر فلما عرفه لم يشتر منه شيئا فأتى غلاما حدثا فاشترى منه قميصا بثلاثة دراهم ولبسه ما بين الرسغين إلى الكعبين قال فجاء أبو الغلام صاحب الثوب فقيل يا فلان قد باع ابنك اليوم من أمير المؤمنين قميصا بثلاثة دراهم قال أفلا أخذت درهمين فأخذ أبوه درهما وجاء به إلى أمير المؤمنين فقال أمسك هذا الدرهم يا أمير المؤمنين قال ما شأن هذا الدرهم قال كان قميصا ثمن درهمين قال باعني برضاي وأخذ برضاه
ابن نافع حضرت ابن مطر سے نقل فرماتے ہیں کہ می مسجد سے نکل اتو پیچھے سے مجھے ایک آدمی نے آواز دی اپنی چادر کو اوپر اٹھاؤ یہ کپڑے کی صفائی کے لیئ بھی بہتر ہے اور آپ کے لیے مناسب بھئ ہے اور پانےس ر کےبالوں کو بھی کاٹو اگر مسلمان ہو میں ان کے پیچھے چلا میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ تو ایک آدمی نے جواب دیا : یہ امیر المومنین حضرت علی تھے راوی فرماتے ہیں کہ پھر وہ فرات کئ گھرائے وہ کرابیس کا بازا ر ہے اس نے کہا: اے شیخ تیندرہم کے عوض قمیص فروخت رکو جب اس نے پہچان لی اتو اس سے بیچا کچھ نہیں جب دوسرے کے پاس آئے اس نے بھی پہچان کے بعد کچھ نہ بیچا پھر ایک نوجوان غلام کے پاس اس سے بیچا کچھ نہیں جب دوسرے کے پسا آئے اس نے بھئ پہچان کے بعد کچھ نہ بیچا پھر ایک نوجوان غلام کے پاس اس نے تین درہم کےع وض قمیص بیچ دی ۔
بن مطر ← المختار وهو بن نافع ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Book of ethics of judge › Book of ethics of judge · Hadith 20293
