سنن الکبری البھیقی · كتاب الحدود ‹ كتاب الحدود · حديث 16973
[ 16750 ] أخبرنا أبو الحسن بن أبي المعروف الفقيه أنبأ أبو سهل الإسفرائيني أنبأ أبو جعفر أحمد بن الحسين الحذاء ثنا علي بن عبد الله المديني ثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة ثنا محمد بن إسحاق عن نافع عن بن عمر قال بينما أبو بكر رضى الله تعالى عنه في المسجد جاءه رجل فلاث عليه بلوث من كلام وهو دهش فقال أبو بكر لعمر رضى الله تعالى عنه قم إليه فانظر في شأنه فإن له شأنا فقام إليه عمر رضى الله تعالى عنه قال إنه ضافه ضيف فوقع بابنته فصك عمر رضى الله تعالى عنه في صدره وقال قبحك الله ألا سترت على ابنتك قال فأمر بهما أبو بكر رضى الله تعالى عنه فضربا الحد ثم تزوج أحدهما من الآخر وأمر بهما فغربا عاما أو حولا قال علي هكذا رواه محمد بن إسحاق عن نافع عن بن عمر وخالف عبيد الله بن عمر في إسناده ولفظه
16973 – ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا اور گھما پھرا کر بات کرنے لگا اور وہ گھبرایا ہوا تھا تو آپ نے عمر سے کہا اس سے پوچھو کیا ہوا ہے ؟ کوئی بات ہے ؟ تو حضرت عمر اس کے پاس گئے تو اس نے بتایا کہ اس کے ہاں کوئی مہمان تھا تو وہ اس کی بیٹی پر واقع ہو گیا تو حضرت عمر نے اس کے سینے پر مارا اور کہا اللہ تجھے برباد کرے تو نے اپنی بیٹی کی پردہ پوشی کیوں نہیں کی تو ابو بکر نے دونوں کو بلایا ار حد لگائی اور پھر ان کی شادی کر دی اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا۔
بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Frontiers › The Book of Frontiers · Hadith 16973
