سنن الکبری البھیقی · كتاب الضحايا ‹ كتاب الضحايا · حديث 19101
[ 18881 ] أخبرنا أبو علي الروذباري أنبا محمد بن بكر ثنا أبو داود ثنا إبراهيم بن موسى ح قال وحدثنا علي بن بحر ثنا عيسى هو بن يونس المعني عن ثور حدثني أبو حميد الزعيني أخبرني يزيد ذو مصر قال أتيت عتبة بن عبد السلمي فقلت يا أبا الوليد إني خرجت ألتمس الضحايا فلم أجد شيئا يعجبني غير ثرماء فكرهتها فما تقول قال أفلا جئتني بها قلت سبحان الله تجوز عنك ولا تجوز عني قال نعم إنك تشك ولا أشك إنما نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المصفرة والمستأصلة والبخقاء والمشيعة والكسراء فالمصفرة التي تستأصل أذنها حتى يبدو صماخها والمستأصلة قرنها من أصله والبخقاء التي تبخق عينها والمشيعة التي لا تتبع الغنم عجفا وضعفا والكسراء الكسير
19101 – عتبہ بن عبد سلمیٰ کہتے ہین کہ میں نے کہا: اے ابو الو لید میں قربانی کی تلاش میں نکلکا تو میں نے کوئیق ربانی نہ پائی جو مجھے پسند ہو لیکن کان کٹی ہوئی موجود تھی اس کے بارے می آپ کیا کہتے ہیں؟ فرمایا: کیا آپ اس کو لے کر نہیں آئے ؟ میں نے پوچھا: اللہ پاک ہے اس کے لیے جبکہ میرے لیے جائز نہیں ہے ؟ فرماتے یں: تجھے شک ہے جبکہ مجھے شک نہیں ہے کیونکہ رسو اللہﷺ نے ایسا جانور جس کا کان کاٹن کے بعد اس کا سوراخ واضح ہو جائے اور سینگ جڑ سے اکھاڑ دیا جائے اور آنکھ پھوڑی جائے اور کمزوری کی وجہ سے دو ریوڈ کے ساتھ نہ چل سکے اور ایسا بوڑھا جانور جس کی ہڈیوں کا گودا ختم ہو چکا ہو منع فرمایا ہے ۔
يزيد ذو مصر ← أبو حميد الزعيني ← ثَوْرٍ ← عيسى هو بن يونس المعني ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو علي الروذباري أنبأ محمد بن بكر
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Victims Book › Victims Book · Hadith 19101
