سنن الکبری البھیقی · كتاب الضحايا ‹ جماع أبواب كسب الحجام · حديث 19677
[ 19461 ] أخبرنا السيد أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي رحمه الله أنبأ أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ ثنا العباس بن محمد الدوري وإبراهيم بن الحارث البغدادي قالا ثنا يحيى بن أبي بكير ثنا زهير بن محمد عن موسى بن جبير عن نافع مولى عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن آدم عليه السلام لما أهبطه الله إلى الأرض قالت الملائكة أي رب أتجعل فيها من يفسد فيها ويسفك الدماء ونحن نسبح بحمدك ونقدس لك قال أني أعلم ما لا تعلمون قالوا ربنا نحن أطوع لك من بني آدم قال الله للملائكة هلموا ملكين من الملائكة حتى نهبطهما إلى الأرض فننظر كيف تعملون قالوا ربنا هاروت وماروت فاهبطا إلى الأرض ومثلت لهما الزهرة امرأة من أحسن البشر فجاءتهما فسألاها نفسها فقالت لا والله حتى تكلما بهذه الكلمة من الإشراك قالا لا والله لا نشرك بالله أبدا فذهبت عنهما ثم رجعت بصبي تحمله فسألاها نفسها فقالت لا والله حتى تقتلا هذا الصبي فقالا لا والله لا نقتله أبدا فذهبت ثم رجعت بقدح خمر تحمله فسألاها نفسها فقالت لا والله حتى تشربا هذا الخمر فشربا فسكرا فوقعا عليها وقتلا الصبي فلما أفاقا قالت المرأة والله ما تركتما مما أبيتما علي إلا قد فعلتماه حين سكرتما فخيرا عند ذلك بين عذاب الدنيا وعذاب الآخرة فاختارا عذاب الدنيا تفرد به زهير بن محمد عن موسى بن جبير عن نافع ورواه موسى بن عقبة عن نافع عن بن عمر عن كعب قال ذكرت الملائكة أعمال بني آدم فذكر بعض هذه القصة وهذا أشبه
19677 – عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپﷺ فرما رہے تھے جب اللہ نے آدم کو زمین پر اتار ا تو فرشتے کہنے لگے اے اللہ کی اتو اس کو بھیجے گا جو فساد کرے او رخون بہائے زمین میں آو رہم تیری حمد و تقدیس بیان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ؒ میں وہجناتا ہوں جو تم نہیں جانتے اے ہمارے رب ہم بنو آدم سے زیاہد رفما نبردار ہیں تو اللہ نے فرمایا: دو فرستے آؤ ہم انہیں زمین پر اتاتے اے ہمارے رب ہم بن وآدم سے زیادہ فرما نبر دار ہیں ت واللہ نے فرمایا: دو فرشتے آؤ ہم انہی زمین پر اتارتے ہیں ہم دیکھتے وہ کیسے عمل کرتے ہیں انہوں نے کپا: یہ باروت او رماروت ہیں وہ دونوں زمین پر اتار دیے گئے تو ایک خوبصورت عورت ان کے سامنے ظاہر ہوئی تو ان دونوں نے اسکے نفس کے بارے میں صوال شروع کر دیا وہ کہنے لگی نہیں جتنی دیر تم یہ شرکیہ بات نہ کہو گئ وہ کہنے لگےؒ: ہم اللہ کیق سم ہر گز شرک نہ کری گے پر وہ ان دونوں کے پاس سے چلی گئی او رپھر ایک بچہ اٹھا کر واپس پلٹی پھر ان دونوں نےا سکے نفس کے بارے میں سوال کیاتو وہ کہنے لگی: اللہ کیق س یہ نہ ہو گا جب تک تم دونوں اس بچے کو قتل نہ کر دو وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم ہم اسے ہر گز قتل نہ کریں گے پھ روہ عورت ایک شراب کا پیالہ لے کر آئی پھر ان دونوں نے اسکے نفس کا مطلابہ کیا وہ کہنے لگی: اللہ کی قسم پہلے شراب پیو ان دونوں نے شراب کو پی لی ااو ر نشے میں دھت ہو گئے ےو عورت سے بدکاری او ربچے کا قتل دونوں جرم کر لیے جب دونوں نشے سے فارغ ہوئے تو عور تکہنے لگی: تم نے نشے کی حالت میں دو جرم کر لی اجس سے میں نے انکار کر دیا تھسا تو اس وقت ان کو دنیا او رآخرت کے عذاب کے بارے میں اکتیار دی اگیا تو انہون نے دنیا کے عذاب کو اختیار کر لیا۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← العباس بن محمد الدوري وإبراهيم بن الحارث البغدادي
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Victims Book › Intercourse the doors of gaining hijam · Hadith 19677
