سنن الکبری البھیقی · كتاب الصيد والذبائح ‹ كتاب الصيد والذبائح · حديث 18902
[ 18681 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عمرو بن مطر ثنا يحيى بن محمد ثنا عبيد الله بن معاذ ثنا أبي عن شعبة عن الحكم عن عبد الله بن أبي الهذيل قال أمرني ناس من أهلي أن أسأل لهم عبد الله بن عباس رضى الله تعالى عنهما عن أشياء فكتبتها في صحيفة فأتيته لأسأله فإذا عنده ناس يسألونه فسألوه حتى سألوه عن جميع ما في صحيفتي وما سألته عن شيء فسأله رجل أعرابي فقال إني مملوك أكون في إبل أهلي فيأتيني الرجل يستسقيني فأسقيه قال لا قال فإن خشيت أن يهلك قال فاسقه ما يبلغه ثم أخبر به أهلك قال فإني رجل أرمي فأصمي وأنمي قال ما أصميت فكل وما أنميت فلا تأكل قلت للحكم ما الإصماء قال الإقعاص قلت فما الإنماء قال ما توارى عنك وقد روي هذا من وجه آخر عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما مرفوعا وهو ضعيف
18902 - عبداللہ بن ابی ہذیل فرماتے ہیں کہ میرے گھ روالوں نے جھے چند چیزوں کے متعلق حضڑت عبداللہ بن عباس سے پوچھنے کا کہا میں ایک کاغذ لکھ کر حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس اس وقت آیا جب لوگ ان سے سوال کر رہے تھے جب لوگوں نے میرے لکھے ہوئے تمام سوال کر لیے او رمیں نے ان سے کچھ بھی نہ پوچھا تو ایک دیہاتی نے سوال کیا کہ میں ایک غلام ہوں جو اپنئ گھر والوں کے اونٹوں کی دیکھ بھال کرتا ہوں ایک شخص مجھ سے پانی طلب کرتا ہے کیا میں اسکو پانی پلادوں؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: نہ پلاؤ دیہاتی نے کہا: اگر مجھے اس کے ہلاک ہو جانے کا ڈر محسوس ہو فرمایا: اسے اتنا پانی پلاؤ کہ اس کی جان بچ جائے پھر اسکے گرھ والوں کو خبر دو دیہاتی نے کہا: میں شکار کو موقع پر قتل کرتا ہوں اور زخمی بھی کرتا ہوں تو حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ جس کو تو موقع پر گرائے کھانےاور جو زخمی ہو کر کہیںدور جا کر مرے اس و نہ کھا میں نے حخم سے پوچھا صماء کیا ہے ؟ کہتے ہیں: سینے ک بیماری میں نے پوچھا انما کیا ہے ؟ فرماتے ہیں: ایسا شکار جو آپ سے چھپ جائے ۔
أمرني ناس من أهلي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← يَحْيَی بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Hunting and Slaughter › The Book of Hunting and Slaughter · Hadith 18902
