سنن الکبری البھیقی · كتاب العتق ‹ كتاب العتق · حديث 21402
[ 21191 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو أحمد محمد بن إسحاق الصفار ثنا أحمد بن محمد بن نصر اللباد ثنا عمرو بن طلحة ثنا أسباط بن نصر عن السدي عن أبي مالك وأبي صالح عن بن عباس وعن مرة عن عبد الله بن مسعود عن ناس من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر التفسير وقال في قصة مريم عليها السلام إن الذين كانوا يكتبون التوراة إذا جاؤوا إليهم بإنسان يجربونه اقترعوا عليه أيهم يأخذه فيعلمه وكان زكريا أفضلهم يومئذ وكان نبيهم وكانت أخت مريم تحته فلما أتوا بها قال لهم زكريا أنا أحقكم بها تحتي أختها فأبوا فخرجوا إلى نهر الأردن فألقوا أقلامهم التي يكتبون بها أيهم يقوم قلمه فيكفلها فجرت الأقلام وقام قلم زكريا على قرنته كأنه في طين فأخذ الجارية
ابن مسعود صحابہ سے اس کی تسیر نقلف رماتے ہی ںکہ مریم کا قصہ ج وہ لوگ رورات لکھتے جب ان کے پاس کوئی انسان آتا تو وہ تجربہ کرتے کہ اس پر قرعہ اندازی کرتے کہ کون اس کو تعلیم دے گا اور زکریا ان میں افضل ترین تھے او رنبی بھی تھے اور مریم کی بہن ان کے نبکاح میں تھیں جب وہ ان کے لے کر آئے تو زکریا نے فرمایا: میں تم سے زیادہ مستحق ہوں کیونکہ اس کی بہن میرے نکاح میں ہے لیکن انہوں نے پھر بھی انکار کی اتو وہ نہر اردن کے پاس آئے اور انہوں نے اپنی وہ قلمیں جس کے ساتھ تورات لکھاکرتے تھے تو رات لکھا کرتےت ھے نہر میں ڈالیں کہ اس کی کفالت کون کرے گا تو زکریا کی قلم الٹ سمت چل پڑی جیسے زمین پر چلتی ہے تو زکریا نے بچی کو لے لیا۔
التَّفْسِيرَ ← نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مُرَّۃُ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← أبي مالك وأبي صالحٍ، ← السُّدِّيِّ ← أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ اللَّبَّادُ، ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو أحمد محمد بن إسحاق الصفار
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Manumission Book › Manumission Book · Hadith 21402
