سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ جماع أبواب العيب في المنكوحة · حديث 14301
[ 14079 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب القاضي ثنا سليمان بن حرب ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن عكرمة أن امرأة دخلت على عائشة رضى الله تعالى عنها وعليها خمار أخضر فشكت إليها زوجها وأرتها ضربا بجلدها فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت له ذلك عائشة رضى الله تعالى عنها وقالت ما تلقاه نساء المسلمين من أزواجهن وقالت للذي يجلدها أشد خضرة من خمارها قال عكرمة والنساء ينصر بعضهن بعضا وجاء الرجل فقالت ما الذي عنده بأغنى عني من هذا وقالت بطرف ثوبها فقال الرجل يا رسول الله والله إني لأنفضها نفض الأديم ولكنها ناشز تريد رفاعة وكان رفاعة زوجها قد طلقها قبل ذلك فقال إنه إن كان كما تقولين لم تحلي له حتى يذوق من عسيلتك وتذوقي من عسيلته
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عائشہ کے پاس آئی اس پر سبز اوڑھنی تھی ا س نے اپنے خاوند کی شیاکت کی اور اپنی جلد پر مار کا نشان بھی دکھایا جب رسول اللہﷺآئے تو حضرت عائشہ نے نبی ﷺ کو بتایا او رکہنے لگی کہ مسلمان عورتوں کو ان کے خاوندوں سے اتنی تکلیف آتی ہے اور فرمانے لگیں کہ اس کی جلد پر اس کی اوڑھنی سے بھی زیادہ سبز داغ تھے عکرمہ کہتے ہیں کہ عورتیں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں اور مرد بھی آگی اتو عورت نے کہہ دیا جو اس کے پاس ہے وہ مجھسے بے پروہ ہے اور اپنے کپڑے کے سرے و پکڑ کر کہنے لگی اس طرھ ہے اور مر دکہنے لگا: اللہ کی قسم! میں اس کو اس طرح چھانٹتا ہوں جیسے چمرے کو چھانٹا جاتا ہے لیکن یہ نا فرمانی کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ رفاعہ کا ارادہ رکھتی ہے جس نے پہلے اسکو طلاق دے دی تھی آپﷺ نے فرمایا: اگر بات سایسے ہے تو پھر تیرے لیے جائز نہیں یہاں تک کہ و اس کا مزہ چکھ لے اور وہ تیرا۔
عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › Collecting the doors of shame in the afflicted · Hadith 14301
