سنن الکبری البھیقی · كتاب قتال أهل البغي ‹ جماع أبواب الرعاة · حديث 16579
[ 16356 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو عبد الرحمن السلمي قالا أنبأ أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا موسى بن إسماعيل ثنا أبو عوانة عن حصين عن عمرو بن ميمون في قصة مقتل عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه قال فقالوا أوص يا أمير المؤمنين استخلف فقال ما أحد أحق بهذا الأمر من هؤلاء النفر أو الرهط الذين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض فسمى عليا وعثمان والزبير وطلحة وسعدا وعبد الرحمن بن عوف رضى الله تعالى عنهم وقال ليشهدكم عبد الله بن عمر وليس له من الأمر شيء كالتعزية له وقال فإن أصابت الإمرة سعدا فهو ذاك وإلا فليستعن به أبكم ما أمر فإني لم أعز له من عجز ولا خيانة وقال أوصي الخليفة من بعدي بالمهاجرين الأولين أن يعلم لهم حقهم ويحفظ لهم حرمتهم وأوصيه بالأنصار الذين تبوؤا الدار والإيمان من قبلهم أن يقبل من محسنهم وأن يعفي عن مسيئهم وأوصيه بأهل الأمصار خيرا فإنهم ردء الإسلام وجباة الأموال وغيظ العدو وأن لا يؤخذ منهم إلا فضلهم عن رضاهم وأوصيه بالأعراب خيرا فإنهم أصل العرب ومادة الإسلام أن يؤخذ من حواشي أموالهم فيرد على فقرائهم وأوصيه بذمة الله وذمة رسوله أن يوفي لهم بعهدهم وأن يقاتل من ورائهم وأن لا يكلفوا إلا طاقتهم فلما قبض خرجنا به فانطلقنا نمشي وذكر الحديث في دفنه قال فلما فرغ من دفنه ورجعوا اجتمع هؤلاء الرهط فقال عبد الرحمن بن عوف رضى الله تعالى عنه اجعلوا أمركم إلى ثلاثة منكم قال الزبير قد جعلت أمري إلى علي فقال طلحة قد جعلت أمري إلى عثمان وقال سعد قد جعلت أمري إلى عبد الرحمن فقال عبد الرحمن أيكما يبرأ من هذا الأمر فنجعله إليه والله عليه والإسلام لينظرن أفضلهم في نفسه وليحرصن على صلاح الأمة قال فأسكت الشيخان فقال عبد الرحمن أفتجعلونه إلي والله علي أن لا آلو عن أفضلكم فقالوا نعم قال فأخذ بيد أحدهما فقال لك من قرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم والقدم في الإسلام ما قد علمت والله عليك لئن أنا أمرتك لتعدلن ولئن أنا أمرت عثمان لتسمعن ولتطيعن ثم خلا بالآخر فقال له مثل ذلك فلما أخذ الميثاق قال أرفع يدك يا عثمان لتسمعن فبايعه وبايع له علي رضى الله تعالى عنهما وولج أهل الدار فبايعوه رواه البخاري في الصحيح عن موسى بن إسماعيل
16579 – عمرو بن میمون حضرت عمر کے قتل کے قصے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لوگوں نےحضرت عمر سے کہا کہ خلیفہ نا مزد کر دیں تو فرمایا: ان صحابہ سے بڑھ کر اس فیصلہ کا حق دار کوئی نہیں اور علی عثمان زبیر طلحہ سعد عبدالرحمٰن بن عوف کے نام لیے عبداللہ بن عمر بھی اگر حاضر ہیں تو ان کے لیے معاملے سے کچھ نہیں اگر معدا میر بن جائیں تو بہتر ہے اگر نہیں تو اپنے مشورے سے مقرر کر لو میں کسی رجز یا خیانت سے اسے معزول نہیں کروں گااور ہا جو بھی میرے بع دخلیفہ بنت میں اسے وصیت کرتا ہوں کہ مہاجرین کے حق کو پہنچانے ان کی عزت اور مقام مرتبے کا خیال رکھے اور انصار کے بارے میں وسیت کرتا ہوں کہ گھر اور ایمان والے ہیں ان کے محسن سے قبول کرے او رمسی سے درگزر کرے اور تمام علاقے والوں کے لیے خیر کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ اسلام کے مددگار مال کو جمع کرنے والے اور دشمن کا غضب ہیں اور ان سے ان کا زائد مال ہی ان کی رضا مندی سے لیا جائے اور نہ دیہاتیوں کے بارے میں خیر کی وصیت کرت اہوں کیونکہ وہ اسل عرب ہیں اسلام کا مادہ ہیں ان کے زائد مالوںکو لے کر انہی کے فقراء پر لوٹا دی اجائے اور میں اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ذمہ کی وصیت کرتا ہوں کہ ان کے عہد و پورا کرے کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دیں جب فوت ہو گئے وت ہم نکلے اور چلے اور پھر آگے ان کے دفن تک مکمل روایت بیان فرمائی پھر فرماتے ہیں کہ ان کو دفن کرنے کے بعد واپس آئے تو یہ گروہ جمع ہو گیا تو عبدالرحمٰن کہنے لگے : اپنے معاملات کسی ھی تین کو سونپ دو زبیر نے حضرت علی طلحہ نے عثمان اور سعد نے عبدالرحمٰن کو چنا تع عبدالرحمٰن کہنے لگے: اب آپ میں سے کوئی اور اس کو چھورنا چاہتا ہے تاکہوہ زیادہ حریص ہو اصلح امت پر؟ تو دونوں شیخان خاموش رہے تو عبدالرحمٰن نے کہا: میں پیچھے بنتا ہوں لیکن کیا میں فیصلہ کروں؟ کہا ہاں تو آپ نے ان میں سے ایک کا ہاتھ پکڑ ااور کہا : آپ کی نبیﷺسے قربات اور تقدیم اسلام ہے اگر میں آپ کو امیر بنادوں آپ ضرور انصاف کریں گے لیکن میں عثمان کو امیر بناتا ہوں تو حضڑت عچمان کو کہا اپنا ہاتھ اتھاؤ خود بیعت کی اور حضرت عل نے بھی بیعت کر لی اور اہل الدار بھی آئے انہوں نے بھی بیعت کر لی۔
أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The book of fighting the people of prostitution › The gathering of the gates of the Shepherds · Hadith 16579
