Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب قتال أهل البغي ‹ جماع أبواب الرعاة · حديث 16579

[ 16356 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو عبد الرحمن السلمي قالا أنبأ أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا موسى بن إسماعيل ثنا أبو عوانة عن حصين عن عمرو بن ميمون في قصة مقتل عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه قال فقالوا أوص يا أمير المؤمنين استخلف فقال ما أحد أحق بهذا الأمر من هؤلاء النفر أو الرهط الذين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض فسمى عليا وعثمان والزبير وطلحة وسعدا وعبد الرحمن بن عوف رضى الله تعالى عنهم وقال ليشهدكم عبد الله بن عمر وليس له من الأمر شيء كالتعزية له وقال فإن أصابت الإمرة سعدا فهو ذاك وإلا فليستعن به أبكم ما أمر فإني لم أعز له من عجز ولا خيانة وقال أوصي الخليفة من بعدي بالمهاجرين الأولين أن يعلم لهم حقهم ويحفظ لهم حرمتهم وأوصيه بالأنصار الذين تبوؤا الدار والإيمان من قبلهم أن يقبل من محسنهم وأن يعفي عن مسيئهم وأوصيه بأهل الأمصار خيرا فإنهم ردء الإسلام وجباة الأموال وغيظ العدو وأن لا يؤخذ منهم إلا فضلهم عن رضاهم وأوصيه بالأعراب خيرا فإنهم أصل العرب ومادة الإسلام أن يؤخذ من حواشي أموالهم فيرد على فقرائهم وأوصيه بذمة الله وذمة رسوله أن يوفي لهم بعهدهم وأن يقاتل من ورائهم وأن لا يكلفوا إلا طاقتهم فلما قبض خرجنا به فانطلقنا نمشي وذكر الحديث في دفنه قال فلما فرغ من دفنه ورجعوا اجتمع هؤلاء الرهط فقال عبد الرحمن بن عوف رضى الله تعالى عنه اجعلوا أمركم إلى ثلاثة منكم قال الزبير قد جعلت أمري إلى علي فقال طلحة قد جعلت أمري إلى عثمان وقال سعد قد جعلت أمري إلى عبد الرحمن فقال عبد الرحمن أيكما يبرأ من هذا الأمر فنجعله إليه والله عليه والإسلام لينظرن أفضلهم في نفسه وليحرصن على صلاح الأمة قال فأسكت الشيخان فقال عبد الرحمن أفتجعلونه إلي والله علي أن لا آلو عن أفضلكم فقالوا نعم قال فأخذ بيد أحدهما فقال لك من قرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم والقدم في الإسلام ما قد علمت والله عليك لئن أنا أمرتك لتعدلن ولئن أنا أمرت عثمان لتسمعن ولتطيعن ثم خلا بالآخر فقال له مثل ذلك فلما أخذ الميثاق قال أرفع يدك يا عثمان لتسمعن فبايعه وبايع له علي رضى الله تعالى عنهما وولج أهل الدار فبايعوه رواه البخاري في الصحيح عن موسى بن إسماعيل

16579 – عمرو بن میمون حضرت عمر کے قتل کے قصے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لوگوں نےحضرت عمر سے کہا کہ خلیفہ نا مزد کر دیں تو فرمایا: ان صحابہ سے بڑھ کر اس فیصلہ کا حق دار کوئی نہیں اور علی عثمان زبیر طلحہ سعد عبدالرحمٰن بن عوف کے نام لیے عبداللہ بن عمر بھی اگر حاضر ہیں تو ان کے لیے معاملے سے کچھ نہیں اگر معدا میر بن جائیں تو بہتر ہے اگر نہیں تو اپنے مشورے سے مقرر کر لو میں کسی رجز یا خیانت سے اسے معزول نہیں کروں گااور ہا جو بھی میرے بع دخلیفہ بنت میں اسے وصیت کرتا ہوں کہ مہاجرین کے حق کو پہنچانے ان کی عزت اور مقام مرتبے کا خیال رکھے اور انصار کے بارے میں وسیت کرتا ہوں کہ گھر اور ایمان والے ہیں ان کے محسن سے قبول کرے او رمسی سے درگزر کرے اور تمام علاقے والوں کے لیے خیر کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ اسلام کے مددگار مال کو جمع کرنے والے اور دشمن کا غضب ہیں اور ان سے ان کا زائد مال ہی ان کی رضا مندی سے لیا جائے اور نہ دیہاتیوں کے بارے میں خیر کی وصیت کرت اہوں کیونکہ وہ اسل عرب ہیں اسلام کا مادہ ہیں ان کے زائد مالوںکو لے کر انہی کے فقراء پر لوٹا دی اجائے اور میں اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ذمہ کی وصیت کرتا ہوں کہ ان کے عہد و پورا کرے کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دیں جب فوت ہو گئے وت ہم نکلے اور چلے اور پھر آگے ان کے دفن تک مکمل روایت بیان فرمائی پھر فرماتے ہیں کہ ان کو دفن کرنے کے بعد واپس آئے تو یہ گروہ جمع ہو گیا تو عبدالرحمٰن کہنے لگے : اپنے معاملات کسی ھی تین کو سونپ دو زبیر نے حضرت علی طلحہ نے عثمان اور سعد نے عبدالرحمٰن کو چنا تع عبدالرحمٰن کہنے لگے: اب آپ میں سے کوئی اور اس کو چھورنا چاہتا ہے تاکہوہ زیادہ حریص ہو اصلح امت پر؟ تو دونوں شیخان خاموش رہے تو عبدالرحمٰن نے کہا: میں پیچھے بنتا ہوں لیکن کیا میں فیصلہ کروں؟ کہا ہاں تو آپ نے ان میں سے ایک کا ہاتھ پکڑ ااور کہا : آپ کی نبیﷺسے قربات اور تقدیم اسلام ہے اگر میں آپ کو امیر بنادوں آپ ضرور انصاف کریں گے لیکن میں عثمان کو امیر بناتا ہوں تو حضڑت عچمان کو کہا اپنا ہاتھ اتھاؤ خود بیعت کی اور حضرت عل نے بھی بیعت کر لی اور اہل الدار بھی آئے انہوں نے بھی بیعت کر لی۔

أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The book of fighting the people of prostitution › The gathering of the gates of the Shepherds · Hadith 16579

سنن الکبری البھیقی · كتاب قتال أهل البغي ‹ جماع أبواب الرعاة · حديث 16580

[ 16357 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن خالد الحمصي ثنا بشر بن شعيب بن أبي حمزة عن أبيه عن الزهري أنبأ سالم بن عبد الله بن عمر أن عبد الله بن عمر قال دخل على عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه حين نزل به الموت عثمان بن عفان وعلي بن أبي طالب وعبد الرحمن بن عوف والزبير بن العوام وسعد بن أبي وقاص رضى الله تعالى عنهم وكان طلحة بن عبيد الله رضى الله تعالى عنه غائبا بأرضه بالسراة فنظر إليهم عمر ساعة ثم قال أني قد نظرت لكم في أمر الناس فلم أجد عند الناس شاقا فيكم إلا أن يكون فيكم شيء فإن كان شقاق فهو منكم وإن الأمر إلى ستة إلى عثمان بن عفان وعلي بن أبي طالب وعبد الرحمن بن عوف والزبير بن العوام وطلحة وسعد ثم إن قومكم إنما يؤمرون أحدكم أيها الثلاثة فإن كنت على شيء من أمر الناس يا عثمان فلا تحملن بني أبي معيط على رقاب الناس وإن كنت على شيء من أمر الناس يا عبد الرحمن فلا تحملن أقاربك على رقاب الناس وإن كنت على شيء يا علي فلا تحملن بني هاشم على رقاب الناس قوموا فتشاوروا وأمروا أحدكم فقاموا يتشاورون قال عبد الله فدعاني عثمان رضى الله تعالى عنه مرة أو مرتين ليدخلني في الأمر ولم يسمني عمر ولا والله ما أحب أني كنت معهم علما منه بأنه سيكون من أمرهم ما قال أبي والله لقلما سمعته حرك شفتيه بشيء قط إلا كان حقا فلما أكثر عثمان دعائي قلت ألا تعقلون تؤمرون وأمير المؤمنين حي فوالله لكأنما أيقظت عمر رضى الله تعالى عنه من مرقد فقال عمر أمهلوا فإن حدث بي حدث فليصل للناس صهيب مولى بني جدعان ثلاث ليال ثم أجمعوا في اليوم الثالث أشراف الناس وأمراء الأجناد فأمروا أحدكم فمن تأمر عن غير مشورة فاضربوا عنقه

16580 - سالم بن عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ والد محترم کی موت کے وقت حضرت عثمان علی عبدالرحمٰن بن عوف زبیر اور سعد بن ابی وقاص حضڑت عمر کے پاس آئے طلحہ بنعبید اللہ وہاں حاضر نہ تھے حضرت عمر نے چند گھڑیاں انہیں دیکھا پھر فرمایا: می تم سے ایک معاملے می مشورہ کرتا ہوں لوگوں میں اس میں کوئی مخالفت نہیں اگر مخلافت ہوئی تو تمہاری طرف سے ہو گی اور امارت کا معاملہ ان چھ صحابہ کے سامنے پیش کر دیا تمہاری قومیں تم تین میں سے کسی کو خلیفہ بنائیں گی اگر عثمان تمہیں امارت ملے تو ابو معیط کولوگوں پر امیر نہ بنانا اگر عبدالرحمٰن آپ امیر بنیں تو اپنے اقرباء کو امیر مت بنانا اگر علی آپ امیر بنیں تو بنو ہاشم میں کسی کو عادل نہ بنانا لوگوں سے مشورہ کرنا پھر ان پر امام مقرر کرنا حضرت عثمان نے 2 یا 3 مرتبہ مجھے بلایا کہ مجھے بھی مشورہ میں شریک کر لیں لیکن حضرت عمر نے میرا نام نہیں لیا اور واللہ میں ان کے ساتھ ملنا بھی نہیں چاہتا تھا اور نہ میرے والد نے کہا اللہ میںبتہ ہی کم ان سے سنا کہ انہوں نے لبوں کو حرکت دی ہو اور حق کے علاوہ کوئی اور بات ان کے منہ سے نکلی ہو جب حضرت عثمان نے بار بار مجھے بلایا تو میں نے کہا: کیا تمہیں سمجھ نہیں کہ تم امارت طلب کر رہے ہو او رامیر المومنین زندہ ہیں ۔ واللہ! گویا میں نے حضرت عمر کو ان کی موت سے اٹھا دیاتو عمر فرمانے لگے ٹھہرو جب میں فوت ہو جاؤں تو صہیب جو بنو جد عان کے مولیٰ ہیںتین راتوں تک لوگوں کو نماز پڑھائیں تین دن کے بعد لوگوں کے سر براہان اور قبیلوں کے امراء کو جمع کرنا او امارت کے لیے مشورہ کرنا اور جو بغیر مشور کے امیر بنے اس کی گردن اڑا دینا۔

الزهري أنبأ سالم بن عبد الله بن عمر ← أَبِيهِ ← بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← محمد بن خالد الحمصي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The book of fighting the people of prostitution › The gathering of the gates of the Shepherds · Hadith 16580

سنن الکبری البھیقی · كتاب قتال أهل البغي ‹ جماع أبواب الرعاة · حديث 16581

[ 16358 ] أخبرنا أبو الحسين محمد بن الحسين بن محمد بن الفضل القطان ببغداد أنبأ عبد الله بن جعفر بن درستويه ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أحمد بن يونس ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ واللفظ له أخبرني أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ وكتبه لي بخطه ثنا محمد بن عمرو الحرشي أنبأ أحمد بن يونس ثنا زائدة ثنا موسى بن أبي عائشة عن عبيد الله بن عبد الله قال دخلت على عائشة رضى الله تعالى عنها فقلت لها ألا تحدثيني عن مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت بلى ثقل النبي صلى الله عليه وسلم فقال أصلى الناس فقلت لا وهم ينتظرونك يا رسول الله قال ضعوا ماء في المخضب قالت ففعلنا فاغتسل ثم ذهب لينوء فأغمى عليه ثم أفاق فقال أصلى الناس قلنا لا هم ينتظرونك قال ضعوا لي ماء في المخضب ففعلنا فاغتسل ثم ذهب لينوء فأغمى عليه فأفاق فقال أصلى الناس قلت لا هم ينتظرونك فقال ضعوا لي ماء في المخضب ففعلنا فاغتسل ثم ذهب لينوء فأغمى عليه ثم أفاق فقال أصلى الناس قلنا لا هم ينتظرونك يا رسول الله الناس عكوف في المسجد لصلاة العشاء الآخرة قالت فأرسل رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أبي بكر رضى الله تعالى عنه بأن يصلي بالناس قالت فأتاه الرسول فقال إن رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمرك بأن تصلي بالناس فقال أبو بكر رضى الله تعالى عنه وكان رجلا رقيقا يا عمر صل بالناس فقال له عمر رضى الله تعالى عنه أنت أحق بذلك فصلى أبو بكر رضى الله تعالى عنه تلك الأيام ثم إن النبي صلى الله عليه وسلم وجد من نفسه خفة فخرج بين رجلين أحدهما العباس لصلاة الظهر وأبو بكر رضى الله تعالى عنه يصلي بالناس فلما رآه أبو بكر رضى الله تعالى عنه ذهب ليتأخر فأومى إليه النبي صلى الله عليه وسلم بأن لا يتأخر قال أجلساني إلى جنبه فأجلساه إلى جنب أبي بكر رضى الله تعالى عنه قال فجعل أبو بكر رضى الله تعالى عنه يصلي وهو قائم بصلاة النبي صلى الله عليه وسلم والناس بصلاة أبي بكر رضى الله تعالى عنه والنبي صلى الله عليه وسلم قاعد قال عبيد الله فدخلت على عبد الله بن عباس فقلت له ألا أعرض عليك ما حدثتني به عائشة عن مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم قال هات فعرضت عليه حديثها فما أنكر منها شيئا غير أنه قال أسمت لك الرجل الذي كان مع العباس قلت لا قال هو علي رضى الله تعالى عنه رواه البخاري ومسلم في الصحيح عن أحمد بن يونس

عبید اللہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں حضر ت عائشہ کے پاس آیا میں نے کہا : آپ مجھے نبیﷺ کی بیماری کے بارے میں بتائیے فرمانے لگیں کیوں نہیں جب نبی ﷺ بیمار ہو گئے تو ہوچا : کیا لوگو ں نے نماز پڑھ لی ؟ میں نے کہا: نہیں وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں یا رسول اللہ فرمایا: برتن میں پانی رکھو فرماتی ہیں: پانی رکھا گیا آپ نے غسل فرمایا کہ کچھ افاقہ ہو جائے لیکن آپ پر غشی طاری ہو گئی پھر افاقہ ہوا تو پوچھا: لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ بتایا آپ کا انتظار کر رہے ہیں پھر برتن میں پانی رکھنے کا فرمایا: پھر غسل فرمایا: لیکن غشہ طارہ وہ گئی پھر ہوش آیا تو پوچھا : کای لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ عرض کی اگی ا: آپ کا انتظار ہے اور لوگ مسجد میں عشا کی نماز کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں تو آپﷺ نے ابو بکر کے پسا پیغام بھیجا کہ نما ز پڑھا دیں جب ابو بکر کو پیغام ملا تو انہوں نے حڑضت عمر کو کہا کہ آپ پڑھا ئیں کیونکہ ابو بکر برے رقیق القلب تھے تو حضرت عمر نے جواب دیا کہ آپ زیادہ حق دار ہیں تو اسکے بعد حضرت ابوبرکر نمازیں پڑھاتے رہے ایک دن آپﷺ نے طبیعت میں بہری محسوس کی تو دو آدمیوں کے سہارے جن مں ایک حضڑت عباس تھے ظہر کے وقت مسجد میں آئے ابو بکر نماز پرھا رہے تھے جب ابو بکر نے دیکھ اکہ آپﷺ تشریف لائے تو وہ پیچھے ہتنے لگے تو آپ نے اشارہ فرمایا کہ پیچھے نہ ہٹو او رآپ نے فرمایا: مجھے ان کے پہلے میں بٹھا دو تو آپ کو حضرت ابو بکر کے پہلو می بتھا دیا تو ا بوبکر آپ کی او رلوگ حضرت ابو بکر کی اقتدا کررہے تھے اور نبی ق بیٹھے ہوئے تھے عبید اللہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس کے پاس آیا تو وہ کہنے لگے کہ حضرت عائشہ نے آپ کو نبی ق کی بیماری کے بارے میں جو بیا ن کیا ہے وہ بتاؤ تو میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے سب باتوں تصید کی اور فرمایا کہ کیا اس دوسر شخص کا نام نہیں بتایا جو حضرت عباس کے ساتھ تھے میں نے کہا: نہیں تو فرمایا: وہ علی تھے ۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← زَائِدَۃَ، ← محمد بن عمرو الحرشي أنبأ أحمد بن يونس ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ وَكَتَبَهُ لِى بِخَطِّهِ ← أبو عبد الله الحافظ واللفظ له ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The book of fighting the people of prostitution › The gathering of the gates of the Shepherds · Hadith 16581

سنن الکبری البھیقی · كتاب قتال أهل البغي ‹ جماع أبواب الرعاة · حديث 16582

[ 16359 ] أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله البسطامي أنبأ أبو بكر الإسماعيلي أخبرني الحسن بن سفيان حدثني أبو سعيد يحيى بن سليمان الجعفي ثنا بن وهب أخبرني يونس عن بن شهاب عن حمزة بن عبد الله بن عمر عن أبيه قال لما اشتد برسول الله صلى الله عليه وسلم وجعه قال مروا أبا بكر فليصل بالناس فقالت له عائشة رضى الله تعالى عنها يا رسول الله إن أبا بكر رجل رقيق إذا قام مقامك لم يسمع الناس من البكاء فقال مروا أبا بكر فليصل بالناس فعاودته مثل مقالتها فقال أنتن صواحبات يوسف مروا أبا بكر فليصل بالناس قال بن شهاب وأخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن عائشة رضى الله تعالى عنها أنها قالت قد عاودت رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك وما حملني على معاودته إلا أني خشيت أن يتشاءم الناس بأبي بكر رضى الله تعالى عنه وإلا أني علمت أنه لن يقوم مقامه أحد إلا تشاءم الناس به فأحببت أن يعدل الناس ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أبي بكر رضى الله تعالى عنه رواه البخاري في الصحيح عن يحيى بن سليمان وأخرجه مسلم من حديث معمر عن الزهري عن حمزة عن عائشة رضى الله تعالى عنها

16582 - حمزہ بن عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ والد صاحب نے فرمایا: کہ جب نبیﷺ کی تکلیف بڑھ گئی تو فرمایا: ابوبکر کو کہو کہ وہ نماز پڑھائیں تو حضرت عائشہ کہنے لگیں یا رسول اللہ! ابو بکر رقیق القلب ہیں جب وہ آپ کی جگہ کھرے ہون گے تو رونے کی وجہ سے لوگ ان کی آواز نہیں سنسکیں گے آپ نے پھر فرمایا: اب وبکر کو کہو نماز پرھائیں عائشہ نے پھر اپنی بات دہرائی تو نبی ﷺ نے فرمایا: تم یوسف ک صواحب جیسی ہو اب وبکر کو کہو نماز پڑھائیں۔

مروا أبا بكر فليصل بالناس فقالت له عائشة رضى الله تعالى عنها ← لَمَّا اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ وَجَعَهُ، ← أَبِيهِ ← حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو عمرو محمد بن عبد الله البسطامي أنبأ أبو بكر الإسماعيلي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The book of fighting the people of prostitution › The gathering of the gates of the Shepherds · Hadith 16582

سنن الکبری البھیقی · كتاب قتال أهل البغي ‹ جماع أبواب الرعاة · حديث 16583

[ 16360 ] أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنبأ عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا عبد الله بن رجاء أنبأ زائدة عن عبد الملك بن عمير عن أبي بردة بن أبي موسى عن أبيه قال مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال مروا أبا بكر فليصل بالناس فقالت عائشة رضى الله تعالى عنها يا رسول الله إن أبا بكر رجل رقيق فقال أخرى مروا أبا بكر فليصل بالناس فقالت عائشة إن أبا بكر رجل رقيق فقال مروا أبا بكر فليصل بالناس فإنكم صواحب يوسف قال فأم أبو بكر رضى الله تعالى عنه في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم أخرجه البخاري ومسلم في الصحيح من حديث زائدة

16583 - ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ بیمار ہوئے تو آپ نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ نماز پڑھائیں تو حضرت عائشہ فرمانے لگیں یا رسول اللہ ابو بکر رقیقیالقلب ہیں فرمایا: اب وبکر کو کہو کہ وہ نماز پڑھائیں حضر ت عائشہ پھر وہی بات ک تو آپ نے فرمایا: ابو بکر کو کہو کہ نماز پرھائیں تم تو صواحب یوسف سے ہو تو ابوبکر نے رسول اللہﷺ کی زندگی میں ہی امامت کروائی ۔

عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا ← مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ← مَرَضِ رَسُوْلِ اللہِ ← أَبِيهِ ← أبي بردة بن أبي موسى ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنْبَأَ زَائِدَةُ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← أبو الحسين بن الفضل القطان أنبأ عبد الله بن جعفر

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The book of fighting the people of prostitution › The gathering of the gates of the Shepherds · Hadith 16583

سنن الکبری البھیقی · كتاب قتال أهل البغي ‹ جماع أبواب الرعاة · حديث 16584

[ 16361 ] أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو الصيرفي ثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني أنبأ علي بن محمد بن عيسى الحكاني ثنا أبو اليمان أخبرني شعيب بن أبي حمزة عن الزهري قال أخبرني أنس بن مالك وكان تبع النبي صلى الله عليه وسلم وخدمه وصحبه أن أبا بكر الصديق رضى الله تعالى عنه كان يصلي لهم في وجع النبي صلى الله عليه وسلم الذي توفي فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا كان يوم الإثنين وهم صفوف في الصلاة كشف النبي صلى الله عليه وسلم ستر الحجرة ينظر إلينا وهو قائم كأن وجهه ورقة مصحف ثم تبسم قال فهممنا أن نفتتن برؤيته ونحن في الصلاة من فرح برسول الله صلى الله عليه وسلم ونكص أبو بكر رضى الله تعالى عنه على عقبيه ليصل الصف وظن أن النبي صلى الله عليه وسلم خارج إلى الصلاة قال فأشار إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أتموا صلاتكم ثم دخل النبي صلى الله عليه وسلم وأرخى الستر فتوفي من يومه ذلك رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان

16584 - حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے نبی ﷺ کے مرض الموت کے دوران امامت کروائی یہاں تک کہ پیر کا دن ہوا تو لوگ نما زی صف میں تھے آپ نے حجر ے کا پردہ ہٹا کر دیکھا آپ کھڑے ہوئے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ آپ اک چہرہ مصحف کا ورز ہو پھر آپ مسکرا دیے ہمیں پتہ چل گیا قریب تھا کہ ہم نمازیں توڑ دیتے ابوب کر نے محسوس کیا تو وہ پیچھے ہتتے لگے تاکہ صف میں کھرے ہو جائیں اور نبی ﷺ نماز کے لیے آجائی تو آپﷺ نے اشارہ فرمایا کہ نماز مکمل کر لو پھر نبی ﷺ حجرے میں داخل ہو گئے او رپردہ گرا دیا اور اسی دن آپﷺ فوت ہو گئے ۔

خَدَمَهُ وَصَحِبَهُ، ← كان تبع النبي ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني أنبأ علي بن محمد بن عيسى الحكاني ← أبو سعيد بن أبي عمرو الصيرفي،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The book of fighting the people of prostitution › The gathering of the gates of the Shepherds · Hadith 16584

سنن الکبری البھیقی · كتاب قتال أهل البغي ‹ جماع أبواب الرعاة · حديث 16585

[ 16362 ] أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنبأ عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أحمد بن يونس ثنا أبو معشر عن محمد بن قيس قال اشتكى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة عشر يوما فكان إذا وجد خفة صلى وإذا ثقل صلى أبو بكر رضى الله تعالى عنه

16585 – محمد بن قیس فرماتے ہیں کہ نبیﷺ 13 دن بیمار رہے جس دن طبیعت ٹھیک ہوتی خود نماز پڑھاتے اور جس دن طبیعت زیادہ خراب ہوتی تو ابو بکر نما ز پڑھاتے ۔

مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، ← أبو معشر ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← أبو الحسين بن الفضل القطان أنبأ عبد الله بن جعفر

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The book of fighting the people of prostitution › The gathering of the gates of the Shepherds · Hadith 16585

سنن الکبری البھیقی · كتاب قتال أهل البغي ‹ جماع أبواب الرعاة · حديث 16586

[ 16363 ] وحدثنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو البختري عبد الله بن محمد بن شاكر ثنا حسين بن علي الجعفي عن زائدة عن عاصم عن زر عن عبد الله بن مسعود قال لما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت الأنصار منا أمير ومنكم أمير قال فأتاهم عمر رضى الله تعالى عنه فقال يا معشر الأنصار ألستم تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر أبا بكر يؤم الناس فأيكم تطيب نفسه أن يتقدم أبا بكر فقالت الأنصار نعوذ بالله أن نتقدم أبا بكر

16586 – ابن مسعود فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ کی روح قبض کی گئی تو انصار کہنے لگے ایک امیر ہم میں سے اور ایک تم میں سے ہو گا تو حضرت عمر آئے او رکہنے لگے : اے انصاریو ! کیا تمہیں نہیں پت نہیں کہ نبی ﷺ نےا مات کے لیے ابوبکر کو آگے کیا تھا تو تم میں سے کون خؤشی سے ابو بکر س آگے چاتا ہے تو انصار کہنے لگے:م اللہ کی پناہ میں آتے ہیں کہ ہم ابو بکر سے آگےبڑھیں۔

فأتاهم عمر رضى الله تعالى عنه فقال يا معشر الأنصار ألستم تعلمون ← الأَنْصَارُ مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ ← لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← وحدثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The book of fighting the people of prostitution › The gathering of the gates of the Shepherds · Hadith 16586

سنن الکبری البھیقی · كتاب قتال أهل البغي ‹ جماع أبواب الرعاة · حديث 16587

[ 16364 ] وحدثنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن طالح بن هانئ ثنا الفضل بن محمد البيهقي ثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي ثنا محمد بن فليح عن موسى بن عقبة عن سعد بن إبراهيم حدثني إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف أن عبد الرحمن بن عوف كان مع عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنهما وأن محمد بن مسلمة كسر سيف الزبير رضى الله تعالى عنهما ثم قام أبو بكر رضى الله تعالى عنه فخطب الناس واعتذر إليهم وقال والله ما كنت حريصا على الامارة يوما ولا ليلة قط ولا كنت فيها راغبا ولا سألتها الله في سر ولا علانية ولكني أشفقت من الفتنة ومالي في الامارة من راحة ولكن قلدت أمرا عظيما ما لي به طاعة ولا يدان الا بتقوية الله لوددت أن أقوى الناس عليها مكاني عليها اليوم فقبل المهاجرون منه ما قال وما اعتذر به وقال علي والزبير رضى الله تعالى عنهما ما غضبنا الا لأنا أخرنا عن المشاورة وأنا نرى أبا بكر أحق الناس بها بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم إنه لصاحب الغار وثاني اثنين وإنا لنعرف شرفة وكبرة ولقد أمره رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصلاة بالناس وهو حي

16587 – ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عو ف حضرت عمر کے ساتھ تھے اور محمد بن مسلمہ نے زبیر کی تلوار کو توڑ دیا تھا پھر ابو بکر کھڑے ہوئے او رلوگوںکو خطبہ دیا اور ان کے سامنے اپنا عذر پیش کیا اور فرمایا: واللہ مجھ کسی امارت کی نہ تو لالچ ہے اور نہ میں اس کی رغبت رکھتا ہوں اور نہ ظاہری او رنہ پوشیدہ میں اللہ سے اس کا سوال کرتا ہوں بلکہ مجھے تو ایسے کام کا ذمہدار بنا دیا گیا ہے کہ جس کو میں اٹھا نہیں سکتا مگر صرف اللہ کی مدد کے ساتھ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ مجھ سے بھی زیادہ اہل لوگ موجود ہیں تو مہاجرین نے ان کی بات اور عزر کو قبول کیا اور علی اور زبری نے کہا کہ ہم تو اس لیے پیچھے تھے کہ ہم سے مشورہ نہیں لیا تھا ورنہ ابو بکر نبی ﷺ کے بعد سبسےز یادہ حق دار ہیں آپ کو رسول اللہﷺ نے اپنی زندگی میں نماز پڑھناے کا حکم دیا تھا۔

إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← الفضل بن محمد البيهقي ← محمد بن طالح بن هانئ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The book of fighting the people of prostitution › The gathering of the gates of the Shepherds · Hadith 16587

سنن الکبری البھیقی · كتاب قتال أهل البغي ‹ جماع أبواب الرعاة · حديث 16588

[ 16365 ] أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن عبد الله السعدي ثنا يزيد بن هارون أنبأ إبراهيم بن سعد عن صالح بن كيسان عن الزهري عن عروة عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم في اليوم الذي بدئ فيه فقلت وارأساه قال لوددت أن ذلك كان وأنا حي فأصلي عليك وأدفنك قالت فقلت غيرى كأني بك في ذلك اليوم معرسا ببعض نسائك قال أنا وارأساه ادعى لي أباك وأخاك حتى أكتب لأبي بكر كتابا فإني أخاف أن يتمنى متمن ويقول قائل ويأبى الله والمؤمنون الا أبا بكر رواه مسلم في الصحيح عن عبيد الله بن سعيد عن يزيد بن هارون وأخرجه البخاري من حديث القاسم بن محمد عن عائشة رضى الله تعالى عنهما

16588 – حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب آپ کی بیماری کی ابتدا ہوئی تو اس دن آپ میرے گھر می تشریف لائے میں نے کہا: ہائے میرا سر تو آپ نے فرمایا: میں چاہتاہو کہ اگر تو میری زندگی میں فوت ہو گئی تو میں تجھ پر نماز پڑھوں گا اور تجھے دفن کروں گا فرماتی ہیں میں نے کہا: آپ تو اس دن اپنی بعض بیویوں کے ساتھ خؤش ہوں گے فرمایا: ہائے میرا سر اپنے والد اور بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ابو بکر کے لیے کچھ لکھ دوں کوینکہ مجھے ڈر ہے کہ بعد میں کوئی تمنا کرے اور کوئی بات کہے ابو برک کے علاوہ جبکہ مؤمنن او راللہ اس کا انکار کر یں۔

لوددت ← دخل علي رسول الله في اليوم الذي بُدئ فيه، فقلت: وارأساه، ← عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← يزيد بن هارون أنبأ إبراهيم بن سعد ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The book of fighting the people of prostitution › The gathering of the gates of the Shepherds · Hadith 16588

سنن الکبری البھیقی · كتاب قتال أهل البغي ‹ جماع أبواب الرعاة · حديث 16589

[ 16366 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ الربيع بن سليمان أنبأ الشافعي أنبأ إبراهيم بن سعد ح وأخبرنا أبو عبد الله أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني ثنا جدي ثنا أبو ثابت ثنا إبراهيم عن أبيه عن محمد بن جبير بن مطعم عن أبيه قال أتت النبي صلى الله عليه وسلم امرأة وكلمته في شيء فأمرها أن ترجع إليه قالت يا رسول الله أرأيت أن رجعت فلم أجدك كأنها تعني الموت قال أن لم تجديني فأتى أبا بكر لفظ حديثه عن الشعراني رواه البخاري في الصحيح عن أبي ثابت ورواه مسلم عن عباد بن موسى عن إبراهيم

16589 – جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کچھ بات کی تو آپ ﷺنے فرمایا: دوبارہ آنا کہنے لگی: اے اللہ کے رسول ! اگر میں دوبارہ آؤں اور آپ نہ ملیں تو ؟ یعنی آپ فوت ہو جائیں تو فرمایا: اگر میں نہہوں تو ابو بکر کے پاس آجانا۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The book of fighting the people of prostitution › The gathering of the gates of the Shepherds · Hadith 16589

سنن الکبری البھیقی · كتاب قتال أهل البغي ‹ جماع أبواب الرعاة · حديث 16590

[ 16367 ] أخبرنا أبو الحسين بن بشران ببغداد أنبأ أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا يحيى بن جعفر أنبأ الضحاك ثنا سفيان عن عبد الملك بن عمير عن مولى لربعي عن ربعي عن حذيفة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اقتدوا باللذين من بعدي أبي بكر وعمر واهتدوا بهدي عمار وتمسكوا بعهد بن أم عبد

16590 – حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میرے بعد ! ابوبکر عمر کی پیروی کرو عمار کی سیرت اپنانا اور ابن ام عبد کے عہد کو لازم پکڑنا۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيٍّ ← مَوْلًى لِرِبْعِيٍّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← يحيى بن جعفر أنبأ الضحاك ← أبو الحسين بن بشران ببغداد أنبأ أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The book of fighting the people of prostitution › The gathering of the gates of the Shepherds · Hadith 16590

chevron_left Previous
1…456…24
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead