سنن الکبری البھیقی · كتاب الجراح ‹ جماع أبواب صفة قتل العمد وشبه العمد · حديث 16074
[ 15853 ] أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو ثنا أبو العباس الأصم أنبأ الربيع بن سليمان أنبأ الشافعي أنبأ محمد هو بن الحسن أنبأ أبو حنيفة عن حماد عن إبراهيم النخعي أن عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه أتى برجل قد قتل عمدا فأمر بقتله فعفا بعض الأولياء فأمر بقتله فقال بن مسعود كانت النفس لهم جميعا فلما عفا هذا أحيا النفس فلا يستطيع أن يأخذ حقه حتى يأخذ غيره قال فما ترى قال أرى أن تجعل الدية عليه في ماله وترفع حصته للذي عفا فقال عمر رضى الله تعالى عنه وأنا أرى ذلك هذا منقطع والموصول قبله يؤكده
16074 – ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک شخس کا فیصلہ لایا گیا جس نے قتل عمد کیا تھا حضرت عمر کے پاس بعض اولیا نے اسے معاف کر دیا لیکن حضڑت عمر نے پھر بھی کرنے کا حکم دے دیا تو ابن مسعود نے دیکھا تو فرمایا: یہ سب اس کے وارث ہیں تو بعض نے معاف کر دیا تو کس طرح اسے قتل کیا جا سکتا ہے تو حضت عمر نے پوچھا پھر آپ کی کیا رائے ہے ؟ فرمایا: دیت لگائی جائے جتنا حصہ معاف کر دیا گیا ہے اسے چھوڑ کر باقی دیت لے لی جائے حضرت عمر نے فرمایا: میرا بھی یہی فیصلہ ہے۔
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Surgeon's Book › Intercourse doors recipe intentional and semi-intentional killing · Hadith 16074
