Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب الجراح ‹ جماع أبواب صفة قتل العمد وشبه العمد · حديث 16014

[ 15793 ] أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا موسى بن إسماعيل ثنا أبو عوانة عن حصين عن عمرو بن ميمون قال رأيت عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه قبل أن يصاب بأيام بالمدينة وقف على حذيفة بن اليمان وعثمان بن حنيف فقال كيف فعلتما تخافان أن تكونا قد حملتما الأرض ما لا تطيق قالا حملناها أمرا هي له مطيقة وقال حذيفة لو حملت عليها أضعفت وقال عثمان بن حنيف حملتها أمرا هي له مطيقة ما فيها كبير فضل قال أنظر ألا تكونا حملتما الأرض ما لا تطيق قالا لا فقال عمر رضى الله تعالى عنه لئن سلمني الله لأدعن أرامل العراق لا يحتجن إلى رجل بعدي قال فما أتت عليه إلا أربعة حتى أصيب قال وإني لقائم ما بيني وبينه إلا عبد الله بن عباس غداة أصيب قال وكان إذا مر بين الصفين قام فإن رأى خللا قال استووا حتى إذا لم ير فيهم خللا تقدم فكبر قال وربما قرأ بسورة يوسف أو النحل أو نحو ذلك في الركعة الأولى حتى يجتمع الناس قال فما هو إلا أن كبر قال فسمعته يقول قتلني الكلب أو أكلني الكلب حين طعنه فطار العلج بالسكين ذات طرفين لا يمر على أحد يمينا ولا شمالا إلا طعنه حتى طعن ثلاثاة عشر رجلا فمات منهم تسعة فلما رأى ذلك رجل من المسلمين طرح عليه برنسا فلما ظن العلج أنه مأخوذ نحر نفسه قال وتناول عمر يد عبد الرحمن بن عوف رضى الله تعالى عنهما فقدمه قال فمن يلي عمر رضى الله تعالى عنه فقد رأى الذي رأى وأما نواحي المسجد فإنهم لا يدرون غير أنهم فقدوا صوت عمر رضى الله تعالى عنه وهم يقولون سبحان الله سبحان الله قال فصلى بهم عبد الرحمن بن عوف رضى الله تعالى عنه صلاة خفيفة فلما انصرفوا قال يا بن عباس انظر من قتلني فجال ساعة ثم جاء فقال غلام المغيرة فقال الصنع قال نعم قال قاتله الله لقد كنت أمرت به معروفا فالحمد لله الذي لم يجعل ميتتي بيد رجل يدعي الإسلام وقال قد كنت أنت وأبوك تحبان أن تكثر العلوج بالمدينة قال وكان العباس رضى الله تعالى عنه أكثرهم رقيقا فقال إن شئت فعلنا أي إن شئت قتلنا قال كذبت بعدما تكلموا بلسانكم وصلوا قبلتكم وحجوا حجكم فاحتمل إلى بيته فانطلقنا معه قال وكأن الناس لم تصبهم مصيبة قبل يومئذ فقائل يقول لا بأس وقائل يقول نخاف عليه فأتى بنبيذ فشربه فخرج من جرحه ثم أتي بلبن فشربه فخرج من جرحه فعرفوا أنه ميت وذكر الحديث في وصاياه وأمر الشورى رواه البخاري في الصحيح عن موسى بن إسماعيل

عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو زخمی ہونے سے چند دن قبل مدینہ میں دیکھا تھا وہ حضڑت حذیفہ اور عثمان بن حنیف پر کھڑے تھے اور فرمایا: کیا تم دونوں ڈرتے نہیں ہو کہ تم نے زمین کو اس پر محمول کر دیا جس کی وہ طاقت نہیں رکھتی وہ دونوں کہنے لگے ہم نے اسے اس کی طاقت پر ہی محمول رکھا ہے حذیفہ کہنے لگے اگر میں اسے محمول رتا تو کم کر دیتا پر ایسا بوجھ ڈالو جو وہ اٹھا نہ سکے کہا نہیں تو حضرت عمر نے رمایا: اگر اللہ نے مجھے سلامت رکھا تو میں تمہیں عراق کی ریت کو ضرور پلاؤں گا کہ وہ میرے بعد کس کے محتاج نہیں رہیں گے ابھی چار دن ہی گزرے تھے کہ یہ واقعہ پیش آگیا کہتے ہیں: میرے اور ان کے درمیان صرف عبدالکلہ بن عباس ہی تھے جس صبح ان کو وہ تکلیف پہنچی وہ صفوں کے درمیان پھر کر خلال پر کروا رہے تھے جب خلال پر ہو گئے تو آگے برھے اور تکبیر کہی اور پہلی رکعت میں صورۃ یوسف یا النحل کی تلاوت کی یہاں ت کہ لوگ جمع ہو گئے کہتے ہیں: آپ قریب تھے جکہ رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے کہ میں نے سنا وہ کہہ رہے تھے مجھے کتے نے قتل کر دیا مجھے کتے نے کاٹ لیا تو وہ شخس بھاگا اس کے پا دو دھاری پتھر ی تھی اور ادھر ادھر مارتے ہوئے وہ بھاگا تو اس نے 14 آدمیوں کو زخمی کیا ان میں سے 9 فوت ہو گئے تھے جب ایک مسلمانن ے اسے دیکھا تو ا س پر چادر ڈال دی جب اس کو یقین ہو گیا کہ اب پکڑا جاؤں گا رو اپنا بھی گلا کاٹ لیا تو حضڑت عمر نے عبدالرحمئن عوف کا ہاتھ پکڑ کر آگے کیا مسجد کے کانوں میں جو لو گ تھے ا نہیں اس واقعہ کا پتہ نہ چلا تو انہوں نے حضرت عمر کی قرآت کی آواز نہ آنے کی وجہ سے سبحان اللہ سبحان الہ کہنا شرو ع کر دیا تو عبدالرحمٰن بن عوف نے ہلکی سینماز پڑھائی جب واپس لوتے تو ابن عباس کو فرمایا دیکھا مجھے کس نے قتل کیا ہے ؟ تو وہ کچھ دیر کے بع دآئے اور بتاای مگیرہ کے غلام نے پوچھا الصمع نے کہا؟ ہاں فرمایا: الحمد اللہ کہ اللہ نےت مجھے کسی مسلمان کے ہاتھوں نہیں مروایا اور کہا تم اور تیرے والد پسند کرتے تھے کہ مدینہ میں کافر زیادہ ہوجائے حضڑت عباس سے سب سے زیادہ غلاموں والے تھےتو کہنے لگے اگر آپ چاہیں تو ہم ان کو قتل کر دیں تو فرمایا: تو جھوٹ بولتا ہےت ہ جب انہوں نے تمہاری زبان کے سات بات کر لی تمہارے قبلہ کی طرف نماز پرھ لی اور تمہاری زبان کے ساتھ بات کر لی تمہارے قبلی کی طرف نما زپڑھ لی اور تمہارا حج کر لیا اب قتل نہ کریں اس کے بع دآپ کو گھر بلایا گیا اور لوگوں کی حالت یہ تھی کہ گویا جتنی بڑی مصیبت آج انہیں پہنچی ہے کبھی نہیں پہنچی کچھ ای کدوسرے کو تسلیا دے رہے تھے کہ کچھ نہیں ہوتا اور کوئی کہہ رہا تھا کہ ہم حضرت عمر پر خوف کھاتے ہیں تو آپ کے پاس نبیذ لایا گیا وہ آپ نے پیا تو پیٹ کے زخم سے باہر نکل گیا تو لوگ سمجھ گئے کہ اب آپ فوت ہو جائیں گے ۔

رأيت عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه قبل ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← حُصَيْنٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ أحمد بن محمد بن عبدوس

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Surgeon's Book › Intercourse doors recipe intentional and semi-intentional killing · Hadith 16014

سنن الکبری البھیقی · كتاب الجراح ‹ جماع أبواب صفة قتل العمد وشبه العمد · حديث 16015

[ 15794 ] وحدثنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي وأبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه قالا ثنا الحسن بن علي بن شبيب المعمري ثنا محمد بن عبيد بن حساب ثنا جعفر بن سليمان عن ثابت عن أبي رافع قال كان أبو لؤلؤة للمغيرة بن شعبة فذكر قصته قال فصنع خنجرا له رأسان قال فشحذه وسمه وقال وكبر عمر رضى الله تعالى عنه وكان لا يكبر إذا أقيمت الصلاة حتى يتكلم ويقول أقيموا صفوفكم فجاء فقام في الصف بحذائه ما يلي عمر رضى الله تعالى عنه في صلاة الغداة فلما كبر وجأه على كتفه وعلى مكان آخر وفي خاصرته فسقط عمر رضى الله تعالى عنه ووجأ ثلاثة عشر رجلا معه فأفرق منهم سبعة ومات ستة واحتمل عمر رضى الله تعالى عنه فذهب به وذكر الحديث قال فدعا بشراب لينظر ما مدى جرحه فأتى بنبيذ فشربه فخرج فلم يدر آدم هو أو نبيذ فدعا بلبن فأتى به فشربه فخرج من جرحه قالوا لا بأس عليك يا أمير المؤمنين قال إن يكن القتل بأسا فقد قتلت

16015 – ابو رافع فرماتے ہیں کہ ابو لؤلؤ مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا پھر مکمل قسہ بیان فرمایا اور فرمایا کہ اسنے دو دھاری خنجر تیار کیا اسے زہر آلود کیا فرماتے ہیں : حضرت عمر نے تکبیر کہی اور حضرت عمر اقامت کے بعد کچھ بولتے پھر تکبیر کہا کرتے تھے آپ کہنے لگے اپنی صفیں سیدھی کر لو تو یہ و ہیں صف میں کھڑا تھا جب آپ نے نماز فجر کے لیے تکبیر کہی تو اس نے آپ پر حملہ کر دیا آپ کے کندھے اور آپ کے پہلو کو زخمی کر دیا تو حضرت عمر گر پڑے اس نے 14 لوگوں کو اور زخمی کیا جن میں سے 6 فوت ہو گئے حضڑت عمر کو اٹھایا گیا او رلے کر چلے گئے پھر لمبی حڈیث بیان کی فرماتے یں پھر حضرت عمر نے کچھ پینے کے لیے سنگایا تاکہ اپنے زخم کی گہرائی دیکھیں نبیذ لایا گیا تو وہ آپ کے زخم سے نکل گیا پتہ نہیں وہ نبیذ تھا یا آپ کا خون ۔

أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Surgeon's Book › Intercourse doors recipe intentional and semi-intentional killing · Hadith 16015

سنن الکبری البھیقی · كتاب الجراح ‹ جماع أبواب صفة قتل العمد وشبه العمد · حديث 16016

[ 15795 ] وحدثنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو بكر محمد بن أحمد الجلاب ثنا محمد بن أحمد بن النضر ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة عن ليث عن نافع عن بن عمر رضى الله تعالى عنه قال عاش عمر رضى الله تعالى عنه ثلاثا بعد أن طعن ثم مات فغسل وكفن

16016 – عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ زخمی ہونے کے بعد حضرت عمر 3 دن زندہ رہے پھر فوت ہو گئے آپ کو غسل بھی دیا گیا اور کفن بھی تین دن کے ذکر کے علاوہ باقی روایت صحیح ہے ۔

بن عمر رضى الله تعالى عنه ← نَافِعٍ ← لَيْثٌ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرٍ ← أبو بكر محمد بن أحمد الجلاب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Surgeon's Book › Intercourse doors recipe intentional and semi-intentional killing · Hadith 16016

سنن الکبری البھیقی · كتاب الجراح ‹ جماع أبواب صفة قتل العمد وشبه العمد · حديث 16017

[ 15796 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد الصفار ثنا عبيد بن شريك ثنا أبو صالح يعني محبوب بن موسى ثنا الفزاري يعني أبا إسحاق عن سعيد الجريري عن أبي نضرة عن أبي فراس قال خطبنا عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه فقال في خطبته ألا وأني لم أبعث إليكم عمالي ليضربوا أبشاركم ولا ليأخذوا أموالكم ولكن بعثتهم ليعلموكم دينكم وسننكم فمن فعل به غير ذلك فليرفعه إلي فأقصه منه فقام عمرو بن العاص رضى الله تعالى عنه فقال يا أمير المؤمنين لو أن رجلا أدب بعض رعيته أكنت مقتصه منه فقال أي والذي نفسي بيده لأقصنه منه وقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أقص من نفسه

ابو فراس فرماتے ہیں کہ ہمیں عمر بن الخطاب نے خطبہ دیا اور فرمایا: لوگو! مجھے تمہاری طرف ایسا عامل نہیں بایا گیا جو تمہارے لوگوں کو مارے اور تمہارا مال چھین لے بلکہ مجھے تو اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں تمہیں تمہارا دین اور اس کی سنتیں سکھاؤں اگر اس کے علاوہ میں کسی پر زیادتی کروں تو وہ مجھ سے قصاص کا مطالبہ کر سکتا ہے ۔

خطبنا عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه ← أَبِي فِرَاسٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← الفزاري يعني أبا إسحاق ← أبو صالح يعني محبوب بن موسى ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Surgeon's Book › Intercourse doors recipe intentional and semi-intentional killing · Hadith 16017

سنن الکبری البھیقی · كتاب الجراح ‹ جماع أبواب صفة قتل العمد وشبه العمد · حديث 16018

[ 15797 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو زكريا بن أبي إسحاق قراءة عليهما وأبو القاسم عبد الرحمن بن محمد السراج إملاء قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بحر بن نصر ثنا عبد الله بن وهب أخبرني عمرو بن الحارث عن بكير بن الأشج عن عبيدة بن مسافع عن أبي سعيد الخدري قال بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يقسم شيئا أقبل رجل فأكب عليه فطعنه رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرجون كان معه فجرح الرجل فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم تعال فاستقد فقال بل عفوت يا رسول الله

16018 – ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس تھے اور آپ کچھ اشیا تقسیم کر رہے تھے تو ایک آدمی آیا ور وہ جلد بازی کرنے لگا تو آپ نے اپنے کھجور کے ذنڈے سے اسے مارا جس سے اس ے زخم لگ گیا تو آپ نے فرمایا: قصاص نے لو تو وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! میں نے معاف کر دیا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبِيدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن محمد السراج ← أبو زكريا بن أبي إسحاق قراءة عليهما ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Surgeon's Book › Intercourse doors recipe intentional and semi-intentional killing · Hadith 16018

سنن الکبری البھیقی · كتاب الجراح ‹ جماع أبواب صفة قتل العمد وشبه العمد · حديث 16019

[ 15798 ] أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن وأبو زكريا بن أبي إسحاق وأبو سعيد بن أبي عمرو قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بحر بن نصر ثنا بن وهب حدثني مالك عن أبي النضر وغيره أخبروه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى رجلا متخلقا فطعنه بقدح كان في يده ثم قال ألم أنهكم عن مثل هذا فقال الرجل يا رسول الله إن الله قد بعثك بالحق وإنك قد عقرتني فألقى إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم القدح فقال له استقد فقال الرجل إنك طعنتني وليس علي ثوب وعليك قميص فكشف له رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بطنه فأكب عليه الرجل فقبله هذا منقطع وقد روي موصولا

16019 – اوب النضر اور ان کے دوسرے اصحاب کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہﷺ سے بیان کیا گیا کہ آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس نے زعفران کی خؤشبو لگائی ہوئی تھی آپ نے اسے ایک لکڑی سے مارا اور فرمایا: کیا میں تمہیں ا س سے منع نہیں کیا تھا ؟ وہ شخص کہنے لگا: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے زخم پہنچایا ہے آپ نے وہ لکری اسے دی اور فرمایا: قصاص لے لو وہ شخص کہنے لگا آپ نے جب مجھے مارا تھا مجھ پر کپڑا نہیں تھا آپ نے پیٹ سے اپنا کپڑا ہٹا لیا تو وہ شخص آپ سے چمٹ گیا اور آپ کا بوسہ لیا۔

أبي النضر وغيره أخبروه ← مَالِكٍ، ← بن وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Surgeon's Book › Intercourse doors recipe intentional and semi-intentional killing · Hadith 16019

سنن الکبری البھیقی · كتاب الجراح ‹ جماع أبواب صفة قتل العمد وشبه العمد · حديث 16020

[ 15799 ] أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد ثنا محمد بن يونس ثنا وهب بن جرير بن حازم ثنا أبي عن الحسن قال حدثني سواد بن عمرو قال أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وأنا متخلق بخلوق فلما رآني قال لي يا سواد بن عمرو خلوق ورس أو لم أنه عن الخلوق ونخسني بقضيب في يده في بطني فأوجعني فقلت يا رسول الله القصاص قال القصاص فكشف لي عن بطنه فجعلت أقبله ثم قلت يا رسول الله أدعه شفاعة لي يوم القيامة تابعه عمر بن سليط عن الحسن عن سواد بن عمرو

16020 - سواد بن عمرو فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے خلوق خوشبو لگائی ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا: اے سواد ! کیا اس خلوق سے میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا تو آپ نے ایک چھڑی سے مارا جو آپ کے ہاتھ میں تھی تو میرا پیٹ زخمی ہو گیاتو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قصاص آپ نے بھی اپنا پیٹ کھول دیا تو میں آپ کے پیٹ پر بوسے لینے لگا پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ میں قیامت کے دن آپ کی شفاعت چاہتا ہوں۔

الخلوق ونخسني بقضيب في يده في بطني فأوجعني فقلت ← لي يا سواد بن عمرو خلوق ورس أو لم أنه ← أتيت النبي وأنا متخلق بخلوق فلما رآني ← سواد بن عمرو ← الْحَسَنِ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Surgeon's Book › Intercourse doors recipe intentional and semi-intentional killing · Hadith 16020

سنن الکبری البھیقی · كتاب الجراح ‹ جماع أبواب صفة قتل العمد وشبه العمد · حديث 16021

[ 15800 ] حدثنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الله بن محمد الصيدلاني ثنا محمد بن أيوب أنبأ يحيى بن المغيرة السعدي ثنا جرير عن حصين عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبيه قال كان أسيد بن حضير رجلا ضاحكا مليحا قال فبينما هو عند رسول الله صلى الله عليه وسلم يحدث القوم ويضحكهم فطعن رسول الله صلى الله عليه وسلم بأصبعه في خاصرته فقال أوجعتني قال اقتص قال يا رسول الله إن عليك قميصا ولم يكن علي قميص قال فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم قميصه فاحتضنه ثم جعل يقبل كشحه فقال بأبي أنت وأمي يا رسول الله أردت هذا

16021 – عبدالرحمٰن بنابی لیلیٰ اپنے والد نقل فرماتے ہیں کہ ایسد بن حضیر برے خوش طبع اور ہنس مکھ آدمی تھے ایک مرتبہ آپ رسول اللﷺ کے پاس بیٹھے تھے اور کسی قوم کے بارے میں باتیں کر کے آپ کو ہنسا رہے تھے تو آپ نے اس کے پہلو میں انگلی ماری تو وہ کہنے لگے : آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے فرمایا: قصاص لے لو تو وہ فرمانے لگے : آپ ے قمیض پہنی ہوئی ہے اور مجھ پر قمیض نہیں ہے تو آپ ﷺنے اپنی قمیض اوپر اٹھائی تو وہ آپ کے جسم سے چمٹ گئے اور چومنے لگئے اور فرمانے لگے : یا رسول اللہ میرا یہی ارادہ تھا۔

اقتص ← القوم ويضحكهم فطعن رسول الله بأصبعه في خاصرته فقال أوجعتني ← فبينما هو عند رسول الله ← كان أسيد بن حضير رجلا ضاحكا مليحا ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← حُصَيْنٍ ← جَرِيرٌ ← محمد بن أيوب أنبأ يحيى بن المغيرة السعدي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Surgeon's Book › Intercourse doors recipe intentional and semi-intentional killing · Hadith 16021

سنن الکبری البھیقی · كتاب الجراح ‹ جماع أبواب صفة قتل العمد وشبه العمد · حديث 16022

[ 15801 ] أخبرنا أبو علي الروذباري أنبأ أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا محمد بن داود بن سفيان أنبأ عبد الرزاق أنبأ معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة رضى الله تعالى عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث أبا جهم بن حذيفة مصدقا فلاجه رجل في صدقة فضربه أبو جهم فشجه فأتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا القود يا رسول الله فقال النبي صلى الله عليه وسلم لكم كذا وكذا فلما يرضوا فقال لكم كذا وكذا فلم يرضوا فقال لكم كذا وكذا فرضوا فقال النبي صلى الله عليه وسلم أني خاطب العشية على الناس ومخبرهم برضاكم فقالوا نعم فخطب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال إن هؤلاء الليثيين أتوني يريدون القود فعرضت عليهم كذا وكذا فرضوا أفرضيتم قالوا لا فهم المهاجرون بهم فأمرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يكفوا عنهم فكفوا عنهم ثم دعاهم فزادهم فقال أرضيتم قالوا نعم قال أني خاطب على الناس ومخبرهم برضاكم قالوا نعم فخطب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أرضيتم قالوا نعم خالفه يونس بن يزيد الأيلي فرواه كما

16022 – عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے اوب جہم کو صدقے لینے کے لیے بھیجا ایک شخس نے کچ حیل و جحت کی تو ابو جہم نے اسے مارااور زخمی کر دیا وہ نبیﷺ کے پاس آئے اور قصاص کا مطالبہ کر دیا نمبی ﷺ نے فرمایا: تم یہ یہ لے لو وہ نہ مانے پھر آپ نے فرمایا : یہ بھی لے لووہ پھر بھی نہ مانے پھر آپ نے فرمایا: یہ یہ بھی لے لو وہ راضئ ہو گئے تو نبی ﷺ نے فرمایا: میں شام کو لوگوں کو خطبہ دوں گا اور تمہاری رضا مندی کہے بارے میں انہیں بتادوں گا انہوں نے کہا: ٹھیک ہے ۔

عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← محمد بن داود بن سفيان أنبأ عبد الرزاق أنبأ معمر ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو علي الروذباري أنبأ أبو بكر بن داسه

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Surgeon's Book › Intercourse doors recipe intentional and semi-intentional killing · Hadith 16022

سنن الکبری البھیقی · كتاب الجراح ‹ جماع أبواب صفة قتل العمد وشبه العمد · حديث 16023

[ 15802 ] أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو ثنا أبو العباس الأصم ثنا بحر بن نصر ثنا عبد الله بن وهب أخبرني يونس عن بن شهاب قال بلغنا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم استعمل أبا جهم على صدقة فضرب رجلا من بني ليث فشجه ذا المغلظتين فسألوه القود فأرضاهم ولم يقد منه

16023 – ابن شہاب زہری فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی کہ رسول اللہﷺ نے ابو جہم کو صدقہ پر عامل بنایا تو انہوں نے بنو لیث کے ایک آدمی کو مارا اور اسے سخت زخمی کر دیا تو انہوں نے قصاص کا مطالبہ کر دیا تو آپ نےا نہیں دیت پر4 راضی کرلیا اور قصاص نہیں لیا۔

بَلَغَنَا ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Surgeon's Book › Intercourse doors recipe intentional and semi-intentional killing · Hadith 16023

سنن الکبری البھیقی · كتاب الجراح ‹ جماع أبواب صفة قتل العمد وشبه العمد · حديث 16024

[ 15803 ] أخبرنا أبو بكر بن الحارث أنبأ علي بن عمر الحافظ ثنا محمد بن إسماعيل الفارسي ثنا إسحاق بن إبراهيم أنبأ عبد الرزاق ثنا معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت كان رجل أسود يأتي أبا بكر رضى الله تعالى عنه فيدنيه ويقرئه القرآن حتى بعث ساعيا أو قال سرية فقال أرسلني معه قال بل تمكث عندنا فأتى فأرسله معه واستوصى به خيرا فلم يغبر عنه إلا قليلا حتى جاء قد قطعت يده فلما رآه أبو بكر رضى الله تعالى عنه فاضت عيناه فقال ما شأنك قال ما زدت على أنه كان يوليني شيئا من عمله فخنته فريضة واحدة فقطع يدي فقال أبو بكر رضى الله تعالى عنه تجدون الذي قطع هذا يخون أكثر من عشرين فريضة والله لئن كنت صادقا لأقيدنك به قال ثم أدناه ولم يحول منزلته التي كانت له منه فكان الرجل يقوم الليل فيقرأ فإذا سمع أبو بكر رضى الله تعالى عنه صوته قال يا لله لرجل قطع هذا قالت فلم يغبر إلا قليلا حتى فقد آل أبي بكر رضى الله تعالى عنه حليا لهم ومتاعا فقال أبو بكر رضى الله تعالى عنه طرق الحي الليلة فقام إلا قطع فاستقبل القبلة ورفع يده الصحيحة والأخرى التي قطعت فقال اللهم أظهر على من سرقهم أو نحو هذا وكان معمر ربما قال اللهم أظهر على من سرق أهل هذا البيت الصالحين قال فما انتصف النهار حتى عثروا على المتاع عنده فقال له أبو بكر رضى الله تعالى عنه ويلك إنك لقليل العلم بالله فأمر به فقطعت رجله قال معمر أخبرني أيوب عن نافع عن بن عمر نحوه إلا أنه قال كان إذا سمع أبو بكر صوته قال ما ليلك بليل سارق والاستدلال في هذه المسألة وقع بقوله والله لئن كنت صادقا لأقيدنك به

16024 - عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک سیاہ رنگ کا آدمی حضڑت ابو بکر کے پاس آتا تھا جو قران کا اچھا قاری تھا حضرت ابو بکر نے اسے ایک سریہ میں بھیج دیا اور اسے خیر کی وصیت کی ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ وہ شخص واپس آگی ا ور اس کا ہاتھ کٹا ہو ا تھا جب حضرت ابو بکر نے یہ دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور پوچھا تمہیں کیا ہو گیا ؟ وہ کہنے لگا کہ مجھے کسی کامپر انہوں نے عامل بنا دیا تھا میں نےا سمیں سے تھوری سی خیانت کر دی تھی تو میرا ہاتھ کاٹ دیا گیا ابو بکر فرمانے لگے کہ ایک خیانت پر تیرا ہاتھ کاٹ دیا گیا اور خد 20 20 خیانتیں کرتے ہیں اگر تو اپنی بات میںسچا ہے تو میں تجھے اس سے ضرور قصاص لے کر دوں گا پھر وہ ابو بکر کا قریبی بن گیا اور آپ کی نظر میں اس کی قد رمیں کوئی کمی نہیں آئی وہ آدمی رات کو قیام کرتا اور قرآن پرھتا تھا جب ابو بکر نے اسکی قرآت سنی تو کہنے لگئے : ہائے افسوس اس آدمی کا ہاتھ کاٹا گیا حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ابھی کچھ ہی عرسہ گزرا تھا کہ حضرت ابو بکر کے گھر سے کچھ زیورات اور سامان چوری ہو گیا تو ابو بکر نے فرمایا: رات کو زندہ کرنے والا خاموش ہو گیا تو وہ شخص کھڑا ہوااور اپنا صحیح ہاتھ اور کٹا ہوا ہاتھ بلند کی ااور دعا کرنے لگا کہ اسے اللہ چور کو ظاہر فرما دے ۔

عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← إسحاق بن إبراهيم أنبا عبد الرزاق ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ← أبو بكر بن الحارث أنبأ علي بن عمر الحافظ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Surgeon's Book › Intercourse doors recipe intentional and semi-intentional killing · Hadith 16024

سنن الکبری البھیقی · كتاب الجراح ‹ جماع أبواب صفة قتل العمد وشبه العمد · حديث 16025

[ 15804 ] أخبرنا أبو بكر بن الحسن القاضي وأبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي وأبو سعيد بن أبي عمرو قالوا أنبأ أبو العباس الأصم ثنا بحر بن نصر ثنا بن وهب قال وسمعت حيي بن عبد الله المعافري يقول حدثني أبو عبد الرحمن الحبلى عن عبد الله بن عمرو بن العاص أن أبا بكر الصديق رضى الله تعالى عنه قام يوم جمعة فقال إذا كان بالغداة فاحضروا صدقات الإبل تقسم ولا يدخل عليها أحد إلا بإذن فقالت امرأة لزوجها خذ هذا الخطام لعل الله يرزقنا جملا فأبى الرجل فوجد أبا بكر وعمر رضى الله تعالى عنهما قد دخلوا إلى الإبل فدخل معهما فالتفت أبو بكر رضى الله تعالى عنه فقال ما أدخلك علينا ثما أخذ منه الخطام فضربه فلما فرغ أبو بكر من قسم الإبل دعا بالرجل فأعطاه الخطام وقال استقد فقال له عمر والله لا يستقيد لا تجعلها سنة قال أبو بكر فمن لي من الله يوم القيامة فقال عمر رضى الله تعالى عنه أرضه فأمر أبو بكر الصديق رضى الله تعالى عنه غلامه أن يأتيه راحلته ورحلها وقطيفة وخمسة دنانير فارضاه بها

16025 – عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن حضرت ابو بکر فرمانے لگے کہ کل صدقہ کے اونٹ لے آنا تاکہ انہیں تقسیم کر دیا جائے اور بگیر اجازت ہمرے پاس کوئی نہ آئےتو ایک عورتے نے اپنے خاوند کو کہا کہ یہ لگا لو شاید کل اللہہمیں بھی کوئی اونٹ عطا فرما دے تو آدمی نے انکار کر دیا جب دوسرے دن حضڑت ابو بکر اور عمر کو اس شخس نے اونٹوں کے پاس داخل ہوتے دیکھ اتو یہ بھی داخل ہو گیا حضڑت ابو بکر اس کی طرف متوجہ ہوئیے او رپوچھا تم کیوں آئے ہوَ؟ اور اس سے لگا لے کر اسے مارا جب ابو بکر اونٹوں کی تقسیم سے فارغ ہو گئے تو اس شخص کو بلایا اور اسے لگام دے کر فرمایا: قصاص لے لو۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحُبُلِیُّ ← حُیَیُّ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْمَعَافِرِیُّ، ← بن وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أنبأ أبو العباس الأصم ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي ← أبو بكر بن الحسن القاضي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Surgeon's Book › Intercourse doors recipe intentional and semi-intentional killing · Hadith 16025

chevron_left Previous
1…161718…25
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead