سنن الکبری البھیقی · كتاب الجراح ‹ جماع أبواب صفة قتل العمد وشبه العمد · حديث 16014
[ 15793 ] أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا موسى بن إسماعيل ثنا أبو عوانة عن حصين عن عمرو بن ميمون قال رأيت عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه قبل أن يصاب بأيام بالمدينة وقف على حذيفة بن اليمان وعثمان بن حنيف فقال كيف فعلتما تخافان أن تكونا قد حملتما الأرض ما لا تطيق قالا حملناها أمرا هي له مطيقة وقال حذيفة لو حملت عليها أضعفت وقال عثمان بن حنيف حملتها أمرا هي له مطيقة ما فيها كبير فضل قال أنظر ألا تكونا حملتما الأرض ما لا تطيق قالا لا فقال عمر رضى الله تعالى عنه لئن سلمني الله لأدعن أرامل العراق لا يحتجن إلى رجل بعدي قال فما أتت عليه إلا أربعة حتى أصيب قال وإني لقائم ما بيني وبينه إلا عبد الله بن عباس غداة أصيب قال وكان إذا مر بين الصفين قام فإن رأى خللا قال استووا حتى إذا لم ير فيهم خللا تقدم فكبر قال وربما قرأ بسورة يوسف أو النحل أو نحو ذلك في الركعة الأولى حتى يجتمع الناس قال فما هو إلا أن كبر قال فسمعته يقول قتلني الكلب أو أكلني الكلب حين طعنه فطار العلج بالسكين ذات طرفين لا يمر على أحد يمينا ولا شمالا إلا طعنه حتى طعن ثلاثاة عشر رجلا فمات منهم تسعة فلما رأى ذلك رجل من المسلمين طرح عليه برنسا فلما ظن العلج أنه مأخوذ نحر نفسه قال وتناول عمر يد عبد الرحمن بن عوف رضى الله تعالى عنهما فقدمه قال فمن يلي عمر رضى الله تعالى عنه فقد رأى الذي رأى وأما نواحي المسجد فإنهم لا يدرون غير أنهم فقدوا صوت عمر رضى الله تعالى عنه وهم يقولون سبحان الله سبحان الله قال فصلى بهم عبد الرحمن بن عوف رضى الله تعالى عنه صلاة خفيفة فلما انصرفوا قال يا بن عباس انظر من قتلني فجال ساعة ثم جاء فقال غلام المغيرة فقال الصنع قال نعم قال قاتله الله لقد كنت أمرت به معروفا فالحمد لله الذي لم يجعل ميتتي بيد رجل يدعي الإسلام وقال قد كنت أنت وأبوك تحبان أن تكثر العلوج بالمدينة قال وكان العباس رضى الله تعالى عنه أكثرهم رقيقا فقال إن شئت فعلنا أي إن شئت قتلنا قال كذبت بعدما تكلموا بلسانكم وصلوا قبلتكم وحجوا حجكم فاحتمل إلى بيته فانطلقنا معه قال وكأن الناس لم تصبهم مصيبة قبل يومئذ فقائل يقول لا بأس وقائل يقول نخاف عليه فأتى بنبيذ فشربه فخرج من جرحه ثم أتي بلبن فشربه فخرج من جرحه فعرفوا أنه ميت وذكر الحديث في وصاياه وأمر الشورى رواه البخاري في الصحيح عن موسى بن إسماعيل
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو زخمی ہونے سے چند دن قبل مدینہ میں دیکھا تھا وہ حضڑت حذیفہ اور عثمان بن حنیف پر کھڑے تھے اور فرمایا: کیا تم دونوں ڈرتے نہیں ہو کہ تم نے زمین کو اس پر محمول کر دیا جس کی وہ طاقت نہیں رکھتی وہ دونوں کہنے لگے ہم نے اسے اس کی طاقت پر ہی محمول رکھا ہے حذیفہ کہنے لگے اگر میں اسے محمول رتا تو کم کر دیتا پر ایسا بوجھ ڈالو جو وہ اٹھا نہ سکے کہا نہیں تو حضرت عمر نے رمایا: اگر اللہ نے مجھے سلامت رکھا تو میں تمہیں عراق کی ریت کو ضرور پلاؤں گا کہ وہ میرے بعد کس کے محتاج نہیں رہیں گے ابھی چار دن ہی گزرے تھے کہ یہ واقعہ پیش آگیا کہتے ہیں: میرے اور ان کے درمیان صرف عبدالکلہ بن عباس ہی تھے جس صبح ان کو وہ تکلیف پہنچی وہ صفوں کے درمیان پھر کر خلال پر کروا رہے تھے جب خلال پر ہو گئے تو آگے برھے اور تکبیر کہی اور پہلی رکعت میں صورۃ یوسف یا النحل کی تلاوت کی یہاں ت کہ لوگ جمع ہو گئے کہتے ہیں: آپ قریب تھے جکہ رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے کہ میں نے سنا وہ کہہ رہے تھے مجھے کتے نے قتل کر دیا مجھے کتے نے کاٹ لیا تو وہ شخس بھاگا اس کے پا دو دھاری پتھر ی تھی اور ادھر ادھر مارتے ہوئے وہ بھاگا تو اس نے 14 آدمیوں کو زخمی کیا ان میں سے 9 فوت ہو گئے تھے جب ایک مسلمانن ے اسے دیکھا تو ا س پر چادر ڈال دی جب اس کو یقین ہو گیا کہ اب پکڑا جاؤں گا رو اپنا بھی گلا کاٹ لیا تو حضڑت عمر نے عبدالرحمئن عوف کا ہاتھ پکڑ کر آگے کیا مسجد کے کانوں میں جو لو گ تھے ا نہیں اس واقعہ کا پتہ نہ چلا تو انہوں نے حضرت عمر کی قرآت کی آواز نہ آنے کی وجہ سے سبحان اللہ سبحان الہ کہنا شرو ع کر دیا تو عبدالرحمٰن بن عوف نے ہلکی سینماز پڑھائی جب واپس لوتے تو ابن عباس کو فرمایا دیکھا مجھے کس نے قتل کیا ہے ؟ تو وہ کچھ دیر کے بع دآئے اور بتاای مگیرہ کے غلام نے پوچھا الصمع نے کہا؟ ہاں فرمایا: الحمد اللہ کہ اللہ نےت مجھے کسی مسلمان کے ہاتھوں نہیں مروایا اور کہا تم اور تیرے والد پسند کرتے تھے کہ مدینہ میں کافر زیادہ ہوجائے حضڑت عباس سے سب سے زیادہ غلاموں والے تھےتو کہنے لگے اگر آپ چاہیں تو ہم ان کو قتل کر دیں تو فرمایا: تو جھوٹ بولتا ہےت ہ جب انہوں نے تمہاری زبان کے سات بات کر لی تمہارے قبلہ کی طرف نماز پرھ لی اور تمہاری زبان کے ساتھ بات کر لی تمہارے قبلی کی طرف نما زپڑھ لی اور تمہارا حج کر لیا اب قتل نہ کریں اس کے بع دآپ کو گھر بلایا گیا اور لوگوں کی حالت یہ تھی کہ گویا جتنی بڑی مصیبت آج انہیں پہنچی ہے کبھی نہیں پہنچی کچھ ای کدوسرے کو تسلیا دے رہے تھے کہ کچھ نہیں ہوتا اور کوئی کہہ رہا تھا کہ ہم حضرت عمر پر خوف کھاتے ہیں تو آپ کے پاس نبیذ لایا گیا وہ آپ نے پیا تو پیٹ کے زخم سے باہر نکل گیا تو لوگ سمجھ گئے کہ اب آپ فوت ہو جائیں گے ۔
رأيت عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه قبل ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← حُصَيْنٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ أحمد بن محمد بن عبدوس
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Surgeon's Book › Intercourse doors recipe intentional and semi-intentional killing · Hadith 16014
