Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18012

[ 17791 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا مسدد ثنا حماد بن زيد عن بديل بن ميسرة وخالد والزبير بن الخريت عن عبد الله بن شقيق عن رجل من بلقين قال أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو بوادي القرى فقلت ما تقول في الغنيمة قال لله خمسها وأربعة أخماس للجيش قلت فما أحد أولى به من أحد قال لا ولا السهم تستخرجه من جنبك ليس أنت أحق به من أخيك المسلم

18012 – عبداللہ بن شقیق بلقین کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبیﷺ کے پاس آیا اس وقت آپ قریٰ کی وادی میں تھے اس نے غنیمت کے بارے میں سوال کی اتو آپ نے فرمایا: اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے باقی چار حصے لشکر کے لیے ہیں اس نے کہا: کیا کسی کو کسی پر فوقیت ہے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں ہ وہ تیر جس کو تم اپنے پہلو سے نکالوا سمیں بھی تم اپنے بھائی سے زیادہ حق نہیں رکھتے ۔

لله خمسها وأربعة أخماس للجيش قلت فما أحد أولى به من أحد ← أتيت النبي وهو بوادي القرى فقلت ما تقول في الغنيمة ← رجل من بلقين ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← بديل بن ميسرة وخالد والزبير بن الخريت ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18012

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18013

[ 17792 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد الصفار ثنا الحسن بن علي المعمري ثنا محمد بن أبي بكر ثنا عثام بن علي ثنا الأعمش عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة عن عبد الله رضى الله تعالى عنه قال انتهيت إلى أبي جهل وهو صريع وعليه بيضة ومعه سيف جيد ومعي سيف ردي فجعلت انقف رأسه بسيفي وأذكر نقفا كان ينقف رأسي بمكة حتى ضعفت يده فأخذت سيفه فرفع رأسه فقال على من كانت الدبرة أكانت لنا أو علينا الست رويعينا بمكة قال فقتلته ثم أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت قتلت أبا جهل قال النبي صلى الله عليه وسلم الله الذي لا إله إلا هو قتلته فاستحلفني ثلاث مرات ثم قام معي إليهم فدعا عليهم

حضرت عبداللہ فرماتے ہیں: میں ابو جہل کے پاس پہنچا وہ نیم مردہ حالت میں تھا ا س کے سر پر خود تھا اوراس کے پاس عمدہ تلوار تھی اور میری تلوار ہلکی تھی میں اپنی تلوار سے اس کےسر پر مارا اس وقت مجھے مکہ میں اس کا مجھے مارنا یا س آیا میں نے اتنا مارا کہ اس کا ہاتھ کمزور ہو گیا میں نےا سکی تلوار پکڑ لی اس نے سر اتھایا او رکہا: شکست کس کو ہوئی ؟ کیا ہمیں یا ان کو اور مجھے کہا: کای تو مجکہ میں ہمارا چرواہا ا نہیں تھا عبداللہ فرماتے ہیں: میں نے اس کو قتل کر دیا پھر نبی ﷺ کے پاس آیا او رکہا کہ میں نےاس کو قتل کر دیا نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم وہ اللہ جس کے علاوہکوئی معبود نہیں ہے کیا تو نےا سکو قتل کیا ہے ؟ نبیﷺ نےتیندفعہ میں سے قسم لی پھر میرے ساتھ گئے پھر ان کے لیے بددعا کی ۔

أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الْاَعْمَشِ ← عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18013

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18014

[ 17793 ] أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي بالكوفة أنبأ أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم ثنا أحمد بن حازم أنبأ منجاب بن الحارث أنبأ شريك عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة عن عبد الله رضى الله تعالى عنه قال انتهيت إلى أبي جهل وهو في القتلى صريع ومعي سيف رث فجعلت أضربه بسيفي فلم يعمل شيئا قال ونظر إلي فقال أرويعينا بمكة فوقع سيفه فأخذته فضربته به حتى قتلته ثم جئت اشتد حتى أخبرت النبي صلى الله عليه وسلم فقال أنت قتلته قلت نعم حتى استحلفني ثلاث مرات فحلفت له ثم قال انطلق فأرنيه فانطلق فأريته أياه فقال كان هذا فرعون هذه الأمة ورواه الأعمش عن أبي إسحاق بمعناه

18014 – عبداللہ کہتے ہیں: میں ابو جہل کے پاس ایا وہ مقتولین میں نیم مردہ پڑا تھا میرے پاس پرنای تلوار تھی میں نے اس کو اپنی تلوار سے مارنا شروع کر دی وہ کچھ نہیں کر رہی تھی ا سنے میری طرف دیکھا او رکہا: کیا تو مکہ میں ہمارا چرواہا نیں تھا اسی اثنا میں اس کی تلوار گر گئی میں نے اسکو پکڑ لیا اور ا سکو ا سکی تلوا رسے قتل کر دیا پھر میں جلدی جلدی ایا او رآپ کو خبر دی تو آپ نے فرمایا: کی اتو نے اس کو قتل کیا ہے ؟ می نے کہا: ہاں تو آپ نے مجھ سے تین قسمیں لیں ۔

أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أحمد بن حازم أنبأ منجاب بن الحارث أنبأ شريك

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18014

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18015

[ 17794 ] أخبرنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن عمر بن قتادة أنبأ أبو الفضل محمد بن عبد الله بن خميرويه أنبأ أحمد بن نجدة ثنا الحسن بن الربيع ثنا عبد الله بن المبارك عن معمر عن أيوب عن بن سيرين عن أنس بن مالك عن براء بن مالك رضى الله تعالى عنه قال لقيت يوم مسيلمة رجلا يقال له حمار اليمامة رجلا جسيما بيده سيف أبيض فضربت رجليه فكأنما أخطأته فانقعر فوقع على قفاه فأخذت سيفه وأغمدت سيفي فما ضربت به إلا ضربة حتى انقطع فألقيته وأخذت سيفي

18015 – حضرت براء بن مالک فرماتے ہیں کہ مسلیمہسے لڑائی کے دن میں ایک طاقتور آدمی سے ملا جس کو یمامہ کا گدھا کہا جاتا تھا اس کے ہاتھ میں عمدہ تلوار تھی میں نے اسکی ٹانگوں پر مارا گویا کہ مجھ سے خطا ہو گئی اس کی ٹانگیں اکھڑ گئیں اور وہ گدی کے بل گر گیا میں ن ےا سکی تلوار کو پکڑ ا اور اپنی تلوار کو درمیان میں رکھ امیں اسکو ایک ہی وار سے قتل کر دیا پھر میں نے اس کی تلوار کو پھینک دیا او رمی نے اپنی تلوار پکڑ لی ۔

براء بن مالك رضى الله تعالى عنه ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بن سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18015

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18016

[ 17795 ] حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني إملاء وقراءة أنبأ أبو سعيد بن الأعرابي ثنا سعدان بن نصر ثنا معاذ بن معاذ ثنا سعيد عن قتادة عن أنس عن أبي طلحة رضى الله تعالى عنهما قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا غلب على قوم أحب أن يقيم بعرصتهم ثلاثا أخرجه البخاري ومسلم في الصحيح من حديث روح عن سعيد بن أبي عروبة قال البخاري وتابعه معاذ

اوب طلحہ فرماتے ہیں : جب آپ کسی قوم پر غلبہ حاصل کرتے تو پسند کرتے کہ وہاں تین دن قیام کیا جائے ۔

أبي طلحة رضى الله تعالى عنهما ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← قراءة أنبأ أبو سعيد بن الأعرابي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18016

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18017

[ 17796 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عمر بن حفص المقري الحمامي رحمه الله ببغداد أنبأ أحمد بن سلمان الفقيه ثنا عبد الملك بن محمد ثنا بشر بن عمر ثنا شعبة عن سعد بن إبراهيم قال سمعت أبا أمامة بن سهل بن حنيف يحدث عن أبي سعيد الخدري رضى الله تعالى عنه أن بني قريظة لما نزلوا على حكم سعد بن معاذ رضى الله تعالى عنه أرسل إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء على حمار فلما كان قريبا من المسجد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قوموا إلى سيدكم أو إلى خيركم فقال إن هؤلاء نزلوا على حكمك قال فإني أحكم فيهم أن يقتل مقاتلتهم وتسبى ذراريهم قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم حكمت بحكم الملك بما قال حكمت بحكم الله أخرجه البخاري ومسلم في الصحيح من أوجه عن شعبة

ابو سعید خدری فرماتے ہیں: جب بنو قریظہ نے سعد بن معاذ کو اپنا ثالث بنایا تو نبیﷺ نے ان کو پیگام بھیجا وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے جب وہ مسجد کے قریب آئے تو آپ نے فرمایا: اپنے سردار یا اپنے اچھے کی طرف اٹھو آپ نے فرمایا: ان لوگوں نے آپ کو ثالث بنایا ہے تو انہوں نے کہا: میں ان کے متعلق یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ لرئای کے قابل لوگوں کو قتل کر دیا جائے اور بچوں کو قیدی بنایا جائے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا:تو نے مالک کے فیصلہ کے ساتھ فیصلہ کیا ہے ۔

أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18017

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18018

[ 17797 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو جعفر أحمد بن عبيد الأسدي الحافظ بهمذان أنبأ إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ثنا إسحاق بن محمد الفروي وإسماعيل بن أبي أويس قالا ثنا محمد بن صالح التمار عن سعد بن إبراهيم عن عامر بن سعد عن أبيه أن سعد بن معاذ رضى الله تعالى عنه حكم على بني قريظة أن يقتل منهم كل من جرت عليه الموسى وأن تقسم أموالهم وذراريهم فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لقد حكم اليوم فيهم بحكم الله الذي حكم به من فوق سبع سماوات

18018 – سعد بن معاذ نے بنی قریظ کے بارے میں فیصلہ کی اکہ ان میںسے بالغوں کو قتل کیا جائے او رمال اور بچوں کو مال غنیمت کے طور پر تقسیم کیا جائے یہبات رسول اللہﷺ کے پاس ذکر کی گئی تو آپ نے فرمایا:سعد نے وہ فیصلہ کی اجو اللہ نے سات آسمانوں پر کیا ہے ۔۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18018

Sahih

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18019

[ 17798 ] أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري ثنا محمد بن عبد الوهاب أنبأ يعلى بن عبيد ثنا سفيان عن عبد الملك بن عمير عن عطية القرظي قال كنت فيهم وكان من أنبت قتل ومن لم ينبت ترك فكنت فيمن لم ينبت

18019 - عطیہ قرظی فرماتے ہیں : می بھی بنی قریظہ میں سے تھا جس کے زیر ناف بال تھے اس کو قتل کیا گیا اور جس کے بال نہ تھے اس کو چھوڑ دیا گیا میں اس قت بغیر بال کے تھا۔

عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← محمد بن عبد الوهاب أنبأ يعلى بن عبيد ← أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18019

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18020

[ 17799 ] أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد ثنا عثمان بن عمر الضبي ثنا مسدد ثنا أبو عوانة عن عبد الملك بن عمير عن عطية القرظي قال كنت فيمن حكم فيهم سعد بن معاذ رضى الله تعالى عنه فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقتل مقاتلتهم وتسبى ذراريهم قال فجاؤوا بي ولا أراني إلا سيقتلونني فكشفوا عانتي فوجدوها لم تنبت فجعلوني في السبي

عطیہ قرظی فرماتے ہیں: سعد بن معاذ نے جن ک متعلق فیصلہ کیا تھا ان می میں بھی تھا رسول اللہﷺ نے جنگجہوں کے بارے میں قتل کا حکم دیا اور بچوں کو قیدی بنایا گیا لوگ مجھے لائے وہ مجھے بھی قتل کرنے والے تھے انہوں نے میرا ستر کھولا تو میرے زیر ناف بال نہیں تھے تو انہوں نے مھے قیدیون میں رکھا۔

عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدٌ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ ← علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18020

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18021

[ 17800 ] أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي وأبو طاهر الفقيه قالا أنبأ أبو بكر محمد بن الحسين القطان ببغداد أنبأ أبو الأزهر ثنا محمد بن شرحبيل أنبأ بن جريج عن موسى بن عقبة عن نافع عن بن عمر رضى الله تعالى عنهما أن يهود بني النضير وقريظة حاربوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فأجلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بني النضير وأقر قريظة ومن عليهم حتى حارت قريظة بعد ذلك فقتل رجالهم وقسم نساءهم وأولادهم وأموالهم بين المسلمين إلا بعضهم لحقوا برسول الله صلى الله عليه وسلم فأمنهم واسلموا وأجلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يهود المدينة بني قينقاع وهم قوم عبد الله يعني بن سلام ويهود بني حارثة وكل يهودي بالمدينة أخرجه مسلم في الصحيح من حديث عبد الرزاق عن بن جريج وأما ما قال في خيبر ففيما

ابن عمر فرماتے ہیں : بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہود نے رسول اللہ ﷺ کے سات7ھ لڑائی کی اپنے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا او قریظہ والوں کو بر قرار رکھا اور ان پر احسان کیا اس کے بعد بنو قریظہ نے بھی لڑائی کی آپ نے ان کے مردوں کو قتل کی ااور عورتوں بچوں اور مال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دی ااو ران کو چھوڑ دی اجو رسول اللہﷺ سے مل گئے آہپ نے ان کو امن دیا انہوں نے اسلام قبول کر لی ا آپ نے مدینہ کو یودیوں کو جلا وطن کر دیا ۔

بن عمر رضى الله تعالى عنهما ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← محمد بن شرحبيل أنبأ بن جريج ← أنبأ أبو بكر محمد بن الحسين القطان ببغداد أنبأ أبو الأزهر ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18021

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18022

[ 17801 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الوليد حسان بن محمد الفقيه أنبأ الحسن بن سفيان ثنا محمد بن المثنى ثنا عبد الرحمن بن مهدي عن مالك بن أنس عن زيد بن أسلم عن أبيه عن عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه قال لولا آخر الناس ما فتحت عليهم قرية إلا قسمتها كما قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن المثنى

18022 – حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں : اگر مجھے اسبات کا ڈر نی ہوتا کہ بعد میں آنے والے لوگ تنگ دست ہو جائیں گئے تو میئں جو بھی علاقہ فتح ہو تا تو اس کو تقسیم کر دیتا جس طرح رسول اکرم ﷺ نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔

عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مالک بن أنس ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أبو الوليد حسان بن محمد الفقيه أنبأ الحسن بن سفيان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18022

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18023

[ 17802 ] وأما ما قال في ولدان بني المصطلق ففيما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن عبد الله أنبأ يزيد بن هارون أنبأ بن عون ح قال وأخبرنا أبو الفضل بن إبراهيم ثنا أحمد بن سلمة ثنا محمد بن بشار ثنا محمد بن أبي عدي ومعاذ بن معاذ قالا ثنا بن عون قال كتبت إلى نافع اسأله عن الدعاء قبل القتال قال إنما كان ذلك الدعاء في أصل الإسلام قد أغار رسول الله صلى الله عليه وسلم على بني المصطلق وهم غارون وأنعامهم تسقى على الماء فقتل مقاتلتهم وسبى سبيهم وأصاب يومئذ جويرية بنت الحارث حدثني بهذا عبد الله بن عمر وكان في ذلك الجيش وفي رواية يزيد إنما ذلك بعد الدعاء في أول الإسلام والباقي سواء رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن المثنى عن بن أبي عدي وقد مضى في حديث أبي سعيد الخدري غزونا بني المصطلق فسبينا كرائم العرب فأردنا أن نستمتع ونعزل فسألنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لا عليكم أن لا تفعلوا

18023 - ابن عون فرماتے ہیں : میں نے نافع کو لڑائی سے پہلے دعوت ے بارے میں سوال لکھ کر بھیجا انہو ں نے کہا: دعوت دنیا اسلام ک یبنیاد ہے رسول اللہﷺ بنو مصطلق پر شب خون مارا کیونکہ وہ بھی اس کے لیے تیار تھے اس وقت جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا آپ نے جنگجہوں کو قتل کای بچوں کو قیدی بنایا اور اسی دن آپ کو حضر ت جویریہ بنت حارث ملی تھیں۔

وَأَمَّا مَا

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18023

chevron_left Previous
1…789…77
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead