Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17906

[ 17684 ] أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف أنبأ أبو سعيد بن الأعرابي ثنا سعدان بن نصر ثنا أبو معاوية عن عاصم الأحول عن أبي عثمان النهدي قال استعمل عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه رجلا من بني أسد على عمل فجاء يأخذ عهده قال فأتى عمر رضى الله تعالى عنه ببعض ولده فقبله قال أتقبل هذا ما قبلت ولدا قط فقال عمر فأنت بالناس أقل رحمة هات عهدنا لا تعمل لي عملا أبدا

17906 – حضرت ابو عثمان نہری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے بنو اسد کے آدمی کے ذمہ ایک کام لگایا جب وہ کام کر کرے اپس آیا تو ا سوقت حضرت عمر کے پاس ان کا کوئی بچہ لایا گیا تو انہوں نے اسکو بوسہ دیا تو اس نے کہا کہ کیا آپ اس کو بوسہ دیتے ہیں میں نے کبھی کسی بچے کو بوسہ نہیں دیا تو حضرت عمر نے فرمایا: تم لوھوں کے عاملہ میں مہربانی کم ہے ہمار اکام واپس کر دے اور آئدہ کبھی ہمارے لیے کام نہ کرتا۔

أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أبو محمد عبد الله بن يوسف أنبأ أبو سعيد بن الأعرابي

Hadith 17906

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17907

[ 17685 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب القاضي ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء ثنا مهدي بن ميمون ثنا سعيد الجريري عن أبي نضرة عن أبي فراس قال شهدت عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه وهو يخطب الناس فقال يا أيها الناس إنه قد أتى علي زمان وأنا أرى أن من قرأ القرآن يريد به الله وما عنده فيخيل إلي بآخرة أن قوما قرؤوه يريدون به الناس ويريدون به الدنيا ألا فأريدوا الله بقراءتكم ألا فأريدوا الله بأعمالكم إلا إنما كنا نعرفكم إذ يتنزل الوحي وإذ النبي صلى الله عليه وسلم بين أظهرنا وإذ نبأنا الله من أخباركم فقد انقطع الوحي وذهب النبي صلى الله عليه وسلم فإنما نعرفكم بما أقول لكم ألا من رأينا منه خيرا ظننا به خيرا وأحببناه عليه ومن رأينا منه شرا ظننا منه شرا وأبغضناه عليه سرائركم بينكم وبين ربكم ألا إنما أبعث عمالي ليعلموكم دينكم وليعلموكم سنتكم ولا أبعثهم ليضربوا ظهوركم ولا ليأخذوا أموالكم ألا فمن رابه شيء من ذلك فليرفعه إلي فوالذي نفس عمر بيده لأقصن منه فقام عمرو بن العاص فقال يا أمير المؤمنين إن بعثت عاملا من عمالك فأدب رجلا من أهل رعيته فضربه إنك لمقصه منه قال نعم والذي نفس عمر بيده لأقصن منه وقد رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يقص من نفسه ألا لا تضربوا المسلمين فتذلوهم ولا تمنعوهم حقوقهم فتكفروهم ولا تجمروهم فتفتنوهم ولا تنزلوهم الغياض فتضيعوهم

17907- حضڑت ابو فراس فرماتے ہیں ک میں حضرت عمر کے پاس گیا وہ لوگ کو اعظ کر رہے تھے کہ اے لوگو! مجھ پر ایسا زمانہ گزرا ہے کہ میں نے لوگوں کو دیکھا وہ قرآن پرھتے تھے بدلہ اللہ کی رضا اور اجر چاہتے تھے پھر میں تصور کرتا ہوں کہ بع دوالوں میں ایک قوم ہو گی جو قران پڑھےئ گی مگر لوگوں کو کوش کرنے کے لیے اور بدلہ میں دنیا کا مال حاصل کرنے کے لیے خبردار تلاوت قرآن سے اللہ کی رضا طلب کرو خبردار اپنے اعمال سے اللہ کو راضی کرو خبر دار ہم تم کو جانتے ہیں جب وحی نازل ہو رہی تھی او ر نبی ﷺ ہمارے درمیاں موجود تھے اللہ نے ہمیں تمہارے بارے میں خبر ین دے دی تھیں اب وحی ختم ہو گئی اور نبی ﷺ فوت ہو گئے اور ہم جانتے ہیں جو تم کو کہتے ہیں خبر دار جس میں ہم بھلائی دیکھتے ہیں او ربھلا یال کرتے ہیں او اس کو پسند کرتے ہیں اور جس میں برائی دیکھتے اس کو برا سمجھتے ہیں اور اس پر ناراض ہوتے ہیں اور تمہارے راز اللہ اور تمہارے درمیان ہے خبردار ہم اعمال کو بھیجتے ہیں تاکہ وہ تم کو دین او سنت سکھائیں اس لیے نہیں بھیجتے کہ وہ تمہاری پیٹھ پر ماریں اور نہ اس لیے کہ وہ تمہارا مال لے لیں۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ ← شهدت عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه وهو يخطب الناس ← أَبِي فِرَاسٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق

Hadith 17907

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17908

[ 17686 ] أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ الربيع بن سليمان أنبأ الشافعي أخبرني الثقفي عن حميد عن موسى بن أنس عن أنس بن مالك أن عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه سأله إذا حاصرتم المدينة كيف تصنعون قال نبعث الرجل إلى المدينة نصنع له هنة من جلود قال أرأيت إن رمى بحجر قال إذا يقتل قال فلا تفعلوا فوالذي نفسي بيده ما يسرني أن تفتتحوا مدينة فيها أربعة آلاف مقاتل بتضييع رجل مسلم

17908 – حضرت عمر نے حضر ت انس بن مالک سے پوچھا : جب تم کسی شہر کا محاصرہ کرتے ہو تو کیا طریقہ اختیار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم شہر کی طرف ایک آدمی کو شہر کی طرف بھیجتے ہیں اور اسے چمڑے کی ڈھال دیتے ہیں حضرت عمر نے پوچھا: اگر اسے پتھر پھینک کر ما را جائے تو ؟ عرض کیا:پھر وہ مر جائے گا وت آپﷺ نے فرمایا: تو حضرت عمر نے کہا: مجھے اللہ کی قسم ایک مسلمان کا ض ئاع چار ہزار لڑائی کے قابل آدمیوں کے شہر کی فتح کے بدلہ میں بھی پسند نہیں ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← الثَّقَفِيُّ، ← أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ الربيع بن سليمان أنبأ الشافعي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي

Hadith 17908

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17909

[ 17687 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن مكرم ويحيى بن أبي طالب قالا ثنا يزيد بن هارون أنبأ محمد بن مطرف عن زيد بن أسلم عن أبيه قال أصاب الناس سنة غلا فيها السمن فكان عمر رضى الله تعالى عنه يأكل الزيت فيقرقر بطنه وفي رواية يحيى قال كان عمر رضى الله تعالى عنه يأكله فلما قل قال لا آكله حتى يأكله الناس قال فكان يأكل الزيت فيقرقر بطنه قال بن مكرم في روايته فقال قرقر ما شئت فوالله لا آكل السمن حتى يأكله الناس ثم قال لي أكسر حره عني بالنار فكنت أطبخه له فيأكله

17909 - حضرت زید بن اسلم کے والد فرماتے ہیں : مسلمانو پر ایک ایسا سال آیا جس میں گھی کی قیمت بڑھ گئی اور حضرت عمر کی خرابی کی وجہ سے زیتون کھاتے تھے اور یحییٰ کی روایت ہے کہ ضرت عمر تیل کھاتے تھے جب وہ کم ہو گی اتو انہوں نے کپا: اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک لوگ نہپ کھائیں جبکہ آپ پیٹ کے بولنے کی وجہ سے تیل کھایا کرتے تھ ابن مکرم کی رویات میں ہے کہ عمر نے پیٹ کو مخاطب کر کے کہا: جتنا چاہے بول اللہ کی قسم تو اسوقت تک گھی نہیں کھائے گا جب تک لوگ نہ کھائیں پھر انہوں نے مجھے کہا:اس کی گری کو آگ سے ختم کر و میں آپ کے لیے اس کو پکاتا تھا اور آپ کھاتے تھے ۔

أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← يزيد بن هارون أنبأ محمد بن مطرف ← الحسن بن مكرم ويحيى بن أبى طالب ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 17909

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17910

[ 17688 ] حدثنا أبو الحسين بن بشران أنبأ إسماعيل الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنبأ معمر عن طاوس وعكرمة بن خالد أن حفصة وابن مطيع وعبد الله بن عمر كلموا عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه فقالوا لو أكلت طعاما طيبا كان أقوى لك على الحق قال أكلكم على هذا الرأي قالوا نعم قال قد علمت أنه ليس منكم إلا ناصح ولكن تركت صاحبي على جادة فإن تركت جادتهما لم أدركهما في المنزل قال وأصاب الناس سنة فما أكل عامئذ سمنا ولا سمينا حتى أحيا الناس

17910 - حضرت حفصہ اور ابن مطیع اور عبداللہ بن عمر حضرت عمر کے پاس آئے اور آپ سے کہا کہ اگر آپ اچھا کھانا کھائیں تو یہ آپ کو حق کا کام کرنے کے لیے مظبوط کرنے کے لیے مظبوط کرے گا تو حضرت عمر نے کہا: کیا ت سب کی یہی ائے ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں تو آپ نے فرمایا: می جانتا ہوں تم میرے خیر خواہ ہو لیکن میں اپنے دونوں ساتھیوں کے راستہ کو چھوڑدوں گا اور اگر میں نے ان کاطریقہ چھوڑ دیا تو میں قیامت کے دن ان کو نہیں پا سکوں گا وگوں پر تنگی کا سال آیا تو حضرت عمر نے پورا سال گھی نہیں کھایا او نہ بھنا ہوا موٹا گوشت کہ لوگ جان آگئے اور تروتازہ ہو گئے ۔

طاوس وعكرمة بن خالد ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أبو الحسين بن بشران أنبأ إسماعيل الصفار

Hadith 17910

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17911

[ 17689 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا أبو بكر الحنفي ثنا عبد الله هو بن يزيد الهذلي قال سمعت السائب بن يزيد يقول لما كانت الرمادة أصاب الناس جوعا شديدا فلما كان ذات يوم ركب عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه دابة له فرأى في روثها شعيرا فقال والله لا أركبها حتى يحسن حال الناس

17911 – حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں : قحط کے سال مسلمانوں کو سخت فاقے لاحق ہوئے ایک دن حضرت عمر اپنیسواری پر سواری تھے تو انہوںنے اکی لید میں جو کا ایک دانہ دیکھ اتو کہا: اللہ کی قسم میں آ س پر سوا رنہیں ہوں گا کہ لوگوں کی حالت بہتر ہو جائے ۔

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← عبد الله هو بن يزيد الهذلي ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 17911

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17912

[ 17690 ] وروينا عن أبي عثمان النهدي أن عتبة بن فرقد بعث إلى عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه من أذربيجان بخبيص فقال عمر رضى الله تعالى عنه أيشبع المسلمون في رحالهم من هذا فقال الرسول اللهم لا فقال عمر رضى الله تعالى عنه لا أريده وكتب إلى عتبة أما بعد فإنه ليس من كدك ولا من كد أبيك ولا من كد أمك فأشبع من قبلك من المسلمين في رحالهم مما تشبع منه في رحلك أخبرناه أبو عبد الله الحافظ ثنا إسماعيل بن أحمد الجرجاني أنبأ أبو يعلى الموصلي ثنا أبو خيثمة ثنا جرير عن عاصم الأحول عن أبي عثمان فذكره

17912 - ابو عثمان نہدی فرماتے ہیں : عتبہ بن قرفہ نے کچ حلوہ حضرت عمر کو آذر بائی ان سے بھیجا تو آپ نے قاصد سے پوچھا: کیا مسلمان اس سے سیر ہو گئے ہیں؟ تو ا سنے کہا: نہیں تو حضرت عمر نے فرمایا: مجھے یہ نہیں چاہیے اور عتبہ کو لکھا کہ یہ تری کوشش و محنت سے نہیں ہے نہ تیرے ماں باپ کی کوشش سے ہے پہلے ان مسلمانوں کو سیر کر جو تیرے پاس ہیں اپنے گھر اتنا دے جتنا تو نے اپنے گھرکے لیے رکھا ہے ۔

أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← وَرُوِّينَا

Hadith 17912

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17913

[ 17692 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر محمد بن عبد الله بن إبراهيم الشافعي ثنا محمد بن سلمة الواسطي ثنا وهب بن جرير ثنا أبي قال سمعت حرملة المصري يحدث عن عبد الرحمن بن شماسة قال دخلت على عائشة رضى الله تعالى عنها فقالت ممن أنت قلت من أهل مصر قالت كيف وجدتم بن حديج في غزاتكم هذه قلت خير أمير ما ينفق لرجل منا فرس ولا بعير إلا أبدل له مكانه بعيرا ولا غلام إلا أبدل له مكانه غلاما فقالت إنه لا يمنعني قتله أخي أن أحدثكم ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول اللهم من ولي من أمر أمتي شيئا فرفق بهم فأرفق به ومن شق عليهم فاشقق عليه وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو أحمد الحافظ أنبأ محمد بن إسحاق بن خزيمة ثنا علي بن حسان العطار ثنا عبد الرحمن بن مهدي ثنا جرير بن حازم قال سمعت حرملة المصري يحدث عن عبد الرحمن بن شماسة عن عائشة رضى الله تعالى عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن حاتم عن عبد الرحمن بن مهدي

17913 – عبدالرحمٰن بن شماسہ فرماتے ہیں : میں عائشہ کے پاس گیا انہوں نے پوچھا: کن لوگوں میں سے ہے ؟ میں نے کہا: مصری ہوں تو آپ نے پوچھا: تم نے اپنی لڑائیہوں میں ابن جریح کو کیسا پایا ؟ میں نے کہا: وہ اچھا میرے ہے جنگ میں جس کا گھوڑا یا اونٹ کام آیا وہ اس کا بدلہ اونٹ سے دیتا ہے اور اگر کسی کا غلام کا م آیا تو وہ بدلہ میں آس کو غلام ا دیتا ہے تو عائشہ نے کہا: اس کا میرے بھائی ک قتل رکنا مجھے حدیث بیان کرنے سے نہیں روکتا جو میں نے رسول اللہ ﷺسے سنی ہے ۔

عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِمَاسَۃَ ← حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيِّ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← محمد بن سلمة الواسطي، ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر محمد بن عبد الله بن إبراهيم الشافعي

Hadith 17913

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17914

[ 17693 ] حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني إملاء أنبأ أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري بمكة ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار عن أبي العباس عن عبد الله رضى الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يعني حين حاصر أهل الطائف فلم ينل منهم شيئا إنا قافلون غدا إن شاء الله فقال المسلمون كيف نذهب ولم نفتح فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فاغدوا للقتال فغدوا عليهم فأصابتهم جراحة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إنا قافلون غدا فأعجبهم ذلك فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم رواه البخاري في الصحيح عن علي بن المديني ورواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة وغيره عن بن عيينة

17914 - حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : جس وقت طائف والوں کا محآصرہ کی اگیا اور کچھ حآصل نہ ہوا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: جہم انشاء اللہ کل واپس جائیں گے تو مسلمانوں نے کہا: کیسے واپس جائیں ہم کامیاب تو ہوئے نہیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: صبح لڑائی کے کیے تیار رہو صبح انہوں نے ان پر حملہ کی اتو ان کو زخم لگے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہم کل واپس جائیں گے تو لوگوں نے اسکو پسند کی اتو رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے ۔

أَبِي الْعَبَّاسِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ

Hadith 17914

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17915

[ 17694 ] وقد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو بكر بن الحسن القاضي وأبو سعيد بن أبي عمرو قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا أبو النضر ثنا سليمان يعني بن المغيرة عن ثابت عن أنس بن مالك رضى الله تعالى عنه فذكر شيئا من قصة بدر قال فدنا المشركون فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم قوموا إلى جنة عرضها السماوات والأرض قال يقول عمير بن الحمام الأنصاري يا رسول الله عرضها السماوات والأرض قال نعم قال بخ بخ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يحملك على قولك بخ بخ قال لا والله يا رسول الله إلا رجاء أن أكون من أهلها قال فإنك من أهلها قال فأخرج تمرات من قرنه فجعل يأكل منهن ثم قال لئن أنا حييت حتى آكل من تمراتي هذه إنها لحياة طويلة قال فرمى بما كان معه من التمر ثم قاتلهم حتى قتل رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي النضر وغيره عن أبي النضر

حضرت انس بن مالک بدر کا واقعہ کا بیان فرماتے ہیں کہ مشرکین قریب ہوئے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: جنت کی طرف بڑھو وہ جنت جس کی چوڑائی زمین اور آسمان کے درمیان فاصلے کے برابر ہے عمر بن حمام انصاری نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ کیا اس کا عرض آسمان و زمین کے درمیانی خلا کے برابر ہے ؟ آپ نے فرمایا: ہاں تو عمیر نے کہا: واہ واہ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا تو نے واہ واہ کیوں کہا تو عمیر نے کہا کہ صرف اس امید کی وجہ سے کہ میں ان میں سے ہو جاؤں تو آپ ﷺ نے فرمایا: تو ان میں سے ہے اس نے اپنی پوتلی سے کھجوریں نکال کر کھانا شروع کیں۔

عمير بن الحمام الأنصاري: ← فدنا المشركون ← شيئا من قصة بدر ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، ← ثَابِتٍ، ← سليمان يعني بن المغيرة ← أَبُو النَّضْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← أبو بكر بن الحسن القاضي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← وقد

Hadith 17915

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17916

[ 17695 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان عن عمرو سمع جابر بن عبد الله رضى الله تعالى عنه يقول قال رجل للنبي صلى الله عليه وسلم يوم أحد أرأيت إن قتلت يا رسول الله أين أنا قال في الجنة فألقى تميرات كن في يده ثم قاتل حتى قتل أخرجاه في الصحيح من حديث سفيان

17916 – حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے احد کے دن رسول اللہﷺ سے کہا اگر آج میں قتل کر دیا جاؤں تو کہا ہو گا تو آپﷺ نے فرمایا: جنت میں اس نے اپنئ سے کھجوریں پھینکیں اور دشمن سے لڑا اور شہید ہو گیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 17916

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17917

[ 17696 ] أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنبأ أبو سعيد بن الأعرابي أنبأ الحسن بن محمد الزعفراني ثنا عبد الله بن بكر ثنا حميد عن أنس رضى الله تعالى عنه أن النضر بن أنس عم أنس بن مالك غاب عن قتال بدر فلما قدم قال غبت عن أول قتال قاتله رسول الله صلى الله عليه وسلم المشركين لئن أشهدني الله قتالا ليرين الله ما أصنع فلما كان يوم أحد انكشف المسلمون فقال اللهم إني أبرأ إليك مما جاء به هؤلاء يعني المشركين وأعتذر إليك مما صنع هؤلاء يعني المسلمين ثم مشى بسيفه فلقيه سعد بن معاذ فقال أي سعد والذي نفسي بيده إني لأجد ريح الجن دون أحد واها لريح الجنة قال سعد فما استطعت يا رسول الله ما صنع فوجدناه بين القتلى وبه بضع وثمانون جراحة من ضربة بسيف وطعنة برمح ورمية بسهم وقد مثلوا به حتى عرفته أخته ببنانه قال أنس كنا نقول أنزلت هذه الآية من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فيه وفي أصحابه كذا في كتابي والصواب أنس بن النضر أخرجه البخاري في الصحيح من أوجه عن حميد وأخرجه مسلم من حديث ثابت عن أنس رضى الله تعالى عنه

17917 – حضرت انس فرماتے ہیں : انس بن مالک کے چچا نضر بن انس بدر کی لڑائی سے غائب رہے جب وہ آئے تو کہا کہ میں پہلی لڑائی سے غائب ہوا ہوں جو رسول اللہﷺ نے مشرکین سے لڑئی ہے اگر میں حا ضر ہوتا تو الہ دیکھتا کہ میں کیا کرتا ۔ جب احد کا موقعہ آیا تو مسلموں نے اس کو ظاہر کر دیا اور اس کے کام کو دیکھ لیا ا سنے کہا:اے اللہ میں مشرکوں کے ارادہ سے بری ہوں اور مسلمان جو کریں میں ا ن کو معذور سمجھتاہوں پھر وہ اپنی تلوار لے کر نکلے اور سعد بن معاذ سے ملے ان کو رسول الل نے کہا کہ اللہ کی قسم مجے احد سے آگے جنت کی خؤشبو آرہی ہے جنت کی خؤشبو کتنی پیاری ہے ۔ سعد کہتے ہیں ہیں اے اللہ کے رسولﷺ! میں اس کی طاقت نہیں رکھتا جو اس نے کیا: ہم نے اسکو مقتولین میں پایا ان کو اسی سے اوپر زخم ائے تھے جس میں تلاور نیز اور تیر سب کے زخم تھے ان کا مثلہ کر دیا گیا تھا۔

حُمَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ،

Hadith 17917

chevron_left Previous
1…74757677
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead