Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17810

[ 17588 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الحسن محمد بن محمد بن الحسن أنبأ علي بن عبدا لعزيز ثنا إبراهيم بن عبد الله الهروي ثنا هشيم ثنا عبد الحميد بن جعفر الأنصاري عن أبيه عن سمرة بن جندب رضى الله تعالى عنه قال أتت بي أمي فقدمت المدينة فخطبها الناس فقالت لا أتزوج إلا برجل يكفل لي هذا اليتيم فتزوجها رجل من الأنصار وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرض غلمان الأنصار في كل عام فيلحق من أدرك منهم قال وعرضت عاما فألحق غلاما وردني فقلت يا رسول الله لقد ألحقته ورددتني ولو صارعته لصرعته قال فصارعه فصارعته فصرعته فألحقني

17810 – حضرت سمرہ بن جندب فرماتے ہیں کہ میری ماں مجھے مدینہ میں لے کر آئیتو لوگوں نے ان کی طرف نکاح کی اپیغام بھیجے تو انہو نے کہا کہ میں نکاح اس آدمی سےکروں گی جو اس یتیم کی پرورش کرے گا تو انہوں نے انصار میں سے ایک اس کو لشکر میں بھیج دیتے حضرت سمرہ بن جندب فرماتے ہیں م کہ ایک سال مجھے اور میرے ساتھ ایک اور لڑکے کو پیش کیا گیا تو آپﷺ نے اسکو قبول کر لی ااور مجھے رد کر دیا میں نے کہا اے اللہ کے رسول آپ نےا سکو قبول کر لیا ہے ۔

سمرة بن جندب رضى الله تعالى عنه ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← هُشَيْمٌ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ ← أبو الحسن محمد بن محمد بن الحسن أنبأ علي بن عبدا لعزيز ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17810

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17811

[ 17589 ] أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق وأبو بكر أحمد بن الحسن قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ الربيع بن سليمان أنبأ الشافعي أنبأ حاتم يعني بن إسماعيل عن جعفر بن محمد عن أبيه عن يزيد بن هرمز أن نجدة كتب إلى بن عباس يسأله عن خلال فقال بن عباس رضى الله تعالى عنه إن ناسا يقولون إن بن عباس يكاتب الحرورية ولولا أني أخاف أن أكتم علما لم أكتب إليه فكتب نجدة إليه أما بعد فأخبرني هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغزو بالنساء وهل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضرب لهن بسهم وهل كان يقتل الصبيان ومتى ينقضي يتم اليتيم وعن الخمس لمن هو فكتب إليه بن عباس إنك كتبت تسألني هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغزو بالنساء وقد كان يغزو بهن يداوين المرضى ويحذين من الغنيمة وأما السهم فلم يضرب لهن بسهم وأن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يقتل الولدان فلا تقتلهم إلا أن تكون تعلم منهم ما علم الخضر من الصبي الذي قتل فتميز بين المؤمن والكافر فتقتل الكافر وتدع المؤمن وكتبت متى ينقضي يتم اليتيم ولعمري إن الرجل لتنبت لحيته وإنه لضعيف الأخذ ضعيف الإعطاء فإذا أخذ لنفسه من صالح ما يأخذ الناس فقد ذهب عنه اليتم وكتبت تسألني عن الخمس وإنا كنا نقول هو لنا فأبى ذلك علينا قومنا فصبرنا عليه رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة وإسحاق بن إبراهيم عن حاتم بن إسماعيل وروينا في حديث قيس بن سعد عن يزيد بن هرمز عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما في هذا الحديث وأما النساء والعبيد فلم يكن لهم شيء معلوم إذا حضروا البأس ولكن يحذون من غنائم القوم

17811- یزید بن ہر مز فرماتے ہی کہ نجدہ نے ابن عباس کی طرف لکھا اور ہو آپ سے خلال کے متعلق پوچھ رہے تھے تو حضڑت ابن عباس نے کہ اکہ لوگ کہتے ہیں کہ ابن عباس حروریوں سے خط کتابت کرتے ہیں اور اگر مجھے عم چھپانے کا ڈرنہ ہوتا تو میں اسکو کبھی نہ لکھتا نجدہ نے ابن کو لکھ ااما بعد مجھے یپ بتائیے کہ رسول اللہﷺ عورتوں کے ساتھ غزوہ کرتے تھے اور کیا آپﷺ ان کے لیے حصہ مقرر کرتے تھے ؟ اور کیا آپ ﷺ بچوں کو قتل کرتے تھے اور یتیم کی یتیمیت کب پوری ہوتی ہے اور خمس کے متعلق بتائیے کہ وہ کس کے لیے ہے ؟ پھر ابن عباس نے ان کی طرف لکھا کہ تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ رسول اللہﷺ عورتو کے ساتھ مل کر غزوہ کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا: ہاں عورتیں بھی آپﷺ کے ساتھ غزوہ میں شریک ہوتی تھیں لیکن وہ زخموں کی مرہم پٹی کرتی تھیں او ربیماروں کی تیمارداری کرتی تھیں اور انہین غنیمت میں سے دیا جاتا تھا لیکن ان کا حصہ مقرر نہ تھا اور آپﷺ بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے پس تم بی ان کو قتل نہ کرنا سوائے اسکے کہ تم ان بچوں میں وہ کچھ جان لو جو کچھ خضر نے جانا تھا اور اس طرح مومن اور کافر کے درمیان تمیز کرنا پس کافر کو قتل کر دینا او رمومن کو چھوڑ دینا اور اسی طرح تو نے لکھ اہے کہ یتیم کی یتیمیت کب ہوری اور مکم ہوتی ہے آپ نے فرمایا: میری عمر کی قسم بعض دفعہ آدمی کی داڑؑھی نکل آتی ہے اور اس کو لین دین کا کوئی پتہ نہیں ہوتا وہ اس معاملے میںبالکل کمزور ہوتا ےاور جن کو وہ سمجھ بوجھ حآصل ہو جائے جو باقی لوگوں کو ہوتی ہے تو اس کی یتیمیت ختم ہو جاتی ہے اور تم نے مجھ سے خمس کے متعلق سوال کیا ہے تو ہم کہ اکرتے تھے یہ ہمارے لیے ہے لیکن قوم نے ہم پر انکار کر دیا تو ہم نے صبر کیا۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17811

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17812

[ 17590 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أحمد بن محمد العنزي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا محبوب بن موسى الأنطاكي أنبأ أبو إسحاق الفزاري عن بن جريج أخبرني عبد الله بن أبي أمية عن الحارث بن عبد الله بن أبي ربيعة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في بعض مغازيه فمر بأناس من مزينة فاتبعه عبد لامرأة منهم فلما كان في بعض الطريق سلم عليه قال فلان قال نعم قال ما شأنك قال أجاهد معك قال أذنت لك سيدتك قال لا قال ارجع إليها فإن مثلك مثل عبد لا يصلي إن مت قبل أن ترجع إليها فاقرأ عليها السلام فرجع إليها فأخبرها الخبر فقالت الله هو أمر أن تقرأ علي السلام قال نعم قالت ارجع فجاهد معه

17812 - حارچ بن عبداللہ بنابی ربیعہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہﷺ بعض مغازی میں تھے اور آپ مزینہ کے لوگوں کے قریب سے گزرے تو ا قبیلہ کی عورت کے ایک غلام نے آپ کا پیچھا کیا جب آپ سے راستے میں اس کی ملاقات ہوئی تو اس نے آپ کو سلام بلایا آپﷺ نے فرمایا: تو فلاں ہے ؟ اس نے کہا: ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا: بتآؤ کی امسئلہ ہے ؟ اس نے کہا: میں اپﷺ کے ستاھ جہاد کرنا چاہتا ہو آپ نے رمایا: کیا تمہاری سیدہ نے تمہیں اجازت دی ہے ؟ اس نے کہا: نہیں آپ ﷺنے فرمایا: اس کی طرح لوٹ جاؤ اور تمہاری مچال اس غلام باندئے کی طرح ہے جو نماز نہیں پڑھتا۔

الحارث بن عبد الله بن أبي ربيعة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ← بن جُرَيْجٍ ← مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى الْأَنْطَاكِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17812

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17813

[ 17591 ] أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنبأ أبو عمرو بن السماك ثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم بن حماد ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير حدثني الليث بن سعد عن خالد بن زيد عن سعيد بن أبي هلال عن يزيد بن عبد الله بن الهاد عن محمد بن إبراهيم عن أبي سلمة عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال جهاد الكبير والضعيف والمرأة الحج والعمرة

حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرما یا: بوڑھے کمزور کا جہاد حج مبرو ر ہے۔

جهاد الكبير والضعيف والمرأة الحج والعمرة ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← أبو الأحوص محمد بن الهيثم بن حماد ← أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنبأ أبو عمرو بن السماك

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17813

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17814

[ 17592 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه ثنا عثمان بن سعيد ثنا حفص بن عمر أبو عمر الضرير ثنا شعبة عن أبي إسحاق عن البراء رضى الله تعالى عنه قال لما نزلت { لا يستوي القاعدون من المؤمنين } والمجاهدون في سبيل الله الآية أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم زيدا فكتبها فجاء بن أم مكتوم فشكا ضرارته إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأنزل الله عز وجل { غير أولي الضرر } رواه البخاري في الصحيح عن حفص بن عمر وأخرجه مسلم من وجه آخر عن شعبة

17814 - حضرت براء فرماتے ہیں: جب یہ ایت نازل ہوئی اپنی جاوں او رمالوں سے جہاد کرنے والے مومن او ربغیر عذ رکے بیٹھے رہنے والے مومن برابر نہیں ہو سکتے تو رسول اللہﷺ نے حضڑت زید کو حکم دیا تو انہوں نے اس کو لکھا پھر ابن ام مکتوم آئے اور انہو نے اپنی بیماری وگیرہ کا عذر رسول اللہﷺ کو پیش کیا تو اللہ تعالیٰ نے والا حصہ نازل کیا۔ صرف سند ذکر کی ہے ۔

أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17814

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17815

[ 17593 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد الصفار ثنا أحمد بن يحيى الحلواني ثنا إبراهيم بن حمزة ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو النضر محمد بن يوسف الفقيه ثنا عثمان بن سعيد ثنا حفص بن عمر أبو عمر الضرير ثنا شعبة عن أبي إسحاق عن البراء رضى الله تعالى عنه قال لما نزلت { لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله } الآية أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم زيدا فكتبها فجاء الى بن أم مكتوم فشكا ضرارته إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأنزل الله عز وجل { غير أولي الضرر } رواه البخاري في الصحيح عن حفص بن عمر وأخرجه مسلم من وجه آخر عن شعبة

17815 –

أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو النضر محمد بن يوسف الفقيه ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17815

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17816

[ 17594 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد الصفار ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبدا لحكم القنطري ثنا إبراهيم بن حمزة ثنا إبراهيم بن سعد عن صالح بن كيسان عن الزهري عن سهل بن سعد الساعدي رضى الله تعالى عنه قال دخلت المسجد فإذا مروان بن الحكم جالس فجلست إليه فقال حدثني زيد بن ثابت رضى الله تعالى عنه قال كنت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فنزلت { لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله } قال فجاء بن أم مكتوم وأنا أكتبها فقال يا رسول الله قد ترى ما بعيني من الضرر ولو أستطيع الجهاد لجاهدت قال زيد بن ثابت فثقلت فخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم على فخذي حتى همت أن ترضها ثم سري عنه فقال لي اكتب { لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر والمجاهدون } لفظ حديث القنطري رواه البخاري في الصحيح عن إسماعيل بن أبي أويس وغيره عن إبراهيم

17816 – حضڑت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرم ﷺ کے پاس تھا تو یہ آیت نازل ہوئی تو کہتے ہیں کہ ابن ام مکتوم ائے او رمیں لکھ رہا تھا انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسلو آپ جانتے ہی کہ میں آنکھوں سے نا بینا ہوں اور اگر میں جہاد کرنے کی طاقت رکھتا تو میں ضرور جہاد کرتا تو زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ آپ کے ران میری ران پر برے بھاری اور گران ہو گئے ۔

أكتبها ← فجاء بن أم مكتوم ← كنت عند رسول الله فنزلت ← زيد بن ثابت رضى الله تعالى عنه ← دخلت المسجد فإذا مروان بن الحكم جالس فجلست إليه ← سهل بن سعد الساعدي رضى الله تعالى عنه ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← محمد بن عبدا لحكم القنطري ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17816

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17817

[ 17595 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد الصفار ثنا عبيد بن شريك حدثني سعيد بن الحكم بن أبي مريم ثنا عبد الرحمن بن أبي الزناد حدثني أبو الزناد أن خارجة بن زيد بن ثابت حدثه عن أبيه أن السكينة غشيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال زيد وأنا إلى جنبه فوقعت فخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم على فخذي فما وجدت شيئا أثقل من فخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم سري عنه فقال اكتب { لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله بأموالهم وأنفسهم } الآية كلها قال زيد فكتبت ذلك في كتف فقال بن أم مكتوم وكان رجلا أعمى حين سمع فضيلة المجاهدين على القاعدين فقال يا رسول الله كيف بمن لا يستطيع الجهاد مع المؤمنين قال فما قضى بن أم مكتوم كلامه أو ما هو إلا أن قضى كلامه فغشيت رسول الله صلى الله عليه وسلم السكينة فوقعت فخذه على فخذي فوجدت من ثقلها المرة مثلما وجدت من ثقلها في المرة الأولى ثم سري عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال اقرأ فقرأت { لا يستوي القاعدون من المؤمنين } فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم { غير أولي الضرر } قال زيد فألحقتها وكان ملحقها عند صدع في الكتف

17817 – حضرت خارجہ بن زید بن ثابر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ ان کو سکینت نے ڈھانپ لیا او رمیں آپﷺ کے پہلو میں تھا رسول اللہﷺ کی ران میری ران پر گری و میں نےر سول اللہﷺ کی ران سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہیں پائی پھر آپ کی یہ کیفیت دور ہوئی تو آپﷺ نے فرمایا: لکھ! پوری آیت حضرت زید فرماتے ہیں کہ یہ ایت میں نے کندھے پر لکھی تو ابن ام مکتومجو نابینا آدمی تھے کھڑے ہوئے جب انہوں نے مجاہدین کی فضیلت بیٹھنے والوں پر سنی تو انہوں نے کہا: اے اللہ کےر سول اس آدمی کا کیا حال ہے جو مومنین کےساتھ جہاد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا حضرت زید فرماتے ہیں کہ ابھی ابن ام مکتوم کی کام ختم نہیں ہوئی تھی کہ پھر رسول کریم ﷺ کو سکونت نہ ڈھانپ لیا اور آپﷺ کی ران میری ران پر آگئی تو میں نے اس دفعہ بھی ویسے ہی بوج محسوس کیا جیسا کہ پہلی دفعہ محسوس کیا تھا پھر آپﷺ کی یہ والی حآلت جاتی رہی اور آپﷺ نے فرمایا: پرھیے تو میں نے پڑھی پھر آپﷺ نے فرمایا: حضڑت زید فرماتے ہیں کہ میں نےا سٹکڑے کو اس ایت میں ملا دیا اور یہ ٹکڑا کندھے کو مظبوط ہڈی پر لکھا ہوا تھا۔

أَبُو الزِّنَادٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17817

Sahih

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17818

[ 17596 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو سعيد بن أبي عمرو قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن مرزوق ثنا يعقوب بن إسحاق الحضرمي عن أبي عقيل عن أبي نضرة قال سألت بن عباس رضى الله تعالى عنهما عن قول الله عز وجل { لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر } قال هم أولو الضرر قوم كانوا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يغزون معه كانت تحبسهم أوجاع وأمراض وآخرون أصحاء فكان المرضى أعذر من الأصحاء

17818 - ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت اب عباس سے الہ تعالیٰ کےا س رفمان کے متعلق سوال کیا انہوں نے کہا: اس سے مراد اہل ضر ر ہیں یعنی لوگ جو رسول اللہﷺ کے زمانے مین آپﷺ کےستاھ مل کر جہاد نہیں کر سکتے تھے بیمار لوگوں کو اللہ تعالیٰ نےا ن کے مقابلے میں معذور قرار دیا۔

قول الله عز وجل لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر ← سألت بن عباس رضى الله تعالى عنهما ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَبِي عَقِيلٍ ← يعقوب بن إسحاق الحضرمي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17818

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17819

[ 17597 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو سعيد بن أبي عمرو قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا أبو معاوية ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق أنبأ إسماعيل بن قتيبة ثنا يحيى بن يحيى أنبأ أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر رضى الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض أسفاره إن بالمدينة لرجالا ما سرنا مسيرا ولا قطعنا واديا إلا كانوا معنا فيه حبسهم المرض لفظ حديث أحمد رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى

17819 – حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنئ کسی سفر کے دوران فرمایا کہ مدینہ میں کچھ مرد ہیں ہم نے کوئی سفر نہیں کی ااور نہ کوئی وادی طے کی ہے مگر وہ ہمارے ستاھ ہوتے تھے اب ان کو بیماری نے روک لیا ہے ۔

جَابِرٍ، رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ إسماعيل بن قتيبة ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17819

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17820

[ 17598 ] وأخبرنا أبو علي الروذباري أنبأ أبو بكر بن داسه ثنا أبو داود ثنا موسى بن إسماعيل ثنا حماد عن حميد عن موسى بن أنس بن مالك عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لقد تركتم بالمدينة أقواما ما سرتم مسيرا ولا أنفقتم من نفقة إلا وهم معكم فيه قالوا يا رسول الله وكيف يكونون معنا وهم بالمدينة قال حبسهم العذر أخرجه البخاري في الصحيح من حديث زهير وحماد بن زيد عن حميد عن أنس ثم قال وقال موسى عن حماد يعني بن سلمة عن حميد عن موسى بن أنس عن أبيه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم نحوه

17820 – حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم مدینہ میں کچھ لوگ چھوڑ آئےت ہو تم نے کوئی سفر طے نہیں کی ااو رنہ تم نے کوئی خرچ کیا اور نہ تم نے کوئی وادی طے کی مگر وہ اس میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔

أَبِيهِ ← مُوسَی بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← وأخبرنا أبو علي الروذباري أنبأ أبو بكر بن داسة

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17820

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17821

[ 17599 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا يونس بن بكير عن بن إسحاق قال حدثني والدي إسحاق بن يسار عن أشياخ من بني سلمة كان عمرو بن الجموح أعرج شديد العرج وكان له أربعة بنون شباب يغزون مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا غزا فلما أراد رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوجه إلى أحد قال له بنوه إن الله عز وجل قد جعل لك رخصة فلو قدعت فنحن نكفيك فقد وضع الله عنك الجهاد فأتى عمرو بن الجموح رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله إن بني هؤلاء يمنعون أن أخرج معك والله إني لأرجو أن استشهد فأطأ بعرجتي هذه في الجنة فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم أما أنت فقد وضع الله عنك الجهاد وقال لبنيه وما عليكم أن تدعوه لعل الله يرزقه الشهادة فخرج مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقتل يوم أحد شهيدا

17821 - بنی سلمہ کے چند شیوخ فرماتے ہیں کہ عمرو بن مموح بہت زیاہد لنگڑے تھے ان کے چار جوان بیٹھے تھے رسول اللہﷺ جس غزوے میں بھی جاتے وہ آپ کے ستا ہوتے او رجب رسول اللہﷺ نے احد کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو عمرو بن جموع نے بھی جانا چاہا لیکن ان کے بیتوں نے ان کو کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر جہاد فرض نہیں کی اتو عمرو بن جموع رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول میرے بیٹے مجھے آپﷺ کے ساتھ جانے سے روکتےہیں اور میں شہادت چاہتا ہوں اور میرے لنگڑے پن نے مجھے جنت میں جانے سے پیچھے چھوڑ دیا ہے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ نے آپ سے جہاد کو معاف کر دیا ہے ۔

والدى اسحاق بن يسار ← بن إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو العباس محمد بن يعقوب

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17821

chevron_left Previous
1…676869…77
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead