Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17774

[ 17552 ] وأخبرنا أبو طاهر أنبأ أبو بكر القطان ثنا أبو الأزهر ثنا إسحاق بن عيسى ثنا يحيى بن حمزة عن محمد بن الوليد الزبيدي عن الزهري عن صالح بن بشير بن فديك عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه ليس في حديث الزبيدي تكن مهاجرا

17774 - یہ حدیچ بھی پہلی حدیث کی طرح ہے لیکن اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں زبید کی روایت میں ہے کہ تم مہاجرین جاؤ گے ۔

النبي نحوه ليس في حديث الزبيدي تكن مهاجرا ← صَالِحِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ فُدَيْكٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← وأخبرنا أبو طاهر أنبأ أبو بكر القطان

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17774

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17775

[ 17553 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد ثنا يحيى بن عمير ثنا المقبري عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه قال قدم على رسول صلى الله عليه وسلم أناس من أهل البدو فقالوا يا رسول الله قام علينا أناس من قراباتنا فزعموا أنه لا ينفع عمل دون الهجرة والجهاد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم حيث ما كنتم فأحسنوا عبادة الله وأبشروا بالجنة

17775 - حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ دیہات میں سے کچھ لوگ رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور کہا اے اللہ کے رسول ہمارے پاس ہمارے کچھ قریبی لو گآئے اور انہوں نے آکر یہد عویٰ کیا ہے کہ ہجرت اور جہاد کے بغیر کوئی عمل فائدہ مند نہیں ہے ۔

قدم على رسول أناس من أهل البدو فقالوا ← أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ← الْمَقْبُرِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ عُمَيْرٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17775

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17776

[ 17554 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو بكر أحمد بن الحسن القاضي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن مرزوق ثنا روح عن بن جريج أخبرني عطاء أنه جاء عائشة أم المؤمنين رضى الله تعالى عنها مع عبيد بن عمير وكانت مجاورة قال فقال عبيد أي هنتاه أسألك عن الهجرة قالت لا هجرة بعد الفتح إنما كانت الهجرة قبل الفتح حيث يهاجر الرجل بدينه إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأما حين كان الفتح حيث شاء الرجل عبد الله لا يمنع

17776 - عطاء کہتے ہیں کہ میں عبید بن عمیر کے ساتھ حضڑت عائشہ کے پاس آیا اور وہ اعتکاف بیٹھی تھیں یا مجاور کا دوسرا تر جمعہ ہے کہ وہ ان کے پڑوس میں رہتی تھیں تو ان سے عبید نے کہا: اے ہنتاہ! میں آپ س ہجرت کے متعلق سوال کرتا ہو حضڑت عائشہ صدیقہ نے کہا فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہجرت تو فتح مکہ سے پہلے تھی جب آدمی اپنے دین کی خاطر نبیﷺ کی طرف ہجرت کرتا تو جب فتح ہو گئی ہے تو اب آدمی جہاں چاہے اللہ کی عبادت کر سکتا ہے اسے عباد تےس منع نہیں کیا جائے گا۔

عَطَاءٍ، ← بن جُرَيْجٍ ← رَوْحٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17776

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17777

[ 17555 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد ثنا محبوب بن موسى أنبأ أبو إسحاق عن الأوزاعي عن عطاء قال زرت عائشة رضى الله تعالى عنها مع عبيد بن عمير فسألتها عن الهجرة قالت لا هجرة اليوم إنما كانت الهجرة إلى الله ورسوله وكان المؤمنون يفرون بدينهم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من أن يفتنوا فقد أفشى الله الإسلام فحيث ما شاء رجل عبد ربه ولكن جهاد ونية أخرجه البخاري في الصحيح من حديث الأوزاعي وابن جريج وروينا عن بن عمر معنى هذا وكل ذلك يرجع إلى انقطاع الهجرة وجوبا عن أهل مكة وغيرها من البلاد بعد ما صارت دار أمن وإسلام فأما دار حرب أسلم فيها من يخاف الفتنة على دينه وله ما يبلغه إلى دار الإسلام فعليه أن يهاجر

17777 - حضرت عطاء کہتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیر کے ساتھ حضرت عائشہ سے ملاقات کی تو انہوں نے ان سے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: آج کوئی ہجرت نہیں ہجرت تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف کی جاتی تھی جب مؤمنین کو ان کے دین کے حؤالے سے فتنے میں ڈال اجاتاتھا تو وہ اپنے دین کو بچانے کے لیےرسول کریم ﷺ کے پاس آتے تھے اب تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو اتنا پھیلا دیا ہے کہ آدمی جہاں چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے اب تو جہاد اور نیت باقی ہے ۔

الهجرة ← زرت عائشة رضى الله تعالى عنها مع عبيد بن عمير فسألتها ← عَطَاءٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← محبوب بن موسى أنبأ أبو إسحاق ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17777

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17778

[ 17556 ] وفي مثل ذلك أخبرنا أبو علي الروذباري أنبأ أبو بكر محمد بن بكر ثنا أبو داود ثنا إبراهيم بن موسى الرازي أنبأ عيسى عن حريز عن عبد الرحمن بن أبي عوف عن أبي هند عن معاوية رضى الله تعالى عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لا تنقطع الهجرة حتى تنقطع التوبة ولا تنقطع التوبة حتى تطلع الشمس من مغربها

17778 – ابو ہند امیر معاویہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نےر سول اللہﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے جب تک توبہ کا دروازہ بند نہیں ہو گا اس وقت تک ہجرت کا دروازہ بھی بند نہیں ہوگا او رتوبہ کا دروازہ اس وقت بند ہو گا جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← معاوية رضى الله تعالى عنه ← أَبِي هِنْدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ ← حَرِيزٌ ← إبراهيم بن موسى الرازي أنبأ عيسى ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو علي الروذباري أنبأ أبو بكر محمد بن بكر ← وفي مثل ذلك

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17778

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17779

[ 17557 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو بكر أحمد بن الحسن القاضي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد ثنا الحكم بن موسى ثنا يحيى بن حمزة قاضي دمشق عن عطاء الخراساني عن بن محيريز عن عبد الله بن السعدي من بني مالك بن حسل أنه قدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم في أناس من أصحابه فلما نزلوا قالوا احفظ لنا ركابنا حتى نقضي حاجتنا ثم تدخل وكان أصغر القوم فقضى لهم حاجتهم ثم قالوا له ادخل فلما دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم قال حاجتك قال حاجتي أن تخبرني أنقطعت الهجرة قال حاجتك من خير حوائجهم لا تنقطع الهجرة ما قوتل العدو

17779 – حضرت عبداللہ بن مالک سعدی مالک بن حسل قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں فرماتے ہیں کہ میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ رسول کریم ﷺ کے پاس آیا جب وہ اپنی سواریوں سے اترے تو انہوں نےکہا کہ آپ سواریوں کی حفاظت کریں جب ہم اپنی حاجت پوری کریں گے تو تم رسول کریم ﷺ کے پاس چلے جانا اور اپنئ ضرورت پوری کر لینا اور میں سب سے چھوٹا تھا جب وہ اپنی حاجت پوری کر کے اگئے تو انہوں نے مجھے کہا کہبا تم چلے جاؤ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اکرم ﷺ کے پاس گیا تو آ پ نے فرمایا: تمہاری کیا حاجت ہے ؟ میں نے کہا: میری حآجت اور سوال یہ ہے کہ آپ مجھے ہجرت کے متعلق بتائیے کیا ہجر ت منقطع ہو گئی ہے ؟ آپق نے فرمایا: جب تک دشمن سے قتال کیا جائے گا ہجرت منقطع نہیں ہوگی۔

عبد الله بن السعدي من بني مالك بن حسل ← بن محيريز ← عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← يحيى بن حمزة قاضى دمشق ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17779

Sahih

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17780

[ 17558 ] أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي ثنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم ثنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة ثنا عبد الله هو أبو نعيم عن سفيان الثوري عن سعد بن إبراهيم عن عامر بن سعد عن سعد بن مالك رضى الله تعالى عنه قال جاءني النبي صلى الله عليه وسلم يعودني وكان يكره أن يموت بالأرض التي هاجر منها فقلت يا رسول الله أوصي بمالي كله قال لا قلت فالشطر قال لا قلت فالثلث قال الثلث والثلث كثير إنك أن تدع ورثتك أغنياء خير لهم من أن تدعهم عالة يتكففون الناس بأيديهم وإنك مهما أنفقت من نفقة فإنها صدقة حتى اللقمة ترفعها إلى في امرأتك ولعل الله أن يرفعك فينتفع بك أناس ويضر بك آخرون

حضرت سعد بن مالک فرماتے ہیں کہ نبیﷺ میری عیادت کے لیے میرے پاس آئے او ر میں اس بات کو نا پسند کرتا تھا کہ مجھے اسی زمین میں موت آئے جہاں سے میں نے ہجرت کی ہے تو میں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں سارے مال کی وصیت کر دوں آپﷺ نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: آدھےمال کی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: ایک تہائی مال کی آپﷺ نے فرمایا: ای تہائی بھی زیادہ ہےآپﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے وارثوں ک حالت میں چھوڑ جاؤ یہ بہتر ہے اس سے کہ تم ان کو فقیری کی حالت میں چھوڑ اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور آپ جب کبھی بھی اللہ کے راستے میں کچھ رچ کریں گے تو وہ آپ کے حق میں سدقہ بن جائے گا کہ وہ نوالہ جو تم اپنی بیوی کے منہ کی طرف اٹھاتے ہو اور شاید کہ رفعت عطا ء فرمائے اور تیری وجہ سےبہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچائے اور دوسروں کو نقصان۔

جاءني النبي يعودني وكان يكره أن يموت بالأرض التي هاجر منها فقلت ← سعد بن مالك رضى الله تعالى عنه ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عبد الله هو أبو نعيم ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17780

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17781

[ 17559 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد السماك ثنا حنبل بن إسحاق بن حنبل ثنا أبو نعيم ثنا سفيان بن سعيد فذكره بإسناده ومعناه إلا أنه قال يعودني وأنا مريض بمكة وهو يكره أن يموت بالأرض التي هاجر منها فقال يرحمك الله بن عفراء ثم ذكره رواه البخاري في الصحيح عن أبي نعيم وأخرجه مسلم من وجه آخر عن سفيان

17781 - مذکورو حدیث کو اسی سند اور اسی معنی کے ساتھ بیان کی اسوائے ان الفاظ کی زیادتی کے ساتھ کلہ میں مکہ میں مریض تھا اور آپﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور وہ نا پسند کرتے تھے کہ ان کی وفات اسی زمین پر ہو جس سے انہوں نے ہجرت کی ہے پھر نبی اکرم ﷺ نئے فرمایا: اے ابن عفراء اللہ تجھ پر رحم کرے پھر پوری حدیث بیان کی ۔

سُفْيَانَ، ← أَبِي نُعَيْمٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ← يرحمك الله بن عفراء ثم ذكره رواه البخاري في الصحيح ← مريض بمكة وهو يكره أن يموت بالأرض التي هاجر منها ← يعودني ← سفيان بن سعيد فذكره بإسناده ومعناه إلا أنه ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أبو عمرو عثمان بن أحمد السماك ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17781

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17782

[ 17560 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو بكر أحمد بن الحسن القاضي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو يحيى زكريا بن يحيى بن أسد ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عامر بن سعد بن أبي وقاص أن أباه أخبره أنه مرض عام الفتح مرضا أشفى منه على الموت فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده وهو بمكة فذكر الحديث قال قلت يا رسول الله اخلف عن هجرتي قال إنك لن تخلف بعدي فتعمل عملا تريد به وجه الله إلا ازددت به رفعة ودرجة ولعلك أن تخلف حتى ينتفع بك أقوام ويضر بك آخرون اللهم أمض لأصحابي هجرتهم ولا تردهم على أعقابهم لكن البائس سعد بن خولة يرثي له أن مات بمكة

17782 - عامر بن سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ ان کو ان کے والد نے خبر دی کہ وہ فتح مکہ کے سال مکہ میں بیمار ہوئے اور اس بیماری میں ان کو اپنی موت کا اندیشہ ہو اور نبی ﷺ عیادت کرنے کے لٌیے آئے میں نے کہا: اے اللہ کےر سول! کیا میں اپنی ہجرت سے پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا آپ ﷺ نے فرمایا: تو میرے بعد ہر گزر پیچھے ہیں چھوڑا جائے پس تم نیک اعمال کرتے رہو اور جو بھی تم اللہ کی رضا کے لیے کام کرو گئ تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے تمہارے مقام و مرتبے کو بڑھاتے جائیں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تجھے پیچھے چھوڑ دیا جائے اور تیری وجہ سے اللہ بعض لوگوں کو نفع پہنچائیں اور بعضوں کو نقصان پھر آپ نے دعا فرمائی: اے اللہ میرے صحابی کی ہجرت کو پورا فرما ار ان کو ایڑیوں کے بل نہ لوٹا دینا لیکن فقیر سعد بن خوفہ ان کے لیے مرتبہ پرھتے کہ وہ مکہ میں ہی فوت ہو ئے ۔

عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَسَدٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17782

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17783

[ 17561 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني علي بن محمد بن سختويه ثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا الزهري فذكره بإسناده ومعناه إلا أنه قال يرثي له رسول الله صلى الله عليه وسلم أن مات بمكة قال سفيان وسعد بن خولة رجل من بني عامر بن لؤي رواه البخاري في الصحيح عن الحميدي ورواه مسلم عن قتيبة وغيره عن سفيان

17783 - اسی سند اور انہی معنی کے ساتھ مذکورہ بالا روایت منقول ہے سوائے ان الفاظ کے کہ رسول اکرم ﷺ نا کے لیے مرثیہ پڑھتے کہ وہ مکہ میں فوت ہوئے اور سفیان نے کہا کہ سعد بن خولہ بنی عامر بن لوی بیلہ کے ایک ادمی ہیں۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17783

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17784

[ 17562 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الحسن بن منصور ثنا هارون بن يوسف ثنا بن أبي عمر ثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب السختياني عن عمرو بن سعيد عن حميد بن عبد الرحمن الحميري عن ثلاثة من ولد سعد كلهم يحدثه عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل على سعد يعوده بمكة فبكى فقال ما يبكيك قال قد خشيت أن أموت بالأرض التي هاجرت منها كما مات سعد بن خولة فقال النبي صلى الله عليه وسلم اللهم اشف سعدا اللهم اشف سعدا ثلاث مرارا وذكر الحديث رواه مسلم في الصحيح عن بن أبي عمر

17784 – حضرت سعد کے تین بیٹے سب کے سب اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ مکہ میں ان کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس تشریف لائے تو وہ رونے لگ گئے تو آپﷺ نے فرمایا: تجھے کون سی چیز رلا رہی ہے ؟ انہوں نے کہا: کہ مجھے در ہے کہ میری موت اس زمین میںواقع ہو جس سے میں نے ہجرت کی ہے جیسا کہ سعد بن خولہ کی وفات اسی شیر میں ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا: اے اللہ سعد کو شفا دے اے اللہ سعد کو شفا دے تین دفعہ آپﷺ نے دعا کی ۔

أَبِيهِ ← ثَلَاثَةٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ کُلُّهُمْ يُحَدِّثُهُ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← بن أبي عمر ← هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17784

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17785

[ 17563 ] أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنبأ أبو سهل بن زياد القطان ثنا أحمد بن محمد بن عيسى ثنا عفان ثنا وهيب ثنا عبد الله بن عثمان بن خثيم عن عمرو بن عبد القاري عن أبيه عن جده عمرو القاري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم فخلف سعدا مريضا حيث خرج إلى حنين فلما قدم الجعرانة معتمرا دخل عليه وهو وجع مغلوب فقال لرسول الله صلى الله عليه وسلم إن لي مالا وإني أورث كلالة فأوصي بمالي أو أتصدق به قال لا قال فأتصدق بثلثه قال لا قال فأوصي بشطره قال لا قال فأتصدق بثلثه قال نعم وذاك كثير قال أي رسول الله أصيب بالدار التي خرجت منها مهاجرا قال إني لأرجو أن يرفعك الله عز وجل وأن يكاد بك أقوام وينتفع بك آخرون يا عمرو بن القاري إن مات سعد بعدي فههنا أدفنه نحو طريق المدينة وأشار بيده هكذا هذه الرواية توافق رواية سفيان في أن ذلك كان عام الفتح وسائر الرواة عن الزهري قالوا فيه عام حجة الوداع واختلف في هذه الرواية على بن خثيم في اسم حفدة عمرو بن القاري

17785 – حضرت عمرو قاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور جب آپ حنین جانے لگے تو آپ نے حضرت سعد کو پیچھے چھوڑ دیا اور جب آپ جعرانہ سے عمرہ کرنے آئے تو آپ ﷺ حضرت سعد کے پاس تشریف لائے اور وہ تکلیف سے نڈھسال غشی کی حالت میں تھے کی امیں سارے مال کی وسیت کر جاؤں یا صدقہ کر دوں آپﷺ نے فرمایا: نہیں انہوں نے کہا: کیا دو تہائی مال کا صدقہ کر دوں؟ آپﷺ نے فرمایا: نہیں پھر حضرت سعد نےکہا : کیا آدھے مال کی وسیت کردوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں انہوں نے پھر کہا: کیا ایک تہائی مال کو صدقہ کر دوں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں اور یہ بھی زیادہ ہے ۔

جده عمرو القاري ← أَبِيهِ ← عمرو بن عبد القاري ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أبو الحسين بن بشران أنبأ أبو سهل بن زياد القطان

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17785

chevron_left Previous
1…646566…77
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead