Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17726

[ 17504 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق قال فحدثني من سمع عبد الله بن الحارث بن نوفل عن بن عباس عن علي بن أبي طالب رضى الله تعالى عنه قال لما نزلت هذه الآية على رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنذر عشيرتك الأقربين واخفض جناحك لمن اتبعك من المؤمنين قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عرفت أني إن بادأت بها قومي رأيت منهم ما أكره فصمت عليها فجاءني جبريل عليه السلام فقال يا محمد إنك إن لم تفعل ما آمرك به ربك عذبك ربك ثم ذكر قصة في جمعهم وإنذاره إياهم

17726 - حضرت علی فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں نے جان لیا کہ اگر ا کے ستاھ میں نے اپنی قوم سے ابتدا کی تو میں وہ چیز دکھوں گا جسے میں ان پسند کرتا ہوں اور ا لیے میں اس کے بیان کرنے سے خامش رہا میرے پاس حضڑت جبریل آئے اور انہوں نے کہا کہ اے محمد اگر آپ نے اپنے ر ب کے اس حکم کو پورا نہ کیا تو وہ آپ کو عذاب دے گا پھر آپ ق نے ان کو جمع ہونے کا اور ڈرانے کا قسہ بیان کیا۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← مَنْ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17726

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17727

[ 17505 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري بن الحمامي ببغداد أنبأ أحمد بن سلمان النجاد ثنا محمد بن إسماعيل ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري حدثني محمد بن عمرو بن علقمة عن محمد بن المنكدر عن ربيعة بن عباد الدؤلي قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بذي المجاز يتبع الناس في منازلهم يدعوهم إلى الله عز وجل ووراءه رجل وهو يقول يا أيها الناس لا يغرنكم عن دينكم ودين آبائكم قلت من هذا قالوا عمه أبو لهب

17727 - حضرت ربیعہ بن عبادہ دلی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو دکھ اکہ آپ ذی الحجاز میں لوگوں کے پیچھے ان کے گھروں میں جاتے اور ان کو اللہ کے دین کی طرف بلاتے اور آپ کے پیچھے ایک ادمی تھا جو لوگو کو پکار پکار کر کہہ رہا تا کہ اے لوگ! یہ تمہیں تمہارے آباواجداد کے دین کے متعلق دھوکے میں نہ ڈال دے میں نے کہا: یہ کون ہے ؟ انہوں نےکہا:یہ آپﷺ کے چچا ابو لہب ہیں۔

ربيعة بن عبَّاد الدُّؤَلى ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أبو الحسن علي بن محمد المقري بن الحمامي ببغداد أنبأ أحمد بن سلمان النجاد

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17727

Sahih

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17728

[ 17506 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وإسحاق بن محمد بن يوسف السوسي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ العباس بن الوليد أخبرني أبي قال سمعت الأوزاعي قال حدثني يحيى بن أبي كثير حدثني محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي حدثني عروة بن الزبير قال سألت عبد الله بن عمرو بن العاص قال قلت حدثني بأشد شيء صنعه المشركون برسول الله صلى الله عليه وسلم قال أقبل عقبة بن أبي معيط ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي عند الكعبة فلوى ثوبه في عنقه فخنقه خنقا شديدا فأقبل أبو بكر رضى الله تعالى عنه فأخذ بمنكبيه فدفعه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال { أتقتلون رجلا أن يقول ربي الله وقد جاءكم بالبينات من ربكم } أخرجه البخاري في الصحيح من حديث الأوزاعي

17728 - عرو ہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ میں نئ عبداللہ بن عمرو بن عاص سے سولا کیا اور کہا کہ مجھے مشرکین کی سب سے زیادہ سخت تکلیف بیان کریں جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو پہنچائی انہوں نے کہا کہ عقبہ بنابی معبد آیا اور رسول اللہﷺ کعبہ کے اپس نماز پڑھ رہے تھے ا س نے آپ کی گردن میں کپڑ ا لپیٹ کر ذور سے دبا یا تو حضرت ابو بکر صدیق آئے او رانہوں نے اس کے دونوں کندھوں سے پکڑ کر اسے رسول اللہﷺ سے دور کیا او رکہا: کیا تم ایسے آمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ اس پر تمہارے رب کی طرف سے دلائل بھی لایا ہے ۔

أخرجه البخاري في الصحيح من حديث الأوزاعي ← أقبل عقبة بن أبي معيط ← بأشد شيء صنعه المشركون برسول الله ← قُلْتُ ← سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ العباس بن الوليد ← إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17728

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17729

[ 17507 ] أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي بالكوفة أنبأ أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم ثنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنبأ عبيد الله هو بن موسى أنبأ إسرائيل عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون عن عبد الله هو بن مسعود رضى الله تعالى عنه قال بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم قائم يصلي عند الكعبة وجميع قريش في مجالسهم ينظرون إذ قال قائل منهم ألا تنظرون إلى هذا المرائي أيكم يقوم إلى جزور بني فلان فيعمد إلى فرثها ودمها وسلاها فيجيء به ثم يمهله حتى إذا سجد وضعه بين كتفيه فانبعث أشقاها فجاء به فلما سجد رسول الله صلى الله عليه وسلم وضعه بين كتفيه وثبت النبي صلى الله عليه وسلم ساجدا وضحكوا حتى مال بعضهم على بعض من الضحك فانطلق منطلق إلى فاطمة رضى الله تعالى عنها وهي جويرية فأقبلت تسعى حتى ألقته عنه وأقبلت عليهم تسبهم فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة قال اللهم عليك بقريش ثلاثا ثم سمى اللهم عليك بعمرو بن هشام وبعتبة بن ربيعة والوليد بن عتبة وأمية بن خلف وعقبة بن أبي معيط وعمارة بن الوليد قال عبد الله والله لقد رأيتهم صرعى يوم بدر يسحبون إلى قليب بدر ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وأتبع أصحاب القليب لعنة رواه البخاري في الصحيح عن أحمد بن إسحاق عن عبيد الله بن موسى وأخرجه هو ومسلم من وجه آخر عن أبي إسحاق

17729 - حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہﷺ کعبہ کے نزول نماز پرھ رہے تھے کہ مشرکین اپنی مجالس میں جمع ہو کر دیکھنے لگے ان میں سےا یک کہنے والے نے کہا: کیا تما سریاکار کی طرف نہیں دیکھتے ہو تم میں سے کون آل فلاں کے اونٹ کی طرف اجئے گا اوراس کی گوبر خون اور اوجھڑی لائے اور پھر ان کے سجدے میں جانے کا انتظار کرے اور جب وہ سجدے میں چلا جائے تو اس کے کندھوں کے درمیان میں رکھ دے تو قوم کاسب سے زیادہ بخت انسان اٹھا اور وہ او جھڑی وغیرہ لے آیا اور جب آپﷺ سجدے میں گئےتو اس بد بخت نے آپﷺ کے کندھوں کے درمیان رکھ دیتو آپﷺ سجدے میں ہی ٹھہرے رہے تو وہ یہ منظر دیکھ کر ہنسنے لگے کہ شدید ہنسی کی وجہ سے ان کا بعض بعض پر گرنے لگ گیا تو اک جانے والا حضرت فاطمہ کی طرف گیا اور وہاس وقت بچی تھیں تو وہ دوڑتی ہوئی ائیںاور انہوں نے آپ ﷺ سے وہ اوجڑی دور کی اور پھر ان کو برا بھلا کہنا شروع کر دی اجب رسول اللہﷺ نے نماز ختم کر لیتو تی دفعہ کہا اے اللہ ! قریش کو پکڑ لے پھر ان لوگوں کے نام لے کر دعا کی اے اللہ عمرو بن حشاب عتبہ بن ربیعہ ولید بن عتبہ امیہ بن خلف عقبہ بن ا بی معبط اور عمارہ بن ولید ان سب کو پکڑلے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں : اللہ کی قسم میں نے بدر کے دن ان سب کو گرت ہوئے دیکھا پھر ان کلو بدر کئ کنویں میں گھسیٹ کر پھینک دیا گیا اس کے بعد رسول اللہﷺ نے فرمایا: اصحاب قلیب پر لعنت بھی مسلط کر دی گئی ۔

عبد الله هو بن مسعود رضى الله تعالى عنه ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنبأ عبيد الله هو بن موسى أنبأ إسرائيل

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17729

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17730

[ 17508 ] حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف إملاء أنبا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا علي بن الحسن الهلالي ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو بكر بن الحسن القاضي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن مرزوق قالا ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا الحارث بن عبيد ثنا سعيد الجريري عن عبد الله بن شقيق عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يحرس حتى نزلت هذه الآية يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك وإن لم تفعل فما بلغت رسالته والله يعصمك من الناس فأخرج النبي صلى الله عليه وسلم رأسه من القبة فقال يا أيها الناس انصرفوا فقد عصمني الله ورواية الهلالي فقال لهم أيها الناس قال الشافعي يعصمك من قتلهم أن يقتلوك حتى تبلغهم ما أنزل إليك فبلغ ما أمر به فاستهزأ به قوم فنزل { فاصدع بما تؤمر وأعرض عن المشركين إنا كفيناك المستهزئين }

17730 – حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی نگرانی کی جاتی تھی کہ یہ آیت نازل ہوئی اے رسول جو آپ کی طرف آپ کے ربنے نازل کیا ہے اس کی تبلیغ کیجیے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اپنئ رب کے پیغام کو نہ پہنچایا اور اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے بچانے والا ہے وت آپ نے اپنا سر اپنے یمت سے نکال کر کہا اے لوگوں اب تم چلے جاؤ اللہ نے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے ۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب ہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان کے قتل سے بچایے گا کہ وہ اپ کو قتل کرے ج بتک کہ آپ اس چیز کی تبلیغ کرتے رہیں گےئ جو چیز آپ کی طرف نازل کی گئی ہئ تو آپ نےا سچیز کی تبلیغ کی جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا ت قوم نے اسپر آپ کا مذاق اڑانا شروع کر دیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آتی کریمہ پس آپ اس حکم کو جو آپ کو کیا جا رہا ہے کھول کر بیان کریں او رمشرکین سے منہ پھیر لیجیے آپ سے جو لوگ مسخرا پن کرتے ہیں ان کی سا کے لیے ہم کافی ہیں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو بكر بن الحسن القاضي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ← أبو محمد عبد الله بن يوسف إملاء أنبا أبو بكر محمد بن الحسين القطان

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17730

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17731

[ 17509 ] أخبرنا أبو طاهر أنبأ أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا عمر بن عبد الله بن رزين ثنا سفيان عن جعفر بن إياس عن سعيد بن جبير عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما في قول الله عز وجل إنا كفيناك المستهزئين قال المستهزئون الوليد بن المغيرة والأسود بن عبد يغوث الزهري والأسود بن المطلب وأبو زمعة من بني أسد بن عبد العزى والحارث بن عيطل السهمي والعاص بن وائل فاتاه جبريل عليه السلام شكاهم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأراه الوليد أبا عمرو بن المغيرة فأومأ جبريل إلى أبجله فقال ما صنعت قال كفيته ثم أراه الأسود بن المطلب فأومى جبريل إلى عينيه فقال ما صنعت قال كفيته ثم أراه الأسود بن عبد يغوث الزهري فأومأ إلى رأسه فقال ما صنعت قال كفتيه ومر به العاص بن وائل فأومأ إلى أخمصه فقال ما صنعت قال كفيته فأما الوليد بن المغيرة فمر برجل من خزاعة وهو يريش نبلا له فأصاب أبجله فقطعها وأما الأسود بن المطلب فعمي فمنهم من يقول عمي هكذا ومنهم من يقول نزل تحت سمرة فجعل يقول يا بني ألا تدفعون عني قد قتلت فجعلوا يقولون ما نرى شيئا فلم يزل كذلك حتى عميت عيناه وأما الأسود بن عبد يغوث الزهري فخرج في رأسه قروح فمات منها وأما الحارث بن عيطل فأخذه الماء الأصفر في بطنه حتى خرج خرؤه من فيه فمات منها وأما العاص بن وائل فبينما هو كذلك يوما إذ دخل في رأسه شبرقة حتى امتلأت منها فمات منها وقال غيره فركب إلى الطائف على حمار فربض به على شبرقة فدخلت في أخمص قدمه شوكة فقتلته

17731 – حضرت ابن عباس اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے می فرماتے ہیں کہ آپ سے مذاق کرنےو الے یہ لوگ تھے ولید بن مغیرہ اسود بن عبدایغوث زہری اسود بن مطلب ابو زمعہ بنی اسد بن عبدالعزی ھآرث ن عیطل اسہی اسی اور عاص بن وائل اس کے بعد آپ ﷺ کے پاس جبریل آیے تو آپ نے جبریل سے ان لوگوں کی شکایت بیان کی پھر آپﷺ نے جبریل کو ولید ابو عمرو بن مغیرہ کو دیکھایا تو حضرت جبریل ناس کے ہاتھ کی موتی رگ کی طرف اشارہ کیا تو آپ نے کہا: تو نے کیا کیا؟ اس نے کہا کہ آپ کی اس سے کفایت کی گئی پھر آپ نے ان کو اسود بن لطب دکھایا تو حضڑت جبریل نے اسکی آنکھ کی طرف اشارہ کیا اور آپ نے کہا : تو نے کیا کیا؟ ضرت جبریل نے فرمایا: کہ آپ بچا لیے گئے یہں پھر آپ نےا ن کو اسود بن عبد یغوث الز ہری دکھای اوت انہوں نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیاتو آپ نے پوچھا: تو نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ اس سے بچا لیے گئے ہیں پھر آپ ﷺ نےا ن کو حار چبن عیطل سہی کو دکھایا تو انہوں نے اسکے سر کیئ طرف اشارہ کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے ساتھ کیا کیا؟ حضرت جبرئیل نے فرمایا کہ آپ ﷺ محفوظ کر دیے گئے ہیں پرھ عاص بن وائل گزرا تو انہوں نے اس کے قدم کی خالی جگہ کی طرف اشارہ کیا آپﷺ نے فرمایا: کیا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ بے فکر ہو جائیں اس کےبعد ولید بن مغیرہ بنی خزاعہ کے ایک آدمی کے قریب سے گزرا جو اپنے تیر کے پھالے کو درست کر رہا تھا اور یہ تیر ولید بن مغیرہ کی رگ میں لگا اور اسے کاٹ دیا اور رہا اسود ابن مطلب وہ اندھا ہو گیا تو بعض لوگ اس کے بارے میں کہتے کہ وہ ایسے اندھا ہوا او ربعض کہتے ہیں: وہ بیول کے درخت کے نیچے اترا اور اپنے بیٹوں سے کہنے لگا: مجھے بچاؤ میں مر گیا وہ کہنے لگے : ہمیں کوئی چیز نظر نہیں آتی جس سے آپ کو بچائیں وہ یہی الفاظ کہتا رہا وہ د یکھو وہ مجھے مار رہا ہے اسے مجھ سے دور کرو وہ میری آنکھوں میں کاٹنے جہو رہا ہے وہ کہتے ہمیں تو کوئی چیز نظر نہیں آرہی اس کیہی حالت رہی کہ آنکھوں سے اندھا ہو گیا اور اہ اسود بن عبدا یغوث زہری تو اس کے سر میں دانے نکلے اور وہ انہی دانوں کے ساتھ سر گیا اور اسی طرح حارث بن عئطل کے پیٹ میں زرد رنگ کا پانی پڑ گئی کہا سکا پایخانہ اسکے منہ سے نکل آیا ار وہ بھ اسی سے مر گیا اور رہ اعاص بن واےل تو اس کے ساتھ بھی اسے ہی ہوا کہ اس کے سر میں کانٹا لگا جو پورے سر میں پھیل گیا اور وہ اسسے مر گیا ۔

كفيناك المستهزئين ← بن عباس رضى الله تعالى عنهما في قول الله عز وجل ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← سُفْيَانَ، ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَزِينٍ ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أبو طاهر أنبأ أبو بكر محمد بن الحسين القطان

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17731

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17732

[ 17510 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا هارون بن سليمان الأصبهاني ثنا عبد الرحمن بن مهدي ثنا سفيان عن سلمة بن كهيل عن عمران أبي الحكم السلمي عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما قال قالت قريش للنبي صلى الله عليه وسلم ادع ربك أن يجعل لنا الصفا ذهبا ونؤمن بك قال أتفعلون قالوا نعم فدعا فاتاه جبريل عليه السلام فقال الله يقرأ عليك السلام ويقول إن شئت أصبح الصفا ذهبا فمن كفر بعد ذلك عذبته عذابا لا أعذبه أحدا من العالمين وإن شئت فتحت لهم باب التوبة والرحمة قال بل يا رب التوبة والرحمة

17732 – حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ قریش نے نبیﷺ سے کہا : اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ صفا پہاری کو ہمارے لیے سون ابنا دے تو تب ہم آپ پر ایمان لائیں گے آپﷺ نے فرمایا: اچھا دیکھ لو تم ایسا ہی کرو گے ؟ انہوں نے کہا: ہاں ہاں! اپﷺ نے دع اکی تو آپ کے پاس جبریل آئیے اور آکر کہا کہ اللہ تعالیٰ کو سلام کہتے ہیں اور ساتھ فرماتے پی کہ اگر آپﷺ چاہے پیں تو صفا کو سونا بنادیں گے اورپھر اس کے بعد بھی میں جس نے کفر کیا تو میں اس کو ایسا سخت عذاب دوں گا کہ مخلوق میں سے کسی ایک کو بھی ایسا عذاب نہ دوں گا اور اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے لہے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہوں تو آپﷺ نے فمایا: تو توبہا ور رحمت کا دروازہ کھول دے ۔

قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ ادْعُ رَبَّكَ ← بن عباس رضى الله تعالى عنهما ← عمران أبى الحكم السلمى ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17732

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17733

[ 17511 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا يونس بن بكير عن عيسى بن عبد الله التميمي عن الربيع بن أنس عن أبي العالية فاصبر كما صبر أولو العزم من الرسل نوح وهود وإبراهيم أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يصبر كما صبر هؤلاء فكانوا ثلاثة ورسول الله صلى الله عليه وسلم رابعهم قال نوح إن كان كبر عليكم مقامي وتذكيري بآيات بيات الله إلى آخرها فأظهر لهم المفارقة وقال هود حين قالوا إن نقول إلا اعتراك بعض آلهتنا بسوء الآية فأظهر لهم المفارقة وقال إبراهيم قد كان لكم سوة حسنة في إبراهيم إلى آخر الآية فأظهر لهم المفارقة وقال محمد إني نهيت أن أعبد الذين تدعون من دون الله فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم عند الكعبة يقرؤها على المشركين فأظهر لهم المفارقة

حضرت ابو عالیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: آپ بھی ایسے ہی صبر س کیجیے جیسے رسولوں میںس ےا دلواعزم رسولوں نے صبر کیا اولو العزم رسول یہ ہیں نوح ہو ابراہیم اور رسول کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ بھی صبر کریں جس طرھ نہوں نے صبر کا وہ تین تھے اور چوتھے رسول اللہ تھے حضرت نوح نے کہا: اے میری قوم اگر تم کو میرا رہنا اور احکام الہی سے نصیحت کرنا بھاری معلوم ہوتا ہے تو میرا اللہ ہی پر بھروسہ ہے تم نے میرے ساتھ جو کچھ کرنا ہے کر گزرو او رمجھ کو مہلت نہدو حضرت نوح نے ان کو بھر پور جواب دیتے ہوئے ان پر جدائی کا مقام واضح کر دیا اور اسی طرح ہود نے بھی انکو جواب دیا جب انہوں نےآپ سے یہ کہا تھا: بلکہ ہم تو یہ یکہتے ہیں کہ تو ہمارے کسی معبود کے بردے جھپٹے میں آگیا ہے تو انہوں نے اسکے جواب میں کاہ کہ میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ ن جاؤ کہ میں ہوں اور تم سب مل کر میرے حق میں بدی کر لو ۔

الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيِّ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17733

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17734

[ 17512 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا يونس بن بكير عن بن إسحاق حدثني الزهري عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام عن أم سلمة رضى الله تعالى عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت لما ضاقت علينا مكة وأوذي أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وفتنوا ورأوا ما يصيبهم من البلاء والفتنة في دينهم وأن رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يستطيع دفع ذلك عنهم وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم في منعة من قومه وعمه لا يصل إليه شيء مما يكره ما ينال أصحابه فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم إن بأرض الحبشة ملكا لا يظلم أحد عنده فالحقوا ببلاده حتى يجعل الله لكم فرجا ومخرجا مما أنتم فيه فخرجنا إليها أرسالا حتى اجتمعنا ونزلنا بخير دار إلى خير جار أمنا على ديننا ولم نخش منه ظلما وذكر الحديث بطوله

ام المو منین حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب ہم پر مکہ تنگ ہو گیااور اصحاب رسول کو طرح طرح کی تکلیفوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے اپنے دین پر عمل کرنے سے آزمائشوں اورفتون کو دیکھا اور یہ کہر سول اکرم ﷺ بھی ان کے دفاع سے قاصر ہیں کیونکہ درمیان میں آپﷺ کی قوم اور آپ کے چچا رکاوٹ بنے ہوئے تھے او ر آپ اپنے ساتھیوں کی تکلیفوں میںبے بش ہوگئے تو اپ نے ان سے کہا کہ حبشہ کی سر زمین میں ان کا بادشا ہ اپنے پاس کسی پر ظلم نہیں ہونے دیتا تم ان ے شہر میں چلے جاو جب تک کہ اللہ تعالیٰا سکے متبادل تمہارے لیے اور راستہ نہ نکال دے پھر ہم آہستہ آہستہ یہاں سے نکلے کہ ہم حبہ میں جمع ہو گئے اور ہم اچھے گھر اور اچھ پڑوس میں تھے وہاں ظلم و زیادتی کا ڈر بھی نہ تھا پھر لمبی حدیث بیان کی ۔

أم سلمة رضى الله تعالى عنها زوج النبي ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← بن إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17734

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17735

[ 17513 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد الصفار ثنا العباس بن الفضل الأسفاطي ثنا أحمد بن يونس ثنا داود بن عبد الرحمن ثنا عبد الله بن عثمان عن أبي الزبير محمد بن مسلم أنه حدثه أن جابر بن عبد الله رضى الله تعالى عنه حدثه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لبث عشر سنين يتبع الحاج في منازلهم في المواسم مجنة وعكاظ ومنازلهم بمنى من يؤويني وينصرني حتى أبلغ رسالات ربي وله الجنة فلم يجد أحدا يؤويه وينصره حتى أن الرجل ليدخل صاحبه من مصر واليمن فيأتيه قومه أو ذوو رحمه فيقولون احذر فتى قريش لا يصيبك يمشي بين رحالهم يدعوهم إلى الله يشيرون إليه بأصابع حتى يبعث الله من يثرب فيأتيه الرجل منا فيؤمن به يقرئه القرآن فينقلب إلى أهله فيسلمون بإسلامه حتى لم يبق دار من دور يثرب إلا فيها رهط من المسلمين يظهرون الإسلام ثم يبعث الله فائتمرنا واجتمعنا سبعين رجلا منا فقلنا حتى متى رسول الله صلى الله عليه وسلم يطرد في جبال مكة ويخال أو قال ويخاف فرحلنا حتى قدمنا عليه الموسم فوعدنا شعب العقبة فاجتمعنا فيه من رجل ورجلين حتى توافينا فيه عنده فقلنا يا رسول الله علام نبايعك قال تبايعوني على السمع والطاعة في النشاط والكسل وعلى النفقة في العسر واليسر وعلى الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر وأن تقولوا في الله لا يأخذكم في الله لومة لائم وعلى أن تنصروني إن قدمت عليكم يثرب وتمنعوني مما تمنعون منه أنفسكم وأزواجكم وأبناءكم ولكم الجنة فقلنا نبايعك فأخذ بيده أسعد بن زرارة وهو أصغر السبعين رجلا إلا أنا فقال رويدا يا أهل يثرب إنا لم نضرب إليه أكباد المطي إلا ونحن نعلم أنه رسول الله وأن إخراجه اليوم مفارقة العرب كافة وقتل خياركم وأن تعضكم السيوف وأما أنتم قوم تصبرون على عض السيوف وقتل خياركم ومفارقة العرب كافة فخذوه وأجركم على الله وأما أنتم تخافون من أنفسكم خيفة فذروه فهو أعذر لكم عند الله فقالوا أخر عنا يدك يا أسعد بن زرارة فوالله لا نذر هذه البيعة ولا نستقيلها فقمنا إليه رجلا رجلا يأخذ علينا شرطه ويعطينا على ذلك الجنة

17735 - حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ میں دس سال ٹھہرے اور موسم حج میں آپﷺ حاجیوں کے پیچھے ان کئ گھروں میں جاتے جو مجحنہ اور عکاظ میں تھے اور اسی طرح آپ ﷺ منیٰ میں بھی ان کے گھروں میں جاتے اور آپﷺ فرماتے جو مجھے ٹھکانہ دے گا اور میری دد کرے کہ میں اللہ کے پیغامات کی تبلیغ کروں اور ان کو لوگوں تک پہنچا دوںتو اس کےلیے جنت ہے تو آپﷺ کو ٹھکانہ اور مدد کرنے کے لیے کوئی بھی تیار نہ کہ مضر اور یمن سے کوئی آدمی آتا تو اس کی قوم اور اس کے عزیر واقارب کے لوگ اسے کہتے کہ قریش کے ایک جوان سے بچتا اور اسے ملاقات نہ کرنا وہ لوگوں کئ گھروں میں ا کر ان کو اللہ کے دین کی دعوت دیتا ہے اور لوگ آپﷺ کی طرف انگلیوں سے اشارے کرتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مدینہ میں منتخب فمایا: اور ہم میں سے کوئی آدمی آپﷺ کے پاس آیا اور وہ آپ پر ایما ن لے آیااور اپ اسے قران کی تعلیم دیتے پھر وہ آدمی اپنئ گھر لوتا تو اس کے اسلام کی وجہ سے اسکے اہل و عیال بھی اسلام قبول کر لیتے کہ یثرب مین کوئی ایسا گھر نہیں تھا جس میں مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور یہ لوگ اسلام کی تبلیغ کرتے پھر اللہ تعالیٰ نے اسکام کے لیے ہمیں چنا اور ہم ستر آدمیوں نے اکٹھے ہو کر مشاورت کی اور کہا آپ کو کب تک مکہ کے پہاروں میں دھکیلا جائے گا اور کب تک آپ خوف کی زندگی ان پہاروں میں گزریں گے اس کے بعد وہ ہم نے وہاں کو چ کیا او رموسم حج میں آپ سے ملاقات کی تو آپ نے شعب عقبہ میں ہمارے ساتھ ملاقات کا وعدہ کیا کہ ہم اس میں ایک ایک اور دو دو ہو کر داخل ہوئے کہ ہم سب اکٹھے ہو گئے او رک ا: یا رسول اللہﷺ ہم آپ کی کس بات پر بئعت کریں تو آپ نے فرمایا: تم میری بی و فرما نبر دایر پر کرو خوشی میں بھی اور ناخوشی میں بھی اور خوش حال اور تنگ دستی میں خرچ کرنے پر اور نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرن پرا ور اللہ کے دین کے دعوت دینے یا عمل کرنے پر کسی مامت کعرنے والے کی مملامت کی پروا نہ کرنے پر اوراس بات پر کہ اگر میں تمہارے پاس یثرب اؤں تو تم نے میری مدد کرنی ہے اور تم نے مجھے بھی اس چیز سے بچانا جس چیز سے تم اپنے آپ کو اپنی بیویں کو اپنی اولادوں کو بچاتے ہو تو ایسی صورت میں تمہارے لیے جنت ہے ۔

أن جابر بن عبد الله رضى الله تعالى عنه ← أَبِي الزُّبَيْرِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17735

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17736

[ 17514 ] حدثنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى ثنا إسماعيل بن قتيبة ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا جرير عن قابوس بن أبي ظبيان عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة فأمر بالهجرة وأنزل عليه وقل رب أدخلني مدخل صدق وأخرجني مخرج صدق واجعل لي من لدنك سلطانا نصيرا

17736 - حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ مکہ میں تھے آپ ﷺ کو ہجرت کا حکم دیا گیا اور آپ پر یہ آیت نازل ہوئی: اور ا س طرح دعا کریں کہ اے میرے پروردگار مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہا سے نکال اچھی طرح نکال اور میرے لیے اپنے پاس سے غلبہ اور مدد گار مقرر فرما۔

بن عباس رضى الله تعالى عنهما ← قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17736

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17737

[ 17515 ] أخبرنا أبو الحسين محمد بن الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنبأ عبد الله بن جعفر بن درستويه ثنا يعقوب بن سفيان ثنا الحجاج بن أبي منيع ثنا جدي عن الزهري عن عروة عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يومئذ بمكة للمسلمين قد رأيت دار هجرتكم أريت سبخة ذات نخل بين لابتين وهما الحرتان فهاجر من هاجر قبل المدينة حين ذكر ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجع إلى المدينة بعض من كان هاجر إلى أرض الحبشة من المسمين وتجهز أبو بكر رضى الله تعالى عنه مهاجرا فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم على رسلك فإني أرجو أن يؤذن لي فقال أبو بكر رضى الله تعالى عنه وترجو ذلك بأبي أنت وأمي قال نعم فحبس أبو بكر رضى الله تعالى عنه نفسه على رسول الله صلى الله عليه وسلم لصحابته وعلف راحلتين عنده ورق السمر أربعة أشهر أخرجه البخاري في الصحيح بطوله من حديث عقيل ويونس عن الزهري

17737 – حضرت عائشہ سےر وایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں سے فرمایا: مجھے تمہارے مقام ہجرت دکھایا گیا ہے یہ لا دے کی دو پہاڑیہوں کے درمیان واقع ایک نخلستانی علاقہ ہے اس کے بعد لوگوں نے مدینہ کی جانب ہجرت کی عام مہاجرین حبشہ بھی مدینہ ہی آگئے حضڑت ابو بکر نے ابھی سفر مدینہ کے لیے سازو سامام تیار کر لی الیکن رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا: ذرا ک رہو کیونکہ تو قع ہے مجھے بھی اجازت دے دی جائے گی ابو بکر نے کہا: میرے ماں باپ آپﷺ پر فدا کیا آپ کو اس پر ماید ہے آپﷺ نے فرمایا: ہاں اس کے بعد اب وبکر کے رکے رہے تاکہ رسول اللہﷺ کے ساتھ سفر کریں ان کے پاسدو اینٹیاں تھیں انہیں بھی چار ماہ تک ببول کے پتوں کاخوف چارہ کھلایا۔

عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← جَدِّي، ← الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي مَنِيعٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17737

chevron_left Previous
1…606162…77
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead