Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17714

[ 17492 ] وأخبرنا أبو علي الروذباري وأبو عبد الله بن برهان وأبو الحسين بن الفضل القطان وغيرهم قالوا أنبأ إسماعيل بن محمد الصفار ثنا الحسن بن عرفة ثنا القاسم بن مالك المزني عن المختار بن فلفل عن أنس بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أنا أول شفيع يوم القيامة وأنا أكثر الأنبياء تبعا يوم القيامة إن من الأنبياء لمن يأتي يوم القيامة ما معه مصدق غير واحد أخرجه مسلم من أوجه عن المختار

17714 – حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن میں ہی سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور قیامت کے دنتمام انبیاء سے زیادہ میرے ہی پیروکار ہوں گے اور انبیاء میں سے بعض ایسے بھی ہوں گے کہ قیامت کے دن انکا صرف اسیک ہی آدمی تصدیق کرنےو الا ہو گا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، ← الْقَاسِمُ بْنُ مَالِکٍ الْمُزَنِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← أنبأ إسماعيل بن محمد الصفار ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُمْ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بُرْهَانَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17714

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17715

[ 17493 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن يعقوب الشيباني ثنا جعفر بن محمد بن الحسين ثنا يحيى بن يحيى أنبأ هشيم ح وأخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب أنبأ أبو الربيع ثنا هشيم أنبأ سيار ثنا يزيد الفقير أنبأ جابر بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال أعطيت خمسا لم يعطهن أحد قبلي نصرت بالرعب مسيرة شهر وأحلت لي الغنائم ولم تحل لأحد قبلي وجعلت لي الأرض مسجدا وطهروا فأيما رجل من أمتي أدركته الصلاة فليصل وأعطيت الشفاعة وكل نبي يبعث إلى قومه خاصة وبعثت إلى الناس عامة لفظ حديث أبي الربيع رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى ورواه البخاري عن محمد بن سنان عن هشيم

17715 – حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نےف رمایا: مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں عطا کی گئیں میری رعبط کے ساتھ ایک مہینے کی مسافت پر مدد کی گئی اور میرے لیے مال غنیمت کو حلال کیا گیا ج مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلا نہیں تھااور میرے لیے زمین کو مسجد اور پاک بنا دی اگیا تو میری امت کے جس آدمی کو بھی جہاں پر بھی نماز کا وقت ہو جائے تو وہیں نماز پرھ لے اور مجھے شفاعت عطا کی گئی او رہر نبی کو ایک خآص قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے تمام لوگوں کے لیے بھیجا گیا ہے ۔

يزيد الفقير أنبأ جابر بن عبد الله ← هشيم أنبأ سيار ← يوسف بن يعقوب أنبأ أبو الربيع ← أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق ← يحيى بن يحيى أنبا هشيم ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ← محمد بن يعقوب الشيباني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17715

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17716

[ 17494 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو زكريا العنبري ثنا محمد بن عبد السلام ثنا إسحاق أنبأ جرير عن الأعمش عن خيثمة قال قرأ رجل على عبد الله رضى الله تعالى عنه سورة الفتح فلما بلغ { كزرع أخرج شطأه فآزره فاستغلظ فاستوى على سوقه يعجب الزراع ليغيظ بهم الكفار } قال ليغيظ الله بالنبي وأصحابه الكفار ثم قال عبد الله أنتم الزرع وقد دنا حصاده قال الشافعي وقال لأمته كنتم خير أمة أخرجت للناس الآية ففضلهم بكينونتهم من أمته دون أمم الأنبياء قبله

17716 - حضرت خثیمہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعود کے سامنے پر سورۃ الفتح کی تلاوت کی جب وہ اس مقام پر پہنچا تو انہوں نے کہا: سے مراد ہ ےکہاللہ نبی اور اس کے اصحاب سے کفار کو غصہ دلائے پھر حضرت عبداللہ نے کہا: کہ تم کھیتی ہو جس کے کاٹنے کا وتق قریب آگیا ہے ۔ امام شافعی نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اس لیے فضخیلت دی ہے کہ وہ نبی ﷺکی امت ہے نہ کی سابقہ انبیاء کی امتوں کی وجہ سے ۔

خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← إسحاق أنبا جرير ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17716

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17717

[ 17495 ] أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو حامد بن بلال ثنا إبراهيم بن عبد الله أنبأ يزيد بن هارون أنبأ بهز بن حكيم بن معاوية القشيري عن أبيه عن جده قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إنكم توفون سبعين أمة أنتم خيرها وأكرمها على الله عز وجل قال الشافعي ثم أخبر جل ثناؤه أنه جعله فاتح رحمته عند فترة رسله فقال { يا أهل الكتاب قد جاءكم رسولنا يبين لكم على فترة من الرسل أن تقولوا ما جاءنا من بشير ولا نذير فقد جاءكم بشير ونذير } وقال هو الذي بعث في الأميين رسولا منهم وكان في ذلك ما دل على أنه بعثه إلى خلقه لأنهم كانوا أهل الكتاب والأميين وأنه فتح به رحمته وختم به نبوته فقال { ما كان محمد أبا أحد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين }

17717 – حضرت بہنر بن حکیم بن معاویہ قیشر ی اپنے والد سے ا ور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسو اللہﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے تم ستر سے زیادہ امتوں میں تقسیم ہپو جاؤ گئ او تم ان سب سے بہتر اور اللہ کے ہاں مکرم ہو گے امام شافی فرماتے ہیں کہپہلے والے رسل کی رسالت کے منقطع ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی اور آپ کی ذات کو فاتح رحمت قرار دیا ہے فرمایا: اے اہل کتاب ہمارا رسول تمہارے پاس رسول کی آمد کے ایک وقفے کے بعد پہنچا ہے وج تمہاےر لیے صاف صاف بیان کر رہا ہے تاکہ تمہاری یہ بات نہ رہ جائے کہ ہمارے پاس تو کوئی بھلائی برائی سنانے والا ایا ہی نہیں پس اب تو خوشخبری سنانے والا اور آگاہ کرنے والا اپہنچا اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے وہی ہے جس نے نا خواندہ لوگوں میں ان ہیں میں سے ایک رسول بھیجا ان ایات میںآ بات کی وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپ کو اپنی تمام مخلوق کے لیے بھیجا کیونکہ ان میں اہل کتاب بھی تجے اور ناخواندہ بھی اور اپکے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنی رھتم کو کھول ااور سلسلہ نبوت کو ختنم کیا اور اس بارے میں فرمان بھی جاری کر دیا تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﷺ نہیں لیکن آپﷺ اللہ تعالیٰ کے رسو ہیں اور تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17717

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17718

[ 17496 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا أبو الربيع ثنا إسماعيل بن جعفر ثنا العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال فضلت على الأنبياء بست أعطيت جوامع الكلم ونصرت بالرعب وأحلت لي الغنائم وجعلت لي الأرض طهورا ومسجدا وأرسلت إلى الخلق كافة وختم بي النبيون رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن أيوب وغيره عن إسماعيل

17718 – حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: مجھے انبیاء پر چھ چیزوں سے فضیلت دی گئی مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے او رمیری رعب و بدبہ کے ساتھ مدد کی گئی میرے یے مال غنیمت حلال کی اگیا اور میرے لیے زمین کو پاک اور مسجد بنا دیا گیا او رمجھے تمام مخلوق کے لیئے رسول بنا کر بھیجا گیا او رمجھے تمام مخلوق کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا او رمیرے ساتھ سلسلہ نبوت کو ختم کیا گیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17718

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17719

[ 17497 ] أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي رحمه الله أنبأ أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ ثنا محمد بن يحيى الذهلي ثنا عفان بن مسلم ثنا سليم بن حيان قال سمعت سعيد بن ميناء قال سمعت جابر بن عبد الله رضى الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ح قال وثنا إبراهيم بن عبد الله ثنا يزيد بن هارون ثنا سليم بن حيان قال سمعت سعيد بن ميناء قال سمعت جابر بن عبد الله رضى الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مثلي ومثل الأنبياء قبلي كمثل رجل ابتنى دارا وقال يزيد بنى دارا فأحسنها وأكملها إلا في موضع لبنة فجعل الناس يدخلونها ويتعجبون منها ويقولون لولا موضع هذه اللبنة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فأنا موضع تلك اللبنة جئت فختمت الأنبياء رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن سنان عن سليم ورواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة وأبي كريب عن عفان قال الشافعي رحمه الله وقضى أن أظهر دينه على الأديان فقال هو الذي أرسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله الآية قال وقد وصفنا بيان كيف يظهر على الدين كله في غير هذا الموضع

17719 – جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میری او رمجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی ماند ہے جس نے گھر بنایا اور اسے بڑا خوبصورت بناا اور اسے ایک اینٹ کی جگہ کے سوا کھگل بناا لوگ اسمین داخل ہونے لگئے اور اس سے تعھب کرنے لگے اور کہنے لگے: کیوں نہیں ا اینٹ کی جگہ کو پر کیا گیا رسول اللہﷺ نے فمایا:پس وہ اینٹ کی جگہ میں ہوں میں آیا او رمیرے ساتھ انبیاء کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ امام شافعی فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ اس دین کو تمام ادیان پر غلاب کرے جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے وہی اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حﷺ کے ساتھ مبعوث کیا تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کرے اور امام صاحب نےا سکے غالب ہونے کی کیفیت کو دوسری جگہ بیان کر دیا ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: ← سعيد بن ميناء، ← سليم بن حيان، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17719

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17720

[ 17498 ] أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب أنبأ جعفر بن عون أنبأ إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم عن خباب رضى الله تعالى عنه قال شكونا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو متوسد بردة له في ظل الكعبة فقلنا ألا تدعو الله لنا ألا تستنصر الله لنا قال فجلس محمارا وجهه قال والله إن من كان قبلكم ليؤخذ الرجل فيحفر له الحفرة فيوضع المنشار على رأسه فيشق باثنتين ما يصرفه عن دينه أو يمشط بأمشاط الحديد ما بين عصبه ولحمه ما يصرفه عن دينه وليتمن الله هذا الأمر حتى يسير الراكب منكم من صنعاء إلى حضرموت لا يخشى إلا الله أو الذئب على غنمه ولكنكم تعجلون أخرجاه في الصحيح من حديث إسماعيل

17720 – حضڑت خباب فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہﷺ سے کی شکایت کی اور آپ اپنی چادر سے کعبہ کے سایہ میں تکیہ گائے ہوئے تھے ہم نے کہا: آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دع اکیوں نہیں کرتے ہمارے لیے اللہ س مدد کیوں نہیں مانگتے ؟ آپﷺ ا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا او راپ سیدھے بیٹھ گئے پھر آپﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! تم میں سے جو پہلے لوگ تھے ان میں سے کسی ایک کو پکڑا جاتا اور اس کے لیےئ گڑھا کھودا جاتا پھر اسکے سر پر آرار رکھا جاتا اور اس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے یہ چیز بگبی ان کو ان کے دین سے نہ پھیر سکی لوہے کی کنگھیوں سے اس کے پتھوں اور گوشت کے درمیان سے نوچ جاتا اور یہ تکلیف بھی اسے اس کے دین سے نہ روک سکتی اور اللہ تعالیٰ اس دین کو ضرور پٹھوں او رگوشت کے درمیان سے نوچا جاتا اور یہ تکلیف بھی اسے اس ے دین سے نہ روک سکتی اور اللہ تعالیٰ اس دین کو ضرور ضرور غالب اور پورا کرے کہ تم میں سے ایک سوار صنعاء حضرت موت تک چلے گا اور اسے اللہ کے علاوہ کسی کا ڈر نہ ہوگا نہ بھیڑیے کا اپنی بکریوں پر لیکن تم جلدی کرتے ہو ۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17720

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17721

[ 17499 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو عمرو المقري أنبأ الحسن بن سفيان ثنا أبو الطاهر أحمد بن عمرو ثنا بن وهب أخبرني يونس عن بن شهاب حدثني عروة بن الزبير أن عائشة رضى الله تعالى عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم أخبرته قال كان أول ما بدىء به رسول الله من الوحي الرؤيا الصالحة في النوم فكان لا يرى رؤيا إلا جاءت مثل فلق الصبح ثم حبب الله إليه الخلاء فكان يخلو بغار حراء فيتحنث فيه وهو التعبد الليالي أولات العدد قبل أن يرجع إلى أهله ويتزود لذلك ثم يرجع إلى خديجة فتزوده بمثلها حتى فجأه الحق وهو في غار حراء فجاءه الملك فقال اقرا فقال ما انا بقارىء قال فاخذني فغطني حتى بلغ مني الجهد ثم أرسلني فقال اقرأ فقلت ما أنا بقارىء فأخذني فغطني الثانية حتى بلغ مني الجهد ثم أرسلني فقال اقرأ فقلت ما أنا بقارىء فأخذني فغطني الثالثة حتى بلغ مني الجهد ثم أرسلني فقال { اقرأ باسم ربك الذي خلق خلق الإنسان من علق اقرأ وربك الأكرم الذي علم بالقلم علم الإنسان ما لم يعلم } فرجع بها رسول الله صلى الله عليه وسلم ترجف بوادره حتى دخل على خديجة رضى الله تعالى عنها فقال زملوني زملوني فزملوه حتى ذهب عنه الروع ثم قال لخديجة أي خديجة ما لي وأخبرها الخبر قال قد خشيت على نفسي قالت له خديجة كلا أبشر فوالله لا يخزيك الله أبدا والله إنك لتصل الرحم وتصدق الحديث وتحمل الكل وتكسب المعدوم وتقري الضيف وتعين على نوائب الحق فانطلقت به خديجة رضى الله تعالى عنها حتى أتت به ورقة بن نوفل بن أسد بن عبد العزى بن قصي وهو بن عم خديجة بن أخي أبيها وكان امرأ تنصر في الجاهلية يكتب الكتاب العربي ويكتب من الإنجيل بالعربية ما شاء الله أن يكتب وكان شيخا كبيرا قد عمي فقالت له خديجة أي عم أسمع من بن أخيك قال ورقة بن نوفل بن أخي ماذا ترى فأخبره رسول الله صلى الله عليه وسلم خبر ما رأى فقال له ورقة هذا الناموس الذي نزل الله على موسى يا ليتني فيها جذعا يا ليتني أكون حيا حين يخرجك قومك قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أومخرجي هم قال ورقة نعم لم يأت رجل قط بما جئت به إلا عودي وإن يدركني يومك أنصرك نصرا مؤزرا رواه مسلم في الصحيح عن أبي الطاهر وأخرجه البخاري من وجه آخر عن يونس

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ پر وحی کی ابدتا نیند کی حالت میں اچھے خوابوں سے ہوئی اور جو بھی آپ خواب دیکھتے وہ حالت بیدری میں صبح کی روشنی کی طرح پورا ہو جات اپھر آپ کو تنہائی اچھی لگنے گی اور غار حرا میں اکیے رہنے لگے اور کئی راتوں تک وہاں عبادت کرتے اس سے پہلے پہلے جب تک کہآپ کے دل میں گھ رانے کا شوق پیدا ہوتا اوراس کام کے لیے اپنے ساتھ زاد راہ لے جاتے پھر جب تو اتبنا ہی زادراہ پھر حضڑت خدیجہ سے لے جاتے یہاں تک کہ آپﷺ اسی غار حڑا میں تھے کہ آپﷺ کے پاس اچانک وحی آگئی اور آپﷺ کے پا فرشتہ آیا اوراس نے کہا: پڑھیے آپ نے فرمایا: می تو پڑھا نہیں ہوں آپﷺ فرماتے ہیں کہ پھر جبریل نے مجھ کو پکڑ کر ایسا دبا یا کہ میں نئ بے طاقت ہو گیا پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا او رکہا کہ پڑھیے میں نے کہ میں تو پڑھ نہیں سکا پھر انہوں نے مجھے پڑکلیا اور دوسری بار زور سے دبایا کہ میں بے سکت ہو گیا پھر انہو نے مجھے چھوڑ ااور کہا: پڑھ میں نے کہا: میں تو پڑھا نہیں ہوں پھر انہوں نے مجھے پکڑ لیااور تیسری بار پھر زور سے بھینچا کہ میری طاقت نے جواب د دیا پھر مجھے چھوڑ دی ااو رکہا: پڑھیے اس پر دردگار کے نام سے پرھ جس نے بنائیں جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا آپﷺ یہ آیات سن کر لوتے اور آپ کا دل کانپ رہا تھا یہاں تک کہ آپﷺ حضرت خدیجہ کے پاس آئے او رکہا: مجھے کمبل اووڑھا دو مجھے کمبل اوڑھا دو انہوںنے کمبل اوڑھا دیا کہ آپ سے خؤف جاتا رہا پھر آپﷺ نے خدیجہ سے کہا: اے خدیجہ مجھے یا ہو گیاہے او رپورا واقعہ بیان کی ااور کہا کہ مجھے اپنی جان کے بارے میں ڈر ہے حضڑت خدیجہ نے آپﷺ سے کہا: ہر گزر نہیں آپ خوش ہو جاؤ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیی آپ کو کبھی رسو انہیں کرے گا اس لیے کہ آپﷺ تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور سچ بات بیان کرتے ہیں اور ناتوآؤں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور جن کا کوئی کمانے والا نہیں ہوتا ان کے کیے کماتے ہیں اور مہمان نوازی کرتے ہیں اور حادثوں میں حق کی مدد کرتے ہیں پھر حضرت خدیجہ آپ کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی جو حضڑت کدیجہ کے چچا زاد بھائی تھے اوور وہ بت پرستہ چھوڑ کر جاہلیت کے زمانے مین عیسائی بن گئے تھے اور وہ کتاب کو عربی زبان میں لکھتے تھے اور انجیل جو اللہ نے ان سے لکھوانا چاہی عربی میں لکھتے تھے اور وہ بوڑھے ضعیف ہو کر اندھے ہو گئے تھے تو انہیں حضرت خدیجہ نے کہا: اے میرے چچا اپنے بھتیجے سے کی بات تو سنو حضرت ورقہ بن نوفل نے کہا: اے میرے بھتیجے تم نے کیا دیکھا ہے ؟ آنحضرت ﷺ نے جو دیکھا تو وہ ان سے بیان کی ات وورقہ بن بوفل نے آپ سے کپا: یہ وی فرشتہ ہے جو موسیٰ پر نازل کیا ہے کاش میں اس وقت نو جوان ہوتا کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کو آپ کی قو جلا وطن کرتی رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا وہ مجھ کو نکال دیں گے ورقہ نے کہا: ہاں جب کبھی کسی شخس نے ایسی بات کہی جیسی آپ کہتے ہو تو لوگ ا کے دشمن بن گئے اور اگر میں آپ کے اس دن کو پالوں تو میں تمہاری پوری قوت سے مدد کروں گا۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو عمرو المقري أنبأ الحسن بن سفيان

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17721

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17722

[ 17500 ] أخبرنا أبو الحسين بن بشران ببغداد أنبأ عبد الصمد بن علي بن محمد بن مكرم ثنا عبيد بن عبد الواحد ثنا يحيى بن بكير ثنا الليث عن عقيل عن بن شهاب قال سمعت أبا سلمة بن عبد الرحمن يقول أخبرني جابر بن عبد الله رضى الله تعالى عنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول فتر الوحي عني فبينما أنا أمشي سمعت صوتا من السماء فرفعت بصري قبل السماء فإذا الملك الذي جاءني بحراء قاعد على كرسي بين السماء والأرض فخشيت منه فرقا حتى هويت إلى الأرض فجئت أهلي فقلت لهم زملوني زملوني فزملوني فأنزل الله عز وجل { يا أيها المدثر قم فأنذر وربك فكبر وثيابك فطهر والرجز فاهجر } قال أبو سلمة والرجز الأوثان قال ثم حمي الوحي بعد وتتابع

17722 – حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نےر سول اللہﷺ سے سنا آپ نے فرمایا: پھر کچھ دیر مجھ سے وحی کا تو قف ہو گیا اور اسی دوران میں ایک بار جا رہا تھا اتنے میں میں نے آسمان سے ایک آواز سنی آنکھ اتھا کر اسمان کی طرف دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ و میرے پا سغار حرام میں آیا تھا آسمان وزمین کے دمریا میں ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں یہ دیکھ کر ڈر گیا کہ میں زمین کی طرف جھکا اور میں گھر کو وٹا اور ان سے کہا : مجھے کمبل اوڑھا دو مجھے کمبل اؤرھا دو کمبل اؤرھا دو پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں اے کپڑا اوڑھنے والے کھڑا ہو جا او رلوگوں کو ڈرا اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر او اپنے کپڑوں کو پاک رکھ او رناپاکی کو چھوڑ دے اور احسان کر کے زیاہد لینے کی خؤاہش نہ کر۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: ← أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← أبو الحسين بن بشران ببغداد أنبأ عبد الصمد بن علي بن محمد بن مكرم

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17722

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17723

[ 17501 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو سهل بشر بن أحمد المهرجاني ثنا داود بن الحسين بن علي بن عقيل هو الخسروجردي ثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث بن سعد حدثني أبي عن جدي أخبرني عقيل بن خالد عن بن شهاب قال سمعت أبا سلمة بن عبد الرحمن يقول أخبرني جابر بن عبد الله رضى الله تعالى عنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول فتر الوحي عني فترة فذكر الحديث بمعناه رواه البخاري في الصحيح عن يحيى بن بكير ورواه مسلم عن عبد الملك بن شعيب

17723 – حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپﷺ سے سنا آپﷺ نے فرمایا: پھر ایک مدت کے لیے مجھ پر وحی کا نزول بند ہو گیا اس کے بعد اوپر ولای حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔

عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبٍ ← يحيى بن بكير ورواه مسلم ← فتر الوحي عني فترة فذكر الحديث بمعناه رواه البخاري في الصحيح ← رَسُولِ اللَّهِ ← جابر بن عبد الله رضى الله تعالى عنه أنه ← أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن شِهَابٍ ← عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، ← جَدِّي، ← أَبِي ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ← داود بن الحسين بن علي بن عقيل هو الخسروجردي ← أبو سهل بشر بن أحمد المهرجاني ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17723

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17724

[ 17502 ] أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي ثنا أبو حامد بن الشرقي إملاء ثنا عبد الرحمن بن بشر بن الحكم ثنا سفيان عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن عروة عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت إن أول ما نزل من القرآن { اقرأ باسم ربك الذي خلق }

17724 - حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ قران مجید میں جس چیز کا پہلے نزول ہو ا وہ ہے ۔

إن أول ما نزل من القرآن اقرأ باسم ربك الذي خلق ← عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← أبو حامد بن الشرقي إملاء ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17724

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17725

[ 17503 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عمرو بن أبي جعفر ثنا عبد الله بن محمد ثنا أبو كريب ثنا أبو أسامة عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن سعيد بن جبير عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما قال لما نزلت هذه الآية وأنذر عشيرتك الأقربين ورهطك منهم المخلصين خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى صعد الصفا فهتف واصباحاه فقالوا من هذا الذي يهتف قالوا محمد قال فاجتمعوا إليه فقال يا بني فلان يا بني فلان يا بني عبد مناف يا بني عبد المطلب أرأيتكم لو أخبرتكم أن خيلا تخرج بسفح هذا الجبل أكنتم مصدقي قالوا ما جربنا عليك كذبا قال فإني نذير لكم بين يدي عذاب شديد قال فقال أبو لهب تبا لك ما جمعتنا إلا لهذا ثم قام فنزلت هذه الآية { تبت يدا أبي لهب } وقد تب كذا قرأ الأعمش إلى آخر السورة رواه البخاري في الصحيح عن يوسف بن موسى عن أبي أسامة ورواه مسلم عن أبي كريب

حضرت ابن عباس فرماتے یں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے اور ان میں سے جو آپﷺ کی مخلص جماعت ہے ان کو بھی تو رسول اکرم ﷺ نکلے اور صفا پر پڑھ کر آپ نے کی ذور دار آواز سے بلایا تو لوگوں نے کہا: یہ کون بلانے والا ہے بعض نے کہا: محمد ابن عباس کہتے ہیں اپﷺ کے پاس تماملوگ جمع ہو گئے تو آپﷺ نے فرمایا: اے بنی فلاں اے بنی فلاں اے بنی عبد مناف اے بنی عبدالمطلب تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں کیوں کہ اس پہار کے دامن سے ایک لشکر آرہا ہے تو کیا تم میری تصفدیق کرو گے انہوں نے کہا ہم نے کبھی بھی آپ کو جھوٹا نہیں پایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک میں تمہیں آنے والے سخت عذاب سے ڈرانے وال اہو ابن عباس فرماتے ہیں کہ ابو لہت نے کہا تو ہلاک ہو جائے کیا اسی کام کے لیے تو نے ہمیں اکٹھا کیا تھا پھر وہ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورہ کو نازل کیا ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گیے او رہو خود بھی ہلاک ہو گیااسی طرح اعمش نے آخر سورہ تک تلاوت کی ۔

بن عباس رضى الله تعالى عنهما ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17725

chevron_left Previous
1…596061…77
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead