Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18348

[ 18128 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر يحيى بن جعفر بن أبي طالب أنبأ زيد بن الحباب العكلي ثنا الحسين بن واقد عن عبد الله بن بريدة عن أبيه قال لما كان يوم خيبر فذكر بعض القصة قال ثم دعا باللواء فدعا عليا رضى الله تعالى عنه وهو يشتكي عينيه فمسحهما ثم دفع إليه اللواء ففتح له فسمعت عبد الله بن بريدة يقول حدثني أبي أنه كان صاحب مرحب

18348 - عبداللہ بن بریدہ اپنے والدسے نقل فرماتے ہیں : جب خیبر کا دن ہوا اس نے قسے کا بعض حصہ ذکر کیا راوی کہتے ہیں پھر آپ ﷺنے جھنڈا منگوایا ااور حضڑت علی کو بلوایا ان کی آنکھیں خراب تھیں آپ ﷺنےا سپر ہاتھ پھیرا پھر حضرت علی کو جھنڈا دیا جن کے ہاتھ پر فتح ہوئی عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے بیان کی اکہ وہ مرحب کا ساتھی تھا۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← أبو بكر يحيى بن جعفر بن أبي طالب أنبأ زيد بن الحباب العكلي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18348

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18349

[ 18129 ] أخبرنا أبو سعد الماليني أنبأ أبو أحمد بن عدي الحافظ أنبأ الساجي وبدر بن الهيثم القاضي قالا ثنا عبد الله بن حسين الأشقر ثنا أبي عن أبي قابوس عن أبيه عن جده عن علي رضى الله تعالى عنه قال جئت النبي صلى الله عليه وسلم برأس مرحب ورواه صالح بن أحمد عن أبيه عن حسين بن حسن الأشقر بمعناه قال الشافعي رحمه الله بارز يوم الخندق علي بن أبي طالب رضى الله تعالى عنه عمرو بن عبد ود

18349 - ابو قابوس اپنے وال سے اور وہ اپنے دادا سے جو حضڑت علی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے پاس مرحب کا سر لے کر آیا۔

حسين بن حسن الأشقر بمعناه ← أَبِيهِ ← جئت النبي برأس مرحب ورواه صالح بن أحمد ← علي -رضي الله تعالى عنه ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي قَابُوسٍ، ← أَبِي ← عبد الله بن حسين الأشقر ← بَدْرُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي ← أبو سعد الماليني أنبأ أبو أحمد بن عدي الحافظ أنبأ الساجي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18349

Daif

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18350

[ 18130 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا يونس بن بكير عن بن إسحاق قال خرج يعني يوم الخندق عمرو بن عبد ود فنادي من يبارز فقام علي رضى الله تعالى عنه وهو مقنع في الحديد فقال أنا لها يا نبي الله فقال إنه عمرو أجلس ونادى عمرو الا رجل وهو يؤنبهم ويقول أين جنتكم التي تزعمون إنه من قتل منكم دخلها أفلا يبرز إلي رجل فقام علي رضى الله تعالى عنه فقال أنا يا رسول الله فقال اجلس ثم نادى الثالثة وذكر شعرا فقام علي فقال يا رسول الله أنا فقال أنه عمرو قال وإن كان عمرو فأذن له رسول الله صلى الله عليه وسلم فمشى إليه حتى أتاه وذكر شعرا فقال له عمرو من أنت قال أنا علي قال بن عبد مناف فقال أنا علي بن أبي طالب فقال غيرك يا بن أخي من أعمامك من هو أسن منك فإني أكره أن أهريق دمك فقال علي رضى الله تعالى عنه لكني والله ما أكره أن أهريق دمك فغضب فنزل وسل سيفه كأنه شعلة نار ثم أقبل نحو علي رضى الله تعالى عنه مغضبا واستقبله علي رضى الله تعالى عنه بدرقته فضربه عمرو في الدرقة فقدها وأثبت فيها السيف وأصاب رأسه فشجه وضربه علي رضى الله تعالى عنه على حبل العاتق فسقط وثار العجاج وسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم التكبير فعرف أن عليا رضى الله تعالى عنه قد قتله

18350 – ابن اسحاق کہتے ہیں : خندق کے دن عمرو بن عبدو نکلا اس نے مقابلہ کی وعوت دی تو حضڑت علی لوہے میں چھٹے ہوئے تھے کہنے لگے اے الہ کے نبی میںا سکا مقابلہ کرتا ہوں آپﷺ نے فرمایا: عمرو ہے بیٹھ جاؤ عمرو نے پھر آواز دی کیا کوئی مرد نہیں ہے وہ ان کو متنبہ کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا تمہاری جنت کہاں ہے جس کا تم گمان کرتے ہو؟ جو تم میں سے قتل کیا گیا وہ اس میں داخل ہو جائے گا کیا کوئی شخس میرا مقابلہ نہیں کرے گا ؟ حضڑت علی کھڑے ہوئے ا رکہا: اے اللہ کے رول میں مقابلہ کرتا ہوں آپﷺ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ پھر تیسری مرتبہ اس نے آواز دی اور اشعار پڑھےتو حضڑت علی کھڑے ہوئے اے اللہ کے رسلو میں مقابلہ کرتا ہوںآپﷺ نے فرمایا: عمرو ہے کہنے لگے:اگر چہ عمرو ہی ہے رسول اللہﷺ نے حضڑت علی کو اجازت دے دی تو وہ چل کر اس کے پاس گئے اور اشعار پرھے عمرو نے پوچھا: تو کون ہے ؟ کہتے ہیں میں علی ہوں اس نے کہا: ابن عبد مناف ؟ کہا: میں علی بن ابی طالب ہوں اس نے کہا: اے بھتیجے کیا تیرے چچاؤں میں سے تیرے علاوہ کوئی بری عمر کا نہیں ہے کیونکہ میں تیرا خون بہانا نا پسند کرتا ہوں حضرت علی کہنے لگے: لیکن اللہ کی قسم مین تجھے قتل کرے میں کراہت محسوس نہیں کرتا وہ غصے سے نیچے اتر پڑا اور اپنی تلوار و سونتا گویا کہ وہ آگ کا شعلہ ہے پھر حضڑت علی کی جانب غصے کی حالت میں ایااور حضڑت علی نے اس کا سامنے اپنی ڈھال کے ذریعے کیا عمرو نے ڈھال پر تلوار ماری تو تلار نے ڈھال کو توڑ ڈالا اور حضرت علی کا سر بھی زخمی ہوا اور حضرت علی نے اسکے کندھے پر تلوار ماری وہ گر پڑا اور اس کی چینخ بلن دہوئی رسول اللہﷺ نے تکبیر کی آواز سنی تو پہچان گئے کہ حضرت علی نے اسکو قتل کر دیا۔

بن إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18350

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18351

[ 18131 ] أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنبأ أبو الفضل محمد بن عبد الله بن خميرويه أنبأ أحمد بن نجدة ثنا الحسن بن الربيع ثنا عبد الله بن المبارك عن سعيد بن يزيد عن أبي شجاع عن يزيد بن أبي حبيب عن علي بن رباح عن عقبة بن عامر الجهني أن عمرو بن العاص وشرحبيل بن حسنة بعثا عقبة بريدا إلى أبي بكر الصديق رضى الله تعالى عنه برأس يناق بطريق الشام فلما قدم على أبي بكر رضى الله تعالى عنه أنكر ذلك فقال له عقبة يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم فإنهم يصنعون ذلك بنا قال أفاستنان بفارس والروم لا يحمل إلي رأس فإنما يكفي الكتاب والخبر

عقبہ بنعامر جہنی فرماتے ہیں کہ عمرو بن عاص اور شرجیل بن حسنہ نے حضرت عتبہ کو ابو بکر کی طرف یناق بطریق شام کا سر دے کر روانہ کیا جب ابو بکر کے پاس سر لایا گیا تو انہوں نے انکار کر دیا عقبہ نے کہا: اے خلیفتہ الرسول وہ ہمارے ساتھ یہ کرتے ہیں ابو بکر نے کہا:ّ کیا تم فارس اور روم کی سنت کو اختیار کرنے والے ہو؟ میری جانب کوئی سر نہ لایا جائے صرف خط ار خبر ہی کافی ہے ۔

عقبة بن عامر الجهني أن عمرو بن العاص ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← أَبِي شُجَاعٍ، ← سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18351

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18352

[ 18132 ] وأخبرنا أبو نصر أنبأ أبو الفضل أنبأ أحمد ثنا الحسن ثنا عبد الله عن بن لهيعة حدثني الحارث بن يزيد عن علي بن رباح قال سمعت معاوية بن خديج يقول هاجرنا على عهد أبي بكر الصديق رضى الله تعالى عنه فبينا نحن عنده إذ طلع المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال إنه قدم علينا برأس يناق البطريق ولم تكن لنا به حاجة إنما هذه سنة العجم

18352 - معاویہ بن خدیج فرماتے ہیں کہ ہم نے ابو بکر کے دو رمیں ہجرت ک ہم ان کے پاس ہی تھے جس وقت وہ منبر پر تشریف فرما ہوئےتو اللہ کی حمدو ثنا بیان کرنے کے بعد کہا کہ ہمارے پاس یناق بطریق کا سر لایا گیا ہے حالانکہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ئہ عجمیوں کا طریقہ ہے ۔

مُعَاوِيَةَ بْنِ خَدِيجٍ، ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، ← بن لهيعة ← عَبْدُ اللَّهِ ← الْحَسَنِ، ← أبو نصر أنبأ أبو الفضل أنبأ أحمد

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18352

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18353

[ 18133 ] قال وحدثنا عبد الله بن المبارك عن معمر عن عبد الكريم الجزري أنه حدثه أن أبا بكر الصديق رضى الله تعالى عنه أتي برأس فقال بغيتم قال وحدثنا عبد الله بن معمر حدثني صاحب لنا عن الزهري قال لم يحمل إلى النبي صلى الله عليه وسلم رأس إلى المدينة قط ولا يوم بدر وحمل إلى أبي بكر رضى الله تعالى عنه فكره ذلك قال وأول من حملت إليه الرؤوس عبد الله بن الزبير

18353 – عبدالکریم جزری فرماتے ہیں کہ حضڑت ابو بکر صدیق کے پاس ایک سرلایا گیا تو فرمانے لگے تم نے سر کشی کی ہے ۔

وأول من حملت إليه الرؤوس عبد الله بن الزبير ← حمل إلى أبي بكر رضى الله تعالى عنه فكره ذلك ← لم يحمل إلى النبي رأس إلى المدينة قط ولا يوم بدر ← الزُّهْرِيِّ، ← صاحب لنا ← عبد الله بن معمر ← بغيتم ← أن أبا بكر الصديق رضى الله تعالى عنه أتي برأس ← عبد الكريم الجزري أنه ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18353

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18354

[ 18134 ] قال الشيخ والذي روى أبو داود في المراسيل عن عبد الله بن الجراح عن حماد بن أسامة عن بشير بن عقبة عن أبي نضرة قال لقي النبي صلى الله عليه وسلم العدو فقال من جاء برأس فله على الله ما تمنى فجاءه رجلان برأس فاختصما فيه فقضى به لأحدهما أخبرناه أبو بكر بن محمد أنبأ أبو الحسين الفسوي ثنا أبو علي اللؤلؤي ثنا أبو داود فذكره فهذا حديث منقطع وفيه إن ثبت تحريض على قتل العدو وليس فيه نقل الرأس من بلاد الشرك إلى بلاد الإسلام

18354 - بشیر بن عقبہ ابو نضرہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ دشمن سے ملے فرمایا جو سر لے کر آئے اس کے لیے وہی چیز ہے جو وہ اللہ سے خواہش کرے د وآدمی ایک سر لے کر آئے اور اس کے بارے میں جھگڑا کیا آپﷺ نے ایک کے لیے فیصلہ کر دیا۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18354

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18355

[ 18135 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب القاضي ثنا محمد بن كثير العبدي أنبأ سفيان عن بن أبي ليلى عن الحكم عن مقسم عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما أن المسلمين أصابوا رجلا من عظماء المشركين فقتلوه فسألوهم أن يشتروه فنهاهم النبي صلى الله عليه وسلم أن يبيعوا جيفة مشرك

حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں : مسلمانوں نے مشرکین کے بڑے آدمیوں میں سے کسی کو پکڑ کر قتل کر دیا مشرکی نے ان سے کہا کہ وہ اس کو فروخت کر دیں نبی ﷺ نے مشرک مرد ار کو فروخت کرنے سے منع کر دیا۔

مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← بن أَبِي لَيْلَى ← محمد بن كثير العبدي أنبأ سفيان ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18355

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18356

[ 18136 ] وأخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنبأ أبو سهل بن زياد القطان ثنا إسحاق بن الحسن الحربي ثنا عفان ثنا حماد بن سلمة أنبأ حجاج عن الحكم عن مقسم عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما أن رجلا من المشركين قتل يوم الأحزاب فبعث المشركون إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ابعث إلينا بجسده ونعطيك اثني عشر ألفا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا خير في جسده ولا في ثمنه

مقسن حضڑت عبداللہ بن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ مشرکین کا ایک آدمی غزوہ احزاب میں قتل کر دیا گیا تو مشرکین نے نبی ﷺکی طرف پیغام بگھیجا کہ اس کا جسم ہمیں واپس کر دیں ہم آپ کو بارہ ہزار دیںگے آپ قنے فرمایا: اس کے جسم اور قیمت میں بھلائی نہیں ہے ۔

مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← حماد بن سلمة أنبأ حجاج ← عَفَّانُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنبأ أبو سهل بن زياد القطان

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18356

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18357

[ 18137 ] أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو ثنا أبو الأصم أنبأ الربيع بن سليمان قال قال الشافعي رحمه الله ولا أعرف ما أقول في أرض السواد إلا ظنا مقرونا إلى علم وذلك أني وجدت أصح حديث يرويه الكوفيون عندهم في السواد ليس فيه بيان ووجدت أحاديث من أحاديثهم تخالفه منها أنهم يقولون السواد صلح ويقولون السواد عنوة ويقولون بعض السواد صلح وبعضه عنوة

امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں صلح والی زمین کے بارے میں کیا ہوں کہ اس میں ظن اور علم دونوں ملے ہوئے ہیں : میں نے صحیح حدث دیکھی ہے جن کو کوفی روایت کرتے ہیں ان میں لفظ سواد کا بیان نہیں ہے لیکن ان کے مخالف حدیث بیان جس میں لفظ سواد کا معنی صلح کیا گیا ہے اور بعض کے نزدیک سواد کا معنی زبر دستی ہے ۔

أبو الأصم أنبأ الربيع بن سليمان ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18357

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18358

[ 18138 ] أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو ثنا أبو العباس الأصم ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا يحيى بن آدم ثنا أبو زبيد عن أشعث عن بن سيرين قال السواد منه صلح ومنه عنوة فما كان منه عنوة فهو للمسلمين وما كان منه صلح فلهم أموالهم

18358 - اشعث ابن سیرین سے نقل فرماتے ہیں کہ سواد کا معنی بعض نے صلھ او ر بعض نے زبر دستی کیا ہے جو چیز زبردستی حاصل ہو وہ مسلمانوں کے لیے او رجہاں پر صلح ہو جائے تو مال انہیں لوگوں کا ہے ۔

بن سِيرِينَ ← أَشْعَثَ، ← أَبُو زُبَيْدٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18358

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18359

[ 18139 ] وبإسناده قال يحيى عن الحسن بن صالح عن منصور عن عبيد أبي الحسن المزني عن عبد الله بن معقل قال لا تباع أرض دون الجبل إلا أرض بني صلوبا وأرض الحيرة فإن لهم عهدا قال الحسن بن صالح كنا نسمع أن ما دون الجبل مما وراءه صلح

18359 - حضرت عبداللہ بنمعقل فرماتے ہیں کہ پہاڑ کے اوپر کوئی زمین نہ خریدی جائے مگر جو بن وصلو با اور حیرہ کی زمین کیونکہ ان کے ساتھ معاہدہ ہے حسن بن صالح کہتے ہیں کہ جو صلح کے بعد ہو ۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18359

chevron_left Previous
1…353637…77
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead