Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18180

[ 17959 ] أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا أبو أحمد بن عبد الوهاب أنبأ جعفر بن عون أنبأ الأعمش عن أبي وائل قال جاءنا كتاب عمر رضى الله تعالى عنه وإذا حاصرتم قصرا فأرادوكم أن ينزلوا على حكم الله فلا تنزلوهم فإنكم لا تدرون ما حكم الله فيهم ولكن أنزلوهم على حكمكم ثم اقضوا فيهم ما أحببتم وإذا قال الرجل للرجل لا تخف فقد أمنه وإذا قال مترس فقد أمنه وإذا قال له أظنه لا تدهل فقد أمنه فإن الله يعلم الألسنة ورواه الثوري عن الأعمش فقال في آخره وإن قال لا تذهل فقد أمنه فإن الله يعلم الألسنة

ابو وائل فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر بن خظاب کا خط آیا کہ جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور ان کا ارادہ ہو کہ تم انہیں الل کے حکم پر اتارو تو ایسا نہ کرنا کیونکہت م نہیں جانتے ان کے بارے میں اللہ کا کیا حکم ہے بلکہ اپنے حک مپر اتارو پھر اپنی مرضی کا ان ے بارے میں فیصلہ کرو اور جب کوئی شخص کسی آدمی سے کہے تو ڈر نہیں۔

أَبِي وَائِلٍ ← أبو أحمد بن عبد الوهاب أنبأ جعفر بن عون أنبأ الأعمش ← أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18180

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18181

[ 17960 ] أخبرناه أبو نصر بن قتادة أنبأ أبو عمرو بن مطر ثنا أبو خليفة ثنا محمد بن كثير ثنا سفيان عن الأعمش عن أبي وائل قال جاء كتاب عمر رضى الله تعالى عنه ونحن محاصرون قصرا فذكره بمعناه

18181 – ابو وائل فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضڑت عمر کاخط ایا جس وقت ہم ایک قلعے کا محاصرہ کے ہوئے تھے ۔

جاء كتاب عمر رضى الله تعالى عنه ونحن محاصرون قصرا فذكره بمعناه ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أبو نصر بن قتادة أنبأ أبو عمرو بن مطر

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18181

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18182

[ 17961 ] حدثنا أبو عبد الله الحافظ لفظا وأبو سعيد بن أبي عمرو قراءة عليه قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا هلال بن العلاء الرقي ثنا عبد الله بن جعفر ثنا المعتمر بن سليمان ثنا سعيد بن عبيد الله ثنا بكر بن عبد الله المزني وزياد بن جبير عن جبير بن حية قال بعث عمر رضى الله تعالى عنه الناس من أفناء الأمصار يقاتلون المشركين قال فبينما عمر رضى الله تعالى عنه كذلك إذ أتي برجل من المشركين من أهل الأهواز قد أسر فلما أتي به قال بعض الناس للهرمزان أيسرك أن لا تقتل قال نعم وما هو قال إذا قربوك من أمير المؤنين فكلمك فقل إني أفرق أن أكلمك فيقول لا تفرق فإن أراد قتلك فقل إني في أمان إنك قلت لا تفرق قال فحفظها الرجل فلما أتي به عمر رضى الله تعالى عنه قال له في بعض ما يسائله عنه إني افرق يعني فقال لا تفرق قال فلما فرغ من كلامه ساءله عما شاء الله ثم قال له إني قاتلك قال فقال فقد أمنتني فقال ويحك ما أمنتك قال قلت لا تفرق قال صدق إما لا فأسلم قال نعم فأسلم ثم ذكر الحديث بطوله

18182 – جبیر بن حیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نبے لوگوں کو مختلف شہروں میں مشرتکین سے جہاد کے لیے بھیجا راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر کے پاس اہل اہواز میں سے کسی مشرک آدمی کو قیدی بنا کر بلایا جاتا تو بعض لوگوں نے ہر مزان سے کہا: کیا اپ کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ آپ قتل نہ کریں اس نے کہا: وہ کیسے ؟ کہا: جب وہ تجھے امیر المومنین کے قری کریں اور وہ تمسے بات کرنا چاہیں تو تم کہنا میں تنہائی میں آپہ سے بات کروں گا پھر اگر وہ تجھے قتل کرنا چاہیں تو کہہ دینا میں امام میں ہوں وہ لاتفرق کہہ دیں گے اس شخص نے یہ بات یاد کر لیپھر جب اسے حضرت عم رکے پاس لایا گ یا تو اس نے سولاات کا جواب دینے کے لیے تنہائی کا مطالبہ کر دیا آپ نے فرمایا: پھر جب اس سے گفتگو کر کے فارغ ہوئت تو انہیں گرانی محسوس ہوئی اور فرمایا: میں تجھے قتل کرنا چاہتا ہوں اس نے کہا: آپ نے مجھے امان دی ہے ۔

جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ وَزِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ ← سَعِيدَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18182

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18183

[ 17962 ] أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ الربيع بن سليمان أنبأ الشافعي أنبأ الثقفي عن حميد عن أنس بن مالك رضى الله تعالى عنه قال حاصرنا تستر فنزل الهرمزان على حكم عمر رضى الله تعالى عنه فقدمت به على عمر رضى الله تعالى عنه فلما انتهينا إليه قال له عمر رضى الله تعالى عنه تكلم قال كلام حي أو كلام ميت قال تكلم لا بأس قال إنا وإياكم معاشر العرب ما خلى الله بيننا وبينكم كنا نتعبدكم ونقتلكم ونغصبكم فلما كان الله معكم لم يكن لنا يدان فقال عمر رضى الله تعالى عنه ما تقول فقلت يا أمير المؤمنين تركت بعدي عدوا كثيرا وشوكة شديدة فإن قتلته يأيس القوم من الحياة ويكون أشد لشوكتهم فقال عمر رضى الله تعالى عنه أستحيي قاتل البراء بن مالك ومجزأة بن ثور فلما خشيت أن يقتله قلت ليس إلى قتله سبيل قد قلت له تكلم لا بأس فقال عمر رضى الله تعالى عنه ارتشيت وأصبت منه فقال والله ما ارتشيت ولا أصبت منه قال لتأتيني على ما شهدت به بغيرك أو لأبدأن بعقوبتك قال فخرجت فلقيت الزبير بن العوام رضى الله تعالى عنه فشهد معي وأمسك عمر رضى الله تعالى عنه وأسلم يعني الهرمزان وفرض له

18183 - حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں: ہم نے تستر کا محاصرہ کیا ہر مزان حضرت عمر کے پر نیچے اترا میں اسے حضرت عم رکے پاس لے کر چلا جب ہم اپ کے پاس پہنچے تو عمر نے فرمایا: بات کرو اس نے پوچھا: زندہ والی بات کروں یا مردہ والی؟ حضرت عمر نے فرمایا: بات کرو کوئی حرج نہیں اس نے کہا: ہم اور آپ عرب کے قبائلی ہیں ہمارے او ر تمہارے درمیان اللہ نے کوئی علیحدگی نہیں رکگی ہم تمہاری عبادت کرتے تھے اور انہیں قتل کرے تھے اور تمہارا مال غصب کرتے تھے پھر جب اللہ تمہارے ساتھ ہو لیہا تو ہمارے دونوں ہاتھ نہ رہے حضڑت عم رنے فرمایا: کیا کہہ دے ہو؟ میں نے کہا: اے امیر المومنین میںنے اپنے بعد بہت زیاہد دشمن اور سخت شورش چھوڑی ہے اگر آپ اسے قتل کر دیں گے تو لوگ زندگی سے مایوس ہو جائیں گے اور ان کی شورش میں اضافہ ہو جائے گا حجرت عم رنے رمایا:مجھے برا د بن مالک اور مجر دبن ثور کے قتل سے حیاہپ آتی ہے جب میں نے خؤف مھوس کیا کہ وہ اسے قتل ہی کریں گے تو می نے کہا: آپ کے لیے اس قتل کرےگا کوئی جواز نہیں ہے آپ اسے کہہ چکے ہیں بات کرو کوئی حرج نہیں۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، ← حُمَيْدٍ ← أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ الربيع بن سليمان أنبأ الشافعي أنبأ الثقفي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18183

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18184

[ 17963 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه ثنا محمد بن أيوب أخبرني أبو الوليد ثنا شعبة أنبأني سعد بن إبراهيم قال سمعت أبا أمامة بن سهل بن حنيف يحدث عن أبي سعيد الخدري رضى الله تعالى عنه أن أهل قريظة نزلوا على حكم سعد فأرسل إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء فقال قوموا إلى سيدكم أو خيركم فقعد عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال إن هؤلاء قد نزلوا على حكمك قال فإني أحكم أن تقتل مقاتلتهم رواه البخاري في الصحيح عن أبي الوليد وأخرجه مسلم من حديث شعبة

ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں ہ بطنوقریظہ والوں نے سعد کو فیصلہپ مانا رسول اللہﷺ نےاس کی جانب پیغام بھیجا وہ آئے آپﷺ نے فرمایا: اپنے سر دار یا اپنے بطہتر انسان کی جانب اٹھو تو حضرت سعد رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھ گئے آپﷺ نے فرمایا:سعد یہ تیرے فیصلے پر راضی ہوئے ہیں تو ا سنے کہا کہ میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان کے جنگجوؤں کو قتل کیا جائے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ ← أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18184

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18185

[ 17964 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن سلمة وعبد الله بن محمد قالا ثنا محمد بن رافع والحسين بن منصور قالا ثنا عبد الله بن نمير ثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت أصيب سعد يوم الخندق رماه رجل من قريش يقال له حبان بن العرقة رماه في الأكحل فضرب عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم خيمة في المسجد ليعوده من قريب فلما رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم من الخندق ووضع السلاح واغتسل أتاه جبريل عليه السلام وهو ينفض رأسه من الغبار فقال قد وضعت السلاح والله ما وضعناها اخرج إليهم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فأين قال ههنا وأشار إلى بني قريظة فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إليهم فنزلوا على حكم رسول الله صلى الله عليه وسلم فرد الحكم فيهم إلى سعد قال فإني أحكم فيهم أن تقتل المقاتلة وتسبى الذرية وتقسم أموالهم قال أبي فأخبرت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لقد حكمت فيهم بحكم الله رواه البخاري في الصحيح عن زكريا بن يحيى ورواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة وغيره كلهم عن بن نمير

18185 – ہشام بن عروہ اپنے والدسے نقل فرماتے ہیں کہ حضڑت عائشہ فرماتی ہیں کہ خندق کے دن حضڑت سعد کو زخم لگا جو حبان بن عرقہ قریشی نے لگایا تھا اس نے رگ حیات پر تیر مارا تو رسول اللہﷺ نے سعد کے لے مسجد میں خیمہ لگوایا تاکہ قریب سے اس کی تیمار داری کر سکیں جب رسول اللہﷺ غزوہ خندق سے واپس آئے اور اپنے ہتھیار اتار دیے اور غسل کر لیا اس وتق جبرائیل میں اپنےسر سے غبار کو جھاڑتے ہوئے آئے کہتے ہیں آپﷺ نے اسحلہ اتار دی اہم نے اللہ کی قسم اسلحہ نہیں اتارا آپ ان کی جان نکلیے آپ نے پوچھا کہاں؟ جبرائیل کہتے ہیں: وہاں اور بنو قریظہ کی جانب اشارہ کیا رسول اللہﷺ ان کی جانب گئے تو وہ رسول اللہﷺ کے حکم پر اتر پڑے تو آپﷺ نے فیصلہ حضرت سعد کی جانب منتقل کر دیا حضرت سعد نے کہا: ان کے بارے میں میرا فیصلہ یہ ہے کہ لڑائی کرنے والوں کق تل کی اجائے بچوں کو قیدی بنا یا جائے اور ان کے مالوں کو تقسیم کیا جائے ۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← محمد بن رافع والحسين بن منصور ← أحمد بن سلمة وعبد الله بن محمد ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18185

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18186

[ 17965 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله الصفار ثنا أحمد بن مهران ثنا عبيد الله بن موسى ثنا سفيان ح وأخبرنا أبو عبد الله ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا يحيى بن آدم ثنا سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا بعث أميرا على جيش أوصاه بتقوى الله في خاصة نفسه وبمن معه من المسلمين خيرا وذكر الحديث قال وإذا حاصرت أهل حصن فأرادوك أن تنزلهم على حكم الله فلا تنزلهم فإنك لا تدري أتصيب حكم الله أم لا زاد فيه وكيع عن سفيان ولكن أنزلوهم على حكمكم ثم اقضوا فيهم بعد ما شئتم

18186 - سلیمنا بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب کسی کو لشکر کا امیر بناتے تو اسے خآص طور پر اللہ کے تقویٰ کی اور مومنوں کے ساتھگ بھلائی کی نصیحت فرماتے آپ ﷺنے فرمایا: جب آپ کسی قلعہ والؤں کا محاصرہ کریں اگر وہ چاہیں کہ آپ ان کو اللہ کے حکم پر اتاریں تو آپ ایسا نہپ کریں آپ نہیں جانتے کہ آپ اللہ کے حکم کو پا سکیں گے یا نہیں۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18186

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18187

[ 17966 ] أخبرنا أبو علي الروذباري أنبأ أبو بكر بن داسه ثنا أبو داود ثنا محمد بن سليمان الأنباري ثنا وكيع عن سفيان فذكره أخرجه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم عن يحيى بن آدم وأخرجه من حديث وكيع وروينا في ذلك عن عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه في الباب قبله

18187 –

عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه في الباب قبله ← يحيى بن آدم وأخرجه من حديث وكيع وروينا في ذلك ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← سفيان فذكره أخرجه مسلم في الصحيح ← وَكِيعٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو علي الروذباري أنبأ أبو بكر بن داسه

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18187

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18188

[ 17967 ] أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنبأ عبد الله بن جعفر بن أحمد ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا عبد العزيز بن أبي سلمة ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أحمد بن جعفر القطيعي ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا حجين بن المثنى ثنا عبد العزيز بن أبي سلمة عن عبد الله بن الفضل عن سليمان بن يسار عن جعفر بن عمرو الضمري قال خرجت مع عبيد الله بن عدي بن الخيار إلى الشام فلما قدمنا حمص قال لي عبيد الله هل لك في وحشي نسأله عن قتل حمزة وقال أبو داود في روايته عن عبدا لعزيز ثنا عبد الله بن الفضل الهاشمي عن سليمان بن يسار عن عبيد الله بن عدي بن الخيار كذا في كتاب قال أقبلنا من الروم فلما قربنا من حمص قلنا لو مررنا بوحشي فسألناه عن قتل حمزة فلقينا رجلا فذكرنا ذلك له فقال هو رجل قد غلب عليه الخمر فإن أدركتماه وهو صاح لم تسألاه عن شيء إلا أخبركما وإن أدركتماه شاربا فلا تسألاه فانطلقنا حتى انتهينا إليه قد ألقي له شيء على بابه وهو جالس صاح فقال بن الخيار قلت نعم قال ما رأيتك منذ حملتك إلي أمك بذي طوى إذ وضعتك فرأيت قدميك فعرفتهما قال قلت جئناك نسألك عن قتل حمزة قال سأحدثكما كما حدثت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ سألني كنت عبدا لآل مطعم فقال لي بن أخي مطعم إن أنت قتلت حمزة بعمي فأنت حر فانطلقت يوم أحد معي حربتي وأنا رجل من الحبشة ألعب بها لعبهم فخرجت يومئذ ما أريد أن أقتل أحدا ولا أقاتله إلا حمزة فخرجت فإذا أنا بحمزة كأنه بعير أورق ما يرفع له أحد إلا قمعه بالسيف فهبته وبادرني إليه رجل من بني ولد سباع فسمعت حمزة يقول إلي يا بن مقطعة البظور فشد عليه فقتله وجعلت ألوذ منه فلذت منه بشجرة ومعي حربتي حتى إذا استمكنت منه هززت الحربة حتى رضيت منها ثم أرسلتها فوقعت بين ثندوتيه ونهز ليقوم فلم يستطع فقتلته ثم أخذت حربتي ما قتلت أحدا ولا قاتلته فلما جئت عتقت فلما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم أردت الهرب منه أريد الشام فأتاني رجل فقال ويحك يا وحشي والله ما يأتي محمدا أحد يشهد بشهادته إلا خلى عنه فانطلقت فما شعر بي إلا وأنا واقف على رأسه أشهد بشهادة الحق فقا لك اوحشي قلت وحشي قال ويحد حدثني عن قتل حمزة فأنسأت أحدثه كما حدثتكما فقال ويحك يا وحشي غيب عني وجهك فلا أراك فكنت أتقي أن يراني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقبض الله نبيه صلى الله عليه وسلم فلما كان من أمر مسيلمة ما كان ثم انبعث إليه البعث ابتعثت معه وأخذت حربتي فالتقينا فبادرته أنا ورجل من الأنصار فربك اعلم أينا قتله فإن كنت أنا قتلته فقد قتلت خير الناس وشر الناس قال سليمان بن يسار سمعت بن عمر يقول كنت في الجيش يومئذ فسمعت قائلا يقول في مسيلمة قتله العبد الأسود لفظ حديث أبي داود وحديث حجين بمعناه يزيد وينقص لم يذكر حديث الشرب ولا قوله إن كنت قتلته وقد أخرجه البخاري في الصحيح عن أبي جعفر محمد بن عبد الله عن حجين بن المثنى

جعفر بن عمرہ ضمری فرماتے ہیں:ّ میں عبید اللہ بن عدی بن خیار کے ساتھ ہشام کی جانب گیا جب ہم حمص پہنچےتو مجھے عبید اللہ نے کہا : کیا ہم وحشی سے حضرت حمزہ کے قتل کے بارے میں پوچھیں سلیمان ب یسار عبید اللہ بنعدی خیار سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم روم سے آئے جب ہم حمص کے قریب پہنچے تو ہم نے کہپا: اگر ہم و حشی کے پاس سے گزرے تو حضرت حمزہ کے قتل کے بارے میں اس سے سوال کریں گے ہماری ملاقات ایج شخص سے ہوئی ہم نے اس کے سامنے تذکرہ کی اتو اس نے کہا کہ وہ ایسا شخس ہے کہ جب ہم اس کے پاس پہنچے تو دروازے کے سامنے اسکے لیے کوئی چیز بچگھائئی گئی تھی جس پر وہ بیٹھا چینخ رہا تھا ۔

جعفر بن عمرو الضمري ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أحمد بن جعفر القطيعي ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنبا عبد الله بن جعفر بن أحمد

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18188

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18189

[ 17968 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن محمد وإبراهيم بن أبي طالب وزكريا بن داود الخفاف قالوا ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا حجاج عن بن جريج أخبرني يعلى بن مسلم عن سعيد بن جبير أنه سمعه يحدث عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما أن ناسا من أهل الشرك قتلوا فأكثروا وزنوا فأكثروا ثم أتوا محمدا صلى الله عليه وسلم فقالوا إن الذي تقول وتدعو إليه لحسن ولو تخبرنا أن لما عملنا كفارة فنزلت الذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون ونزلت يا عبادي الذي أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله الآية رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن حاتم وغيره عن حجاج بن محمد وأخرجه البخاري من وجه آخر عن بن جريج

18189 - حضرت عبداللہ بن عبا س فرماتے ہیں کہ مشرک لوگوں نے قتل و زنا زیادہ کیا پھر محمد ﷺ سے آکر کہنے لگے کہ آپ میرے کیے ہوئے اعمال کا کفارہ بتائیں تو یہ آیت نازل ہوئی وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو نہیں پکارت7ے اور کسی جان کو قتل نہیں کرتے مگر حق کے ساتھ او رنہ ی وہ زنا کرتے ہیں۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يَعْلَی بْنِ مُسْلِمٍ ← بن جُرَيْجٍ ← حجاج، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← زكريا بن داود الخفاف، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18189

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18190

[ 17969 ] أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنبأ جدي يحيى بن منصور القاضي ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن منصور وغيره قالوا ثنا أبو عاصم أنبأ حيوة بن شريح أخبرني يزيد بن أبي حبيب عن بن شماسة المهري قال حضرنا عمرو بن العاص رضى الله تعالى عنه وهو في سياقه الموت فذكر الحديث قال فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبايعه على الإسلام فقلت ابسط يمينك أبايعك يا رسول الله فبسط يده فقبضت يدي فقال ما لك يا عمرو قلت أردت أن أشترط قال تشترط ماذا قلت أشترط أن يغفر لي قال أما علمت يا عمرو أن الإسلام يهدم ما كان قبله وذكر الحديث رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن منصور

18190 - ابن شماسہ مصری فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمرو بن عاص کی موت کے وتق ان کے پاس حآضر ہوئے فرماتے ہیں: میں رسول اللہﷺ کے پاس اسلام پر بیعت کے لیے حاضر ہوا میں نے کہا: ہاتھ نکالیے اے اللہ کے رسول ! میں بیعت کرنا چاہتا ہوں آپﷺ نے ہاتھ پھیلایا تو میں نے پاتھ پیچھے کر لیا آپﷺ نے پوچھا اے عمرو کیا بات ہے ؟ میں نے کہا: میں شرط کرنا چاہتا ہوں آپﷺ نے فرمایا: شرط کرو کیا ہے ؟ میں نے کہا: میری شرط یہ ہے کہ مجھے معاف کر دیا جائے گا اپﷺنے فرمایا: اے عمرو کیا تو جانتا نہیں ہے کہ اسلام پہلے تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے ۔

الْحَدِيثَ. ← حضرنا عمرو بن العاص رضى الله تعالى عنه وهو في سياقه الموت ← بن شماسة المهري ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← أبو عاصم أنبأ حيوة بن شريح ← إسحاق بن منصور وغيره، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنبا جدي يحيى بن منصور القاضي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18190

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18191

[ 17970 ] حدثنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عبد الله محمد بن العباس ثنا أبو العباس الدغولي ثنا محمد بن عبد الكريم ثنا الهيثم بن عدي ثنا أسامة بن زيد عن القاسم بن محمد قال رمي عبد الله بن أبي بكر رضى الله تعالى عنهما بسهم يوم الطائف فانتقضت به بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بأربعين ليلة فمات فذكر قصته قال فقدم عليه وفد ثقيف ولم يزل ذلك السهم عنده فأخرج إليهم فقال هل يعرف هذا السهم منكم أحد فقال سعيد بن عبيد أخو بني العجلان هذا سهم أنا بريته ورشته وعقبته وأنا رميت به فقال أبو بكر رضي الله عنه فإن هذا السهم الذي قتل عبد الله بن أبي بكر فالحمد لله الذي أكرمه بيدك ولم يهنك بيده فإنه أوسع لكما

18191 - قاسم بن محمد فرمات ےہیں کہ عبداللہ بن ابو بکر کو طائف کے دن تیر لگ گیا تو وہ رسول اللہﷺ کی وفات کے چالیس دن بعد فوت ہو گئے اس نے قسہ ذکر کیا کہ ان کے پاس ثقیف کا وفد آیا یہ تیران کے پاس ہی تھا وفد کے سامنے تیر کو پیش کیا او رکہنے لگے : تم میں سے کوئی اس تیر کو پہچانتا ہے ؟ تو بنو عجلان کے سعید بن عبید نے کہا: یہ تیر میں نے ا تراشا تھا او رمیں نے ہی پھینکا تھا تو ابو بکر فرمانے کگے: اس تیر نے عبداللہ ب ابو بکر کو قتل کیا تھا تمام تعریفیں اس ذات کی جس نے تیرے ہاتھ کے ذریعے اسے عزت دی ارا س کے ہاتھ کے ذریعے تجھے رسوا نہیں کیا کیونکہ وہ تم دونوں کو گھیرنے والا ہے ۔

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ← أبو العباس الدغولي، ← أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18191

chevron_left Previous
1…212223…77
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer25. Group reading doors26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead