Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب سجود السهو وسجود الشكر · حديث 3929

[ 3745 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أخبرنا أبو المثنى ثنا أبي ونصر بن علي وبندار قالوا ثنا معدى بن سليمان ثنا شعيب بن مطير عن أبيه قال وأبوه مطير حاضر حين حدثني بهذا الحديث قال قال له يا أبت حدثني إن ذا اليدين لقيك بذي خشب فحدثك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى بهم إحدى صلاتي العشي وهى العصر ركعتين ثم سلم فذكر الحديث وقال فيه فصلى بهم ركعتين ثم سلم ثم سجد وقد قال بعض الرواة في حديث أبي هريرة فقال ذو الشمالين يا رسول الله أقصرت الصلاة أم نسيت وشيخا الصحيحين البخاري ومسلم لم يصححا شيئا من تلك الروايات لما فيها من هذا الوهم الظاهر وكان شيخنا أبو عبد الله الحافظ رحمه الله يقول كل من قال ذلك فقد أخطأ فإن ذا الشمالين تقدم موته ولم يعقب وليس له راو

3929 - معدی بن سلیمان بیان کرتے ہیں کہ شعیث بن مطیر نے اپنے والد سے ہمیں یہ حدیث بیان کی کہ ان کا باپ مطیر اس وقت موجود تھا جب اس نے یہ حدیث مجھے بیان کی کہ اس نے اپنے والد سے کہا: اے ابو جان ! آپ نے مجھے حدیث بیان کی تھی کہ ذوالیدین آپﷺ کو ذی خثیب مقام میں ملا تاھ اور اس نے آپ کو حدیث بیا ن کی تھی کہ رسول اللہﷺ نے انہیں زوال آفتاب کی نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی تھی وہ عصر کی نماز تھی اور دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا ۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی ۔ اس می یہ بھی ہے کہ رسول اللہﷺ نے بعد میں انہی دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا پھر سہو کے سجدے کیے۔

إن ذا اليدين لقيك بذي خشب فحدثك ← له يا أبت ← بِهَذَا الْحَدِيثِ ← وأبوه مطير حاضر حين ← أَبِيهِ ← شعيب بن مطير ← مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أبي ونصر بن علي وبندار ← أَبُو الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving · Hadith 3929

Daif

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب سجود السهو وسجود الشكر · حديث 3930

[ 3746 ] أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أخبرنا عبد الله بن جعفر بن أحمد ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا شعبة عن خبيب بن عبد الرحمن قال سمعت حفص بن عاصم يحدث عن أبي سعيد بن المعلي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في المسجد وأنا أصلى فدعانى قال فصليت ثم جئت فقال ما منعك أن تجيبنى حين دعوتك أما سمعت الله يقول { يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم } لأعلمنك أعظم سورة في القرآن قبل أن أخرج من المسجد قال فمشيت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى كدنا أن نبلغ باب المسجد فقلت نسي فذكرته فقلت يا رسول الله إنك قلت كذا وكذا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم الحمد لله رب العالمين السبع المثاني والقرآن العظيم الذي أوتيته

3930 - ابو سعید بن معلیٰ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ مسجد میں موجود تھے او رمیں نماز پرھ رہا تھا تو آپﷺ نے مجھے بلایا ۔ میں نما زپرھنے کے بعد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپﷺ نے فرمایا: تجھے کس چیز نے منع کیا کہ جب میں نے تجھے بلایا تو تم نہیں آئے ؟ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیسں ان کہ اے ایمان والو ! اللہ اور رسول اللہ کی بات پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشی ہے ۔ میں ضرورتمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قران میں سب سے عظیم سورت سکھاؤں گا ۔ میں رسول اللہق کے ستاھ ساترھ چلتا رہا کہ ہم دروازت کے قریب پہنچنے والے تھے تو میں نے دل میں کہا کہ آپﷺ بھول گئے ہو گے تو میں نے آپﷺ کو یاد دلایا میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے فلاں بات کہی تھی تو رسول اللہق نے فرمایا: تمام اتعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا رب ہے پھر سوۃ فاتحہ مکم پڑھی اور فرمایا: یہ وہی سبیع مثانی اور قران عظیم ہے جو مجھے دی گئی ۔

أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving · Hadith 3930

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب سجود السهو وسجود الشكر · حديث 3931

[ 3747 ]أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببخارا أخبرنا صالح بن محمد الحافظ ثنا عبيد الله بن عمرو الجشمي ثنا يحيى بن سعيد القطان ثنا شعبة فذكر الحديث بنحوه إلا أنه قال في إسناده عن عن وقال دعوتك فلم تجبنى قال كنت أصلي قال فذكر معناه رواه البخاري في الصحيح عن مسدد عن يحيى القطان وفي هذا دلالة على أن جواب أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم حين سألهم عما يقول ذو اليدين لم يبطل صلاتهم مع ما روينا عن حماد بن زيد في تلك القصة أنهم أومئوا

3931 – ایک دوسری سندسے یہی حدیث منقول ہے ۔ مگر اس میں الفاظ اس طرح ہیں : یعنی اس کے معنی میں روایت بیان کی ۔ اس بات میں اس چیز کی دلیل ہے کہ صحابہ کا رسول اللہﷺ کو جواب دینا جب آپﷺ نے ان سے ذوالیدین کے بارے میں پوچھا تھا کہ وہ کیا کہ رہا ہے ؟ تو یہ جواب دینے سے ان کی نماز باطل ن ہوہ گی اس لیے کہ حماد بن زید سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ انہوں نے اس قصہ میں فرمایا کہ صحابہ نے اشارہ کیا تھا ۔

الحديث بنحوه إلا ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْجُشَمِيُّ، ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ ← أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببخارا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving · Hadith 3931

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب سجود السهو وسجود الشكر · حديث 3932

[ 3748 ]أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى المزكي أخبرنا أبو عبد الله أحمد بن على الجوزجاني ثنا أبو عبيدة بن أبي السفر ح وأخبرنا أبو عمرو الأديب أخبرنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني عبد الله بن زيدان ومحمد بن إبراهيم بن محمد بن خالد أبو جعفر القماط الكوفيان قالا ثنا أبو عبيدة بن أبي السفر قال سمعت إبراهيم بن يوسف بن أبي إسحاق عن أبيه عن أبي إسحاق عن البراء قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم خالد بن الوليد إلى أهل اليمن يدعوهم إلى الإسلام فلم يجيبوه ثم أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث علي بن أبي طالب وأمره أن يقفل خالدا ومن كان معه إلا رجلا ممن كان مع خالد أحب أن يعقب مع علي رضى الله تعالى عنه فليعقب معه قال البراء فكنت ممن عقب معه فلما دنونا من القوم خرجوا إلينا فصلى بنا علي رضى الله تعالى عنه وصفنا صفا واحدا ثم تقدم بين أيدينا فقرأ عليهم كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فأسلمت همدان جميعا فكتب علي رضى الله تعالى عنه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بإسلامهم فلما قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم الكتاب خر ساجدا ثم رفع رأسه فقال السلام على همدان السلام على همدان أخرج البخاري صدر هذا الحديث عن أحمد بن عثمان عن شريح بن مسلمة عن إبراهيم بن يوسف فلم يسبقه بتمامه وسجود الشكر في تمام الحديث صحيح على شرطه

سیدنا براء بیان فرماتے ہیں: نبی ﷺ نے خالد بن ولید کو اہل یمن کی طرف بھیجا کہ وہ انہیںآ سلام کی دعوت دیں تو انہوں نے دعوت کو قبول نہ کیا۔ پھر نبی ﷺ نے علی بن ابی طالب کو بھیجا اور انہوں نے حکم دیا کہ خالد کو واپس بھیج دیں اور ان کے ساتھ والوں کو بھی سوائے اس شخص کے جو خالد کے ساتھ ہو اور وہ علی کے ساتھ بھی ملنا پسند کرے تو اس کو ساتھ ملا لو ۔ برا ء فرماتے ہیں: میں ا لوگوں میں سے تھا جو علی کے لشکر میں شامل ہو گئے جب ہم لوگوں کے قریب پہنچنے لگے تو وہ ہماری طرف نکل آئے ۔ سیدن اعلی نے ہمیں نماز پڑھائی اور ہم نے ایک ہی صف بنائی ۔ پھر سیدن اعلی ہمارے درمیان سے آگے نکلے اور ان لوگوں کو رسول اللہ کا خط پڑھ کر سنایا۔ ہمدان تو سارے کے سارے اسلام لے آئے ۔ حضرت علی نےر سول اللہﷺ کی طرف ان کے اسلام لانے کی لکھ بھیجی ۔ جب رسول اللہﷺ نے خود پڑھا تو اللہ کے حضود سجدہ ریز ہو گئے ۔ پھر سجدے سے سر اٹھا کر فرمایا : ہمدان پر سلام ہو ہمدان پر سلام ہو ۔ اس حڈیث کا ابتدائی حصہ امام بخاری نے روایت کیا ہے ۔ پوری روایت مذکور نہیں ہے اور سجدہ شکر تمام حدیث میں اپنی شرائط پر صحیح ہے ۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ← محمد بن إبراهيم بن محمد بن خالد أبو جعفر القماط الكوفيان ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ ← أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ← أبو عبد الله أحمد بن على الجوزجاني ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving · Hadith 3932

Daif

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب سجود السهو وسجود الشكر · حديث 3933

[ 3749 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرنا أبو بكر بن إسحاق أخبرنا عبيد بن عبد الواحد ثنا يحيى بن بكير ثنا الليث عن عقيل عن بن شهاب عن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك أن عبد الله بن كعب قائد كعب حين عمى من بيته قال سمعت كعب بن مالك يحدث حديثه حين تخلف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك فذكر الحديث بطوله إلى أن قال حتى كملت لنا خمسون ليلة من حين نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كلامنا فلما صليت صلاة الفجر صبح خمسين ليلة وأنا على ظهر بيت من بيوتنا فبينما أنا جالس على الحال التي ذكر الله منا قد ضاقت علي نفسي وضاقت علي الأرض بما رحبت سمعت صوت صارخ أوفي على جبل سلع يا كعب بن مالك أبشر قال فخررت ساجدا وعرفت أنه قد جاء الفرج وآذن رسول الله صلى الله عليه وسلم بتوبة الله علينا حين صلى صلاة الفجر فذهب الناس يبشروننا وذهب قبل صاحبي مبشرون وركض رجل إلى فرحا وسعى ساع من أسلم فأوفي على الجبل فكان الصوت أسرع إلى من الفرس فلما جاءني الذي سمعت صوته يبشرني نزعت ثوبي فكسوتهما إياه ببشراه والله ما أملك غيرهما يومئذ واستعرت ثوبين فلبستهما فانطلقت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وذكر الحديث رواه البخاري في الصحيح عن يحيى بن بكير وأخرجه مسلم من وجه آخر عن الليث

3933 – عبدالرحمٰن بن عبدا للہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ سیدن اعبداللہ بن کعب فرماتے ہیں : میں نے کعب بن مالک سے ان کا رسول اللہﷺ سے غزوہ تبوک میں پیچھے رہنے والا واقعہ سنا وہ طویل حدیث بیا ن کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب سے رسول اللہﷺ نے ہمارا بائیکاٹ کروایا تھا اس وتق سے اب تک پچاس دن پورے ہو گئے ۔ پچاسویں رات کی صبح جب میں نے فجر کی نماز پڑھی اور میں اہنے کسی گھر کی چھگت پر تھا اور ایسی حالت یں بیٹھا تاھ جس کا اللہ نے ہمارےبارے میں ذکر کیا کہ اپنی جان ابھی تنگ پڑ گئی کہ میں نے ایک پکارنے والے کو سنا جس کی آواز سلع پہاڑ تک سنائی دے رہی تھی کہ اے کعب بن مالک ! تجھے وشخبری ہو۔ میں وہیں سجدہ ریز ہو گیا اور میں سمجھ گیا کہ میرے لیے خلاصی آچکی ہے اور رسول اللہﷺ نے نماز کے بعد ہماری توبہ کی قبولیت کا اعلان کیا ہو گا ۔ لوگ ہمیں خوشخبریاں دینے لگے اور میرے دو ساتھیوں کی طرف بھی گئے میرے پاس ایک شخص خوشخبری لے کر پہنچا ۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص کوشش کر کے پہاڑ پر پہنچا اور گھورے کی آواز سے بھی تیز آواز آرہی تھی ۔ جب وہ شخص جس کی بزارت کی آواز میں سن چکا تھا میرے پاس آیا تو میں نے اپنے کپرے جو پہنے ہوئے تھ دونوں اتار کر اس خوشخبری سنا نے والے کو پہنا دیے ۔اللہ کی قسم ! اس دن میں ا ن دو کپڑوں کے علاوہ کسی چیز کا مالک نہ تھا پھر میں عارضی طور ہر کسی سے دو کپرے لیے انہیں پہن کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا او مکمل حدیث ذکر کی ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving · Hadith 3933

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب سجود السهو وسجود الشكر · حديث 3934

[ 3750 ]أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تميم القنطري ببغداد ثنا أبو قلابة الرقاشي ثنا أبو عاصم قال وحدثني محمد بن صالح بن هانئ ثنا السري بن خزيمة ثنا أبو سلمة موسى بن إسماعيل ح قال وحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه ثنا أحمد بن علي الخزاز ثنا خالد بن خداش قالوا كلهم حدثنا بكار بن عبد العزيز بن أبي بكرة عن أبيه عن أبي بكرة رضى الله تعالى عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا آتاه أمر يسره أو سربه خر ساجدا شكرا لله عز وجل ورواه أبو داود في السنن عن محمد بن خالد عن أبي عاصم

3934 - حضرت ابو بکر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جب کوئی خؤشخبری آتی یا آپ کو کوئی خوشی ملتی تو اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے ۔

خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلاَبَةَ الرَّقَاشِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving · Hadith 3934

Daif

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب سجود السهو وسجود الشكر · حديث 3935

[ 3751 ]وأخبرنا أبو علي الروذباري أخبرنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا أحمد بن صالح ثنا بن أبي فديك حدثني موسى بن يعقوب عن بن عثمان قال أبو داود وهو يحيى بن الحسن بن عثمان عن أشعث بن إسحاق بن سعد عن عامر بن سعد عن أبيه قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من مكة نريد المدينة فلما كان قريبا من عزور نزل ثم رفع يديه فدعا الله ساعة ثم خر ساجدا فمكث طويلا ثم قام فرفع يديه ساعة ثم خر ساجدا ذكره أحمد ثلاثا قال إني سألت ربي وشفعت لأمتي فأعطاني ثلث أمتي فخررت لربي ساجدا شكرا ثم رفعت رأسي فسألت ربي لأمتي فأعطاني ثلث أمتي فخررت ساجدا لربي شكرا ثم قمت فسألت ربي لأمتي فأعطاني الثلث الآخر فخررت ساجدا لربي عز وجل قال أبو داود رحمه الله أشعث بن إسحاق أسقطه أحمد بن صالح حين حدثنا بعد فحدثني به عنه موسى بن سهل الرملي

3935 – عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہی کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ مکہ سے مدین ہ وک جا رہے تھے ۔ جب آپ عزور مقام پرپہنچے تو سواری سے نیچے اترے اور اپنے ہاتھو ں کو اٹھا کر بار گاہ میں چکھ دیرت دعا دمنا جات کی ۔ پھر سھدے میں گر پرے اور کافی دیر تک سجدے میں رہے پھر کھرے ہو کر اپنے ہاتھ کچھ دیر کے لیے اٹھائے ۔ اس کے بعد پھر سجدہ ریز ہو گئے ۔ احمد نے اس کو تین بار ذکر کیا ہے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے سوال کیا ہے ار اپنی امت کے لیے سفارش کی ہے تو اللہ نے ایکتہائی امت کے حق میں سفارش قبول کی میں پھر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو گیا جب میں نے سر اٹھایا اور اللہ سے اپنی امت کے لیے شفاعت کی درخواست کی تو اللہ نے پھر ایک تہائی امت دے دی ۔ میں پھر اپنے رب کے حضور سجدے میں گر گیا۔

بن عثمان ← مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، ← بن أبي فديك ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving · Hadith 3935

Daif

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب سجود السهو وسجود الشكر · حديث 3936

[ 3752 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو طاهر الفقيه وأبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي وأبو سعيد بن أبو عمرو قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أخبرنا أبي وشعيب بن الليث قالا أخبرنا الليث عن بن الهاد عن عمرو يعني بن أبي عمرو عن عبد الرحمن بن الحويرث عن محمد بن جبير عن عبد الرحمن بن عوف قال دخلت المسجد فرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم خارجا من المسجد فاتبعته أمشي وراءه ولا يشعر بي حتى دخل نخلا فاستقبل القبلة فسجد فأطال السجود وأنا وراءه حتى ظننت أن الله تعالى توفاه فأقبلت أمشي حتى جئته فطأطأت رأسي أنظر في وجهه فرفع رأسه فقال مالك يا عبد الرحمن فقلت لما أطلت السجود يا رسول الله خشيت أن يكون الله قد توفي في نفسك فجئت أنظر فقال أني لما رأيتني دخلت النخل لقيت جبرائيل عليه السلام فقال أبشرك أن الله تعالى يقول من سلم عليك سلمت عليه ومن صلى عليك صليت عليه

3936 – عبدالرحمٰن بن عوف بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد سے باہر نکل رہے ہیں تو میں آپ ﷺ کے پیچھے چلنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ کو میرا پتہ نہ چلا کہ آپﷺ کھجور وں کے باغ میں داخل ہو گئے ۔ آپﷺ نے قبلہ رخ ہو کر سجدہ کیا اور بہت لمبا سجدہ کیا اور میں آپﷺ کے پیچھے کھڑا تھا ۔ کپ میں نے سمجھا شاید اللہ تعالیٰ نے آپق کی روح قبض کر لی ہو ۔ میں چلتا ہوا آپ کے پا س آگیا۔ میں نے اپنے سر کو جھکایا اور آپﷺ کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا ۔ آپ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: اے عبدالرحمٰن! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! آپ نے جب سجدے کو لمبا کیا تو مجھے خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں اللہ نے آپﷺ کو فوت نہ کر دیا ہو تو میں دیکھنے آیا تھا ۔آپﷺ نے فرمایا: جب تو نے مجھے باغ مین داخل ہوتے دیکھا اس وقت میں جبریل سے ملا انہوں نے کہا: میں آپﷺ کو خسبری سناتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جو آپﷺ پر سلام بھیجتا ہے میںآ س پر سلامتی بھیجتا ہوں اور جو آپﷺ پر درود پڑھتا ہے میں اس پر رحمت بھیجتا ہوں۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عبد الرحمن بن الحويرث ← عمرو يعني بن أبي عمرو ← بْنِ الْهَادِ ← اللَّيْثُ ← أَبِي وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو سعيد بن أبو عمرو ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving · Hadith 3936

Daif

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب سجود السهو وسجود الشكر · حديث 3937

[ 3753 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني ثنا جدي ثنا إسماعيل بن أبي أويس ثنا سليمان بن بلال حدثني عمرو بن أبي عمرو عن عاصم بن عمر بن قتادة عن عبد الواحد بن محمد بن عبد الرحمن بن عوف عن عبد الرحمن بن عوف أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إني لقيت جبرائيل عليه السلام فبشرني وقال أن ربك يقول لك من صلى عليك صليت عليه ومن سلم عليك سلمت عليه فسجدت لله شكرا وفي الباب عن جابر بن عبد الله وجرير بن عبد الله بن عمر وأنس بن مالك وأبي جحيفة عن النبي صلى الله عليه وسلم وفيما ذكرنا كفاية عن رواية الضعفاء

3937 - عبدالرحمٰن بن عوف سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں : میں جبریل کو ملا انہوں نے مجھے بشارت دیتے ہوئے فرمایا کہ آپﷺ کا پروردگار فرماتا ہے : جو آپﷺ پر درود بھیجتا ہے میں اس پر رحمت نازل کرتا ہوں اور جو آپ ﷺ پر سلام بھیجتا ہے میں اس پر سلام بھیجتا ہوں تو میں نے اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لایا۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving · Hadith 3937

Daif

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب سجود السهو وسجود الشكر · حديث 3938

[ 3754 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو سعيد بن أبو عمرو قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أسيد بن عاصم ثنا الحسين بن حفص عن سفيان قال حدثني جابر عن محمد بن علي قال رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا نغاشيا يقال له زنيم قصير فخر النبي صلى الله عليه وسلم ساجدا ثم قال أسأل الله العافية وهذا منقطع ورواية جابر الجعفي ولكن له شاهد من وجه آخر

3938 - محمد بن علی بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ایک چھوٹے قد والے آدمی دیکھا جسے چھوٹا سا کان کٹا کہا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ اللہ کے حضور سجدہ میں گر گئے پھر فرمایا: میں اللہ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔

محمد بن علي ← جَابِرٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو سعيد بن أبو عمرو ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving · Hadith 3938

Daif

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب سجود السهو وسجود الشكر · حديث 3939

[ 3755 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أخبرنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا محمد بن العباس ثنا داود بن رشيد ثنا حفص بن غياث عن مسعر عن محمد بن عبيد الله عن عرفجة أن النبي صلى الله عليه وسلم أبصر رجلا به زمانة فسجد قال محمد بن عبيد الله وأن أبا بكر رضى الله تعالى عنه آتاه فتح فسجد وأن عمر رضى الله تعالى عنه آتاه فتح وأبصر رجلا به زمانة فسجد ويقال هذا عرفجة السلمي ولا يرون له صحبة فيكون مرسلا شاهدا لما تقدم وقيل عن مسعر عن أبي عون محمد بن عبيد الله عن يحيى بن الجزار عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا ثم عنه عن أبي بكر وعمر رضى الله تعالى عنهما

3939 - عرفج بیا ن کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو پاہج تھا تو آپ سجدے میں گر گئے ۔ محمد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ابو بکر کے پاس جب فتح کی خوشخبری آتی تو سجدہ رکرتے ۔ عمر کے پاس اتی تو وہ بھی سجدہ کرتے یا کسی اپاہج یا معذور کو دیکھتے تو سجدہ کرتے ۔

عَرْفَجَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ← مِسْعَرٍ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving · Hadith 3939

Daif

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب سجود السهو وسجود الشكر · حديث 3940

[ 3756 ] أخبرنا أبو زكريا بن المزكي أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب أخبرنا جعفر بن عون أخبرنا مسعر عن أبي عون عن رجل أن أبا بكر رضى الله تعالى عنه لما آتاه فتح اليمامة سجد

3940 - ایک شخص سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر کے پاس یمامہ کی فتح کی وشبری آئی تو انہوں نے سجدہ کیا ۔

أَبِي عَوْنٍ، ← مِسْعَرٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو زكريا بن المزكي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving · Hadith 3940

Daif

chevron_left Previous
1…10111213
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer25. Group reading doors26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead