Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ جماع أبواب ما خص به رسول الله صلى الله عليه وسلم دون غيره مما أبيح له وحظر على غيره · حديث 13746

[ 13524 ] أخبرنا أبو الحسن بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد ثنا عياش السكري ثنا إبراهيم بن الحجاج ثنا حماد عن عمار بن أبي عمار عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما فيما يحسب حماد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر خديجة بنت خويلد وكان أبوها يرغب عن أن يزوجه فصنعت طعاما وشرابا فدعت أباها ونفرا من قريش فطعموا وشربوا حتى ثملوا فقالت خديجة رضى الله تعالى عنها لأبيها إن محمدا يخطبني فزوجه فزوجها إياه فخلقته وألبسته حلة وكانوا يصنعون بالآباء إذا زوجوا بناتهم فلما سري عنه السكر نظر فإذا هو مخلق عليه حلة فقال ما شأني قالت زوجتني محمد بن عبد الله فقال أنا أزوج يتيم أبي طالب فقال لا لعمري فقالت خديجة أما تستحي تريد أن تسفه نفسك عند قريش تخبر الناس أنك كنت سكران فلم تزل به حتى أقر

عمار بن ابی عمار حضرت عبداللہ بن عباس سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے خدیجہ بنت خویلد کا تذکرہ کیا لیکن ان کے والد آپ سے ان کی شادی کرنے سے بے رغبت تھے حضرت خدیجہ نے کھانے پینے کا اہتمام کیا اور اپنے والد اور قریبیوں کے ایک گروہ کو دعوت دی جب انہوں نے کھا پی لیااور مد ہو ش ہو گئے تو حضرت خدیجہ نے اپنے والد سے کہا: محمد ب عبداللہ نے مجھے شادی کا پیغا دیا ہے آپ میری شادی کر دیں تو ان کے والد نے آپﷺ سے شادی کر دی تو حضرت خدیجہ نے اپنے وادل کو خؤشبو لگائی علتہ پہنایا یہ اس وقت کرتے تھے جب والد اپنے بیٹیوں کی شادی کرتےت ھے جب ان کے والد سے نشہ کی کیفیت ختم ہوئی تو اس نے اپنے اوپ رخوشبودار حلہ کو دیکھا تو کہنے لگے میری یہ کیا حالت ہے ؟ تو حضرت خدیجہ کہنے لگی: آپ نے میری شادی محمد بن عبداللہ سے کر دی ہے اس نے کہا : میں ابو طالب کے یتیم سے شادی کروں گا نہیں میریر عمر کی قسم ! حضرت خدیجہ فرمانے لگیں: کیا آپ کو اس بات سے حیا نہیں اتی کہ آپ قریشیوں کے نزدیک بے وقوف ٹھہریں کہ آ پ لوگوں کو اس بات کی خبر دیں کہ آپ نشہ کی حالت میں تھے وہ یہی بات بار بار ان کو کہتی رہیں یہاں تک کہ انہوں نے اقرار کر لیا۔

بن عباس رضى الله تعالى عنهما فيما يحسب حماد ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← عياش السكري ← أبو الحسن بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › Intercourse with the chapters on what the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, singled out for, excluding others, which were permitted for him and forbidden for others · Hadith 13746

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ جماع أبواب ما خص به رسول الله صلى الله عليه وسلم دون غيره مما أبيح له وحظر على غيره · حديث 13747

[ 13525 ] أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنبأ عبد الله بن جعفر بن درستويه ثنا يعقوب بن سفيان حدثني إبراهيم بن المنذر حدثني عمرو بن أبي بكر المؤملي حدثني عبد الله بن أبي عبيدة بن محمد بن عمار بن ياسر عن أبيه عن مقسم أبي القاسم مولى عبد الله بن الحارث بن نوفل أن عبد الله بن الحارث حدثه أن عمار بن ياسر ذكر قصة تزويج خديحة رضى الله تعالى عنها فذكرت أنها كلمت أخاه فكلم أباه وقد سقي خمرا فذكر له رسول الله صلى الله عليه وسلم ومكانه وسأله أن يزوجه خديجة فزوجه خديجة ونام ثم استيقظ صاحيا فأنكر أن يكون زوجه فقال أين صاحبكم الذي تزعمون أني زوجته فبرز له النبي صلى الله عليه وسلم فلما نظر إليه قال إن كنت زوجته فسبيل ذلك وإن لم أكن فعلت فقد زوجته وروينا عن الزهري أن النبي صلى الله عليه وسلم تزوج خديجة في الجاهلية وأنكحه إياها أبوها خويلد بن أسد

13747 – حضرت عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر نے حضرت خدیجہ کی شادی کا قصہ ذکر کیا کہ حضرت خدیجہ نے اپنے بھائی سے بات کی اور انہوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے شراب پی رکھی تھی اس نے رسول اللہﷺ اور آپ کے مرتبہ کا تذکرہ کیا اور حضرت خدیجہ کی شادی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے حضرت خدیجہ کی شادی کر دی پھر سوئے پوئے اٹھے اور چینخ رہے تھے اور حضرت خدیجہ کی شادی سے انکار رکر دیا۔

مقسم أبي القاسم مولى عبد الله بن الحارث بن نوفل ← أَبِيهِ ← عبد الله بن أبي عبيدة بن محمد بن عمار بن ياسر ← عمرو بن أبي بكر المؤملي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← أبو الحسين بن الفضل القطان أنبأ عبد الله بن جعفر بن درستويه

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › Intercourse with the chapters on what the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, singled out for, excluding others, which were permitted for him and forbidden for others · Hadith 13747

Daif

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ جماع أبواب ما خص به رسول الله صلى الله عليه وسلم دون غيره مما أبيح له وحظر على غيره · حديث 13748

[ 13526 ] وأخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن محمد بن داود الرزاز ببغداد أنبأ أبو سهل بن زياد القطان ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا عبد الله بن إدريس الأودي عن محمد بن عمرو عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب قال قالت عائشة رضى الله تعالى عنها لما ماتت خديجة بنت خويلد رضى الله تعالى عنها جاءت خولة بنت حكيم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ألا تزوج قال ومن قالت إن شئت بكرا وإن شئت ثيبا قال ومن البكر ومن الثيب قالت أما البكر فابنة أحب خلق الله إليك عائشة بنت أبي بكر وأما الثيب فسودة بنت زمعة قد آمنت بك واتبعتك قال فاذكريهما لي قالت فأتت أم رومان فقالت يا أم رومان ماذا أدخل الله عليكم من الخير والبركة قالت وما ذاك قالت رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر عائشة قالت انتظري فإن أبا بكر آت فجاء أبو بكر رضى الله تعالى عنه فذكرت ذلك له فقال أو تصلح له وهي ابنة أخيه قالت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أنا أخوه وهو أخي وابنته تصلح لي فذكر الحديث إلى أن قال فقال لها أبو بكر رضى الله تعالى عنه قولي لرسول الله صلى الله عليه وسلم فليأت قال فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فملكها قالت خولة ثم انطلقت إلى سودة وأبوها شيخ كبير قد جلس عن المواسم فحييته بتحية أهل الجاهلية فقلت أنعم صباحا قال من أنت قلت خولة بنت حكيم قالت فرحب بي وقال ما شاء الله أن يقول قالت قلت محمد بن عبد الله بن عبد المطلب يذكر سودة بنت زمعة فقال كفو كريم ماذا تقول صاحبتك قلت نعم تحب قال فقولي له فليأت قالت فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فملكها وقدم عبد بن زمعة فجعل يحثو على رأسه التراب أن تزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم سودة وذكر باقي الحديث

13748 - یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے فرمایا: جب خدیجہ بنت خویلد ہو گئی تو خولہ بن تحکیم رسول اللہﷺ ے پاس آئیاور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول! آپ شادی نہ کریں گے ؟ آپﷺ نے پوچھا کس سے ؟ کہنے لگی کنواری سے چاہو یا بیوہ سے !آپﷺ نے پوچھا: کنواری کون ؟ اور بیوہ کون ؟ خولہ بنت حکیم کہنے لگی کہ کنواری تو عائشہ بنت ابی بکر جو اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب بیٹی ہے اور بیوہ حضرت سودہ بنت زمعہ جس نے ایمان قبول کرنے کے بعد آپ کی پیروی بھی کی ہے آپﷺ نے فرمایا: ان کے پاس میرا تذکرہ کرنا خولہ بنت حکیم کہتی ہیں وہ ام رومان کے پاس آئیں اور کہا: اے ام رومان اللہ نے تمہارے گھر میں خیر و برکت کو داخُل کر دیا ہے ام رومان نے پوچھا: وہ کیا؟ خولہ بنت حکیم کہنے لگیں کہ رسول اللہﷺنے حضرت عائشہ کا تذکرہ کیا ہے ام رومان کہنے لگیں ڈر انتظارکو ابو بکر ابھی آجاتے ہیںآ تنی دیر میں ابو بکر بھی تشریف لے آئے تو ام رومان نے اسبات کا تذکرہ ابو بکر سے کی احضرت ابوبکر فرمانے لگے کیا یہ ان کے لہے درست ہے یہ ان کے بھائی کی بیٹی ہے خولہ بن تحکیم فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں اس کا بھائی وہمیرے بھائیی لیکن اس کی بیٹی سے نکاح درست ہے اس نے حدیث کو ذکر کیا کہ حضرت ابو بکر نے خولہ حکیم سے کہا کہ آپ رسول اللہﷺ سے کہیں کہ آپ آجائیں راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے آکر نکاح کر لیا پھ حضڑت خولہ بنت حکم کہتی ہیں کہ میں حضڑت سودہ بنت زمعہ کے پاس گئی ان کے والد بوڑھے آدمی تھے وہ کام کاج سے فارغ بیٹھے تھے حضرت کولہ فرماتی ہی کہ میں نے جاہلیت والا سلام کہا تو انہوں نت کہا: تو اچھی صبح کرے وہ کہنے لگے : آپ کون / میں نے کہا: خولہ بنت حکیم تو انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور کہا: جو اللہ چاہے کہو کہتی ہیں میں نے کہا کہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب سودہ بنت زمعہ کا تذکرہ کرتے ہپیں وہ کہنے لگے: اچھا کفو ہے آپ اس کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں ! وہ پسند کرتی ہیں کہنے لگے : جاؤ ان سے کہہ دینا اجائیں خولہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے حضرت سودہ سے نکاح ک رلیا جب عبد بن زمعہ آیا تو اس نے اپنے سر پر خاک ڈالنا شروع کی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے سودہ سے نکاح کر لیا باقی حدیث کو بھی اس نے ذکر کیا ہے ۔

يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › Intercourse with the chapters on what the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, singled out for, excluding others, which were permitted for him and forbidden for others · Hadith 13748

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ جماع أبواب ما خص به رسول الله صلى الله عليه وسلم دون غيره مما أبيح له وحظر على غيره · حديث 13749

[ 13527 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا أبو اليمان الحكم بن نافع أن شعيب بن أبي حمزة أخبره عن الزهري ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو سعيد بن أبي عمرو قال أبو عبد الله أخبرني وقال أبو سعيد ثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني أنبأ علي بن محمد بن عيسى ثنا أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري أخبرني سالم بن عبد الله أنه سمع عبد الله بن عمر يحدث أن عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه حين تأيمت حفصة بنت عمر من خنيس بن حذافة السهمي وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قد شهد بدرا فتوفي بالمدينة قال عمر فلقيت عثمان بن عفان فعرضت عليه حفصة فقلت إن شئت أنكحتك حفصة بنت عمر فقال سأنظر في أمري فلبثت ليالي ثم لقيني فقال قد بدا لي أن لا أتزوج يومي هذا قال عمر فلقيت أبا بكر الصديق فقلت إن شئت أنكحتك حفصة بنت عمر فصمت أبو بكر ولم يرجع إلي شيئا فكنت عليه أوجد مني على عثمان فلبثت ليالي ثم خطبها إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم فأنكحتها إياه فلقيني أبو بكر فقال لعلك وجدت علي حين عرضت علي حفصة فلم أرجع إليك شيئا قال فقلت نعم قال فإنه لم يمنعني أن أرجع إليك فيما عرضت علي إلا أني قد كنت علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد ذكر حفصة فلم أكن لأفشي سر رسول الله صلى الله عليه وسلم ولو تركها رسول الله صلى الله عليه وسلم قبلتها رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان

13749 – حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کی بیٹی حضرت حفصہ بنت عمر جب بیوہ ہوئیں بن حذافہ سہی جو رسول اللہﷺ کے صحابی اور بدری تھے مدینہ میں ان کی وفات کی وجہ سے حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بنعان پر اپنی بیٹی کو پیش کیا میں نے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح حفصہ بنت عمر سے کر دوں حضرت عثمان بن عفان نے کپا: میں اپنے معاملہ میں سوچ و بچا کر لوں حضرت عمر فرماتے ہیں: میں چند دن ٹھہرا رہا پھر عثمان بن عفان کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہہ دیا کہ میں آج کے د شادی نہ کروں گا حضرت عمر فرماتے ہیں: میں نے حضرت ابو بکر صدیق سے ملاقات کی اور کہا: اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح حفصہ بنت عمر سے کر دوں حضرت ابو بکر خاموش ہو گئے مجھے کچھ جواب نہ دیا میں نے حضرت عثمان بن عفان سے بڑھ کر اپنے اندر غم پایا چند دونں کے بعد مبی ﷺ نے نکاح کا پیغا دیا میں نے آپ ﷺ سے ان کا نکاح کر دیا تو اب وبکر ملے اور فرمانے لگے آپ کو پریشانی ہوتی ہو گی جب آپ نے حجرت حٖوسہ کو نکاح کے لیے میرے اوپر پیش کیا ااو رمیں نے کچھ بھی جواب نہ دیا حضرت عمر فرمانے لگے: ہاں تو حضرت ابو بکر فرمانے لگے : مجھے کسی چیز نے بھی جواب سے نہ روکا تھا جب آپ نے نکاھ کے لیے کہا: البتہ میں یہ جانتا تھا کہر سول اللہﷺ نے حضرت حفسہ کا تذکرہ کیا تھا لیکن میں

أَبُو الْيَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › Intercourse with the chapters on what the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, singled out for, excluding others, which were permitted for him and forbidden for others · Hadith 13749

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ جماع أبواب ما خص به رسول الله صلى الله عليه وسلم دون غيره مما أبيح له وحظر على غيره · حديث 13750

[ 13528 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن يزيد العدل ثنا إبراهيم بن أبي طالب ثنا بن أبي عمر ثنا عبد الوهاب الثقفي عن يونس عن الحسن عن معقل بن يسار ح وأخبرنا أبو عمرو الأديب ثنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني بن ناجية وعمران قالا ثنا وهب بن بقية أنا خالد عن يونس عن الحسن إن معقل بن يسار زوج أخته رجلا فطلقها تطليقة فبانت منه ثم جاء يخطبها فأبى عليه وقال أفرشتك كريمتي ثم طلقتها ثم جئت تخطبها لا والله لا أزوجكها وكانت المرأة قد هويت أن تراجعه فأنزل الله تعالى { وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن } إلى آخر الآية قال معقل نعم أزوجكها لفظ حديث خالد رواه البخاري رحمه الله في الصحيح عن محمد بن عبد الوهاب

حضرت حسن فرماتے ہیں کہ معقل بن یسار نے اپنی بہن کا نکاح ایک آدمی سے کر دیا ا سنے طلاق دی جس کی وجہ سے وہ اس سے جدا ہو گئی پھر اس آدمی نے معقل کی بہن کو پیغام نکاح دیا تو معقل بن یسار نے انکار کر دیا اور کہنے لگے : میں نے تجھے اپنی عزت کا بستر عطا کا پھر تو نے طلاق دے دی اب پھر نکاح کا پیغام لے کر آیا ہے اللہ کی قسم اب میں تیرا نکاح نہ کروں گا۔

الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← بن ناجية وعمران ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ ← مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← بن أبي عمر ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › Intercourse with the chapters on what the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, singled out for, excluding others, which were permitted for him and forbidden for others · Hadith 13750

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ جماع أبواب ما خص به رسول الله صلى الله عليه وسلم دون غيره مما أبيح له وحظر على غيره · حديث 13751

[ 13529 ] أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد بن زياد العدل أنبأ محمد بن إسحاق ثنا سلم بن جنادة ثنا وكيع عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضى الله تعالى عنها وما يتلى عليكم في الكتاب في يتامى النساء اللاتي لا تؤتونهن ما كتب لهن وترغبون أن تنكحوهن قالت هذه اليتيمة تكون عند الرجل هو وليها لعلها تكون شريكته في ماله وهو أولى بها فيرغب عنها أن ينكحها ويعضلها لما لها فلا ينكحها غيره كراهية أن يشركه أحد في ماله رواه البخاري في الصحيح عن يحيى عن وكيع وأخرجه مسلم من أوجه عن هشام

ہشام بن روہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ سے نقل فرماتے ہیں : اور جو یتیم بچیوں کے بارے میں تم پر کتاب میں بڑھا جاتا ے کہ وہ یتیم بچیاں تم ان کو ان کے مقرر کر دہ حق مہر ادا نہیں کرتے اور تم ان سے نکاح کے بارے میں تم پر کتاب می بڑھا جاتا کہ وہ یتیم بچیاں تم ان کو ان کے مقرر کردہ حق مہر ادا نہیں لرتے اور تم ان سے نکاح کی رغبت رکھتے ہو۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › Intercourse with the chapters on what the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, singled out for, excluding others, which were permitted for him and forbidden for others · Hadith 13751

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ جماع أبواب ما خص به رسول الله صلى الله عليه وسلم دون غيره مما أبيح له وحظر على غيره · حديث 13752

[ 13530 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمرو ثنا سعيد بن مسعود ثنا يزيد بن هارون أنبأ حماد بن سلمة ح وأخبرنا أبو بكر بن الحارث الفقيه أنبأ أبو محمد بن حيان الأصبهاني أنبأ أبو يعلى الموصلي ثنا إبراهيم بن الحجاج السامي ثنا حماد بن سلمة عن ثابت البناني حدثني بن عمر بن أبي سلمة عن أبيه عن أم سلمة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من أصابته مصيبة فليقل إنا لله وإن إليه راجعون اللهم عندك أحتسب مصيبتي فأجرني فيها وأبدلني بها خيرا منها فلما مات أبو سلمة قلتها فجعلت كلما طلبت أبدلني بها خيرا منها قلت في نفسي ومن خير من أبي سلمة ثم قلتها فلما انقضت عدتها بعث إليها رسول الله صلى الله عليه وسلم عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه يخطبها عليه فقالت لابنها يا عمر قم فزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم فزوجه لفظ حديث أبي عبد الله وليس في رواية الأصبهاني ذكر عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه ولا ذكر العدة ولكن قال قالت فخطبني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت إنه ليس أحد من أوليائي شاهد قال إنه ليس أحد منهم شاهد ولا غائب إلا سيرضى به فقلت يا عمر قم فزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم قال الشيخ رحمه الله وعمر بن أبي سلمة كان عصبة لها وذاك لأن أم سلمة هي هند بنت أبي أمية بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم وعمر هو بن أبي سلمة وأبو سلمة أسمه عبدان بن عبد الأسد بن هلال بن عبد الله بن عمر بن مخزوم

عمر بن سلمہ اپنے والد سے اور وہ ام سلمہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس کو مصیبت پہنچے وہ اناللہ وانالیہ راجعون پڑھے اے اللہ ! میں انی مصیبت پر تیری جانب سے صبر کی توفیق چاہتی ہوں اس مصیبت میں مجھے اجر دے اور مجھے اس سے اچھا نعم البدل عطا فرما جب ابو سلمہ فوت ہوئے تو میں نے یہ کلمات کہنے شروع کر دیے لیکن جب بھی میں ان کے نعم البدل کا تذکرہ کرتی تو اپنے دل میں سوچتی کہ ابو سلمہ سے بہتر کون ہوگا پھر میں یہ کلمات کہتی رہی جب عدت مکمل ہوگئی تو نبی ﷺ نے حضرت عمر بن خ ظاب کو پیغا نکاح دے کر بھیجا تو ام سلمہ نے اپنے بیٹے سے کہا: اے عمر ! کھڑے ہو جاؤ آپ رسول اللہﷺ کا نکاح کردیں تو انہوں نے آپ کا نکاح کر دیا۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › Intercourse with the chapters on what the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, singled out for, excluding others, which were permitted for him and forbidden for others · Hadith 13752

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ جماع أبواب ما خص به رسول الله صلى الله عليه وسلم دون غيره مما أبيح له وحظر على غيره · حديث 13753

[ 13531 ] أخبرنا بذلك أبو الحسين بن الفضل القطان أنبأ عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا الحجاج بن أبي منيع حدثني جدي عن الزهري فذكره وسمعت أبا بكر الأردستاني يقول سمعت أبا نصر الكلاباذي الحافظ رحمه الله يقول عمر بن أبي سلمة توفي النبي صلى الله عليه وسلم وهو بن تسع سنين ومات في خلافة عبد الملك بن مروان

13753 – حافظ ابو نصر کا باذی فرماتے ہیں کہ عمر بن ابی سلمہ نو سال کے تھے جب نبی ﷺ فوت ہوئے اور عمر بن ابی سلمہ عبدالملط بن مروان کی خلافت میں فوت ہوئے ۔

أبا نصر الكلاباذي الحافظ ← أبا بكر الأردستاني ← الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَهُ، ← جَدِّي، ← الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي مَنِيعٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← بذلك أبو الحسين بن الفضل القطان أنبأ عبد الله بن جعفر

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › Intercourse with the chapters on what the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, singled out for, excluding others, which were permitted for him and forbidden for others · Hadith 13753

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ جماع أبواب ما خص به رسول الله صلى الله عليه وسلم دون غيره مما أبيح له وحظر على غيره · حديث 13754

[ 13532 ] وأخبرنا أبو الحسين بن بشران أنبأ أبو جعفر الرزاز ثنا أحمد بن الخليل ثنا الواقدي ثنا عمر بن عثمان المخزومي عن سلمة بن عبد الله بن سلمة بن أبي سلمة عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم خطب أم سلمة قال مري ابنك أن يزوجك أو قال زوجها ابنها وهو يومئذ صغير لم يبلغ قال الشيخ رحمه الله وكان للنبي صلى الله عليه وسلم في باب النكاح ما لم يكن لغيره

13754 – سلمہ بن عبداللہ بن سلمہ بن ابی سلمہ اپنے والد سے اور وہ دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ام سلمہ کو نکاح کا پیغام دیا فرمایا: اپنے بیٹے کو حکم دے کہ وہ تیرا نکاح کر دے یا فرمایا : اس کے بیٹے نے نکاح کر دیا وہ ابھی بالغ بھی نہ ہوئے تھے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سلمة بن عبد الله بن سلمة بن أبي سلمة ← عمر بن عثمان المخزومي ← الْوَاقِدِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ← وأخبرنا أبو الحسين بن بشران أنبأ أبو جعفر الرزاز

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › Intercourse with the chapters on what the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, singled out for, excluding others, which were permitted for him and forbidden for others · Hadith 13754

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ جماع أبواب ما خص به رسول الله صلى الله عليه وسلم دون غيره مما أبيح له وحظر على غيره · حديث 13755

[ 13533 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن حمشاذ العدل ثنا علي بن عبد العزيز ثنا مسلم بن إبراهيم وحجاج بن منهال قالا ثنا حماد بن سلمة عن ثابت وإسماعيل بن عبد الله بن أبي طلحة عن أنس أن أبا طلحة خطب أم سليم فقالت يا أبا طلحة ألست تعلم أن إلهك الذي تعبد خشبة تنبت من الأرض نجرها حبشي بني فلان إن أنت أسلمت لم أرد منك من الصداق غيره قال حتى أنظر في أمري قال فذهب ثم جاء فقال أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت يا أنس زوج أبا طلحة قال الشيخ رحمه الله وأنس بن مالك ابنها وعصبتها فإنه أنس بن مالك بن النضر بن ضمضم بن زيد بن حرام من بني عدي بن النجار وأم سليم هي ابنة ملحان بن خالد بن يزيد والله تعالى أعلم

13755 - حضرت انس فرماتے ہیں کہ ابو طلحہ نے ام سلیم کو نکاح کا پیغام دا تو ام سلیم کہنے لگی: اے ابو طلحہ کیا تو جانتا نہیں س اللہ کی تو عبادت کرتا ہے وہ لکڑی کا ہے جو زمین سے اگتی ہے اس کو حبش بن فلاں نے بنایا اگر آپ اسلام قبول رک لیہں تو میں اسکے علاوہ آپ سے حق مہر کا مطالبہ نہ کروں گی ابو طلحہ کہتے ہیں: میہں نے سوچ بیچار کی راوی کہتے ہیں او طلحہ چلے گئے پھر دوبارہ ائے تو کہنے لگے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ ام سلیم نے کہا: اے انس ابو طلحہ کا نکاح کر دو۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › Intercourse with the chapters on what the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, singled out for, excluding others, which were permitted for him and forbidden for others · Hadith 13755

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ جماع أبواب ما خص به رسول الله صلى الله عليه وسلم دون غيره مما أبيح له وحظر على غيره · حديث 13756

[ 13534 ] أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أخبرني أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا جرير ح وأخبرنا أبو عبد الله ثنا أبو بكر بن إسحاق ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم أنبأ جرير ثنا هشام عن أبيه عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت كاتبت بريرة على نفسها تسعة أواق في كل سنة أوقية فأتت عائشة تستعينها فقالت لا إلا أن يشاءوا أن أعدها لهم عدة واحدة ويكون الولاء لي فذهبت بريرة فكلمت في ذلك أهلها فأبوا عليها إلا أن يكون الولاء لهم فجاءت إلى عائشة رضى الله تعالى عنها أو جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك فقالت لها ما قال أهلها فقالت لاها الله إذا إلا أن يكون الولاء لي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ابتاعيها واشترطي لهم الولاء واعتقيها فإن الولاء لمن أعتق ثم قام فخطب الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال ما بال أقوام يشترطون شروطا ليست في كتاب الله يقولون أعتق يا فلان الولاء لي كتاب الله أحق وشرط الله أوثق وكل شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وإن كان مائة شرط قالت وخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم من زوجها وكان عبدا واختارت نفسها قال عروة ولو كان حراما خيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم وفيه دلالة على ما قصدناه بالدلالة وعلى ثبوت الولاء للمعتق وإن لا ولاء لغير المعتق ومن أحكام الولاء ثبوت ولاية النكاح لمن له الولاء عند عدم المناسب والله أعلم وفي اعتبار الكفاءة أحاديث أخر لا تقوم بأكثرها الحجة والله أعلم منها وهو أمثلها ما

ہشام اپنے والد سے اور وہ حضررت عائشہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت بریرہ نے اپنی آزادی کے لیے 9 اوقیوں پر مکاتبت کر لی کہ ایک سال میں ایک اوقیہ ادا کرنا ہے وہ اپنی مدد کے لیے حضرت عائشہ کے پاس آئی تو حضرت عائشہ پر مکاتبت کر لی کہ ایک سال میں ایک اوقیہ ادا کرنا ہے وہ اپنی مدد کے لیے حضرت عائشہ کے پاس آئی تو حضرت عائشہ نے فرمایا: اگر وہ چاہیں ت ومیں آیک ہی مرتبہ قیمت ادا کر دوں گی اور ولاں میری ہو گی حضرت بریرہ نے جا رک اپنئ گھر والوں سے بات کی انہوں نے انکار کر دیا لیکن ولاء کی شرط پر آمادگی ظاہر ی حضرت بریرہ حضرت عائشہ کے پاس آئی اور وہاں رسول اللہﷺ بھی آگئے تو بریرہ نے حضرت عائشہ کو وہ بات آکر کہہ دی تو حضرت عائشہ نے فرمایا: یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے ج ولاء میری ہو گی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: آپ خرید کر ولا کی شرط رکھیں اور آزاد کردیں کیونکہ ولا تو آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے ۔

لَا إِلَّا ← كاتبت بريرة على نفسها تسعة أواق في كل ← عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › Intercourse with the chapters on what the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, singled out for, excluding others, which were permitted for him and forbidden for others · Hadith 13756

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ جماع أبواب ما خص به رسول الله صلى الله عليه وسلم دون غيره مما أبيح له وحظر على غيره · حديث 13757

[ 13535 ] أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد الصفار ثنا أحمد بن علي وجعفر بن محمد الفريابي فرقهما قالا ثنا قتيبة بن سعيد ثنا عبد الله بن وهب عن سعيد بن عبد الله الجهني عن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب عن أبيه عن جده أن رسول صلى الله عليه وسلم قال له يا علي ثلاثة لا تؤخرها الصلاة إذا أتت والجنازة إذا حضرت والأيم إذا وجدت كفؤا

13757 – محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب نے اپنے والد سے اور دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ان سے کہا: تین چیزوں میں تاخیر نہ کرنا جب نماز کا وقت ہو جائے جنازہ جب موجود ہو بیوہ کا نکاح جب کفو موجود ہو۔

جده أن رسول ← أَبِيهِ ← محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب ← سعيد بن عبد الله الجهني، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أحمد بن علي وجعفر بن محمد الفريابي فرقهما ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › Intercourse with the chapters on what the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, singled out for, excluding others, which were permitted for him and forbidden for others · Hadith 13757

chevron_left Previous
1…404142…49
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead