Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13266

[ 13045 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو بكر أحمد بن الحسن القاضي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا عثمان بن عمر أنبأ يونس عن الزهري عن أبي سلمة عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت لما أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بتخيير أزواجه بدأ بي فقال يا عائشة إني مخبرك خبرا فلا عليك أن لا تعجلي حتى تستأمري أبويك قالت وقد علم أن أبوي لم يكونا يأمراني بفراقه ثم قال يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين أمتعكن وأسرحكن سراحا جميلا وإن كنتن تردن الله ورسوله والدار الآخرة فإن الله أعد للمحسنات منكن أجرا عظيما فقلت في هذا استأمر أبوي فإني أريد الله ورسوله والدار الآخرة ثم فعل أزواجه مثل ما فعلت أخرجه البخاري ومسلم في الصحيح من حديث يونس بن يزيد

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ جب نبیئ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ اپنی بیویوں کو اختیار دے دو تو آپﷺ نے فرمایا: اے عائشہ ! میں تجھے ایسی خبر دینے والا ہوں تجھ پر لازم ہے کہ تو جلدی نہ کرے یہاں تک کہ تو اپنے والدین سے مشورہ کر لے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ مجھے اس بات کا علم تھا کہ میرے والدین مجھے آپ سے جدا ہونے کا حکم لیں دیں گے پھر آپﷺ نے فرمایا: پھر حضرت عائشہ نے فرمایا: کیا میں اس بارے میںاپنے والدین سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ اور ا سکے رسول کو چاہتی ہوں پھر تمام بیویوں نے یہی کہا جو میں نے کہا تھا۔

اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عثمان بن عمر، أنبأ يونس، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13266

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13267

[ 13046 ] أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد أنبأ إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنبأ معمر عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن أبي ثور عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما قال لم أزل حريصا أن أسأل عمر رضى الله تعالى عنه عن المرأتين من أزواج النبي صلى الله عليه وسلم اللتين قال الله تعالى { إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما } حتى حج عمر رضى الله تعالى عنه وحججت معه فلما كان ببعض الطريق عدل عمر رضى الله تعالى عنه لحاجته وعدلت معه بالإداوة فتبرز ثم أتى فسكبت على يديه فتوضأ فقلت يا أمير المؤمنين من المرأتان من أزواج النبي صلى الله عليه وسلم اللتان قال الله تعالى { إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما } فقال عمر رضى الله تعالى عنه واعجبا لك يا بن عباس قال الزهري رحمه الله تعالى كره والله ما سأله عنه ولم يكتمه قال هي حفصة وعائشة ثم أخذ يسوق الحديث فقال كنا معشر قريش قوما نغلب النساء فلما قدمنا المدينة وجدنا قوما تغلبهم نساؤهم فطفق نساؤنا يتعلمن من نسائهم قال وكان منزلي في بني أمية بن زيد بالعوالي فتغضبت يوما على امرأتي فإذا هي تراجعني فأنكرت أن تراجعني فقالت ما تنكر أن أراجعك فوالله إن أزواج النبي صلى الله عليه وسلم يراجعنه وتهجره إحداهن اليوم إلى الليل قال فانطلقت فدخلت على حفصة فقلت أتراجعين رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت نعم وتهجره إحداهن اليوم إلى الليل قالت نعم قلت قد خاب من فعل ذلك منكن وخسر أفتأمن إحداكن أن يغضب الله عليها لغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا هي قد هلكت لا تراجعي رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا تسأليه شيئا وسليني ما بدا لك ولا يغرنك إن كانت جارتك هي أوسم وأحب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم منك يريد عائشة قال وكان لي جار من الأنصار وكنا نتناوب النزول الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فينزل يوما وأنزل يوما فيأتيني بخبر الوحي وغيره وآتيه بمثل ذلك قال وكنا نتحدث أن غسان تنعل الخيل لغزونا فنزل صاحبي يوما ثم أتاني عشاء فضرب بابي ثم ناداني فخرجت إليه فقال حدث أمر عظيم قال قلت ماذا أجاءت غسان قال بل أعظم من ذلك وأطول طلق رسول الله صلى الله عليه وسلم نساءه قال فقلت قد خابت وخسرت قد كنت أظن هذا كائنا حتى إذا صليت الصبح شددت على ثيابي ثم نزلت فدخلت على حفصة وهي تبكي فقلت أطلقكن رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت لا أدري هو هذا معتزلا في هذه المشربة فأتيت غلاما له أسود فقلت أستأذن لعمر فدخل الغلام ثم خرج إلي فقال قد ذكرتك له فصمت فانطلقت حتى أتيت المسجد فإذا قوم حول المنبر جلوس يبكي بعضهم فجلست قليلا حتى غلبني ما أجد فأتيت الغلام فقلت استأذن لعمر فدخل ثم خرج إلي فقال قد ذكرتك له فصمت فخرجت فجلست إلى المنبر ثم غلبني ما أجد فأتيت الغلام فقلت استأذن لعمر فدخل ثم خرج إلي فقال قد ذكرتك له فصمت قال فوليت مدبرا فإذا الغلام يدعوني فقال ادخل قد أذن لك فدخلت فسلمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا هو متكئ على رمال حصير قد أثر في جنبه فقلت أطلقت يا رسول الله نساءك قال فرفع رأسه إلي وقال لا فقلت الله أكبر لو رأيتنا يا رسول الله وكنا معشر القريش قوما نغلب النساء فلما قدمنا المدينة وجدنا قوما تغلبهم نساؤهم فطفق نساؤنا يتعلمن فتغضبت على امرأتي يوما وإذا هي تراجعني يعني فأنكرت فقالت ما تنكر أن أراجعك فوالله إن أزواج النبي صلى الله عليه وسلم ليراجعنه وتهجره إحداهن اليوم إلى الليل فقلت قد خاب من فعل ذلك منهن وخسر أفتأمن إحداهن أن يغضب الله عليها لغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا هي قد هلكت فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يعني قد دخلت على حفصة فقلت لا يغرنك إن كانت جارتك هي أوسم منك وأحب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم منك فتبسم أخرى فقلت استأنس يا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم فجلست فرفعت رأسي في البيت فوالله ما رأيت فيه شيئا يرد البصر إلا أهب ثلاثة فقلت ادع الله يا رسول الله أن يوسع على أمتك فقد وسع على فارس والروم وهم لا يعبدون الله فاستوى جالسا فقال أفي شك أنت يا بن الخطاب أولئك قوم قد عجلت لهم طيباتهم في الحياة الدنيا فقلت أستغفر الله يا رسول الله وكان أقسم أن لا يدخل عليهن شهرا من شدة موجدته عليهم حتى عاتبه الله عز وجل قال الزهري فأخبرني عروة عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت فلما مضت تسع وعشرون ليلة دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم بدأ بي فقلت يا رسول الله أقسمت أن لا تدخل علينا تعني شهرا إنك دخلت علي من تسع وعشرين أعدهن قال إن الشهر تسع وعشرون ثم قال يا عائشة إني ذاكر لك أمرا فلا عليك أن لا تعجلي فيه حتى تستأمري أبويك قال ثم قرأ علي يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا الآية قالت قد علم والله أن أبوي لم يكونا يأمراني بفراقه قالت قلت أفي هذا استأمر أبوي فإني أريد الله ورسوله والدار الآخرة قال معمر وأخبرني أيوب قال فقالت له عائشة لا تقل إني اخترتك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إنما بعثت مبلغا ولم أبعث متعنتا رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم ومحمد بن أبي عمر عن عبد الرزاق بطوله

13267 - ابن عباس کہتے ہیں کہ میری ہمیشہ یہی خواہش رہی کہ میں عمر سے یہ سوال کروں کہ وہ دو عورتیں کون سی ہیں جن کے بارے میں اللہ پاک نے فرمایا: یہاں تک کہ عمر نے بھی حج کیا او رمیں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا راستے میں حضرت عمر الگ ہو گئے قضا حآجت کے لیے تشریف لے گئے میں بھی برتن لے کر آپ کے ساتھ گیا پھر آپ نکلے تو میں نے آپﷺ کے ہاتھوں پر پانی بہایا آپ نے وضو فرمایا میں نے کہا: اے امیر المومنین نبی ﷺ کی کون سی دو بیویاں ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے عمر فرمانے لگے اے ابنعباس ! تجھ پر تعجبہے ! زہری فرماتے ہین قسم بخدا انہوںنے اس کے سوال نا پسند کیا آپنے اسے چھپایا نیں بلکہ فرمایا: وہ حفسہ اور عائشہ تھیں پھر واقعہ بیان کرنا شروع ہوئے کہ ہم قریشی لوگ عورتوں پر غالب رہتے تھے جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے یہاں ایسے لوگ دیکھے جن پر عورتیں غالب ہیں تو ہماری عورتیں بھی انسے سیکھنے لگی فرماتے ہیں : میا گھر بنو امیہ بن زید کے بالائی جانب تھا ایک روذ میں اپنی بجیوی پر غصہ ہوا تو وہ مجھے جواب دینے لگی مجھے اس کے جواب دینے پر تعجب ہو وہ کہنے لگی آپ کو م یرے جواب دیتے پر تعجب کیوں ہوا ؟ قسم بخدا ! نبی کریم ﷺ کی ازواج مطرات آپ کو جواب دیتی ہیں اور آج تو ان میں سے ایک نے آپ سے رات تک انہوں نے کہا ہاں اور آج رات تو ان میں سے ایک نے آپ سے علیحدگی اختیار کی ہوئی ہے میں ن ے کہا: تم میں سے جس نے یہ کام کیا ہے وہ تو خسارے میں رہی کیا تم میں سے کوئی اس سے مطمءن ہے کہ رسول اللہﷺ کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نہ ہوگا ؟ وہ وت ہلاک ہو چکی تم ہرزگز رسول اللہﷺ کو جواب نہ دیا کرو اور نہ آپ سے کسی چیز کا سوال کرو جو چاہے مجھ سےت مانگ لیا کرو اور تمیں پڑوسن دھوکے میں نہ ڈالے وہ تمہاری نست رسول اللہﷺ کو زیادہ محبوب ہے ان کی مراد عائشہ تھیں۔ فرماتے ہیں: میرا ایک انصاری پڑوسی تھا اور ہم رسول اللہﷺ ک پاس باری باری جاتے رہتے ایک دن وہ آپ کے پاس جاتا تو دوسرے دن میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتا وہ مجھے کوئی وحی سناتااور میں بھی اسی طرح کوئی واقعہ سناتا ہم باتیں ر رہے تھے کہ غسان قبیلہ نے ہم سے جنگ کے لیے گھورے کے گھر تیار کر لیے ہیں میرا دوست آیا پھر وہ رات کو عشا میں بھی میرے پاس آیا اس نے میر ا دروازہ کھٹکھٹایا اور مجھے آواز دئی میں اس کی طرف نکلا تو اس نے کہا: بہت بڑا واقعہ پیش آگیا ہے میں نے کہا: کیا غسان والے نکل آئے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ اس سے بھی بڑا اور ہم رسول اللہﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاقے ےدی ہے میںنے کہا حفسہ تو خایب و خاسر ہو گئی میرا گمان تھا کہ ایسا ہونے والا ہے جب میں نے صبح کی نماز اا کیو اپنے کپڑے سمیٹے اور حفہ کے پاس چلا آیا دیکھا تو وہ رو رہی تھی میں نے پوچھا : کیا واقعی رسول اللہﷺے تمہیں طلاق دے دی ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نہیں جانتی وہ اس معاملہ می جدائیگ اختایر کیے ہوئے ہیں میں آپ کے ایک حبشی غلام سے ملا میں نے اسے کہا: عمر کے لیے اجازت مانگو غلام داخل ہوا پھر میرے پاس ایااور کہا اپ کا ذکر ان کے سامنے کئا گیا تو وہ خاموش رہے میں مسجد کی طرف چلا گیا وہاں لوگ منبر کے پاس بیٹھے ہوئے رو رہے تھے میںتھوری دیر بیٹھا رہا پھر مجھ پر میرا وجدان غالب آگیئ اتو واپس غلام کے پاس آیا اور کہا: عمر کے لیے اجازت مانگو غلام اندر گیا او رباہر آکر وہی جواب دیا میں پھر مسجد میں منبر کے پاس جا بیٹھا ؛یکن پھر وہیئ کیفیت ہوئیتو تیسری بار پھر گیا اور اجازت چاہی جب اجازت نہ ملی تو پیٹھ پھیر کر چل پڑا اچانک غلام مجھے اواز دینے لگا آئیے آپ کو اجازت مل گئی ہے میں اندر گیا اور رسول اللہﷺ کو سلام عرض کیا آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور اس کے نشان آپ کے بدن پر ظاہر تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا واقعی آپ نے اپنی بیویوں کو طلاقے دے دی ہے؟ آپﷺ نے میری طر ف سر اٹھا رک دیکھا اور فرمایا: نہیں میں نے کہا: اللہ اکبر ! اے اللہ کے رسول! ہمیں دیکھے ہم قریشی لوگ عورعتوں پر غالب رہتے تھے جب سے ہم مدینہ آئے وہاں ہم نے ایسی قوم دیکھی جن ہپر ان کی عورتیں غالب ہیں اب ہماری عورتیں بھی ان سے سیکھنے لگی ہیں ایک دن میں اپنی بیوی پر غصہپ ہوا تو وہ مجھے جواب دینے لگی مجھے تعجب ہوا تو وہ کہنے گلی: اپ کو تعجب کیوں ہے ؟ قسم بخدا ! نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات آپ کو جواب بھی دیتی ہیں اور آج تو ان میں سے ایک نے آپ سے علیحدگی اختیار کی ہوئی ہے میں نے کہا پھر تو وہ تباہ و برباد ہو گئی کیا تم میں سے کوئی اس سے مطمءن ہے کہر سول اللہﷺ کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا س پر غضب نازل ہو وہ تو ہلاک ہو گئی رسول اللہﷺمسکرا دیے میں نے کہپا: پھر میں حفصہ کے پاس گیا میں نے اسے کہا: تجھے یہ بات دھوکے میں نہ ڈال دے کہ تیری پڑوسن رسول اللہقکو تجھ سے زیادہ محبوب ہے آپ پھر مسکرائے میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں مانوس ہو جاؤں؟ آپ نے فرمایا:ؒ ہاں میں بیٹھ گیا پھر میں نے سر اٹھا کر گھر میں نظر دوڑائی قسم بخدا! میں نے تاحد نگاہ کچھ نہ دیکھا سوائے تین چمڑوں کے میں نے کہا: اے اللہ کےر سول!اپنی امت کے لیے وسعت کی دعا فرمائیے روم فارس پر کس قدر وسعت کی گئیہے حالاں کہ وہ اللہ کی عبطادت بھی نہیں کرتے اپ ﷺ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا: اے عمر ! کیا تم شک می ہو! یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کی پسندیدہ چیزیں دنیا میں دے دی گئی ہیں میں نے کہا : میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں آپﷺ نے قسم اٹھا لیتھی کہ اپنی ازواج کے پاس ایک ماہ تک نہ جائیں گے ان کو سختی سے تنبیہ کرنے کی غرض سے کہ اللہتعالیٰ نے آپ سے معمالہ صاف کروایا۔

لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا ← بن عباس رضى الله تعالى عنهما ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْد اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13267

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13268

[ 13047 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ح قال وأخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد ثنا الحسن بن مكرم قالا ثنا روح بن عبادة ثنا زكريا بن إسحاق ثنا أبو الزبير عن جابر قال جاء أبو بكر رضى الله تعالى عنه يستأذن على رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجد الناس جلوسا على بابه لم يؤذن لأحد منهم قال فأذن لأبي بكر رضى الله تعالى عنه فدخل ثم أقبل عمر رضى الله تعالى عنه فاستأذن فأذن له فدخل فوجد النبي صلى الله عليه وسلم جالسا حوله نساؤه واجم ساكت قال فقال عمر رضى الله تعالى عنه لأقولن شيئا أضحك النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله لو رأيت ابنة خارجة سألتني النفقة فقمت إليها فوجأت عنقها قال فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال وهن حولي كما ترى يسألنني النفقة قال فقام أبو بكر رضى الله تعالى عنه إلى عائشة فوجأ عنقها وقام عمر رضى الله تعالى عنه إلى حفصة فوجأ عنقها وكلاهما يقول تسألن رسول الله صلى الله عليه وسلم ما ليس عنده فقلن والله لا نسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم ما ليس عنده ثم اعتزلهن رسول الله صلى الله عليه وسلم شهرا أو تسعة وعشرين يوما ثم نزلت هذه الآية { يا أيها النبي قل لأزواجك ان كنتن تردن الحياة الدنيا } حتى بلغ { للمحسنات منكن أجرا عظيما } قال فبدأ بعائشة رضى الله تعالى عنها فقال يا عائشة أني أحب أن أعرض أمرا فأحب أن لا تعجلي فيه حتى تستشيري أبويك قالت وما هو يا رسول الله فتلا عليها الآية قالت أفيك يا رسول أستشير أبوي بل أختار الله ورسوله أسألك ألا تخير امرأة من نسائك بالذي قلت قال لا تسألني امرأة منهن إلا أخبرتها أن الله لم يبعثني معنتا ولكن بعثني معلما ميسرا رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب عن روح بن عبادة

13268 - جابر کہتے ہیں کہ ابو بکر آئے نبی ﷺ سے اجازت طلب کی لوگوں کو دیکھا کہ وہ آپ کے دروازے پر بیٹھے تھے کسی ایک کوبھی اجازت نہ دی گئی صرف ابو بکر کو اجازت دی گئی وہ داخل ہو گئے پھر عمر ائے انہوں نے اجازت مانگی انکو بھی اجازت دے دی گئی اس نے دیکھا کہ نبی ﷺ اپنی یویوں کے اردگرد پریشانی اور خآموشی سے بیٹھے تھے راوی کہتا ے کہ عمر نے کہا: میںایسی بات کہوں گا کہ نبی ﷺ کو ہنساؤں گا کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے خآجتہ کی بیتی کے بارے میں وہ مجھ سے نفقہ کا سوال کرتی ہے میں اس کی طرف جاؤں گا اور اس کی گردن پر ماروں گا راوی کہتا ہے کہ آپﷺ ہنس پرے اور فرمایا: میرے اردگرد بھی یہ نفقہ کا سوال کرتی ہی راوی کہتا ہے کہ ابو بکر کھرے ہوئے عائشہ کی طرف اس کے سر میں مارا عمر کھرے ہوئے حفسہ کی طرف اور ان کو ڈانٹا اور ان دونوں نے کہا کہ تم نبی ﷺسے اس چیز کا سوال کرتی ہو جو چیز آپﷺ کے پاس نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا اللہ کی قس! ہم نبی ﷺ سے اس چیز کا سوال نہیں کریں گے جو آپ کے پاس نہ ہو۔ پھر نبی ﷺ ان سے ایک مہینہ یا 29 دن کے لیے علیحدہ ہو گئے پھر یہ ایت نازل ہوئیں راو کہتا ہے کہ آپﷺ نے عئاشہ سے ابتدا کی اور فرمایا: اے عائشہ ! میں تجھ سے ایسی بات کرنے والا ہوں کہ میں پسند کرتا ہوں کہ تو اسمیں جلدی نہکرنا یہاں تک کہ اپنے والدین سے مشورہ کر لے تو عائشہ نے پوچا : وہ کیا بت ہے ؟ آپﷺ نے یہ آیت مبارک پڑھی حضرت عائشہ نے فرمایا کہ آپﷺ کے بارے میں میں اپنےو الدین سے مشورہ کرؤں ! نہیں بلکہ میں اللہ اور اس کا رسول منتخب کر لیا ہے میری آپ سے درخواست ہے کہ آ اپنی دوسری بیویں سے یہ بات نہ کہنا جو میں نے کہی۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13268

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13269

[ 13048 ] أخبرنا أبو نصر محمد بن علي الشيرازي الفقيه ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الأخرم ثنا محمد بن عبد الوهاب وعلي بن الحسن قال علي ثنا وقال محمد أنبأ يعلى بن عبيد أنبأ إسماعيل ح قال أبو عبد الله وثنا جعفر بن محمد ثنا يحيى بن يحيى أخبرني عبثر عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي عن مسروق قال قالت عائشة رضى الله تعالى عنها قد خيرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم نعده طلاقا رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى وأخرجه البخاري من وجه آخر عن إسماعيل

13269 – عائشہ فرماتی ہیں کہ ہمیں نبی ﷺ نے اختیار د اجس کو ہم طلاق شمار نہیں کرتی تھیں۔

مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ وَعَلِىُّ بْنُ الْحَسَنِ ← أبو عبد الله محمد بن يعقوب الأخرم ← أبو نصر محمد بن علي الشيرازي الفقيه

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13269

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13270

[ 13049 ] أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ وأبو بكر أحمد بن الحسن القاضي وأبو عبد الله السوسي قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني أنبأ محمد بن عبد الله الحافظ وأبو بكر أحمد بن الحسن القاضي وأبو عبد الله السوسي قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني أنبأ محمد بن أسد أنبأ الوليد بن مسلم عن الأوزاعي قال سألت الزهري أي أزواج النبي صلى الله عليه وسلم استعاذت منه فقال حدثني عروة عن عائشة رضى الله تعالى عنها أن ابنة الجون الكلابية لما أدخلت على النبي صلى الله عليه وسلم قالت أعوذ بالله منك قال لقد عذت بعظيم الحقي بأهلك رواه البخاري في الصحيح عن الحميدي عن الوليد بن مسلم

13270 – عائشہ فرماتی ہیں کہ جب نبی ﷺ پر الجون الکابیتہ کی بیٹی داخل کی گئی تو اس نے کہا کہ میں اللہ کی پناہ میں آتی ہوں آپﷺ سے تو آپ

عُرْوَةَ ← سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ: أَيُّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← محمد بن اسحاق الصغانى أنبأ محمد بن اسد أنبأ الوليد بن مسلم ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّوسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← محمد بن إسحاق الصغاني أنبأ محمد بن عبد الله الحافظ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّوسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13270

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13271

[ 13050 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أحمد بن كامل القاضي أنبأ أبو جعفر محمد بن سعد بن محمد بن الحسن بن عطية العوفي حدثني أبي حدثني عمي حدثني أبي عن أبيه عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما قوله تعالى ومن الليل فتهجد به نافلة لك يعني بالنافلة أنها للنبي صلى الله عليه وسلم خاصة أمر بقيام الليل ولبث عليه

حضرت ابن عباس سےر وایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یعنی نفل نماز آپﷺ کے لیے قیام للیل خآص کیا گیا ہے اور آپ پر فرض ہے ۔

أَبِيهِ ← أَبِي ← عَمِّي، ← أَبِي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13271

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13272

[ 13051 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ قراءة عليه وعبد الله بن يوسف الأصبهاني إملاء قالا ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا بكر بن سهل ثنا عبد الغني بن سعيد الثقفي ثنا موسى بن عبد الرحمن الصنعاني عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة علي فريضة وهي لكم سنة الوتر والسواك وقيام الليل موسى بن عبد الرحمن هذا ضعيف جدا ولم يثبت في هذا إسناد والله أعلم

13272 - نبی ﷺ نے فرمایا: تینچیزیں ایسی ہیں جو میرے لیے فرض ہیں اور تمہارے لیے سنت ہیں وتر مسواک اور رات کا قیام ۔

عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّنْعَانِيُّ، ← عَبْدُ الْغَنِيِّ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ قراءة عليه وعبد الله بن يوسف الأصبهاني إملاء

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13272

Daif

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13273

[ 13052 ] أخبرنا أبو نصر محمد بن إسماعيل بن إبراهيم الطبراني بها أنبأ أبو محمد عبد الله بن أحمد بن منصور الطوسي ثنا بن أبي مسرة ثنا خلاد ثنا مسعر ثنا زياد بن علاقة قال سمعت المغيرة بن شعبة رضى الله تعالى عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي حتى ترم أو تنتفخ رجلاه أو قدماه قال فقالوا له قال أفلا أكون عبدا شكور رواه البخاري في الصحيح عن خلاد بن يحيى وأخرجه مسلم من وجهين آخرين عن زياد بن علاقة

13273 - حضرت مغیرہ بن شعہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نماز پرھتےیہاں تککہ پاؤں مبارک رورم آجاتا آپ سے کہا گیا تو آپﷺ نے فرمایا: کای میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

المغيرة بن شعبة رضى الله تعالى عنه ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← مِسْعَرٍ، ← خَلادٌ، ← بن أبي مسرة

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13273

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13274

[ 13053 ] أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن إسحاق أنبأ أحمد بن محمد بن المهنأ الأزدي ثنا هارون بن معروف ثنا عبد الله بن وهب أخبرني أبو صخر عن بن قسيط عن عروة بن الزبير عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى قام حتى تفطر رجلاه فقالت عائشة رضى الله تعالى عنها يا رسول الله تصنع هذا وقد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر قال يا عائشة أفلا أكون عبدا شكورا رواه مسلم في الصحيح عن هارون بن معروف

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب نبیﷺ نماز پرھتے تو پاؤں مبارک سوج جاتے تھے حضرت عائشہ نے کہا: اے اللہ کے نبی ! آپ یہ کیوں کرتے ہیں حالانکہ اللہ نے آپ کے اگلےاورپچھلے گناہ تو معاف کر دیے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا: اے عائشہ ! کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا ← کَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا صَلَّی قَامَ حَتَّی تَفَطَّرَ رِجْلَاهُ ← عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← بن قسيط ← أَبُو صَخْرٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← هَارُونُ بن معروف ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ أحمد بن محمد بن المهنأ الأزدي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13274

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13275

[ 13054 ] أخبرنا الفقيه أبو الحسن محمد بن يعقوب بن أحمد بن يعقوب بن عم أبي النضر الفقيه أنبأ أبو النضر الفقيه ثنا محمد بن أيوب أنبأ مسلم بن إبراهيم أنبأ الربيع بن مسلم القرشي عن محمد بن زياد عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يأكل الهدية ولا يأكل الصدقة أخرجه مسلم في الصحيح كما مضى ذكره في آخر كتاب الهبات

نبی ﷺ ہدیہ کھا لیتے تھ لیکن صدقہ نہیں کھاتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← محمد بن أيوب أنبأ مسلم بن إبراهيم أنبأ الربيع بن مسلم القرشي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13275

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13276

[ 13055 ] أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنبأ عبد الله بن جعفر بن درستويه ثنا يعقوب بن سفيان حدثني المكي بن إبراهيم قال بهز ذكره عن أبيه عن جده قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أتى بطعام سأل عنه أهدية أم صدقة فإن قالوا هدية بسط يده وإن قالوا صدقة قال لأصحابه كلوا بهز هو بن حكيم بن معاوية بن حيدة القشيري أحد بني عامر بن صعصعة بن هوازن قاله يعقوب بن سفيان

13276 – جب نبیﷺ کے پاس کھانا لایا جاتا تو آپﷺ پوچھتئے تھے کہ صدقہ ہے یا ہدیہ ؟ اگر ہدیہ ہوتا تو اپنا ہاتھ بڑھا کر لیتےتھے اور اگر صدقہ ہوتا تو صحابہ کرام ﷺ کو فرماتے کہ کھاؤ۔

صَدَقَةُ، ← هَدِيَّةٌ بَسَطَ يَدَهُ وَإِنْ ← كان رسول الله إذا أتى بطعام سأل عنه أهدية أم صدقة فإن ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بهز ذكره ← الْمَکِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13276

Sahih

سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13277

[ 13056 ] أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو بكر محمد بن الحسين القطان أنبأ أحمد بن يوسف نا أحمد بن المفضل ثنا أسباط بن نصر الهمداني قال زعم السدي عن مصعب بن سعد عن أبيه قال لما كان يوم الفتح أي يوم فتح مكة آمن رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس إلا أربعة نفر وامرأتين منهم أبي سرح فإنه اختبأ عند عثمان بن عفان رضى الله تعالى عنه فلما دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس إلى البيعة جاء به حتى أوقفه على النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله بايع عبد الله فرفع رأسه فنظر إليه ثلاثا كل ذلك يأبى فبايعه بعد ثلاث ثم أقبل على أصحابه فقال أما فيكم رجل رشيد يقوم إلى هذا حيث رآني قد كففت يدي عن بيعته فيقتله قال ما يدرينا يا رسول الله ما في نفسك هلا أومأت إلينا بعينك قال إنه لا ينبغي أن تكون لنبي خائنة الأعين

13277 –

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← زَعَمَ السُّدِّيُّ ← أسباط بن نصر الهمداني، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13277

chevron_left Previous
1234…49
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer25. Group reading doors26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead