Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الصدقات ‹ كتاب قسم الصدقات · حديث 13136

[ 12915 ] أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنبأ جدي يحيى بن منصور القاضي ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم أنبأ وكيع ثنا زكريا بن إسحاق المكي عن يحيى بن عبد الله بن صيفي عن أبي معبد عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما بعث معاذا إلى اليمن قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم إنك تأتي قوما أهل كتاب فادعهم إلى شهادة أن لا إله إلا الله فإن هم أجابوك لذلك فأعلمهم أن الله قد افترض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة فإن هم أجابوك لذلك فاعلمهم أن الله قد افترض عليهم صدقة في أموالهم من أغنيائهم فترد في فقرائهم فإن هم أجابوك لذلك فإياك وكرائم أموالهم وإياك ودعوة المظلوم فإنها ليس بينها وبين الله حجاب رواه البخاري في الصحيح عن يحيى بن موسى عن وكيع ورواه مسلم عن إسحاق بن إبراهيم وغيره

سیدنا ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جب معاذ بن جبل کو یمن کی طرف بھیجا تو پﷺ نے فرمایا: اے معاذ !تو اہل کتاب کے پاس جا رہا ہے سب سے پہلے ان کو للہ کی وحدانیت اور نبی ﷺ کی رسالت کی دعوت دینی ہے اگر وہ اس کو قبول کر لیں تو پھر ان کو بتانا کہ اللہ پاک نے ایک دنا ور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں اگر وہپ اس بات کو بھی قبول کر لیں تو پھر ان کو یہ بتانا ہے کہ اللہ پاک نےتم پر تمہارے مالوں میں سے صدقہ فرض کیا ہے جو مال دار لوگوں سے لیا جائے گا اور غریب لوگوں میں تقسئیم کیا جائے گا۔

بن عباس رضى الله تعالى عنهما ← أَبِي مَعْبَدٍ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، ← زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ الْمَكِّيِّ، ← إسحاق بن إبراهيم أنبأ وكيع ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنبا جدي يحيى بن منصور القاضي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Alms section book › Alms section book · Hadith 13136

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الصدقات ‹ كتاب قسم الصدقات · حديث 13137

[ 12916 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا يونس بن محمد ثنا الليث حدثني سعيد المقبري عن شريك بن عبد الله أنه سمع أنس بن مالك رضى الله تعالى عنه يقول بينا نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم جلوس في المسجد إذ جاء رجل على جمل فأناخه في المسجد ثم عقله ثم قال لهم أيكم محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم ورسول الله صلى الله عليه وسلم متكئ بين ظهرانيهم قال فقلنا له هذا الرجل الأبيض المتكىء فقال له الرجل يا بن عبد المطلب فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أجبتك فقال الرجل يا محمد إني سائلك فمشتد عليك في المسألة فلا تجد في نفسك فقال سل ما بدا لك فقال الرجل نشدتك بربك ورب من قبلك الله أرسلك إلى الناس كلهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم اللهم نعم قال فأنشدك الله آلله أمرك أن تصلى الصلوات الخمس في اليوم والليلة فقال اللهم نعم قال فأنشدك الله الله أمرك بصوم هذا الشهر من السنة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اللهم نعم قال أنشدك الله الله أمرك أن تأخذ هذه الصدقة من أغنيائنا فتقسم على فقرائنا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اللهم نعم قال الرجل آمنت بما جئت به وأنا رسول من ورائي من قومي وأنا ضمام بن ثعلبة أخو بني سعد بن بكر رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن يوسف عن الليث

13137 – انس بن مالک فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم مسجد میں نبی ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اچانک ایک آدمی اونٹ پر آیا اس نے اپنے اونٹ کو مسجد میں بٹھایا پھر اس کو باندھدیا پھر ان لوگوںکو کہا کہ تم میں سے محمد ﷺ کون ہیں/ اور آپﷺ ہمارے درمیان ٹیک لگا کر بیٹھے تھے ہم نے اس کو کہا کہ یہ سفید آدمی جو نیک لگائے ہوئے ہیں پھر اس آدمی نے کہا کہ اے اعبدالمطلب کے بیٹے ! آپﷺ نے فرمایا کہ میںنے تمہیںجواب دیا ہے اس آدمی نے کہا کہ اے محمد ﷺ! میں تم سے کچھ سوال کروں گا وہ دوران سوال اگر آپ کو کوئی بات گراں گزرے تو برا محسوس نہ کرنا آپﷺ نے فرمایا کہ جو بھی سوال کرنا ہے کرو ۔ اس نے کہا کہ میں تجھے تیرے رب اور جو تجھ سے پہلئ لوھوں کا رب ہے کا واسطہ دیتا ہوں کہ کیا اللہ پاک ے تم کو تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے / آپﷺ نے فرمایا: ہاں بالکل اس آدمی نے پھر کہا کہ میں تجھے ا؛؛پ لا واسطہ دیتا ہو ں کہ کیا اللہ پاک نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم ایک دن اور رات مین پانچ نمازیں پرھیں ؟ فرمایا کہ ہاں بالکل اس آدمی نے پھر کہا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیا اللہ پاک نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم سال می ایک مہینے کے روزے رکھیں؟ آپﷺ نے فرمایا: جی ہاں ۔ اس آدمی نے پھر کہا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیا اللہ پاک نے آپ کو حکم دیاہے کہ آپ ہمارے مال دار لوگوں سے صدقہ وصول کریں اور غریبوں میں تقسیم کریں؟ آپﷺے فرمایا: جی ہاں۔

شريك بن عبد الله ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← اللَّيْثُ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Alms section book › Alms section book · Hadith 13137

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الصدقات ‹ كتاب قسم الصدقات · حديث 13138

[ 12917 ] وأخبرنا أبو الحسين محمد بن الحسن بن محمد بن الفضل القطان ببغداد أنبأ أبو سهل بن زياد القطان ببغداد أنبأ أبو سهل ثنا إسحاق بن الحسن الحربي ثنا عفان بن مسلم ثنا إبراهيم بن عطاء بن أبي ميمونة حدثني أبي أن عمران بن حصين رضى الله تعالى عنه بعث إلى الصدقة فلما رجع قالوا له أين المال قال وللمال أرسلتموني أخذناها من حيث كنا نأخذها على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ووضعناها حيث كنا نضعها

13138 – عطاء بن ابو میمونہ سے روایت ہے کہ عمران بن حصین کو صدقہ کے لہے بھیجا گیا جب وہ لوٹے تو لوگوں نے کہا کہ مال کو کہاں ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ مال کے لیے تم نے مجھے بھیجا تھا ؟ وہتو ہم نے ان سے لیا جن سے نبی ﷺ کےد ور میں لیتے تھے اور ان کو دے دیا جن کو ہم آپﷺ کے دور میں دیتے تھے

أَبِي ← إبْرَاهِيمُ بْنُ عَطَاءٍ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Alms section book › Alms section book · Hadith 13138

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الصدقات ‹ كتاب قسم الصدقات · حديث 13139

[ 12918 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرىء أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا محمد بن أبي بكر ثنا عمرو بن علي ثنا أشعث بن سوار عن عون بن أبي جحيفة عن أبيه قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم فينا ساعيا فأخذ الصدقة من أغنيائنا فوضعها في فقرائنا وأمر لي بقلوص هذا الحديث يعرف بأشعث بن سوار وليس بالقوي

13139 – ابی جحفہ اپنےو الد سے نقل فماتے ہیں کہ ہم میں نبی ﷺ نے صدقہ لینے والے کو بھیجا تو اس نے مال دار لوگوں سے صدقہ لیا اور فقیر لوگوں میں تقسیم کیا اور آپ نے مجھے اونٹنی دینے کا حکم دی ا۔

أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أبو الحسن علي بن محمد المقرىء أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Alms section book › Alms section book · Hadith 13139

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الصدقات ‹ كتاب قسم الصدقات · حديث 13140

[ 12919 ] وقد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو بكر أحمد بن الحسن وأبو سعيد بن أبي عمرو قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو أمية محمد بن إبراهيم ثنا خالد بن يزيد ثنا إسماعيل بن زكريا عن الأعمش عن بن أبي جحيفة عن أبيه رضى الله تعالى عنه قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم ساعيا على الصدقة فأمر أن يأخذ الصدقة من أغنيائنا فيقسمها في فقرائنا وكنت غلاما يتيما لا مال لي فأعطاني منها قلوصا

13140 – ابو جحیفہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ صدقہ وصول کرنے والے کو نبی ﷺ نے صدقہ لینے کے لیے بھیجا تو اس کو حکم دیا کہ وہ مال دار لوگوں سے صدقہ لے او ر غریب لوگوں میں تقسیم کرے اور میں یتیم لڑکا تھا یرے پاس مال نہیں تھا آپ نے مجھے اونٹنی عطا کرنے کا حکم دیا۔

أَبِيهِ، رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ ← بن أبي جحيفة ← الْاَعْمَشِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← وقد

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Alms section book › Alms section book · Hadith 13140

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الصدقات ‹ كتاب قسم الصدقات · حديث 13141

[ 12920 ] وفيما أجاز لي أبو عبد الله الحافظ وأنبأ عنه عن أبي العباس أنبأ الربيع أنبأ الشافعي أنبأ مطرف بن مازن عن معمر عن عبد الله بن طاوس عن أبيه أن معاذ بن جبل رضى الله تعالى عنه قضى أيما رجل انتقل من مخلاف عشيرته إلى غير مخلاف عشيرته فعشره وصدقته إلى مخلاف عشيرته

13141 – حضرت طاؤس سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ نے کسی ایک دمی کے بارے میں فیصلہ کیا جس نے اپنے ضلع سے دوسرے ضلع کے رشتہ داروں میں منتقل کر دیا تھا کہ اس کا عشر اور صدقہ ضلع کے رشتہ داروں کے لیے ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← أبي العباس أنبأ الربيع أنبأ الشافعي أنبأ مطرف بن مازن ← وفيما أجاز لي أبو عبد الله الحافظ وأنبأ عنه

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Alms section book › Alms section book · Hadith 13141

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الصدقات ‹ كتاب قسم الصدقات · حديث 13142

[ 12921 ] أخبرنا أبو بكر بن الحارث الأصبهاني أنبأ علي بن عمر الحافظ ثنا عمر بن أحمد بن علي المرزوي ثنا محمد بن عمران الهمذاني ثنا هشام بن عبيد الله ثنا سوار بن مصعب عن حماد بن أبي سليمان عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال لا تخرج الزكاة من بلد إلى بلد إلا لذي قرابة موقوف وفي إسناده ضعف

13142 – حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ قریبی رشتہ داروں کے سوار کسی اور کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر زکوٰۃ متقل نہیں کی جائے گی۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ← سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، ← هِشَامُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← محمد بن عمران الهَمذاني ← عمر بن أحمد بن علي المرزوي ← أبو بكر بن الحارث الأصبهاني أنبأ علي بن عمر الحافظ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Alms section book › Alms section book · Hadith 13142

Daif

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الصدقات ‹ كتاب قسم الصدقات · حديث 13143

[ 12922 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عمر بن حفص المقري بن الحمامي رحمه الله ببغداد أنبأ أحمد بن سلمان النجاد ثنا جعفر بن محمد بن شاكر ثنا عفان ثنا أبو عوانة عن المغيرة عن عامر الشعبي عن عدي بن حاتم قال أتيت عمر رضى الله تعالى عنه في أناس من قومي فجعل يفرض رجالا من طيء في ألفين ويعرض عني فقلت يا أمير المؤمنين أتعرفني قال فضحك حتى استلقى لقفاه قال نعم والله إني لأعرفك قد آمنت إذ كفروا وأقبلت إذ أدبروا وأوفيت إذ غدروا وإن أول صدقة بيضت وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم ووجه أصحابه صدقة طيء جئت بها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم أخذ يعتذر قال إنما فرضت لقوم أجحفت بهم الفاقة وهم فاقة عشائرهم لما ينوبهم من الحقوق أخرجه مسلم في الصحيح مختصرا من حديث أبي عوانة

سیدنا عدی بن حاتم سے روایت ہے کہ میں سیدنا عمر کے پاس آیا اور وہ میرے قوم کے لوگوں میں موجود تھے کہ انہوں نے طے کے دو ہزار آدمیوں کی ذمہ داری لگائی اور مجھ سے اعراض کیا تو میں نے کہا اے امیر المومنین ! آپ مجھے جانتے ہیں عدی کہتے ہیں کہ وہ مسکرا دیے اور بات سمجھ گئے انہوں نے کہا جی ہاں اللہ کی قسم ! میں تجھے جانتا ہوں جب کفار نے آپ ﷺ کا انکار کیا تو ایمان لایا جب وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے تو نے آپﷺ کا ساتھ دیا جب انہوں نےغداری کی تو نے وفا کی سب سے پہلا صدقہ رسول اللہﷺ اور آپ کے اصحاب کا چہرہ چمک اتھا تھا وہ طے کا صدقہ تھا جسے تو لے کر آیا تھا۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← الْمُغِيرَةِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Alms section book › Alms section book · Hadith 13143

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الصدقات ‹ كتاب قسم الصدقات · حديث 13144

[ 12923 ] وأخبرنا أبو الحسين بن بشران أنبأ أبو جعفر الرزاز ثنا حنبل بن إسحاق ثنا محمد بن أبي نعيم الواسطي ثنا هشيم عن مجالد عن الشعبي عن عدي بن حاتم الطائي رضى الله تعالى عنه قال أتيت عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه فذكر الحديث ببعض معناه إلا أنه قال وأول صدقة بيضت وجه أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم صدقة طيء جئت بها إلى أبي بكر رضى الله تعالى عنه فقلت أما إني أتيت النبي صلى الله عليه وسلم عام أول كما أتيتك بها

13144 –

الحديث ببعض معناه إلا أنه ← أتيت عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه ← عدي بن حاتم الطائي رضى الله تعالى عنه ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← هُشَيْمٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أبو الحسين بن بشران أنبأ أبو جعفر الرزاز

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Alms section book › Alms section book · Hadith 13144

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الصدقات ‹ كتاب قسم الصدقات · حديث 13145

[ 12924 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا يونس بن بكير عن بن إسحاق في قصة عدي بن حاتم رضى الله تعالى عنه أمره رسول الله صلى الله عليه وسلم على صدقات قومه فتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد اجتمعت عنده إبل عظيمة من صدقاتهم فلما ارتد من ارتد من الناس وبلغهم أنهم قد ارتجعوا صدقاتهم وارتدت بنو أسد وهم جيرانهم اجتمعت طيء إلى عدي بن حاتم وذكر القصة قال فلما رأوا منه الجد كفوا عنه وسلموا له فلما اجتمع المسلمون على أبي بكر رضى الله تعالى عنه خرج بها فكانت أول إبل من الصدقة قدمت على أبي بكر رضى الله تعالى عنه هي وإبل الزبرقان بن بدر قال بن إسحاق وكان من حديث الزبرقان بن بدر السعدي أن بني سعد اجتمعوا إليه فسألوه أن يرد إليهم أموالهم وأن يصنع بهم ما صنع مالك بن نويرة بقومه فأبى وتمسك بما في يده وثبت على إسلامه وقال لا تعجلوا يا قوم فإنه والله ليقومن بهذا الأمر قائم بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر قصة قال فدفعهم عن نفسه حتى أتاه اجتماع الناس على أبي بكر رضى الله تعالى عنه فخرج بها وقد تفرق القوم عنه ليلا ومعه الرجال يطردونها فما علموا حتى أتاهم أنه قد أداها إلى أبي بكر رضى الله تعالى عنه فكانت هذه الإبل التي قدم بها الزبرقان وعدي بن حاتم أول إبل وافت أبا بكر رضى الله تعالى عنه من إبل الصدقة بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال بن إسحاق وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث عدي بن حاتم رضى الله تعالى عنه على صدقات طيء والزبرقان بن بدر على صدقات بني سعد وطليحة بن خويلد على صدقات بني أسد وعيينة بن حصن على صدقات بني فزارة ومالك بن نويرة على صدقات بني يربوع والفجاءة على صدقات بني سليم فلما بلغهم وفاة النبي صلى الله عليه وسلم وعندهم أموال كثيرة ردوها على أهلها إلا عدي بن حاتم والزبرقان بن بدر فإنهما تمسكا بها ودفعا عنها الناس حتى أدياها إلى أبي بكر رضى الله تعالى عنه

13145 - ا بن اسحاق عدی بن حآتم کا قصہ مذکور ہے کہ جب عدی بن حآتم اسلام لائے تو رسول اللہﷺ ے انہیں صدقات پر مقرر کیا جب رسول اللہﷺ فوت ہو گئ تو اس وقت ان کے پاس صدقات کے بہ سے اونٹ تھے جب لوگ مرتد ہو گئے اور وہ اپنے صدقات واپس لینے لگے اور بنو اسد بھی مرتد ہو گئے اور وہ ان کے پڑوسی تھے طے والے عدی بن حاتم کے پاس جمع ہوئے اور سارا واقعہ ذکر کیا جب انہوں نے برابری دیکھی تو وہ مسلمان ہو گئے جب مسلمان سیدن اابو بکر کے پاس جمع ہو گئے تو وہ انہی لے کر نکلے سب سے پہلے صدقہ کے جو اونٹ سیدنا ابو بکر کے پاس پہنچے وہ زبرقا بن بدر کے اونٹ تھے۔ ابن اسحٰق کہتے ہیں کہ بنوسعد زبر قان کے پاس جمع ہوئے اور ان سے ان کے اموال واپس لوٹانے کا کہا اور وہ سلوک کرنے کا حکم دیا اور اسلام پر ثابت قدم رہے اور کہا اے میرے قوم جلدی نہ کرو اللہ کی قسم! رسول اللہﷺ کے بعد مقام اس کا فیصلہ کرے گا لمبا واقعہ ذکر کیا او رکہا : انہوں نے انہیں اپنے آپ سے دور کر دیا یہاں تک کہ وہ لوگوں کے اجتماع میں ابو بکر کے پاس آئے انہوں نے انہیں ان کے خلاف ابھار ا و ان وگوں سے کچھ افراد رات کے وقت التگ ہو گئ اور انہیں یدنا ابو بکر کے حکم کا علم ہو گیا یہںا تک کہ وہ ا س کے پاس آے اور اپنے اموال سیدان ابو بکر وک ادا کر دیے یہ وہ اونٹ تھے جنہیں زبو قان اور دی بن حآتم سیدنا ابو بکر کے پاس لائے رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر کو سب سے ہلے یہ اونٹ ملے ۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Alms section book › Alms section book · Hadith 13145

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الصدقات ‹ كتاب قسم الصدقات · حديث 13146

[ 12925 ] أخبرنا أبو عمرو الأديب أنبأ أبو بكر الإسماعيلي أخبرني أبو يعلى ثنا هارون بن معروف ثنا جرير يعني بن عبد الحميد عن عمارة بن القعقاع عن أبي زرعة عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه قال لا زلت أحب بني تميم بعد ثلاث سمعتهن من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال هم أشد أمتي على الدجال وكانت عند عائشة رضى الله تعالى عنها نسمة منهم فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتقيها فإنها من ولد إسماعيل عليه السلام وجاءت صدقاتهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه صدقات قومنا رواه البخاري ومسلم في الصحيح عن زهير بن حرب عن جرير

13146 - حضرت ابو ہریرہ سےر وایت ہے کہ میں بنو تمیم سے بہت زیادہ محبت کرتےا ہوں جب سے میں نے رسول اللہﷺ سے تین باتیں سنی ہیں آپﷺ نے فرمایا: میری امت سے وہ دجال پر سب سے زیادہ سخت ہیں حضرت عائشہ کے پاس ان کی لونڈی تھی آپﷺ نے عائشہ سے فرمایا: اے آزاد کر دے کیونکہ وہ اولاد اسماعیل میں سے ہیہں ان کے صدقات آئے تو آپﷺ نے فرمایا: یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جرير يعني بن عبد الحميد ← هَارُونُ بن معروف ← أَبُو يَعْلَى ← أبو عمرو الأديب أنبأ أبو بكر الإسماعيلي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Alms section book › Alms section book · Hadith 13146

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الصدقات ‹ كتاب قسم الصدقات · حديث 13147

[ 12926 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد الصفار ثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي ثنا عبد الله هو بن مسلمة القعنبي عن مالك ح وأنبأ أبو بكر أحمد بن محمد بن غالب الخوارزمي ببغداد ثنا أبو العباس محمد بن أحمد يعني بن حمدان ثنا أبو سعيد محمد بن شاذان ثنا قتيبة بن سعيد ثنا المغيرة بن عبد الرحمن كلاهما عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس المسكين بهاذا الطواف الذي يطوف على الناس فترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان قالوا فمن المسكين يا رسول الله قال الذي لا يجد غنى يغنيه ولا يفطن له فيتصدق عليه ولا يسأل الناس شيئا لفظ حديث المغيرة وفي رواية مالك ولا يقوم فيسأل الناس رواه البخاري في الصحيح عن بن أبي أويس عن مالك ورواه مسلم عن قتيبة وكذلك رواه محمد بن زياد عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه وفيه كدلالة على أن المسكين هو الذي ليس له غنى يغنيه لكن له بعض الغنى فيكتفي به ويتعفف عن السؤال

حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: مسکین یہ لوگ نہیں ہی جو لوگوں پر پھرتے رہتے ہیںا ور ایک یا دو لقمے یا ایک کھجور یا دو کھجوریں ان کی طرف لوٹتی ہیں صحابہ کرام نے سوال کیا : اے اللہ کے نبی ﷺ! مسکین کون لوگ ہیں؟" فرمایا: وہ جسو کے پاس اتنا مال نہیں جو اس کو کفایت کرے اور نہ اک کو پہچانا جاتا ہے کہ ان پر صدقہ کیا جائے اور نہ ہی وہ لوگوں سے سوال کرتے ہیں مالک کی روایت کے الفاظ ہیں کہ وہ لوگوں سے مانگنے کےلیے کھڑے نہیں ہوتے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← المغيرة بن عبد الرحمن، كلاهما ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو سَعِيدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ← أبو العباس محمد بن أحمد يعني بن حمدان ← وأنبأ أبو بكر أحمد بن محمد بن غالب الخوارزمي ببغداد ← مَالِكٍ، ← عبد الله هو بن مسلمة القعنبي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Alms section book › Alms section book · Hadith 13147

chevron_left Previous
1234…13
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead