سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الاستسقاء ‹ جماع أبواب تارك الصلاة · حديث 6503
[ 6295 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ثنا أبو داود سليمان بن الأشعث ثنا مسدد وسليمان بن داود العتكي قالا ثنا حماد بن زيد عن المعلى بن زياد وهشام بن حسان عن الحسن عن ضبة بن محصن عن أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم سيكون عليكم أئمة تعرفون منهم وتنكرون فمن أنكر قال سليمان قال هشام بقلبه فقد بريء ومن كره فقد سلم لكن من رضي وتابع فقيل يا رسول الله أولا نقاتلهم فقال لا ما صلوا رواه مسلم في الصحيح عن أبي الربيع سليمان بن داود
6503 – نبی کری ﷺ کی زوجہ ام سلمتہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب تم پر اتمہ مقرر کیے جائیں گے ۔ تم ان سے کچھ جانو گے اور کچھ کا انکار کرو گئ یعنی ۔ سلیما کہتے ہیں: ہشام نے کہا: جس نے یہ بات دل سے کہی تحقیق وہ بری ہو گیا اور جس نے نا پسند کیا تو وہ محفوظ ہو گیا لیکن کامیاب وہ شخص ہوا جو اس پر وش ہوا اور تا بعداری کی تو کہا گیا: اے اللہ کے رسول ! کیا ہم انہیں قتل نہ کر دیں تو آپ نے فرمایاں نہیں جب تک وہ نماز نہ پڑھے ۔
أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ ← الْحَسَنِ، ← الْمُعَلَّی بْنِ زِيَادٍ وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَکِيُّ ← أبو داود سليمان بن الأشعث، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Hadith 6503
