Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6358

[ 6151 ] وأخبرنا أبو زكريا يحيى بن إبراهيم بن محمد بن يحيى ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ الربيع بن سليمان أنبأ الشافعي أنبأ إبراهيم قال حدثني عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن الحسن عن بن عباس أن القمر كسف وابن عباس بالبصرة فخرج بن عباس فصلى بنا ركعتين في كل ركعة ركعتين ثم ركب فخطبنا فقال إنما صليت كما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي وقال إنما الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته فإذا رأيتم شيئا منهما خاسفا فليكن فزعكم إلى الله

6358 – حضرت حسن عبداللہ بن عباس سے نقل فرماتے ہیں کہ چاند گرہن ہوا اور ابن عباس بصرہ میں تھے ۔ انہوں نے ہمیںد و رکعت نما ز پڑھائی اور ہر رکعت میںڈ و رکوع کیے پھر سوا رہوئے اور ہمیں خطبہ دیا فرماتے ہیں: میں نے نماز پڑھائی جیسا کہ میں نے نبی ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا اور سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ یہ کسی کی موت وزندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے جب تم میں سے کوئی اسے دیکھے تو اللہ سے مدد طلب کرے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← الْحَسَنِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ الربيع بن سليمان أنبأ الشافعي أنبأ إبراهيم ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى،

Hadith 6358

Daif

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6359

[ 6152 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عمر المقري أنبأ أحمد بن سلمان ثنا إسحاق بن الحسن ثنا القعنبي ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا السري بن خزيمة ثنا عبد الله بن مسلمة عن مالك عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضى الله تعالى عنها أنها قالت خسفت الشمس في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناس فقام فأطال القيام ثم ركع فأطال الركوع ثم قام فأطال القيام وهو دون القيام الأول ثم ركع فأطال الركوع وهو دون الركوع الأول ثم رفع فسجد ثم فعل في الركعة الأخرى مثل ذلك ثم انصرف وقد تجلت الشمس فخطب الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال إن الشمس والقمر لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته فإذا رأيتم ذلك فادعوا الله وكبروا وتصدقوا ثم قال يا أمة محمد والله ما من أحد أغير من الله أن يزني عبده أو تزني أمته يا أمة محمد لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن مسلمة القعنبي ورواه مسلم عن قتيبة عن مالك

ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کےد ور میں صورج گرہن ہوا۔ نبی ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ آپﷺ نے لمبا قیام کیا پھ رآپﷺنے لمبا رکوع کیا پھر آپ ﷺ کھرے ہوئے اور لمبا قیام کیا لیکن پہلے سے مختصر ۔ پھر لمبا رکوع کیا لیکن پہلے سے ذرا کم پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ کیا۔ پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا پھر سلام پھیر دیا اور سورج روشن ہو چکا تھا۔ آپﷺ نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اللہ کی حمدو ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: سورج اور چاند کو کسی کی وت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم اس کو دیکھو تو اللہ سے دعا کرو ۔ اللہ کی بڑائی بیان کرو اور صدقہ دو۔ پھر فرمایا: اے امت محمد ؤ! اللہ کی قسم! اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں کہ اس کا بندہ یا بندی زنا کرے پھر فرمایا: اے امت محمدﷺ! اگر تم جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسو کم اور وہ زیادہ ۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب ← الْقَعْنَبِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أبو الحسن علي بن أحمد بن عمر المقري أنبأ أحمد بن سلمان

Hadith 6359

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6360

[ 6153 ] أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنبأ جدي يحيى بن منصور القاضي ثنا أحمد بن سلمة ثنا الحسين بن منصور ومحمد بن رافع قالا ثنا عبد الله بن نمير ثنا هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر قالت خسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخلت على عائشة رضى الله تعالى عنها وهي تصلي فقلت ما شأن الناس يصلون فأشارت برأسها إلى السماء فقلت آية قالت نعم فأطال رسول الله صلى الله عليه وسلم القيام جدا حتى تجلاني الغشي فأخذت قربة من ماء إلى جنبي فجعلت أصب على رأسي فانصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد تجلت الشمس فخطب رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال أما بعد ما من شيء توعدونه لم أكن رأيته إلا قد رأيته في مقامي هذا حتى الجنة والنار وإنه قد أوحي إلي أنكم تفتنون في القبور قريبا أو مثل فتنة المسيح الدجال لا أدري أي ذلك قالت أسماء يؤتى أحدكم فيقال له ما علمك بهذا الرجل فأما المؤمن أو الموقن فيقول هو محمد هو رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءنا بالبينات والهدى فأجبنا واتبعنا ثلاث مرات فيقال له قد كنا نعلم أنك كنت تؤمن به فنم صالحا وأما المنافق أو المرتاب فيقول لا أدري أي ذلك قالت أسماء فيقول لا أدري سمعت الناس يقولون شيئا فقلت قال أبو الفضل وهذا لفظ حديث الحسين رواه مسلم في الصحيح عن أبي كريب محمد بن العلاء عن عبد الله بن نمير وأخرجه البخاري من أوجه آخر عن هشام

6360 - اسماء بنت ابی بکر فرماتیہیں: نبی ﷺ کے دور میں صورج گرہن ہوا تو میں حضرت عائشہ کے پاس آئی وہ نما زپڑھر ہئ تھیں۔ میں نے کہا: لوگوں کی کیا حالت ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں؟ حضرت عائشہ نے اپنے سر کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے کپا: یہ نشانی ہے؟ کہنے لگیں: ہاں۔ رسول اللہﷺ نے بہت طویل قیام کیا یہاں تک کہ مھ غشی طاری ہو گئی ۔ میں نے ایک چھوٹا مشکیزہ اپنے پہلو میں رکھا اور سر پر پانی ڈالنے لگی، نبی ﷺ نے نماز سے فارغ ہوئے تو سورج روشم ہو چکا تھا نبی ﷺ نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اللہ کی حمدو ثنا بیان کی پھر فرمایا: جس چیز کا بھی تمہیں وعدہ کیا گیا تھا میں نے اس کو اپنی اس جگہ پر دیکھ لیا یہاں تک کہ جنت اور جہنم بی ۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: میری طرف وحی کی گئی ہے کہ تم قبروں میں مسیح دجال کے فتنے کی طرح آزمائے جاو گے میں نہیں انتا یہ کیا ہے اسماء فرمتی ہیں: تمہارے پاس کسی صاحب کو لایا جائے گا اور ا س بارے میں کہا جائے گا کہ اس کو جانتے ہو َ؟ مومن اور یقین رکھنے والا کہے گا کہو ہ محمد ﷺ ہیں اللہ کے رسول ہیں وہ ہمارے پاس واضح دلائل اور ہدایت لے کر آئے تھے تو ہم نے ان کی بات کو قبول کیا اور ان کی اطاعت کی ایسا تین بار کہے گا۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← الحسين بن منصور ومحمد بن رافع ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنبا جدي يحيى بن منصور القاضي

Hadith 6360

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6361

[ 6154 ] أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن مكرم ثنا أبو النضر ثنا زهير ح وأخبرنا محمد ثنا علي بن حمشاذ العدل ثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا زهير عن الأسود بن قيس قال حدثني ثعلبة بن عباد العبدي من أهل البصرة أنه شهد خطبة يوما لسمرة بن جندب فذكر في خطبته بينا أنا يوما وغلام من الأنصار نرمي غرضا لنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا كانت الشمس على قيد رمحين أو ثلاثة في عين الناظر من الأفق اسودت حتى آضت كأنها تنومة فقال أحدنا لصاحبه انطلق بنا إلى المسجد فوالله ليحدثن شأن هذه الشمس لرسول الله في أمته حدثا فدفعنا إلى المسجد فإذا هو بارز فوافقنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حين خرج إلى الناس قال فتقدم فصلى بنا كأطول ما قام بنا في صلاة قط لا يسمع له صوته ثم ركع بنا كأطول ما ركع بنا في صلاة قط لا يسمع له صوته ثم سجد بنا كأطول ما سجد بنا في صلاة قط لا يسمع له صوته قال ثم فعل في الركعة الثانية مثل ذلك قال فوافق تجلي الشمس جلوسه في الركعة الثانية قال ثم سلم فحمد الله تعالى وأثنى عليه وشهد أن لا إله إلا الله وشهد أنه عبده ورسوله ثم قال يا أيها الناس إنما أنا بشر ورسول الله فأذكركم الله إن كنتم تعلمون إني قصرت عن شيء من تبليغ رسالات ربي لما أخبرتموني حتى أبلغ رسالات ربي كما ينبغي لها أن تبلغ وإن كنتم تعلمون أني قد بلغت رسالات ربي لما أخبرتموني قال فقام الناس فقالوا نشهد أنك قد بلغت رسالات ربك ونصحت لأمتك وقضيت الذي عليك قال ثم سكتوا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أما بعد فإن رجالا يزعمون أن كسوف هذه الشمس وكسوف هذا القمر وزوال هذه النجوم عن مطالعها لموت رجال عظماء من أهل الأرض وأنهم كذبوا ولكن آيات من آيات الله يفتن بها عباده لينظر من يحدث منهم توبة والله لقد رأيت منذ قمت أصلي ما أنتم لاقون في دنياكم وأخراكم وإنه والله لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا آخرهم الأعور الدجال ممسوح العين اليسرى كأنها عين أبي تحيى لشيخ من الأنصار وإنه متى خرج فإنه يزعم أنه الله فمن آمن به وصدقه واتبعه فليس ينفعه صالح من عمل سالف ومن كفر به وكذبه فليس يعاقب بشيء من عمله سلف وإنه سيظهر على الأرض كلها إلا الحرم وبيت المقدس وإنه يحضر المؤمنين في بيت المقدس فيزلزلون زلزالا شديدا فيهزمه الله وجنوده حتى أن جذم الحائط وأصل الشجرة لينادي يا مؤمن هذا كافر يستتر بي تعال اقتله قال ولن يكون ذلك حتى تروا أمورا يتفاقم شأنها في أنفسكم تساءلون بينكم هل كان نبيكم ذكر لكم منها ذكرا وحتى يزول جبال عن مراسيها ثم على أثر ذلك القبض وأشار بيده قال ثم شهدت خطبة أخرى قال فذكر هذا الحديث ما قدمها ولا أخرها

6361 – ثعلبہ بن عباد عبدی بصری ایک دن سمرہ بن جندب کے خطبہ میں حاضر ہوئے انوہں نے فرمایا: میںاور انصار کے بچے ایک دن نبی ﷺ کےد ور میں نشانہ بازی کر رہے تھے کہ سورج آسمان کے کنارے میں دو نیزے یا تین نیزے کی مقدار کے مطابق لگ رہا تھااور سورج بے نور ہو چکا تھا تو ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا:ُ ہمارے ساتھ مسجد چلیے ۔ اللہ کی قسم! اس سورج نے نبی ﷺ کی امت کے لیے نئی بات پیدا کر دی ہے۔ ہم مسجد کی طر ف لوتے ۔ اچانک نبی ﷺ بھی ظاہر ہوئے تو ہم نے نبی ﷺ کی موافقت کی جس وقت آپ لوگوں کی طرف نکلے ۔ راوی فرماتے ہیں: آپﷺ آگے بطڑھے او رہمیں نماز پڑھائی ۔ اتنا لمبا قیام کیا کہ اس سے پہلے آپﷺ نے کبھی ہمیں اتنا لمبا قیام نہیں کروایا اور آپﷺ کی آواز بھی سنائی نہ دی ۔ پھر آپﷺ نے اتنا لمبا رکوع کروایا جتنا کبھی پہلے نہیں کیا ۔ پھر آپﷺنے ہمیں سجدہ کروایا اور اتنا لمبا کہ پہلے کبھی اتنا لمبا سجدہ نہیں کروایا تھا اور آپﷺکی آواز بھی سنائی نہ دی ۔ پھر آپﷺنے دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا اور سورج روشن ہونے تک دوسری رکعت میں بیٹھے رہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں پھر آپﷺنے سلام پھیرا۔ اللہ کی حمدوثنا بیان کی اور اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبو د نہیں اور یہ کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں پھر فرمایا: اے لوگو! میں انسان ہوں اور اللہ کا رسول ہوں۔ میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچانے میں کوتاہی کی ہے ۔ جب تم مجھے خبر دو گے یہاں تک کہ میں اپنے رب کے پیغامات پہچا دوں جیسا کہ مناسب ہے کہ ان کو پہنچایا جائے اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کے پیغانات کو پہنچا دیا ہے تو مجھے خبر دے دو۔ راوی کہتے ہیں لوگوں نے کھرے ہو کر کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں۔ آپ نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے اور اپنی امت کی خیر خواہی کی اور آپ نے وہ حق ادا کیا جو آپ ﷺ کے اوپر تھا۔ راوی کہتے ہیں: پھر سارے خاموش ہو گئے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: لوگ خیال کرتے ہیں کہ ئی چاند اور سورج گرن ہونا اور ستاروں کا اپنے طلوع ہونے کی جگہوں سے زائل ہو جانا زمین والوں میں سے کسی برے کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے حالاں کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔

ثَعْلَبَةُ بْنُ عِبَادٍ الْعَبْدِيُّ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← مُحَمَّدٍ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو النَّضْرِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 6361

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6362

[ 6155 ] وأخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد ثنا أبو جعفر محمد بن يحيى بن عمر بن علي بن حرب الطائي ثنا أبو جدي علي بن حرب ثنا أبو داود يعني الحفري عن سفيان عن الأسود بن قيس عن ثعلبة بن عباد عن سمرة بن جندب أن النبي صلى الله عليه وسلم حين انكسفت الشمس خطب فقال أما بعد

6362 – سمرۃ بن جندب فرماتے ہیں کہ جب سورج گرہن ہوا ۔ نبی ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا: آپﷺ نے فرمایا:

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الْحَفَرِيَّ ← أبو جدي علي بن حرب ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عمر بْنِ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ الطَّائِيِّ ← وأخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد

Hadith 6362

Sahih

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6363

[ 6156 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو سعيد بن أبي عمرو قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الحميد الحارثي ثنا أبو أسامة عن يزيد عن أبي بردة عن أبي موسى قال كسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام فزعا يخشى أن تكون الساعة حتى أتى المسجد فقام يصلي بأطول قيام وركوع وسجود ما رأيته يفعله في صلاة قط ثم قال إن هذه الآيات التي يرسل الله لا تكون لموت أحد ولا لحياته ولكن الله أرسلها يخوف بها عباده فإذا رأيتم منها شيئا فافزعوا إلى ذكر الله ودعائه واستغفاره رواه البخاري ومسلم جميعا في الصحيح عن أبي كريب عن أبي أسامة

ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن ہوا۔ آپﷺ گھبرا کر اٹھے ۔ آپﷺ ڈر رہے تھے کہ کہیں قیامت قائم نہ وہ جائے ۔آپﷺ مسجد میں آئے اور لمبا قیام رکوع اور سجود والی نماز پڑھائی ۔ میں نے اپ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے ایسا کبھی نماز میں کیا ہو ۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: یہ اللہ کی نشانیاں ہپیں یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے ظیوع پذیر نہیں ہوتیں۔ لیکن اللہ ان کو اس لیے بھیجتا ہے کہ ان کے ذریعے وہ اپنے بندوں کو ڈرائے ۔ جب تم اس میں سے کوئی چیز دیکھو تو تم اللہ کے ذکر اور س سے دعا و استغفار میں جلدی کرو۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يَزِيدُ: ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 6363

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6364

[ 6157 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ إملاء ثنا إسماعيل بن قتيبة وحسن بن سفيان قالا ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا عبد الله بن نمير ثنا هشام عن أبيه عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت خسفت الشمس في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر الحديث في صلاته قالت ثم انصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد تجلت الشمس فخطب الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال إن الشمس والقمر من آيات الله وإنهما لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته فإذا رأيتموها فكبروا وادعوا الله وصلوا وتصدقوا يا أمة محمد إن من أحد أغير من الله أن يزني عبده أو تزني أمته يا أمة محمد لو تعلمون ما أعلم لبكيتم كثيرا ولضحكتم قليلا ألا هل بلغت رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة وروى هذا الحديث عن الليث بن سعد عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وقال فيه فإذا رأيتم ذلك فادعوا الله وصلوا وتصدقوا واعتقوا

6364 – ہشام اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کےد ور میں صور گرہن ہوا پھر انہوں نے نماز کے بارے میں لمبی حدیث ذکر کی ۔ فرماتی ہیں کہ پھر آپﷺ پھرے تو سورج روشن ہو چکا تھا ۔ آپﷺ نے اللہ کی حمدو ثنا بیان کی اور فرمایا: سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں ان دونوں کو کسی کی زندگی یا موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا ۔ جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اللہ کی بڑائی بیان کرو۔ اللہ سے دعا کرو نما زپڑھو اور صدقہ کرو۔

الحديث في صلاته ← خسفت الشمس في عهد رسول الله ← عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← إسماعيل بن قتيبة وحسن بن سفيان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 6364

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6365

[ 6158 ] أخبرنا أبو الحسن بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد الصفار ثنا أحمد بن علي الخزاز ثنا عاصم بن علي ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ عمر بن حفص ثنا عاصم بن علي ثنا الليث بن سعد فذكره ولفظ الإعتاق في رواية هشام عن أبيه عن عائشة غريب والمشهور عن هشام عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بذلك

6365 – اسماء بنت ابی بکر فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے اس کا حکمدیا ہے یعنی گر دنیں آزاد کرنے کا۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامٍ ← عائشة غريب والمشهور ← أَبِيهِ ← الليث بن سعد فذكره ولفظ الإعتاق في رواية هشام ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ عمر بن حفص ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ،

Hadith 6365

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6366

[ 6159 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عمر المقري ببغداد أنبأ أحمد بن سلمان قال قرئ علي عبد الملك بن محمد وأنا أسمع قال حدثنا أبو حذيفة ثنا زائدة عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء رضى الله تعالى عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بالعتاقة عند الكسوف رواه البخاري في الصحيح عن أبي حذيفة موسى بن مسعود وغيره قال البخاري تابعه الدراوردي عن هشام

6366 – فاطمہ بنت منذر اسما بنت ابی بکر سے نقل فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے کسوف کے وقت گردنیں آزاد کرنے کا حکم دیا ہے ۔

فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← أسمع ← قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ

Hadith 6366

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6367

[ 6160 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني ثنا جدي ثنا إبراهيم بن حمزة ثنا عبد العزيز بن محمد فذكره بمثل إسناده قالت أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بعتاقة حين كسفت الشمس

6367 - عبدالعزیز بن محمد اس جیسی سند سے ذ کر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے گردنیں آزاد کرنے کا حکم دیا ہے جب سورج گرہن لگے ۔

عبد العزيز بن محمد فذكره بمثل إسناده ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← جَدِّي،

Hadith 6367

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6368

[ 6161 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق أنبأ يوسف بن يعقوب القاضي ثنا محمد بن أبي بكر ثنا عثام بن علي ثنا هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت أبي بكر رضى الله تعالى عنها قالت كنا نؤمر عند الخسوف بالعتاقة رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن أبي بكر

6368 – فاطمہ بنت منذر اسماء بنت ابی بکر سے نقل فرماتی ہیں کہ خسوف کے وقت ہمیں گردنیں آزاد کرنے کا حکم دیا گیا۔

مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← كنا نؤمر عند الخسوف بالعتاقة رواه البخاري في الصحيح ← أسماء بنت أبي بكر رضى الله تعالى عنها ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ،

Hadith 6368

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6369

[ 6162 ] أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي ثنا أبو العباس ثنا بحر بن نصر قال قرئ على بن وهب أخبرك يونس بن يزيد عن بن شهاب قال أخبرني عروة بن الزبير عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت خسفت الشمس في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى المسجد وذكر الحديث أخرجه مسلم في الصحيح من حديث بن وهب وأخرجه البخاري من حديث عنبسة عن يونس ورواه أبو موسى الأشعري وأبو بكر وسمرة بن جندب وأسماء بنت أبي بكر رضى الله تعالى عنهم في صلاته في المسجد

عروہ بن زبیر نبی ﷺ کی بیوی عائشہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی زندگی میں سورج گرہن ہوا تو نبی ﷺ مسجد کی طرف آئے ۔ ابو موسیٰ اشعری ابو بکرہ سمرۃ بن جندب اسما بنت ابی بکر یہ تمام فرماتے ہیں کہ آپﷺ کی نماز مسجد میں ہوتی تھی ۔

بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي

Hadith 6369

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead