Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6310

[ 6104 ] وأخبرنا أبو عبد الله أخبرني أبو الوليد ثنا إبراهيم بن أبي طالب ثنا بن أبي عمر ثنا سفيان بإسناده ومعناه رواه مسلم في الصحيح عن بن أبي عمر إلا أنه لم يسق المتن وأحال به على رواية سليمان بن بلال عن يحيى بن سعيد وليس في رواية سليمان وصف السجود بالطول وهو في رواية بن عيينة كما ذكرنا

6310 –

Hadith 6310

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6311

[ 6105 ] وأخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله بن عبد الله الحرفي ببغداد أنبأ أبو بكر محمد بن عبد الله بن إبراهيم الشافعي ثنا أحمد بن محمد بن عيسى البرتي القاضي ثنا أبو نعيم ثنا شيبان عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن عبد الله بن عمرو قال انكسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم نودي الصلاة جامعة فركع ركعتين في سجدة ثم قام فركع ركعتين في سجدة ثم جلس حتى جلى عن الشمس فقالت عائشة رضى الله تعالى عنها ما سجدت سجودا قط ولا ركعت ركوعا قط أطول منه رواه البخاري في الصحيح عن أبي نعيم وأخرجه مسلم عن محمد بن رافع عن أبي النضر عن شيبان

6311 – عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں صورج گرہن ہو گیا تو اعلان ہوا کہ نماز کے لیے جمع ہو جاؤ۔ آپﷺ نے ایک رکعت میں دو رکوع کیے ۔ پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت میں دو رکوع کیے پھر آپﷺ بیٹھ گئے ۔ یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا۔ عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے اتنا لمبا سجدہ اور رکوع کبھی نہیں کیا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← شَيْبَانَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي،

Hadith 6311

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6312

[ 6106 ] وأخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي أنبأ أبو بكر أحمد بن سلمان النجاد قال قرئ على يحيى بن جعفر وأنا أسمع قال ثنا أبو عامر العقدي ثنا سفيان عن يعلى بن عطاء عن أبيه وعطاء بن السائب عن أبيه جميعا عن عبد الله بن عمرو قال انكسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فأطال القيام حتى قيل لا يركع فركع فأطال الركوع حتى قيل لا يرفع فرفع فأطال حتى قيل لا يسجد ثم سجد فأطال حتى قيل لا يرفع ثم رفع فجلس فأطال الجلوس حتى قيل لا يسجد ثم سجد فأطال السجود ثم رفع وفعل في الأخرى مثل ذلك حتى انجلت الشمس فهذا الراوي حفظ عن عبد الله بن عمرو طول السجود ولم يحفظ ركعتين في ركعة وأبو سلمة حفظ ركعتين في ركعة وحفظ طول السجود عن عائشة

6312 - عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے دور می سورج گرہن لگ گیا ۔ آپﷺ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ لوگ کہنے لگے: آپﷺ رکوع نہیں کریں گے ۔ آپ نے پھر اتنا لمبا رکوع کا کہ لوگ کہنے لگے: آپﷺ رکوع سے سر نہین اتھایے گے ۔ جب رکوع سے سر اٹھایا تو کہا گیا کہ آپﷺ سجدہ نہیں فرمائیں گے ۔ پھر جب سجدہ کیا تو اتنا لمبا کہ لوگ کہنے لگے: آپﷺ سجدے سے سر نہیں اٹھائیں گے ۔ پھر آپﷺ نے سر اٹھایا اور بیٹھ گئے ۔ زیادہ دیر بیٹھے رہے ۔

أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي أنبأ أبو بكر أحمد بن سلمان النجاد

Hadith 6312

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6313

وقد رواه مؤمل من إسماعيل عن سفيان وزاد في الحديث ثم رفع رأسه فأطال القيام حتى قيل لا يركع ثم ركع فأطال الركوع حتى قيل لا يرفع أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا حميد بن عياش الرملي ثنا مؤمل بن إسماعيل ثنا سفيان فذكره بالإسنادين جميعا مع هذه الزيادة وقد أخرجه بن خزيمة في مختصر الصحيح

6313 - مؤمل بن اسماعیل حضرت سفیان سے نقل فرماتے ہیں: حدیث میں کچھ الفاظ زئد بھی ہیں: پھر آپﷺ نے اپنے سر کو اتھایا تو قیام کو لمبا کر دیا ۔ یہاں تک کہ کہا گیا کہ آپﷺ رکع نہیں کریں گے ۔ پھر اپﷺ نے لمبا رکوع کیا یہاں تک کہ کہا گیا کہ آپﷺ اپنے سر کو رکوع سے نہیں اٹھائیں گے ۔

Hadith 6313

Sahih

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6314

[ 6107 ] أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنبأ عبد الله بن جعفر بن أحمد بن فارس ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود الطيالسي ثنا هشام عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله قال كسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في يوم شديد الحر فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأطال القيام حتى جعلوا يخرون قال ثم ركع فأطال ثم رفع فأطال ثم ركع فأطال ثم رفع فأطال ثم سجد سجدتين ثم قام فصنع مثل ذلك فكانت أربع ركعات وأربع سجدات وجعل يتقدم ويتأخر في صلاته ثم أقبل على أصحابه فقال إني عرضت على الجنة والنار فقربت مني الجنة حتى لو تناولت منها قطفا نلته أو قال قصرت يدي عنه شك هشام وعرضت على النار فجعلت أتأخر رهبة أن تغشاكم ورأيت امرأة حميرية سوداء طويلة تعذب في هرة لها ربطتها فلم تطعمها ولم تسقها ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض ورأيت فيها أبا ثمامة عمرو بن مالك يجر قصبه في النار وأنهم كانوا يقولون إن الشمس والقمر لا ينكسفان إلا لموت عظيم وأنهما آيتان من آيات الله يريكموها فإذا انكسفا فصلوا حتى ينجلي أخرجه مسلم في الصحيح من وجهين عن هشام الدستوائي

6314 - جابر بن عبداللہ فرماتے ہین کہ رسول اللہﷺ کے دور میں سخت گرمی کے دن سورج گرہن ہو گیا۔ نبی ﷺ نے نماز پڑھائی تو لمبا قیام فرمایا کہ لوگ گرنے لگے: پھر آپ نے رکع کیا اور لمبا کر دی ا۔ پھر آپﷺ نے اپنے سر کو اتھایا تو زیادہ دیر کھڑے رہے ۔پھر لمبا رکوع کر دیا ۔ پھر رکوع سے سر کو اٹھایا تو زیادہ دیر ٹھہرے رہے ۔ پھر آپﷺ نے دو سجدے کیے ۔ پھر آپﷺ کھڑے ہوئے اور اس طرح کیا۔ یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے ۔ آپﷺ نماز میں تقدم و تاخر کر لیا کرتےتھے ۔ پھر اپنے صحابہ کی طرف متوھہ ہوئے اور فرمایا: میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیاتو جنت میرے قریب کی گئی ۔ اگر میں س سے ایک گھچا پکڑنا چاہتا تو پکڑ لیتا یا فرمایا: میرا ہاتھ اس سے قاصر رہ گیا۔ ہشام کو شک ہے اور جہنم میرے سامنے پیش کی گئی ۔ میں ڈر کی وجہ سے پیچھے ہٹ رہا تھا کہیں وہ تم کو ڈھانپ نہ لے ۔ میں نے اس میں ایک سیاہ رنگ کی حمیری عورت دیکھی وہ ایک بلی کی وجہ سے عذاب دی جا رہی تھی ۔ اس نے اس کو باندھ دیا تھا نہ کھلایا نہ پلایا اور نہہی چھوڑا کہ وہ حشرات الارض ہی کھا لیتی اور می نے دیکھا ابو ثمانہ عمرو بن مالک کو وہ اپنی انتیں جہنم میں گسٹ رہا تھا اور لوگ کہا کرتے ہین کہ سورج و چاند کسی برے کی موت کی وجہ سے ہی ہے بے نور ہوتے حالاں کہ یہ دونوں تو اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں وہ تم کو دکھائی دے رہی ہیں۔ جب ان کو گرہن لگ جائے تو نماز پرھو یہاں تک کہ یہ روشن ہو جائیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ

Hadith 6314

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6315

[ 6108 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني عبد الله بن سعد البزاز ثنا أبو بكر محمد بن إسحاق ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا محمد بن إدريس الشافعي ثنا يحيى بن سليم عن عبيد الله عن نافع عن بن عمر أن الشمس خسفت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى النبي صلى الله عليه وسلم بالناس ركعتين في كل ركعة ركعتين وروي هذا الحديث أيضا عن إبراهيم بن محمد بن العباس الشافعي عن يحيى بن سليم فهو مما تفرد به يحيى بن سليم عن عبيد الله بن عمرو فيما مضى كفاية

6315 – نافع ابن عمر سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں صورج گرہن لگ گیا تو نبی ﷺ نے لوگوں کو دو رکعت نماز پرھائی اور ہر رکعت میں دو رکوع کیے ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيِّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ← عبد الله بن سعد البزاز ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 6315

Sahih

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6316

[ 6109 ] حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد الأرموي الفقيه أنبأ الفقيه أبو القاسم عبد الله بن أحمد بن محمد بن يعقوب النسوي بها أنبأ أبو العباس الحسن بن سفيان حدثني الحسين بن علي عن يعقوب بن إبراهيم ثنا أبي عن محمد بن إسحاق قال حدثني الحارث بن فضيل الأنصاري ثم الخطمي عن سفيان بن أبي العوجاء عن أبي شريح الخزاعي قال كسفت الشمس في عهد عثمان رضى الله تعالى عنه بالمدينة وبها عبد الله بن مسعود قال فخرج عثمان رضى الله تعالى عنه فصلى بالناس تلك الصلاة ركعتين وسجدتين في كل ركعة قال ثم انصرف عثمان فدخل داره وجلس عبد الله بن مسعود إلى حجرة عائشة وجلسنا إليه فقال إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأمر بالصلاة عند كسوف الشمس والقمر فإذا رأيتم قد أصابهما فافزعوا إلى الصلاة فإنها إن كانت التي تحذرون كانت وأنتم على غير غفلة وإن لم تكن كنتم قد أصبتم خيرا أو اكتسبتموه وكذلك رواه أبو خيثمة زهير بن حرب عن يعقوب بن إبراهيم بن سعد

6316 – ابو شریح خزاعی فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان کے دور میں مدینہ میں سورج گرہن ہوا۔ ان کے ساتھ عبداللہ بن مسعود بھی تھے ۔ حضرت عچمان نکلے او لوگوں کو نماز پرھائی ۔ ہر رکعت میں دو رکوع اور دو سجدے ۔ پھر حضرت عثمان پھر گئے ۔ اور اپنے گھر داخل ہوئے۔ ابن مسعود عائشہ کے حجرہ میں بیٹھ گئے ۔ ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ فرماتے ہیں کہ رول اللہﷺ سورج اور چاند گرہن کے وقت نماز کا حکم دیتے تھے اور جب تم دیکھو کہ سورج اور چاند کو گرہن نے پا لیا ہے تو تم نماز کی طرف جلدی کرو۔

أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ← سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ، ← الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثُمَّ الْخَطْمِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ،

Hadith 6316

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6317

[ 6110 ] وأخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد المقرئ ببغداد أنبأ أحمد بن سلمان قال قرئ على يحيى بن جعفر أنبأ عبد الوهاب ثنا سعيد عن قتادة عن عزرة عن الحسن العرني أن حذيفة صلى بالمدائن مثل صلاة بن عباس في الكسوف

6317 – حسن عرنی فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ نے مدائن میں ابن عباس کی طرح کسوف کی نماز پرھائی ۔

الحسن العرني أن حذيفة صلى بالمدائن مثل صلاة بن عباس في الكسوف ← عَزْرَۃَ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← قرئ على يحيى بن جعفر أنبأ عبد الوهاب ← وأخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد المقرئ ببغداد أنبأ أحمد بن سلمان

Hadith 6317

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6318

[ 6111 ] أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنبأ جدي يحيى بن منصور القاضي ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم أنبأ محمد بن بكر أنبأ بن جريج قال سمعت عطاء يقول سمعت عبيد بن عمير يقول حدثني من أصدق يريد عائشة أن الشمس انكسفت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام قياما شديدا يقوم قياما ثم يركع ثم يقوم ثم يركع ثم يقوم ثم يركع ركعتين في ثلاث ركوعات وأربع سجدات فانصرف وقد تجلت الشمس وكان إذا ركع قال الله أكبر ثم يركع وإذا رفع رأسه قال سمع الله لمن حمده فقام فحمد الله وأثنى عليه ثم قال إن الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته ولكنهما من آيات الله يخوف الله بهما فإذا رأيتم كسوفا فاذكروا الله حتى ينجلي رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم قال في الحديث حسبته يريد عائشة وفي رواية عبد الرزاق وجماعة عن بن جريج ظننت أنه يريد عائشة

عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: جب نبی ﷺ کے دور میں صورج گرہن ہو گیا تو آپﷺ نے لمبا قیام کیا ۔ آپﷺ کھڑے ہوئے ۔ پھر رکوع فرمایا: پھر کھڑے ہوئے پھر رکوع فرمایا: پھر کھڑے ہوئے ۔ پھر آپﷺ نے دو رکعات پرھیں اور تی رکوع اور چار سجدے کیے ۔ پھر سلام پھیرا اور سورج روشن ہو چکا تھا۔ جب آپ رکوع کرتے تو فرماتے اللہ اکبر پھر رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: پھر آپﷺ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ۔

من أصدق يريد عائشة ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءٍ، ← إسحاق بن إبراهيم أنبأ محمد بن بكر أنبأ بن جريج ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنبا جدي يحيى بن منصور القاضي

Hadith 6318

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6319

[ 6112 ] أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر أنبأ جدي يحيى بن منصور ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم ومحمد بن بشار جميعا عن معاذ بن هشام وهذا حديث إسحاق وقال معاذ بن هشام حدثني أبي عن قتادة عن عطاء عن عبيد بن عمير عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ست ركعات في أربع سجدات قلت لمعاذ بن هشام أهو عن النبي صلى الله عليه وسلم قال نعم بلا شك ولا مرية رواه مسلم في الصحيح عن أبي غسان المسمعي ومحمد بن المثنى عن معاذ بن هشام قال الشيخ قتادة لم يشك في أنه عن عائشة وقد خالفهما عبد الملك بن أبي سليمان في إسناده فرواه عن عطاء بن أبي رباح عن جابر بن عبد الله وأخبر أن ذلك كان في اليوم الذي مات فيه إبراهيم بن رسول الله صلى الله عليه وسلم

6319 – عبید بن عمیر حضرت عائشہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے چھ رکوع ار چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی ۔ میں نے معاذ بن ہشام سے کہا : کیا وہ نبی ﷺ سے نقل فرماتی ہیں؟ فرمایا: ہاں اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔

معاذ بن هشام وهذا حديث إسحاق ← إسحاق بن إبراهيم ومحمد بن بشار جميعا ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو صالح بن أبي طاهر أنبأ جدي يحيى بن منصور

Hadith 6319

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6320

[ 6113 ] أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن محمد بن القاسم الغضائري ببغداد ثنا أبو بكر محمد بن يحيى الصولي إملاء سنة أربع وثلاثين وثلاث مائة ثنا أبو داود سليمان بن الأشعث ثنا أحمد بن محمد بن حنبل ثنا يحيى بن عبد الملك عن عطاء عن جابر قال كسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان ذلك في اليوم الذي مات فيه إبراهيم بن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال الناس إنما كسفت الشمس لموت إبراهيم فقام النبي صلى الله عليه وسلم فصلى بالناس ست ركعات في أربع سجدات كبر ثم قرأ فأطال القراءة ثم ركع نحوا مما قام ثم رفع رأسه فقرأ دون القراءة الأولى ثم ركع نحوا مما قام ثم رفع رأسه فقرأ القراءة الثالثة دون القراءة الثانية ثم ركع نحوا مما قام ثم رفع رأسه وانحدر للسجود فسجد سجدتين ثم قام فركع ثلاث ركعات قبل أن يسجد ليس فيها ركعة إلا التي قبلها أطول منها إلا أن يكون ركوعه نحوا من قيامه ثم تأخر في صلاته فتأخرت الصفوف معه ثم تقدم فقام في مقامه وتقدمت الصفوف معه فقضى الصلاة وقد طلعت الشمس فقال يا أيها الناس إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا ينكسفان لموت بشر فإذا رأيتم شيئا من ذلك فصلوا حتى تنجلي

6320 – جابر فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں صورج گرہن ہو گیا ۔ یہ وہ دن تھا جس میں نبی ﷺ کے بیٹے ابراہیم فوت ہوئے تو لوگوں نے کہا: یہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہوا ہے ۔ نبی ﷺ کھڑے ہوئے ۔ آپﷺ نے چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی ۔ آپﷺ نے تکبیر کہی ۔ پھر آپﷺ نے لمبی قراءت کی ۔ پھر اتنا ہی لمبا رکوع کیا۔ پھر آپﷺ نے رکوع سے سر اتھایا تو پہلی قرآءت سے ذرا کم قراءت کی ۔ پھر اتنا لمبا ہی رکوع کیا قیام کیا تھا۔ پھر آپﷺ نے تیسری مرتبہ قراءت کی جو دوسری مرتبہ والی قراءت سے کم تھی ۔ پھر قیام کے برابر رکوع کیا۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ ← أبو داود سليمان بن الأشعث، ← أبو بكر محمد بن يحيى الصولي إملاء سنة أربع وثلاثين وثلاث مائة ← أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن محمد بن القاسم الغضائري

Hadith 6320

سنن الکبری البھیقی · كتاب صلاة الخسوف ‹ باب · حديث 6321

[ 6114 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا عبد الله بن محمد الكعبي ثنا إسماعيل بن قتيبة ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا عبد الله بن نمير ح وأنبأ أبو الوليد ثنا الحسن بن سفيان ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا أبي ثنا عبد الملك فذكره بإسناده ومعناه إلا أنه قال وركوعه نحو من سجوده وزاد في تأخر الصفوف قال حتى إذا انتهى إلى النساء ثم زاد في آخر الحديث ما من شيء توعدونه إلا وقد رأيته في صلاتي هذه حتى جىء بالنار وذلك حين رأيتموني تأخرت مخافة أن يصيبني من لفحها وحتى رأيت فيها صاحب المحجن يجر قصبه في النار كان يسرق متاع الحجاج بمحجنه فإن فطن له قال إنه تعلق بمحجني وإن غفل عنه ذهب وحتى رأيت فيها صاحبة الهرة التي ربطتها فلم تطعمها ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض حتى ماتت جوعا ثم جىء بالجنة وذلكم حين رأيتموني تقدمت حتى قمت في مقامي ولقد مددت يدي وأنا أريد أن أتناول من ثمرها لتنظروا إليه ثم بدا لي أن لا أفعل فما من شيء توعدونه إلا قد رأيته في صلاتي هذه رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة ومحمد بن عبد الله بن نمير قال الشيخ رحمه الله من نظر في هذه القصة وفي القصة التي رواها أبو الزبير عن جابر علم أنها قصة واحدة وأن الصلاة التي أخبر عنها إنما فعلها يوم توفي إبراهيم بن رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد اتفقت رواية عروة بن الزبير وعمرة بنت عبد الرحمن عن عائشة ورواية عطاء بن يسار وكثير بن عباس عن بن عباس ورواية أبي سلمة بن عبد الرحمن عن عبد الله بن عمرو ورواية أبي الزبير عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم إنما صلاها ركعتين في كل ركعة ركوعين وفي حكاية أكثرهم قوله صلى الله عليه وسلم يومئد إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا تنخسفان لموت أحد ولا لحياته دلالة على أنه إنما صلاها يوم توفي ابنه فخطب وقال هذه المقالة ردا لقولهم إنما كسفت لموته وفي اتفاق هؤلاء العدد مع فضل حفظهم دلالة على أنه لم يزد في كل ركعة على ركوعين كما ذهب إليه الشافعي ومحمد بن إسماعيل البخاري رحمهما الله تعالى

6321 - عبدالملک نے اپنی سند سے اسی کے ہم معنی بیان کی اہے فرماتے ہیں کہ آپﷺ کا رکوع سجدے کی طرح ہی تھا۔ اس میں اضافہ کیا ہے کہ صفیں اس قدر پیچھے ہٹیں کہ وہ عورتوں تک پہنچ گئیں۔ حدیث کے آخر میں اضافہ ہے کہ کوئی چیز ایسی نہیں جس کا تم سے وعدہ کیا گیا اور میں نے اس کو اپنی اس نما زمیں نہ دیکھا ہو ۔ جہنم کو لایا گیا۔ جس وقت تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹ رہا ہوں اس ڈر سے کہ کہیں اس کے شعلے مجھے ہ پہنچی جائیں۔ یہاں تک کہ می نے اس میں کھونٹی والے کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں جہنم میں کھینچ رہا تھا۔ وہ حاجیوں کے سامان کو اپنی کھونٹی سے چرایا کرتا تھا۔ اگر اس کو علم ہو جاتا تو کہہ دیتا کہ وہ میری کھونٹی سے اٹک گیا۔ اگر اس کو پتہ نہ چلتا تو وہ لے جاتا اور میں نے جہنم میں ایک بلی کو باندھنے والی عورت کو دیکھا۔ نہ دیکھا نہ تو وہ اس کو کھلاتی تھی اور نہ ہی اس کو چھوڑتی تاکہ وہ زمین کے حشرات کو کھا کر گزار کر لیتی ۔ یہاں تک کہ وہ بھوکی مر گئی ۔ پھر جنت کو لایا گیا یہ اس وقت تھا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا ۔ یہاں تک کہ میں اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا اور میں نے اپنا ہاتھ پھیلایا تاکہ اس کے پھل حاصل ر لوں تاکہ تم دیکھا لو ۔ پھر میرے لیے ظاہر ہوا کہ میں ایسا نہ کروں۔ جس چیز کا بھی تم سے وعدہ کیا گیا میں نے اس کو اپنی اس نماز میں دیکھا ۔ شیخ فرماتے ہیں : ابو زبیر عن جابر والا اور یہ دونوں ایک ہی قصہ ہے اور نماز وہ بیان کی جب نبی ﷺ کے بیٹے ابراہیم فوت ہوئے ۔

Hadith 6321

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead