سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الخشوع في الصلاة والإقبال عليها قال الله جل ثناؤه { قد أفلح المؤمنون الذين هم في صلاتهم خاشعون } · حديث 3686
[ 3501 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني مخلد بن جعفر الدقاق ثنا جعفر الفريابي ح قال وأخبرني محمد بن أحمد المقري أخبرنا الحسن بن سفيان قالا ثنا أبو بكر بن أبي شيبه ثنا عبد الله بن نمير وأبو معاوية عن الأعمش عن سعد بن عبيده عن المستورد بن الأحنف عن صلة بن زفر عن حذيفة قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فافتتح البقرة فقلت يصلي بها في ركعة ثم مضى فقلت يركع بها ثم افتتح النساء فقرأها ثم افتتح آل عمران فقرأها يقرأ مترسلا إذا مر بآية فيها تسبيح سبح وإذا مر بسؤال سئل وإذا مر بتعوذ تعوذ ثم ركع فقال سبحان ربي العظيم فكان ركوعه نحوا من قيامه ثم قال سمع الله لمن حمده ثم قام قريبا مما ركع ثم سجد فقال سبحان ربي الأعلى فكان سجوده قريبا من قيامه رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة
حضرت حذیفہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آپ نے سورۃ بقرہ شروع کی تو میں نے کہا: آپﷺ اس کو ایک رکعت میں پڑھیں گے ۔ پھر آپﷺ پڑھتے چلے گئے ۔ میں نے کہا: اس میں ڑکوع کریں گئے پھر آپﷺ نے سورۃ نساء شروع کر دی اور پوری پڑھ ڈالی پھر سورۃ آل عمران شروع کی آپﷺ آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ رہے تھے ۔ جب کسی ایسی آیت پر پہنچے جس میں تسبیح ہو تو سبحان اللہ کہتے اور جب کسی سوال والی آیت کے پاس سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب پنا ہ والی آیت آتی تو پناہ مانگتے ۔ پھرآپﷺ نے رکوع کیا تو کروع میں پڑھتے رہے آ پ ﷺ نے رکوع کیا تو کرو عمیں پڑھتئ رہے آپق کا رکوع میں بھی آپ کئ قیام کے برابر تھا ۔
حُذَيْفَةَ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ ← جَعْفَرٌ الْفِرْيَابِيُّ، ← مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الدَّقَّاقُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Hadith 3686
