Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الكلام في الصلاة · حديث 3345

[ 3162 ] حدثنا أبو بكر بن فورك أخبرنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا شعبة عن عاصم عن أبي وائل عن عبد الله قال أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلمت عليه فلم يرد علي فأخذني ما قدم وما حدث فقلت يا رسول الله أحدث شيء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله عز وجل يحدث لنبيه من أمره ما شاء وإن مما أحدث أن لا تكلموا في الصلاة

3345 - عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ۔ میں نے آپ کو سلام کہا لیکن آپ نے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی اور پرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کوئی نیا حکم آگیا ہے کیا؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے لیے جو چاہتا ہے نیا حکم نازل کر دیتا ہے ۔ اب اللہ کا نیا حکم یہ ہے کہ تم نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse doors of speech in prayer · Hadith 3345

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الكلام في الصلاة · حديث 3346

[ 3163 ] أخبرنا أبو الحسن المقري أخبرنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا عمرو بن مرزوق أخبرنا زائدة عن عاصم عن شقيق عن عبد الله قال كنا نتكلم في الصلاة ويسلم بعضنا على بعض ويومي أحدنا بالحاجه قال فجئت ذات يوم والنبي صلى الله عليه وسلم يصلي فسلمت عليه فلم يرد فأخذني ما قدم وما حدث فلما فرغ قال إن الله عز وجل يحدث من أمره ما يشاء وإنه قد أحدث أن لا تكلموا في الصلا

3346 - حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز میں سلام کلام اور ایک دوسرے سے ضرورت کی باتیں کر لیا کرتے تھے لیکن جب میں ایک دن نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ۔ میں نے آپ کو سلام کہا لیکن اپ نے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی ج او رپرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی ۔ جب رسول اللہﷺ نے نماز مکمل کر لی تو فرمایا: اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے نیا حکم نازل فرما دیتاہے ۔ اب اللہ تعالیٰ کا نیا حکم یہ ہے کہ نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔

عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← عَاصِمٍ، ← زَائِدَۃَ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse doors of speech in prayer · Hadith 3346

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الكلام في الصلاة · حديث 3347

[ 3164 ]ة أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أخبرنا أحمد بن عبيد ثنا إسماعيل بن إسحاق ثنا إبراهيم بن الحجاج ثنا عبد الوارث بن سعيد عن كثير عن سعيد بن شنظير عن عطاء بن أبي رباح عن جابر بن عبد الله قال أرسلني النبي صلى الله عليه وسلم في حاجة له فجئت وقد قضيتها فسلمت عليه وهو يصلي فلم يرد علي

3347 – جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے مجھے اپنے کسی کام کے لیے بھیجا تو میں کام پورا کر کے لوٹا۔ میں نے آپﷺ کو سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہیں دیا۔ اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← سعيد بن شنظير ← کَثِيرٍ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← هـ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse doors of speech in prayer · Hadith 3347

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الكلام في الصلاة · حديث 3348

[ 3165 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرنا أبو النضر محمد بن يوسف الفقيه ثنا بن رجاء يعني أبي بكر محمد بن محمد بن رجاء السندي ثنا هارون بن عبد الله ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث حدثني أبي حدثني كثير بن شنظير ثنا عطاء عن جابر بن عبد الله قال أرسلني رسول الله صلى الله عليه وسلم في حاجه فانطلقت ثم رجعت وقد قضيتها فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فسلمت عليه فلم يرد علي فوقع في قلبي ما الله أعلم به فقلت في نفسي لعل رسول الله صلى الله عليه وسلم وجد علي أنني أبطأت عليه ثم سلمت عليه فلم يرد علي فوقع في نفسي أشد من المرة الأولى ثم سلمت عليه فرد علي فقال أما إنه لم يمنعني أن أرد عليك إلا أني كنت أصلي وكان على راحلته متوجها لغير القبلة رواه البخاري في الصحيح عن أبي معمر عن عبد الوارث وأخرجه مسلم من وجه آخر عن عبد الوارث

3348 – حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہےکہ رسول اللہﷺ نے مجھے ایک کام کے لیے بھیجا۔ میں کام پورا کر کے لوٹا تو آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا۔ آپﷺ نے جواب نہ دیا۔ میرے دل میں اللہ جانے کیا بت آتی ۔ مین نے اپنے دل میں کہا: شاید میں دیر سے آیا اس وجہ سے رسول اللہﷺ ناراض ہیں۔ پھر میں نے آپﷺ کو سلام کیا آپﷺ نے جواب نہ دیا۔ اب میرے دل میں پہلے سے زیادہ خیال آیا پھر میں نے تیسری مرتبہ سلام کیا تو آپﷺ نے جواب دیا اور رفرمایا:سنو ! میں نے اس لیے تمہارے سلام کا جواب نہ دیا کیوں کہ میں نماز پرھ رہا تھااور آپﷺ اونٹنی پر سوار تھے اس کا منہ قبلہ کی طرف نہ تھا بلکہ دوسری طرف تھا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← کَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← بن رجاء يعني أبي بكر محمد بن محمد بن رجاء السندي ← أبو النضر محمد بن يوسف الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse doors of speech in prayer · Hadith 3348

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الكلام في الصلاة · حديث 3349

[ 3166 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو بكر القاضي وأبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو عتبة أحمد بن الفرج الحجازي ثنا محمد بن حمير ثنا الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن بن أبي ميمونة عن عطاء بن يسار حدثني معاوية بن الحكم السلمي قال بينما أنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلاة إذ عطس رجل من القوم فقلت يرحمك الله فحدقني القوم بأبصارهم فقلت واثكل أمياه ما لكم تنظرون إلي قال فضربوا بأيديهم على أفخاذهم قال فلما رأيتهم يسكتوني لكني سكت قال فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم من الصلاة دعاني فبأبي وأمى رسول الله صلى الله عليه وسلم ما رأيت معلما قبلة ولا بعده أحسن تعليما منه والله ما كهرني ولا ضربني ولا سبني قال إن صلاتنا هذه لا يصلح فيها شيء من كلام الناس إنما هو التكبير والتسبيح وتلاوة القرآن أخرجه مسلم من حديث الأوزاعي

3349 – معاویہ بنحکم سلمی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک آدمی نے چھینک ماری تو میں نے کہہ دیا : لوگ میری طرف گھورنے لگے ۔ میں نے کہا: تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں تو تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ تو انہوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنا شروع کر دیے ۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ خاموش کروا رہے ہیں تو میں خاموش ہوگیا۔ جب رسول اللہﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں ۔ میں نے اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد رسول اللہﷺ جیسا استاد نہیں دیکھا جو تعلیم دینے میں آپ سے بہتر ہو۔

بَيْنَمَا ← مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← بن أبي ميمونة ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ← أبو عتبة أحمد بن الفرج الحجازي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي، ← أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse doors of speech in prayer · Hadith 3349

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الكلام في الصلاة · حديث 3350

[ 3167 ] أخبرنا أبو علي الروذباري أخبرنا أبو بكر محمد بن بكر ثنا أبو داود ثنا محمد بن يونس النسائي ثنا عبد الملك بن عمرو ثنا فليح عن هلال بن علي عن عطاء بن يسار عن معاوية بن الحكم السلمي قال لما قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم علمت أمورا من أمور الإسلام فكان فيما علمت أن قيل لي إذا عطست فاحمد الله وإذا عطس العاطس فحمد الله فقل يرحمك الله قال فبينا أنا قائم مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلاة إذا عطس رجل فحمد الله فقلت يرحمك الله رافعا بها صوتى فرماني الناس بأبصارهم حتى احتملني ذلك فقلت ما لكم تنظرون إلي بأعين شزر قال فسبحوا فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم الصلاة قال من المتكلم قيل هذا الأعرابي فدعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال إنما الصلاة لقراءة القرآن وذكر الله فإذا كنت فيها فليكن ذلك شأنك فما رأيت معلما قط أرفق من رسول الله صلى الله عليه وسلم

سیدنا معاویہ بن حکم سلمی سے روایت ہے کہ جب میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہﷺ نے مجھے اسلام کے بہت سے احکام سکھائے یعنی جب تو چھینک مارے تو کہہ اور جب کوئی اور چھینک مارے وہ الحمد اللہ کہے تو کہہ ۔ ایک مرتبہ میں رسول اللہﷺ کے ہمراہ نماز میں کھڑا تھا کہ اچانک ایک آدمی نے چھیک ماری اس نے الحمد اللہ کہا تو میں نے اونچی آوا ز میں یر حمک اللہ کہا لوگ میری طرف گھورنے لگے کہ مجھے یہ کہنا پڑا کہ تمہیں کیا ہوا ہے مجھے ایسی نظروں سے دیکھ رہے ہو؟ تو انہوں نے سبحا اللہ کہا۔ جب نبیﷺ نے نماز مکمل کی تو پوچھا: کلام کرنے والا کون آدمی تھا؟ آپ کو بتایا گیا کہ یہ دیہاتی تو آپﷺ نے مجھے بلا کر فرمایا: نماز میں صرف تلاتو قرآن اور ذکر الہیٰ ہوتا ہے ۔

مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ← فُلَيْحٌ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse doors of speech in prayer · Hadith 3350

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الكلام في الصلاة · حديث 3351

[ 3168 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي وأبو سعيد بن أبي عمرو قالوا أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب أخبرنا العباس بن الوليد بن مزيد أخبرني أبي ثنا الأوزاعي حدثني يحيى بن أبي كثير عن هلال بن أبي ميمونه قال حدثني عطاء بن يسار حدثني معاوية بن الحكم السلمي قال قلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم إنا كنا حديث عهد بجاهلية فجاء الله بالإسلام وإن رجالا منا يتطيرون قال ذلك شيء يجدونه في صدورهم فلا يصدنهم قال يا رسول الله ورجال منا يأتون الكهنة قال فلا يأتوهم قال يا رسول الله ورجال منا يخطون قال كان نبي من الأنبياء يخط فمن وافق خطه فذاك قال وبينا أنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلاة إذ عطس رجل من القوم فقلت يرحمك الله فحدقني القوم بأبصارهم قال فقلت واثكل أمياه ما لكم تنظرون إلي فضرب القوم بأيديهم على أفخاذهم فلما رأيتهم يسكتوني لكني سكت فلما انصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم دعاني فبأبي هو وأمى ما رأيت معلما قبلة ولا بعده أحسن تعليما منه والله ما ضربني ولا كهرني ولا سبني فقال إن صلاتنا هذه لا يصلح فيها شيء من كلام الناس وإنما هي التسبيح والتكبير وتلاوة القرآن وذكر باقي الحديث وأخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر ثنا جدي يحيى بن منصور القاضي ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم أخبرنا عيسى بن يونس ثنا الأوزاعي عن يحيى فذكره بنحوه إلا أنه لم يذكر قوله إنا كنا حديث عهد بجاهلية فجاء الله بالإسلام وإنما قال أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت إن رجالا منا رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم

معاویہ بن حکم سلمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا: ہم لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں اللہ نے ہمیں آسلام می نعمت سے نواز دیا ہے ۔ ابھی بھی ہم میں سے کچھ لوگ پرندوں کے ذریعے فال لیتے ہیں آپﷺ نے فرمایا: یہہ محض وہن ہے جو ان کے ذہنوں میں ہے ۔۔ یہ فال وگیرہ انہیں نہ روکے ۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: وہ نہ جایا کریں۔ انہوں نے پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے کچھ لوگ خط کھینتے تھے جس کا خط ان کے موافق ہوتو درست ہے ۔ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہﷺ کے ہمراہ نماز پڑھ رہا تھا۔ ایک نماز میں چینک ماری تو میں نے کہہ دیا : یر حمک اللہ تو لوگ میری طرف ترچھی نظروں سے دیکھنے لگے ۔ میں نے کہا: تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے شروع کر دیے ۔ میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے چپ کروانا چاہتے ہیں لیکن خاموش ہو گیا۔ جب رسول اللہﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے مجھے بلایا آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ میں نے رسول اللہﷺ سے بڑھ کر مشفق اور مہربان استاد کسی کو نہیں دیکھا نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد ۔ اللہ کی قسم ! آپ نے مجھے مارنہ ڈانٹا اور نہ ہی برا بھلا کہا بلکہ صرف اتنا فرمایا: یہ نماز ہے اس میں باتیں کرنا جائز نہیں اس میں تو تسبیح تکبیر اور تلاوت قرآن ہوتی ہے ۔

قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse doors of speech in prayer · Hadith 3351

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الكلام في الصلاة · حديث 3352

[ 3169 ] أخبرنا أبو بكر بن فورك ثنا عبد الله ثنا يونس ثنا أبو داود ثنا حرب بن شداد وأبان بن يزيد عن يحيى بن أبي كثير عن هلال بن أبي ميمونة عن عطاء بن يسار عن معاوية بن الحكم السلمي قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم فعطس رجل إلى جنبي فقلت يرحمك الله فرماني القوم بأبصارهم فقلت وأثكل أمياه ما لي أراكم تنظرون إلي وأنا أصلي فجعلوا يضربون بأيديهم على أفخاذهم يصمتوني فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة فبأبي وأمى ما رأيت قبلة ولا بعده أحسن تعليما منه والله ما كهرني ولا سبني ولا ضربني ولكنه قال لي إن صلاتنا هذه لا يصلح فيها شيء من كلام الناس إنما هو الصلاة والتسبيح والتحميد وقراءة القرآن أو كالذي قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم ذكر ما ذكر الأوزاعي من التطير وغيره قال الشافعي رحمه الله ولم يحك أن النبي صلى الله عليه وسلم أمره بإعادة وحكي أنه تكلم وهو جاهل بذلك

3352 - معاویہ بن حکم سلمی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی میرے پہلو میں کھڑے ایک آدمی نے چھینک ماری تو میں نے یر حمک اللہ کہہ دیا ۔ لوگ میری طرف دیکھنے لگ گئے ۔ میں نے کہا: تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں میں نماز پڑھا رہا ہوں اور تم مجھے دیکھے جا رہے ہو؟ انہوں نےرانوں پ رہاتھ مارنے شروع کر دیے ۔ وہ مجھے خا موش کروانا چاہتے تھے ۔ جب رسول اللہﷺ نماز سے فارغ ہوئے آپ پر میرے والدین قربان ہوں میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے بڑھ کر مشفق اور مہربان استاد نہیں دیکھ ا۔ اللہ کی قسم ! آپ نے مجھے نہ مارنا ڈانٹا اور نہ برا بھلا کہا بلکہ فرمایا : یہ نماز ہے اس میں لوگوں سے ساتھ بات چیت کرنا درست نہیں۔ یہ صرف تسبیح تحمید اور قرآن کی تلاوت کے لیے ۔ امام شافعی بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ سے یہ روایت منقول نہیں ہے کہ آپﷺ نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا ہو کیوں کہاس نے نماز میں ناواقفیت سے کلا کیا تھا۔

مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse doors of speech in prayer · Hadith 3352

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الكلام في الصلاة · حديث 3353

[ 3170 ] أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن الهمداني ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم ثنا شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر أو العصر ركعتين فقال له ذو اليدين أقصرت الصلاة يا رسول الله أو نسيت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأصحابه أحق ما يقول ذو اليدين قالوا نعم فصلى ركعتين أخروين ثم سجد سجدتي السهو قال سعد ورأيت عروة بن الزبير صلى من المغرب ركعتين وسلم فتكلم ثم صلى ما بقى فقال هكذا فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم رواه البخاري في الصحيح عن آدم بن أبي إياس وأخرجه مسلم من وجه آخر عن أبي سلمة وتمام هذه المسئلة يرد في باب السجود إن شاء الله تعالى

حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ظہر یا عصر کی نماز دو رکعتیں پڑھائیں تو ذوالید بن نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہو گئی ہے ؟ رسول اللہﷺ نے صحابہ سے پوچھا : کیا ذوالید ین صحیح کہہ رہا ہے ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ! تو آپ نے دوسری رکعتیں پڑھائیں اور سہو کے دو سجدے کیے ۔ سعد بیان کرتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے مغرب کی دو رکعتیں پرھ کر سلام پھیر لیا پھر باتیں کیں اور باقی ماندہ ادا کرنے کے بعد فرمایا: رسول اللہﷺ نے بھی اس طرح کیا ہے ۔ اس مسئلہ میں مکمل بحث سجدہ سہو کے باب مین آئے گی ان شاء اللہ۔

له ذو اليدين أقصرت الصلاة ← صلى رسول الله الظهر أو العصر ركعتين ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن الهمداني ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse doors of speech in prayer · Hadith 3353

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الكلام في الصلاة · حديث 3354

[ 3171 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرنا أبو بكر يحيى بن محمد العنبري وأبو بكر محمد بن جعفر المزكي ح وأخبرنا أبو أحمد المهرجاني أخبرنا أبو بكر محمد بن جعفر قالا ثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم ثنا بن بكير ثنا مالك عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال مروا أبا بكر فليصل بالناس قلت يا رسول الله إن أبا بكر إذا قام في مقامك لم يسمع الناس من البكاء فمر عمر فليصل بالناس قال مروا أبا بكر فليصلي بالناس قالت عائشة فقلت لحفصة قولي له إن أبا بكر إذا قام في مقامك لم يسمع الناس من البكاء فمر عمر فليصل بالناس ففعلت حفصه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إنكن لأنتن صواحب يوسف مروا أبا بكر فليصل بالناس فقالت حفصة لعائشة ما كنت لأصيب منك خيرا رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن يوسف وغيره عن مالك وأخرجه مسلم من وجه أخر عن هشام

اما لمومنین سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ابو بکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول 1 ابو بکر جب آپ کی جگہ کھرے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو نہ سنا پائیں گے ۔ آپ عمر کو حکم دیاں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ آپﷺ نے فرمایا: ابو بکر کو کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے سیدہ حفسہ کو کہا کہ تم رسول اللہﷺ کو کہو کہ ابو بکر جب آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو کثرت گریہ کے سبب لوگوں کو قراءت نہ سنا سکیں گے آپ عمر کوحکم فرمائیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ۔ حفصہ نے ایسے ہی کیا تو رسول اللہﷺ نے فرماہا: تم یوسف کی عورتوں کی طرح ہو۔ ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو حفسہ نے عائشہ سے کہا: مجھے تم سے کوئی خیر نہیں پہنچی ۔

عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← بن بكير ← أبو عبد الله محمد بن إبراهيم ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرِجَانِيُّ، ← أبو بكر يحيى بن محمد العنبري وأبو بكر محمد بن جعفر المزكي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse doors of speech in prayer · Hadith 3354

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الكلام في الصلاة · حديث 3355

[ 3172 ] أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله الأديب أخبرنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني الحسن بن سفيان حدثني أبو سعيد يحيى بن سليمان الجعفي ثنا بن وهب أخبرني يونس عن بن شهاب عن حمزة بن عبد الله عن أبيه قال لما اشتد برسول الله صلى الله عليه وسلم وجعه قال مروا أبا بكر فليصل للناس فقالت عائشة رضى الله تعالى عنها يا رسول الله إن أبا بكر رجل رقيق إذا قام في مقامك لم يسمع الناس من البكاء فقال مروا أبا بكر فليصل بالناس فعاودته مثل مقالتها فقال أنتن صواحبات يوسف مروا أبا بكر فليصل بالناس رواه البخاري في الصحيح عن يحيى بن سليمان الجعفي وأخرجه مسلم من حديث معمر عن الزهري عن حمزة عن عائشة رضى الله تعالى عنها وقال في الحديث إن أبا بكر رجل رقيق إذا قرأ القرآن لا يملك دمعه

3355 - حمزہ بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپﷺ کی بیماری میں شدت آگئی توآپ ﷺ نے فرمایا: ابو بکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو سیدہ عائشہ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! ابو بکر نرم دل والے ہیں جب آپﷺ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو رونے کے سبب قراءت نہ سنا سکیں گئ ۔ آپق نے پھر فرمایا: ابو بکر سے کہیے وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ انہوں نے پھر ایس بات کو جیسے پہلے کہی تھی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم یوسف کی عورتوں جیسی ہو۔ ابو بکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔

مروا أبا بكر فليصل للناس فقالت عائشة رضى الله تعالى عنها ← لَمَّا اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ وَجَعَهُ، ← أَبِيهِ ← حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَدِيبُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse doors of speech in prayer · Hadith 3355

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الكلام في الصلاة · حديث 3356

[ 3173 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد ثنا الحسن بن مكرم البزار ثنا يزيد بن هارون أخبرنا حماد بن سلمة عن ثابت عن مطرف عن أبيه قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي وفي صدره أزيز كأزيز الرحا من البكاء

3356 - مطرف اپنے والد عبداللہ بن شخیر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپﷺ کے رونے کی وجہ سے آپ کے سینے سے چکی چلنے جیسی آواز آرہی تھی ۔

رأيت رسول الله يصلي وفي صدره أزيز كأزيز الرحا من البكاء ← أَبِيهِ ← مُطَرِّفٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ، ← أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse doors of speech in prayer · Hadith 3356

Sahih

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead