سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب ما یفسداالماء · حديث 1150
[ 1093 ]أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بحر بن نصر ثنا عبد الله بن وهب قال وأخبرني أبو القاسم عبد الله بن أحمد النسوي أنا الحسن بن سفيان ثنا حرملة بن يحيى أنا بن وهب أخبرني يونس عن بن شهاب عن بن السباق أن عبد الله بن عباس قال حدثتني ميمونة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أصبح يوما واجما فقالت ميمونة يا رسول الله لقد استنكرت هيئتك منذ اليوم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن جبريل كان وعدنى أن يلقانى الليلة فلم يلقنى أما والله ما أخلفنى قال فظل رسول الله صلى الله عليه وسلم يومه ذلك على ذلك ثم وقع في نفسه جرو كلب تحت فسطاط لنا فأمر به فأخرج ثم أخذ بيده ماء فنضح مكانه فلما أمسى لقيه جبريل عليه السلام فقال له قد كنت وعدتني أن تلقاني البارحة قال أجل ولكنا لا ندخل بيتا فيه كلب ولا صورة فأصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم فأمر بقتل الكلاب حتى أنه يأمر بقتل كلب الحائط الصغير وبترك كلب الحائط الكبير رواه مسلم في الصحيح عن حرملة بن يحيى هكذا
سیدنا عبداللہ ب عباس فرماتے ہیں کہ مجھ کو میمونہ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے ایک دن غمگین حالت میں صبح کی ۔ میمونہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں نے آج آپ کو جنبی حالت میں پایا ہے ؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جبرئیل نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آج رات آپ کو ملوں گا اللہ کی قسم! وہ وعدہ خلافی نہیں کرتے ۔ اسی وجہ سے رسول اللہﷺ غمگین تھے پھر آپﷺ کے دل میں کتے کے بچے کا خیال آیا جو ہمارے خیمہ کے نیچے تھا ۔ آپﷺ نے حکم دیا تو اس کو نکالا گیا پھر اپنے ہاتھ میں پانی لیا اور اس جگہ پر چھینتے مارے ۔ صبح کو جبریل آپ ﷺ کو ملے ۔ آپ نےفرمایا: آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ کل آپ مجھے ملو گے ! انہوں نےکپا: جی ہاں ! لیکن ہم اس گھر میں داخل نہین ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔
حدثتني ميمونة ← بن السباق أن عبد الله بن عباس ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← وأخبرني أبو القاسم عبد الله بن أحمد النسوي ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Hadith 1150
