سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب ما یفسداالماء · حديث 1126
[ 1070 ]أخبرناه أبو علي الروذباري ثنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا مسدد ثنا عبد الله بن داود عن سفيان بن سعيد عن بن عقيل عن الربيع أن النبي صلى الله عليه وسلم مسح برأسه من فضل ماء كان في يده هكذا رواه جماعة عن عبد الله بن داود وغيره عن الثوري وقال بعضهم ببلل يديه وكأنه أراد أخذ ماء جديدا فصب بعضه ومسح رأسه ببلل يديه وعبد الله بن محمد بن عقيل لم يكن بالحافظ وأهل العلم بالحديث مختلفون في جواز الاحتجاج برواياته أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا عباس الدوري قال سمعت يحيى بن معين يقول بن عقيل لا يحتج بحديثه وقال أبو عيسى سألت البخاري عن عبد الله بن محمد بن عقيل فقال رأيت أحمد بن حنبل وإسحاق بن إبراهيم والحميدي يحتجون بحديثه وهو مقارب الحديث وقد روي فيه عن أبي الدرداء عن النبي صلى الله عليه وسلم وإسناده ضعيف وروي عن علي وابن عباس وابن مسعود وعائشة وأنس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم في الغسل شيء في معناه ولا يصح شيء من ذلك لضعف أسانيده وقد بينته في الخلافيات وأصح شيء فيه ما رواه أبو داود في المراسيل عن موسى بن إسماعيل عن حماد عن إسحاق بن سويد عن العلاء بن زياد عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه اغتسل فرأى لمعه في منكبه لم يصبها الماء فأخذ خصلة من شعر رأسه فعصرها على منكبه ثم مسح يده على ذلك المكان وهذا منقطع
1126 - ربیع سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے اپنے ہاتھ میں بچے ہوئے پانی سے سر کا مسح کیا۔ عبداللہ بن داؤد غیرہ ثوری سے نقل کرتے ہین کہ بعض نے کہا:آپ اپنے ہاتھوں کی ےری سے ہی مسح کرتے تھے ینی جب آپ کسی دوسرے عضو کو دھونے کے لیے پانی لیتے تو اسے اس پر بہاتے اور پھر باقی ماندہ ہاتھوں کی تری سے مسح کرتے ۔ عبداللہ بن محمد بن عقیل حافظ حدیث نہیں تھے ۔ محد ثین ان کو روایا ت کو قابل حجت کے جواز کو سمجھنے میں مختلف فیہ ہیں۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ ابنعقیل کی احادیث قابل حجت نہیں۔ امام تر مذی نے امام بخاری نے ابن عقیل کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے احمد بن حنبل اسحاق بن ابراہیم اور حمیدی کو دیکھا وہ اس کی احادیث کو قابل حجت سمجھتے تھے ۔ ابو دردا ء عن النبی والی روایت کی سند ضعیف ہے ۔ سیدنا علی ابن عباس ابن مسعود عائشہ اور انس بن مالک نبیﷺ سے غسل کے متعلق اس کے ہم معنی روایت کرتے ہیں لیکن ان کی اسانید ضعیف ہیں۔ خلافیات میں اس کی مکمل وضاحت ہے ۔ امام ابو داؤد مراسیل میں علاء بن زیاد کے واسطے نبیﷺ سے منقول ہے کہ آپ نے غسل کیا اور کندھے پر تھوری سی خشک جگہ تھی جہاں پانی نہیں پہنچا تھا آپﷺ نے اپنے سر کے بالوں سے پانی لے کر وہاں کندھے پر نچوڑ دیا پھر ہاتھ کے ساتھ اس کو مل دیا ۔ یہ روایت منقطع ہے ۔
الرَّبِيعِ، ← بن عقيل ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Collecting the doors of what spoils the water · Hadith 1126
