سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب ما یفسداالماء · حديث 1114
[ 1058 ] أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن همام بن منبه قال هذا ما حدثنا أبو هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يبال في الماء الدائم الذي لا يجرى ثم يغتسل منه قال وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا استيقظ أحدكم فلا يضع يده في الوضوء حتى يغسلها فإنه لا يدري أين باتت يده رواهما مسلم في الصحيح عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق قال الزعفراني قال الشافعي في القديم فإن عجن به يعني بالماء النجس عجينا لم يأكل وأطعمه الدواب قال الإمام أحمد وقد روينا عن عطاء ومجاهد أنه يطعمه الدجاج
سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کیا جائے یعنی وہ پانی جو جاری نہ ہو کہ پھر اس سے غسل کرے اور فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنا ہاتھ برتنمیں نہ ڈالے جب تک کہ اس کو دھونہ لے اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے ۔ زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی نے قدیم کتاب میں لکھا ہے کہ اگر نجس پانی کے ساتھ آنا مل جائے تو وہ نہیں کھایا جا سکتا بلکہ وہ جانور کو کھلا دیا جائے ۔ امام احمد فرماتے ہیں: عطا اور مجاہد سے منقول ہے وہ ایسا آٹا مر غیونں کو کھا دیتے تھے ۔
أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Collecting the doors of what spoils the water · Hadith 1114
