Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1073

[ 1017 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ ثنا السري بن خزيمة ثنا عمر بن حفص بن غياث حدثني أبي أخبرنا الوليد بن عبد الله بن أبي رباح أن عطاء حدثه عن بن عباس أن رجلا أجنب في شتاء فسألا فأمر بالغسل فاغتسل فمات فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال ما لهم قتلوه قتلهم الله ثلاثا قد جعل الله الصعيد أو التيمم طهورا هذا حديث موصول وتمام هذه القصة في الحديث الذي أرسله الأوزاعي عن عطاء

سیدنا ابن عبا س سےر وایت ہے کہ ایک شخص سردی میں جنبی ہو گیا۔ اس نے پوچھا تو اسے غسل کا حکم دیا گیا اس نے غسل کیا تو وہ فوت ہو گیا یہ بات نبیﷺ سے ذکر کی گئی تو آپﷺ نے فرمایا: انہیں کیا تھا انہوں نے تو اس کو قتل کر دیا ہے اللہ ان کو ہلاک کرے تی مرتبہ فرمایا اللہ نے مٹی یا تمیم کو پاک کرنے کا ذریعہ بنایا ہے ۔ یہ حدیث موصول ہے ۔

الوليد بن عبد الله بن أبي رباح ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1073

Hassan

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1074

[ 1018 ] أخبرناه أبو عبد الله الحافظ وأبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يعقوب السوسي وأبو سعيد محمد بن موسى قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا العباس بن الوليد بن مزيد ثنا أبي قال سمعت الأوزاعي يقول بلغني عن عطاء بن أبي رباح أنه سمع بن عباس يخبر أن رجلا أصابه جرح في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم أصابه إحتلام فأمر بالاغتسال فاغتسل فكز فمات فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال قتلوه قتلهم الله ألم يكن شفاء العى السؤال قال عطاء فبلغنا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن ذلك فقال لو غسل جسده وترك رأسه حيث أصابه الجرح فهذا المرسل يقتضى غسل الصحيح منه والأول يقتضى التيمم فمن أوجب الجمع بينهما يقول لا تنافي بين الروايتين إلا إن أحداهما مرسلة

1074 - عطاء بنابی رباح نے سیدنا ابن عباس سے سنا کہ نبیﷺ کے زمانہ میں ایک شخص وک زخم لگا پھر اسے احتلا ہو گیا اسے غسل کا ھکم دیا گیا اس نے غسل کیا تو سردی سے مر گیا۔ یہ بات بیﷺ کو پہنچی تو آپہﷺ نے فرمایا: انہوں نے اس کو ہلاک کیا ہے اللہ ان کو ہلاک کرے ۔ کیا جاہل کی شفا سوال کرنا نہیں ہے ۔ عطا کہتے ہیں: ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہﷺ سےا س کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : کاش وہ اپنے جسم کو دھوتا اور سر کو چھوڑ دیتا جس جگپ اسے زخم لگا تھا۔

عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← بلغني ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى ← أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يعقوب السوسي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1074

Hassan

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1075

[ 1019 ] وأخبرنا أبو علي الروذباري أخبرنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا موسى بن عبد الرحمن الأنطاكي ثنا محمد بن سلمة عن الزبير بن خريق عن عطاء عن جابر قال خرجنا في سفر فأصاب رجلا منا حجر فشجه في رأسه ثم إحتلم فقال لأصحابه هل تجدون لي رخصة في التيمم قالوا ما نجد لك رخصة وأنت تقدر على الماء فاغتسل فمات فلما قدمنا على النبي صلى الله عليه وسلم أخبر بذلك قال قتلوه قتلهم الله ألا سألوا إذ لم يعلموا فإنما شفاء العي السؤال إنما كان يكفيه أن يتيمم ويعصر أو يعصب شك موسى على جرحه خرقه ثم يمسح عليها ويغسل سائر جسده وهذه الرواية موصولة جمع فيها بين غسل الصحيح والمسح على العصابة والتيمم إلا إنها تخالف الروايتين الأوليين في الإسناد والله أعلم

1075 – سیدنا جابر سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نکلے ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگا تو اس کے سر میں زخم ہو گیا پھر اسے احتلام ہو گیا اس نے اپنے ساتھہوں سے پوچھا : کیا تم تمیم کرنے میں میرے لیے رخصت پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم آپ کے لیے رخست نہیں پاتے ۔ آپ پانی پر قدرت رکھتے ہین اس نے غسل کیا تو مر گیا جب ہم نبیﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: انہوں نے اس کو ہلاک کیا ہے اللہ ان کو ہلاک کرے جب وہ نہیں جانتے تھے تو انہوں نے سوا کیوں نہیں کیا جاہل کی شفاہی سوال کرنا ہے ۔ اس کو کافی تھا کہ وہ تمیم کرتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھتا ۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← الزبير بن خريق ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْطَاكِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Hadith 1075

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1076

[ 1020 ]أخبرنا أبو الحسن بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عباس بن الفضل الأسفاطي ثنا أبو الوليد ثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن زاذان عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من ترك موضع شعرة من جسده من جنابة لم يغسلها فعل بها من النار كذا وكذا قال علي فمن ثم عاديت شعري فهذا الحديث وما ورد في معناه يوجب غسل الصحيح منه والكتاب يوجب التيمم لما لا يقدر على غسله وبالله التوفيق وظاهر الكتاب يدل على استعمال ما يجد من الماء ثم الرجوع إلى التيمم إذا لم يجده وقد روي عن إسحاق عن عيسى بن يونس عن عبدة بن أبي لبابة ويذكر عن عبدة بن أبي لبابة أنه قال يتوضأ ويتيمم في الجنب لا يجد من الماء إلا قدر ما يتوضأ وكذا قال معمر بن راشد وكان الحسن والزهري يقولان يتيمم

1076 - سیدنا علی سےر وایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے جسم سے جنابت کی حالت میں ایک بال کے برابر جگہ چھوڑ دی اور اس کو نہ دھویا تو اس کے ساتھ آگ س اس طرح اس طرح کیا جائے گا ۔ علی فرماتے ہیں: اسی وجہ سے میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کر لی ہے ۔ یہ حدیث اوراس کے ہم معنی ا حادیث میں غسل کے وجوب کا حکم ہے جبکہ کتاب اللہ میں غسل کی قدرت نہ رکھنے والے کے لیے تمیم کا حکم ہے کتا ب اللہ کے ظاہر سے استدلال ہے کہ جب پانی نہ ملے تو تمیم کر لے ۔

عَلِيٍّ، ← زَاذَانَ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ،

Hadith 1076

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1077

[ 1021 ]أخبرنا أبو حازم عمر بن أحمد العبدوي الحافظ ثنا أبو أحمد الحافظ أخبرنا أبو بكر عبد الله بن سليمان بن الأشعث السجستاني ببغداد ثنا موسى بن عبد الرحمن الحلبي بأنطاكية ثنا محمد بن سلمة عن الزبير بن خريق عن عطاء عن جابر قال خرجنا في سفر فأصاب رجلا منا حجر فشجه في رأسه ثم احتلم فسأل أصحابه هل تجدون لي رخصة في التيمم فقالوا ما نجد لك رخصة وأنت تقدر على الماء فاغتسل فمات فلما قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم أخبر بذلك فقال قتلوه قتلهم الله ألا سألوا إذ لم يعلموا إنما شفاء العي السؤال إنما كان يكفيه أن يتيمم ويعصب على جرحه خرقة ثم يمسح عليها ويغسل سائر جسده

سیدنا جابر سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نکلے ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگا اور اس کے سر میں زخم ہو گیا پھر اس کو احتلام ہو گیا اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا : کیا تم تمیم کرنے میں میرے لیے رخصت پاتے ہو ؟ انہوں نے کہا: ہم تیرے لیے رخصت نہیں پاتے اس لیے کہ تو پانی پر قدرت رکھنا ہے ۔ اس نے غسل کیا تو مر گیا۔ جب ہم نبیﷺ کے پاس آئے اور پ ﷺ کو اس کی خبر دی تو نبی ﷺ نے فرمایا: انہوں نے اس کو قتل کیا ہے اللہ ان کو قتل کرے جب وہ نہیں جانتے تھے وت انہوں نے سوال کیوں نہیں کیا جاہل کی شفاہی سوال کرنا ہے ۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← الزبير بن خريق ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← موسى بن عبد الرحمن الحلبي ← أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثَ السِّجِسْتَانِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ ← أبو حازم عمر بن أحمد العبدوي الحافظ

Hadith 1077

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1078

[ 1022 ]أخبرنا أبو بكر بن الحارث الفقيه أنا أبو محمد بن حبان ثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن الحسن ثنا أبو عامر موسى بن عامر ثنا الوليد بن مسلم أخبرني هشام بن الغاز عن نافع عن بن عمر قال إذا لم تكن على الجرح عصائب غسل ما حوله ولم يغسله

1078 - سیدنا بن عمر فرماتے ہیں کہ جب زخم پر پٹی نہ ہو تو اس کے ارددگرد کو دھو لے لیکن زخم نہ دھوئے ۔

إذا لم تكن على الجرح عصائب غسل ما حوله ولم يغسله ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أبو عامر موسى بن عامر ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن الحسن ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَبَّانَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ،

Hadith 1078

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1079

[ 1023 ]وبإسناده قال حدثنا الوليد قال أخبرني هشام بن الغاز أنه سمع نافعا يحدث عن عبد الله بن عمر أنه كان يقول من كان له جرح معصوب عليه توضأ ومسح على العصائب ويغسل ما حول العصائب

1079 - ابن عمر فرماتے ہین کہ جس شخص کو زخم ہو اور اس پر پٹی بندھی ہو تو وہ وضو کرے گا اور پٹیوں پر مسح کرے گا اور پٹیوں کے اردگرد کی جگہ دھوئے گا۔

عبد الله بن عمر أنه كان ← نَافِعًا ← هشام بن الغاز أنه ← الْوَلِیْدُ ← وَبِإِسْنَادِهِ

Hadith 1079

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1080

[ 1024 ] وبإسناده قال ثنا الوليد قال أخبرني سعيد عن سليمان بن موسى عن نافع عن بن عمر أن إبهام رجله جرحت فألبسها مرارة وكان يتوضأ عليها

1080 – سیدنا ابن عمر سے روایت ہے کہ ان کے پاؤں کا انگوٹگا زخمی ہو گیا انہوں نے اس کے اوپر کوئی چیز لپیٹ لی اور اس پر مسح فرماتے تھے ۔

بن عمر أن إبهام رجله جرحت فألبسها مرارة وكان يتوضأ عليها ← نَافِعٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← سَعِيدٌ، ← الْوَلِیْدُ ← وَبِإِسْنَادِهِ

Hadith 1080

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1081

[ 1025 ] وبإسناده قال ثنا الوليد ثنا يحيى بن حمزة عن موسى بن يسار عن نافع عن بن عمر أنه توضأ وكفه معصوبة فمسح على العصائب وغسل سوى ذلك هو عن بن عمر صحيح أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو ثنا أبو العباس الأصم أنا الربيع قال قال الشافعي وقد روي حديث عن علي رضى الله تعالى عنه أنه انكسر إحدى زندى يديه فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يمسح على الجبائر ولو عرفت إسناده بالصحة لقلت به يعني ما

1081 – سیدنا ابن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کیا اور ان کی ہتھیلی پر پٹی بندھی ہوئی تھی انہوں نے اس پر اور پگڑی پر مسح کیا اور اس کے علاوہ باقی اعضا ء دھوئے ۔ ابن عمر سے یہی روایت صحیح ہے ۔ اما م شافعی فرماتے ہیں کہ سیدنا علی سے حڈیث بیان کی گئی کہ ان کی ایک کلائی ٹوٹ گئی تو نبی ﷺ نے انہیں پٹیوں پر مسح کرنے کا حکم دیا ۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر مجھے اس حدیث کی سند صحیح معلوم ہو جائے تو میں اس کے مطابق فتویٰ دوں گا ۔

Hadith 1081

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1082

[ 1026 ]أخبرناه أبو سعد أحمد بن محمد بن الخليل أنا أبو أحمد بن عدي ثنا عمران السجستاني ثنا محمد بن أبان ثنا سعيد بن سالم القداح حدثني إسرائيل عن عمرو بن خالد عن زيد بن علي عن أبيه عن جده عن علي بن أبي طالب رضى الله تعالى عنه قال انكسرت إحدى زندي فسألت النبي صلى الله عليه وسلم فقال امسح على الجبائر عمرو بن خالد الواسطي معروف بوضع الحديث كذبه أحمد بن حنبل ويحيى بن معين وغيرهما من أئمة الحديث ونسبه وكيع بن الجراح إلى وضع الحديث قال وكان في جوارنا فلما فطن له تحول إلى واسط وتابعه على ذلك عمر بن موسى بن وجيه فرواه عن زيد بن علي مثله وعمر بن موسى متروك منسوب إلى الوضع ونعوذ بالله من الخذلان وروي بإسناد آخر مجهول عن زيد بن علي وليس بشيء ورواه أبو الوليد خالد بن يزيد المكي بإسناد آخر عن زيد بن علي عن علي مرسلا وأبو الوليد ضعيف ولا يثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الباب شيء وأصح ما روي فيه حديث عطاء بن أبي رباح الذي قد تقدم وليس بالقوي وإنما فيه قول الفقهاء من التابعين فمن بعدهم مع ما روينا عن بن عمر في المسح على العصابة والله أعلم

1082 – سیدنا علی بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ میرے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی تو میں نے نبیﷺ سے اس کے متعلق سوال پوچھا تو آپﷺ نے فرمایا: پٹیوں پر مسح کرو۔ مرو بن خالد واسطی حڈیث وضع کرنے میں معوف تا امام احمد یحییٰ بن معین اور دوسرے ائمہ حدیث نے اسے کذاب کہا ہے ۔ وجیع بن جراح نے وضع حدیث کی طف سے اسے منسوب کیا ہے ۔ اس کی متابعت عمر بن موسیٰ بن وجیہ سے ہے زید بن علی نے بھی اس کی مثل روایت کیا ہے ۔ عمر بن موسیٰ متروک ہے اور احادیث وضع کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس میں ان کے دھوکے سے محفوظ رکھے ۔ زید بن علیسے ایک دوسری مجبول سند سے روایت ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں ابو ولید بیان کرتا ہے کہ خالد بن یزید می دوسری اسناد سے زید بن علی سے اور وہ علی سے مرسل روایت بیان کرتا ہے ۔ ابو ولید ضریف ہے ۔ نبیﷺ سے اس باب میں کوئی حدیث ثابت نہیں۔ اس باب میں صحیح ترین حدیث عطا ء بن ابی رباح ی ہے جو پہلے گزر چکی ہے وہ بھی قوی نیں۔ تا بعین فقہا ء اور ان کے بد والوں نے سیدنا ابن عمر سے پٹی پر مسح کرنا روایت کیا ہے ۔ واللہ اعلم۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقِدَاحُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ← عمران السجستاني ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ

Hadith 1082

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1083

[ 1027 ]أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه ثنا إسماعيل بن إسحاق ثنا سليمان بن حرب ثنا شعبة عن عمرو أظنه بن مرة عن يوسف المكي قال احتلم صاحب لنا وبه جراحة وقد عصب صدره فسألنا عبيد بن عمير فقال يغتسل ويمسح الخرقة أو قال يمسح صدره

1083 - یوسف مکی سے روایت ہے کہ ہمارے ایک ساتھی کو احتلام ہو گیا اور وہ زخمی تھا اس نے اپنے سینے پر پٹی باندگی ہوئی تھی ہم نے عبید بن عمیر سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا؛ غسل کرے اور کپڑے پر مسح کرے یا فرمایا سینے پر مسح کرے ،۔

يمسح صدره ← يغتسل ويمسح الخرقة أو ← احتلم صاحب لنا وبه جراحة وقد عصب صدره فسألنا عبيد بن عمير ← يُوسُفَ الْمَكِّيِّ ← عمرو أظنه بن مرة ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1083

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1084

[ 1028 ]وأخبرنا أبو الحسن بن بشران العدل ببغداد ثنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا محمد بن عبد الملك ثنا يزيد يعني بن هارون أنا سليمان التيمي قال سألت طاوسا عن الخدش يكون بالرجل فيزيد الوضوء أو الاغتسال من الجنابة وقد عصب عليه خرقة فقال إن كان يخاف فليمسح على الخرقة وإن كان لا يخاف فليغسلها

1084 – سلیمان تمیمی کہتے ہیں : میں نے طاؤس سے زخمی شخص کے متعلق سوال کیا وہ وضو یا جنابت سے غسل کا ارادہ رکھتا ہے اور اس ونے پٹی باندھی ہوئی ہے تو انہوں نے فرمایا: اگر وہ ڈرتا ہے کپڑے پر مسح کر لے اور اگر نہیں ڈرا توغسل کر لے ۔

سَأَلْتُ طَاوُسًا ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ يَعْنِي بْنَ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو الحسن بن بشران العدل

Hadith 1084

chevron_left Previous
1…7891011
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead