Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1001

[ 945 ] أخبرنا الأستاذ أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا بن أبي ذئب عن الزهري عن عبيد الله عن عمار بن ياسر قال هلك عقد لعائشة من جزع ظفار في سفر من أسفار رسول الله صلى الله عليه وسلم وعائشة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك السفر فالتمست عائشة عقدها حتى انتهى الليل فجاء أبو بكر فتغيظ عليها وقال حبست الناس بمكان ليس فيه ماء قال فأنزل الله تعالى آية الصعيد فجاء أبو بكر فقال أنت والله يا بنية ما علمت مباركة قال عبيد الله وكان عمار يحدث أن الناس طفقوا يومئذ يمسحون بأكفهم الأرض فيمسحون وجوههم ثم يعود فيضربون ضربة أخرى فيمسحون بها أيديهم إلى المناكب والآباط ثم يصلون وكذلك رواه معمر بن راشد ويونس بن يزيد الأيلي والليث بن سعد وابن أخي الزهري وجعفر بن برقان عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن عمار وحفظ فيه معمر ويونس ضربتين كما حفظهما بن أبي ذئب

سیدنا عمار بن یاسر فرماتے ہیں کہ نبیﷺ کسی سفر میں سیدہ عائشہ کا ظفا ر کے گھونگوں کا بنا ہوا ہار گم ہو گیا اور اس سفر میں سیدہ عائشہ رسول اللہﷺ کے ساتھ تھیں سیدہ عائشہ نے اپنا ہار تلاش کیا حتی کہآدھی رات گزر گئی سیدنا ابو بکر آئے اور ان سے ناراض ہوئے اور کہا ؒ تو ننے لوگوں کو ایسی جگہ روک دیا ہے جہاں پانی بھی نہیں ہے ۔ راوی کہتا ہے کہ آیت سعید نازلہوئی سیدنا ابو بکر ائے اور ان سے ناراض ہوئے اور کہا: تو نے لوگوں کو ایسی جگہ روک دیا ہے جہاں پانی بھی نہیں ہے۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فَوْرَكَ

Hadith 1001

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1002

[ 946 ] ورواه مالك بن أنس كما أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا إسماعيل بن إسحاق وأخبرنا أبو طاهر الحسن بن علي بن الحسن بن محمد بن سلمة الكعبي بهمذان أنا أبو جعفر محمد بن عبيد الله بن بردة ثنا إسماعيل بن إسحاق بن إسماعيل بن حماد ثنا زيد القاضي ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء ثنا جويرية عن مالك عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة أنه أخبره عن أبيه عن عمار بن ياسر قال تمسحنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالتراب فمسحنا وجوهنا وأيدينا إلى المناكب لفظ حديث بن عبدان وكذلك رواه أبو أويس المدني عن الزهري وأما سفيان بن عيينة فإنه شك في ذكر أبيه في إسناده رواه مرة عن بن دينار عن الزهري ومرة عن الزهري نفسه ورواه صالح بن كيسان عن الزهري عن عبيد الله عن بن عباس عن عمار

1002- سیدنا عمار بن یاسر فرماتے ہی کہ ہم نے رسول اللہﷺ کی موجودگی میں مٹی کے ساتھ مسح کیا ہم نے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا بغلوں تک مسح کیا۔ سفیان بنم عیینہ اپنی سند می ان کے والد کے ذکر کرنے کے متعلق شک کرتے ہیں کبھی بیان کرتے ہیں اور کبھی صرف زہری سے بیان کرتے ہیں۔

عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَالِكٍ، ← جُوَيْرِيَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← زيد القاضي ← إسماعيل بن إسحاق بن إسماعيل بن حماد ← أبو جعفر محمد بن عبيد الله بن بردة ← أبو طاهر الحسن بن علي بن الحسن بن محمد بن سلمة الكعبي ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ كَمَا

Hadith 1002

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1003

[ 947 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أحمد بن جعفر القطيعي ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا يعقوب بن إبراهيم ثنا أبي عن صالح عن بن شهاب قال حدثني عبيد الله بن عبد الله عن بن عباس عن عمار بن ياسر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم عرس بأولات الجيش ومعه عائشة زوجته فانقطع عقدها من جزع ظفار فحبس الناس ابتغاء عقدها ذلك حتى أضاء الفجر وليس مع الناس ماء فأنزل الله تعالى على رسول الله صلى الله عليه وسلم آية رخصة التطهر بالصعيد الطيب فقام المسلمون مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فضربوا أيديهم الأرض ثم رفعوا أيديهم ولم يقبضوا من التراب شيئا فمسحوا بها وجوههم وأيديهم إلى المناكب ومن بطون أيديهم إلى الآباط قال بن شهاب ولا يعتبر بهذا الناس وبلغنا أن أبا بكر قال لعائشة والله ما علمت أنك لمباركة رواه محمد بن إسحاق بن يسار عن الزهري قال فيه بن عباس وذكر ضربتين كما ذكر بن أبي ذئب ويونس وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس ثنا الربيع بن سليمان قال قال الشافعي رحمه الله تعالى في حديث عمار بن ياسر هذا إن كان تيممهم إلى المناكب بأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم فهو منسوخ لأن عمارا أخبره بأن هذا أول تيمم كان حين نزلت آية التيمم فكل تيمم كان للنبي صلى الله عليه وسلم بعده فخالفه فهو له ناسخ قال الشافعي وروي عن عمار أن النبي صلى الله عليه وسلم أمره أن يتيمم وجهه وكفيه

1003- سیدنا عمار بن یاسر سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اولات الجیش جگہ پر پڑاؤ ڈالا آپﷺ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ بھی تھیں ان کا ظفار گھونگوں کا بنا ہوا ہار گم ہو گیا۔ اس کی تلاش کے لیے وگوں کو روک دیا گیا یہاں تک کہ فجر ہو گئی اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ پر پاک مٹی سے طارت کی رخصت نازل کر دی ۔ صحابہ رسول اللہﷺ کے ساتھ کھڑے ہوئےانہوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور مٹی سے کوئی چیز نہین لی اپنے چہروں اور ہاتھوں کا کندھوں تک مسح کیا اور ہاتھوں سے اندرونی حصے کا بغلوں تک ۔ ابن شہاب کہتےہیں: لوگوں نے اس کا اعتبار نہیں کیا اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابو بکر نے عائشہ سے کہا: اللہ کی قسم مجھے پتہ نہیں تھا کہ تو برکت ہے ۔ امامشافعی فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کندھوں تک مسح کا جو حکم دیا تھا وہ منسوخ ہے ۔ سیدنا عمار بن یاسر فرماتےہیں کہ یہ سب سے پہلا تمیم تھا جب آیت تمیم نازل ہوئی ۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے تمام تمیم اس کے مخالف ہیں اور وہ ناسخ ہیں۔ امام شافعی ہی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمار سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے انہیں چہرے اور ہتھیلیوں پر تمیم کرنے کا حکم دیا ۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← بن شِهَابٍ ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1003

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1004

[ 948 ] أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسين الأسدي بهمدان ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم ثنا شعبة ثنا الحكم بن عتيبة عن ذر عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزى عن أبيه قال جاء رجل إلى عمر بن الخطاب فقال إني أجنبت فلم أجد الماء فقال عمار بن ياسر لعمر بن الخطاب أما تذكر أنا كنا في سفر فأجنبت أنا وأنت فأما أنت فلم تصل وأما أنا فتمعكت فصليت فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال النبي صلى الله عليه وسلم إنما كان يكفيك هكذا فضرب النبي صلى الله عليه وسلم بكفيه الأرض فنفخ فيهما ثم مسح بهما وجهه وكفيه رواه البخاري في الصحيح عن آدم بن أبي إياس وأخرجه مسلم من حديث يحيى القطان والنضر بن شميل عن شعبة وذكر سماع الحكم للحديث من سعيد بن عبد الرحمن نفسه

1004 - سعید بن عبدالرحمٰن بن ابتری اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب کے پاس آیااور کہا: میں جنبی ہو جاؤں اور پانی نے ملے تو کیا کروں؟ سیدنا عمار بن عمر بن خطاب سے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ ہم ایک سفر میں تھے اور آپ جنبی ہو گئے آپ نے نماز ادا نہیں کی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا پھر میں نے نماز پڑھی ۔ میں نے نبیﷺ کے پاس آیا تو یہ بات میں نے نبیﷺ کو بتلائی تو نبیﷺ نے فرمایاؒ تجھے اس طرح کرنا کافی تھا پھر نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارا اس میں پھونک ماری پھر اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا۔

سماع الحكم للحديث من سعيد بن عبد الرحمن نفسه ← شُعْبَةُ، ← أخرجه مسلم من حديث يحيى القطان والنضر بن شميل ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← جهه وكفيه رواه البخاري في الصحيح ← فتمعكت فصليت فأتيت النبي فذكرت ذلك له ← وَأَنْتَ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا ← كنا في سفر، فأجنبت ← عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمَا تَذْکُرُ ← إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← ذَرٍّ، ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسين الأسدي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1004

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1005

[ 949 ] وقد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بحر بن نصر بن سابق الخولاني ثنا عبد الرحمن بن زياد أنا شعبة قال حدثني الحكم عن ذر عن بن لعبد الرحمن بن أبزي عن عبد الرحمن قال الحكم ثم سمعته من بن عبد الرحمن بن أبزى بخراسان قال جاء رجل إلى عمر فقال إنه أجنب فلم يجد الماء فقال له عمار أما تذكر أنا كنا في سرية على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فأجنبت أنا وأنت فأما أنت فلم تصل وأما أنا فتمعكت في التراب ثم صليت فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال إنما كان يكفيك هكذا ثم ضرب بيديه إلى الأرض ثم نفخ فيهما ومسح وجهه وكفيه لم يجاوز الكوع ورواه سلمة بن كهيل عن ذر بن عبد الله المرهبي إلا أنه شك في متنه واضطرب فيه

1005- حکم کہتے ہیں میں نے خراسان میں ابن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے سنا کہ ایک شخص سیدنا عمر کے پاس آیا اور کہا: میں جنبی ہو جاؤں اور پانی نہ ملے تو کیا کروں؟ ان سے سیدنا عمار نے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ ہم نبیﷺ کے زمانے میں ایک سریہ میں تھے ۔ میں اور آپ جنبی ہو گئے آپ نے نماز نہیں پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا پھر میں نے نماز پڑھی۔ میں نبیﷺ کے پاس آیا تو یہ بات میں نے آپﷺ سے ذکر کی آپﷺ نے فرمایا: تجھے اس طرح کافی تھا پھر اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا پھر ان میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا لیکن گٹوں سےآگے نہیں گزرے۔ ذربن عبداللہ راوی کو اس کے متن میں شک ہے انہوں نے اسے مضطرب قرار دیا ہے ۔

جَاءَ رَجُلٌ إلَى عُمَرَ ← من بن عبد الرحمن بن أبزى بخراسان ← الحكم ثم ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← بن لعبد الرحمن بن أبزي ← ذَرٍّ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← وقد

Hadith 1005

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1006

[ 950 ] وأخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري ثنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب القاضي ثنا عمرو بن مرزوق ثنا شعبة عن سلمة عن ذر عن بن عبد الرحمن بن أبزي عن أبيه أن رجلا أتى عمر بن الخطاب فقال إني كنت في سفر فاجنبت فلم أجد الماء فقال له عمر بن الخطاب لا تصل فقال عمار بن ياسر يا أمير المؤمنين أما تذكر إذ كنت أنا وأنت في سرية فاجنبت أنا وأنت فلم نصب الماء فأما أنت فلم تصل وأما أنا فتمعكت في التراب وأتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرنا ذلك له فقال يا عمار إنما كان يكفيك أن تقول هكذا وضرب بيديه على الأرض ثم نفخ فيهما فمسح وجهه ويديه فقال سلمة لا أدري بلغ الذراعين أم لا قال فقال عمر اتق الله فقال عمار إن شئت يا أمير المؤمنين لما جعل الله لك علي من الحق أن لا أحدث به فقال له عمر بل نوليك من ذلك ما توليت

1006 - ابن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب کے پاس آیا اور کہا: میں ایک سفر میں جنبی ہو گیا۔ مجھے پانئ نہیں ملا اس سے سیدنا عمر بن خطاب نے کہا: تو نماز نہ پڑھو ۔ سیدنا عمار بن یاسر نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ ایک سریہ میں تھے ہم جنبی ہو گئے ہمیں پانی نہیں ملا۔ آپ نے ناز پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو ا اور ہم رسول اللہﷺ کے پاس آئے ہم نے یہ بات آپﷺ سے ذکر کی تو آپﷺ نے فرمایا: اے عمار! تجھے کافی تھا کہ تو اس طرح کرتا اور اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا۔ پھر اس میں پھونک ماری اپنےچہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا۔ سلمہ نے کہا: میں نہیں جانتا۔ آپق مکمل بازوؤں تک پہنچے ہیں یا نہیں۔ راوی کہتا ہے : سیدا عمر نے کہا: اللہ سے ڈر ! عمار نے کہا: اے امیر المؤمنین! اللہ نے آپ کو مجھ پر ھق سے مقرر کیا ہے کیا آپ چاہتے کہ میں اس حدیث کو بیان نہ کروں؟ سیدنا عمر نے کہا: نہیں بلکہ ہم تیرے اس معاملے کو تیرے ہی سپرد کرتے ہین۔

أَبِيهِ ← بن عبد الرحمن بن أبزي ← ذَرٍّ، ← سَلَمَةَ، ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Hadith 1006

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1007

[ 951 ]وأخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود الطيالسي ثنا شعبة عن سلمة بن كهيل قال سمعت ذرا يحدث عن بن عبد الرحمن بن أبزي فذكره قال شعبة ثم شك سلمة فلم يدر إلى الكفين أو إلى المرفقين رواه محمد بن جعفر غندر عن شعبة عن سلمة هكذا وقال لا أدرى فيه إلى المرفقين يعني أو إلى الكفين

1007 - ابن عبدالرحمٰن بن ابتری نے اس کو ذکر کیا ہے ۔ شعبہ کہتے ہیں کہ سلمہ کو یاد نہیں کہ ہتھیلیوں تک کا ذکر کیا یا کہنیوں تک ۔ شعبہ نے سلمہ سے اس روایت کے متعلق نقل فرمایا ہے کہ انہوں نے کہا : مجھے معلوم نہیں اس میں کہنیوں کا ذکر ہے یا ہتھیلیوں کا۔

بن عبد الرحمن بن أبزي فذكره ← ذَرًّا، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Hadith 1007

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1008

[ 952 ]وأخبرنا أبو علي الروذباري ثنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا علي بن سهل الرملي ثنا حجاج حدثني شعبة بإسناده بهذا الحديث قال ثم نفخ فيهما ومسح بهما وجهه وكفيه إلى المرفقين أو الذراعين قال شعبة كان سلمة يقول الكفين والوجه والذراعين فقال له منصور ذات يوم أنظر ما تقول فإنه لا يذكر الذراعين غيرك رواه سلمة بن كهيل عن أبي مالك حبيب بن صهبان الكاهلي عن عبد الرحمن

1008 - شعبہ نے اس حدیث کو اسی سند سے بیان کیا ہے ۔ فرماتے ہیں: پھر اس میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا کہنیوں یا بازوؤں تک مسح کیا۔ شعبہ کہتے ہیں: سلمہ کا کہنا ہے کہ ہتھیلیاں چہرہ اور بازو ایک دن اس کو منصور نے کہا: دیکھا تو کیا کہہ رہا ہے تیرے علاوہ کوئی بھی بازو کا ذکر نہیں کرتا۔

Hadith 1008

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1009

[ 953 ] أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا أبو المثنى ثنا محمد بن كثير أنا سفيان عن سلمة عن أبي مالك عن عبد الرحمن بن أبزي قال كنت عند عمر فذكر الحديث وقال عمار فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال إنما كان يكفيك أن تقول هكذا وضرب بيده إلى الأرض ثم نفخها ثم مسح بها وجهه ويديه إلى نصف الذراع ورواه حصين بن عبد الرحمن عن أبي مالك قال سمعت عمارا يخطب فذكر التيمم فضرب بكفيه الأرض فمسح بهما وجهه وكفيه ورفعه إبراهيم بن طهمان عن حصين ورواه الأعمش مرة عن سلمة بن كهيل عن عبد الرحمن بن أبزي ومرة عن سلمة عن سعيد بن عبد الرحمن عن أبيه وقال مرة في متنه ثم مسح وجهه والذراعين إلى نصف الساعد ولم يبلغ المرفقين

1009 - عبدالرحمٰن بن ابزیٰ فرماتے ہیں : میں سیدنا عمر کے پاس تھا سیدنا عمر نے کہا: میں نبیﷺ کے پاس آیا تو یہ بات میں نے آپﷺ سے ذکر کی ۔ آپﷺ نے فرمایا: تیرے لیے یہی کافی تھا کہ تو اس طرح کرتا اور اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا پھر پھونک ماری اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا نصف بازوؤں تک مسح کیا۔

إنما كان يكفيك ← عمار فأتيت النبي فذكرت ذلك له ← الْحَدِيثَ. ← كنت عند عمر ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← أَبِي مَالِکٍ ← سَلَمَةَ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1009

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1010

[ 954 ]وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا عبد الوهاب بن عطاء ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن عزرة عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزي عن أبيه عن عمار أنه قال سألت النبي صلى الله عليه وسلم عن التيمم فأمرني بالوجه والكفين ضربة واحدة وكان قتادة يفتي به وكذلك رواه جماعة عن بن أبي عروبة ورواه عيسى بن يونس عن بن أبي عروبة دون ذكر عزرة في إسناده وكذلك رواه أبان بن يزيد العطار عن قتادة وأختلف عليه في ذكر عزرة في إسناده وقيل عن أبان عن قتادة بإسناد آخر إلى المرفقين

1010 - سیدنا عمار بن یاسر سے روایت ہے کہ میں نے نبیﷺ سے تمیم کے متعلق سوال کیا تو آپ نے ایک ہی ضرب سے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کا حکم دیا۔ قتادہ کہتے ہیں: اس کی سند میں مذکورہ راوی عزرہ کے ذکر پر اختلاف ہے ۔ ابان قتادہ سے دوسری سند سے نقلفرماتے ہیں کہ کہنیون تک مسح ہے ۔

عَمَّارٍ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← عَزْرَۃَ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1010

Sahih

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1011

[ 955 ] أخبرناه أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا موسى بن إسماعيل ثنا أبان قال سئل قتادة عن التيمم في السفر فقال حدثني محدث عن الشعبي عن عبد الرحمن بن أبزى عن عماد بن ياسر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إلى المرفقين

1011 - سیدنا عمار بن یاسر سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہنیوں تک مسح کرو۔

عماد بن ياسر ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← الشَّعْبِيِّ، ← مُحَدِّثٌ ← التَّيَمُّمِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ ← سُئِلَ قَتَادَةُ ← أَبَانُ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Hadith 1011

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 1012

[ 956 ] وأخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد بن الحارث الفقيه أنا علي بن عمر الحافظ ثنا القاضيان الحسين بن إسماعيل وأبو عمر محمد بن يوسف قالا ثنا إبراهيم بن هانئ ثنا موسى بن إسماعيل ثنا أبان قال سئل قتادة عن التيمم في السفر فقال كان بن عمر يقول إلى المرفقين وكان الحسن وإبراهيم النخعي يقولان إلى المرفقين قال وحدثني محدث عن الشعبي عن عبد الرحمن بن أبزى عن عمار بن ياسر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إلى المرفقين قال أبو إسحاق فذكرته لأحمد بن حنبل فعجب منه وقال ما أحسنت قال الشيخ هذا الاختلاف في متن حديث بن أبزى عن عمار إنما وقع أكثره من سلمة بن كهيل لشك وقع له والحكم بن عتيبة فقيه حافظ قد روا عن ذر بن عبد الله عن سعيد بن عبد الرحمن ثم سمعه من سعيد بن عبد الرحمن فساق الحديث على الأثبات من غير شك فيه وحديث قتادة عن عزرة يوافقه وكذلك حديث حصين عن أبي مالك وأما حديث قتادة عن محدث عن الشعبي فهو منقطع لا يعلم من الذي حدثه حدثه فينظر فيه وقد ثبت الحديث من وجه آخر لا يشك حديثي في صحة إسناده

1012 - ابان کہتے ہیں کہ قتادہ سے سفر میں تمیم کے متعلق سوال کیا گیا تو اہوں نے فرمایا: ابن عمر فرمایا کرتے تھے: کہنیوں تک او ر حسن اور ابراہیم نخعی بھی یہی کہتے تھے یعنی کہنیوں تک ۔ عمار بن یاسر سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ن فرمایا: کہنیوں تک ابو اسحاق کہتےہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا: کیا ہی خوب ۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← الشَّعْبِيِّ، ← وَحَدَّثَنِي مُحَدِّثٌ ← إلى المرفقين وكان الحسن وإبراهيم النخعي يقولان إلى المرفقين ← التيمم في السفر فقال كان بن عمر ← سُئِلَ قَتَادَةُ ← أَبَانُ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← إبراهيم بن هاني، ← الْقَاضِيَانِ الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَأَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ← وأخبرنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ،

Hadith 1012

chevron_left Previous
1234…11
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead