سنن الکبری البھیقی · كتاب اللعان ‹ كتاب اللعان · حديث 15291
[ 15068 ] أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله الأديب أنا أبو بكر أحمد بن إبراهيم الإسماعيلي أخبرني الحسن بن سفيان ونا القاسم بن زكريا وعمران بن موسى وابن عبد الكريم الوراق قالوا ثنا بندار بن بشار نا بن عدي نا هشام بن حسان حدثني عكرمة عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما أن هلال بن أمية قذف امرأته بشريك بن سحماء فقال له النبي صلى الله عليه وسلم البينة أو حد في ظهرك فقال يا رسول الله إذا رأى أحدنا رجلا على امرأته أيلتمس البينة فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يقول البينة وإلا حد في ظهرك فقال هلال والذي بعثك بالحق إني لصادق ولينزلن الله في أمري ما يبرئ ظهري من الحد فنزل جبرائيل عليه السلام ونزلت الآية والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم فقرأ حتى بلغ والخامسة أن غضب الله عليها إن كان من الصادقين قال فانصرف النبي صلى الله عليه وسلم فأرسل إليهما فجاءا فقام هلال بن أمية فشهد والنبي صلى الله عليه وسلم يقول إن الله يعلم أن أحدكما كاذب فهل منكما تائب ثم قامت فشهدت فلما كان عند الخامسة ان غضب الله عليها إن كان من الصادقين قالوا لها إنها موجبة قال بن عباس فتلكأت حتى ظننا أنها سترجع ثم قالت لا أفضح قومي سائر اليوم فمضت فقال النبي صلى الله عليه وسلم انظروها فإن جاءت به اكحل العينين سابغ الإليتين خدلج الساقين فهو لشريك بن سحماء فجاءت به كذلك فقال النبي صلى الله عليه وسلم لولا ما مضى من كتاب الله تعالى لكان لي ولها شأن رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن بشار
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس سے نقلفرماتے ہیں کہ ہلال بن امیہ نے اہنی بیوی کو نبئ ﷺ کے سامنے شریک بن محماء کے ساتھ الزشام لگا دیا نبی ﷺ نے فرمایا: گواہ پیش کرو ورنہ تیری کمر پر کورے لگیں گے اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! جب ہم سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو ہپائے تو کیا وہ گواہ ڈھونڈ نے شروع کر دے ؟ نبی ﷺ ے فرمایا: ہاں گواہ پیش کرنا ہوں گے یصورت دیگر تیری کمرپر کوڑے برسیں گے اس پر بلال نے کہا: اس ذات کی قسم جس ے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے بلاشبہ میں سچا ہوں اللہ کم نازل کرئ گا جو مری کمر کو کوڑوں سے بچھا دے گا پس جبرئیل نازل ہوئے اور آپﷺ پر یہ آیات نازل ہوئی اور جو لوگ اپنی بیویو پر تہمت لگھاتے ہیں اور اپمنے علاوہ کوئی گواہ نہیں پاتے الی قولبہ اور پانچویں مرتبہ یہ کہےکہ اللہ اس پر ناراض ہو گا ا اگر وہ سچوں میں سے ہوا تو اس کے بعد نبی ﷺ مے دونوں کو بلایا بلال نے اپنی صداقت کی گواہی دی تو نبی ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ اللہ جانتا ہے تم می سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی ایک توبہ کرنے کے لیے تیار ہے ؟ پھر اس کی بیوی کھڑیہوئی اور اس نے اپنی صداقت کی گوای دے دی ۔ جب وہ پانچویں بار گواہی دینے والی تھی تو صحابہ نے فرمایا: پانچویں بار کی گواہی اللہ کے غضب کو واجب کر دے گیہ اگر خآوند سچا ہوا تو عبداللہ بن عابس فرماتے ہیں کہ عورت جھجکی اور پیچھے ہٹ گئی ہ نے محسوس کیا کہ وہ اپنے موقف سے پھر جائے گی لیکن اس نے کہا: میں اپنی قوم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رسوا نہ کروں گی پھر اس نے گواہی اور نبیﷺ نے فرمایا: اس کا خیال رکھنا اگر اس نے بچہ سریلی آنکھوں بھاری سرینوں اور متی پنڈلیوں والا جنا تو یہ شریک بن سحماء کا ہے جب اسے بچہ پیدا ہوا تو اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: کتاب اللہ کا حکم نازل نہ ہو چکا ہوتاتو میں اس عورت سے نپٹتا۔
بن عباس رضى الله تعالى عنهما ← عِكْرِمَةَ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← بن عدي ← بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ، ← ابن عبد الكريم الوراق ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ← الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّا ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو بكر أحمد بن إبراهيم الإسماعيلي ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَدِيبُ
Hadith 15291
