سنن الکبری البھیقی · كتاب الظهار ‹ كتاب الظهار · حديث 15266
[ 15043 ] أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو نا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا الربيع بن سليمان أنا الشافعي أنا مالك عن هلال بن أسامة عن عطاء بن يسار عن عمر بن الحكم أنه قال أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله إن جارية لي كانت ترعى غنما لي فجئتها وقد فقدت شاة من الغنم فسألتها عنها فقالت أكلها الذئب فأسفت عليها وكنت من بني آدم فلطمت وجهها وعلي رقبة أفأعتقها فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم أين الله فقالت في السماء فقال من أنا قالت أنت رسول الله فقال فأعتقها فقال عمر بن الحكم يا رسول الله أشياء كنا نصنعها في الجاهلية كنا نأتي الكهان فقال النبي صلى الله عليه وسلم لا تأتوا الكهان فقال عمر وكنا نتطير فقال إنما ذلك شيء يجد أحدكم في نفسه فلا يضرنكم قال الشافعي رحمه الله اسم الرجل معاوية بن الحكم كذا روى الزهري ويحيى بن أبي كثير قال الشيخ رحمه الله كذا رواه جماعة عن مالك بن أنس رحمه الله ورواه يحيى بن يحيى عن مالك مجودا فقال عن معاوية بن الحكم قال في آخره فقال أعتقها فإنها مؤمنة
عطاء بن یسار حضرت عمر بن حکم سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! میری لونڈی میری بکریاں چرایا کرتی تھی میں اس کے پاس آیا تو اس نے میری ایک بکری گم کر دی تھی میں نے اس سے بکری کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: بھیڑیا کھا گیا ہے مجھے اس پر غصہ آیا اور میں نے کہا: بھی بنو ادم میں سے ہوں میں نے اس کے چہرے پر تھپڑ رسید کر دیا او رمیرے ذمہ ایک غلام آزاد کرنا ہے کیا میں اس کو آزاد کردوں آپق نے اس لونڈی سے پوچھا: اللہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا:آسمان میں آپق نے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں تو آپﷺ نے فرمایا: اس کو آزاد کر دے عمر بن حکم نے فرمایا: تم کاہن کے پاس نہ جایا کرو عمر نے کہا: ہم اچھا شگون لیتے تھے آپﷺ نے فرمایا: یہ تمہارے دل کے پیدا ہونے والی بات ہے جو تمہیں نقصان نہ دے گی ۔
أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: ← عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ ← مَالِكٍ، ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Zihar › The Book of Zihar · Hadith 15266
