سنن الکبری البھیقی · كتاب الظهار ‹ كتاب الظهار · حديث 15242
[ 15019 ] أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا سعدان بن نصر نا أبو معاوية عن الأعمش عن تميم بن سلمة عن عروة عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت الحمد لله الذي وسع سمعه الأصوات لقد جاءت المجادلة تشتكي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا في ناحية البيت ما أسمع ما تقول فأنزل الله عز وجل { قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها } أخرجه البخاري في الصحيح فقال وقال الأعمش عن تميم فذكره
عروہ حضرت عائشہ سے نقل فرماتے ہیں کہ تماما تعریفیں اس ذات کے لیے جس کی سماعت کو آواز وں نے گھیر رکھا ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس ایک عورت جھگڑتے ہوئے شکایت کر رہی تھی او میں گھر کے ایک کونے میں تھی میں نے نہ سنا کیا کہہ رہی تھ تو اللہ رب العزت نے یہ آتی نازل فرمائی اللہ نے اس عورت کی بات کو سن لیا جو اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھی ۔
عُرْوَةَ ← تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Zihar › The Book of Zihar · Hadith 15242
