سنن الکبری البھیقی · كتاب الشركة ‹ كتاب الشركة · حديث 11420
[ 11202 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق ثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو النعمان ثنا حماد بن زيد ثنا عبد الملك بن جريج عن عطاء عن جابر بن عبد الله وعن طاوس عن بن عباس قال قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم صبيحة رابعة من ذي الحجة مهلين بالحج لا يخالطه شيء فلما قدمنا أمرنا فجعلناها عمرة بأن نحل إلى نسائنا ففشت في ذلك المقالة قال عطاء قال جابر فيروح أحدنا إلى منى وذكره يقطر منيا قال جابر فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام خطيبا فقال بلغني أن أقواما يقولون كذا وكذا والله لأنا أتقى منهم ولو استقبلت من أمري ما استدبرت ما أهديت ولولا أن معي الهدي لأحللت قال فقام سراقة بن مالك بن جعشم رضى الله تعالى عنه فقال يا رسول الله هي لنا أم للأبد فقال لا بل للأبد قال وجاء علي بن أبي طالب رضى الله تعالى عنه فقال أحدهما يقول لبيك بما أهل به رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال الآخر لبيك بحجة رسول الله صلى الله عليه وسلم فامره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقيم على إحرامه وأشركه في الهدي رواه البخاري في الصحيح عن أبي النعمان
حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ چوتھی ذی الحجہ کی صبح حج کا تلبیہ کہے ہوئے اور اس کے ساتھ کوئی اور چیز نہ ملاتے ہوئے داخل ہوئے جب ہم مکہ پہنچے تو آپﷺ کے حکمسے ہم نے اپنے حج کو عمرہ کر ڈالا اور ہماری بیویاں بھی ہمارے لئے حلال ہو گئیں اس پر لوگوں میں باتیں ہونے لگیں۔ عطاء فرماتے ہیں: جابر نے فرمایا: کہ کچھ لوگ کہنے لگے: کیا ہم میں سے کوئی منیٰ اس طرح جائے گا کہ اس کی منی اس کے ذکر سے ٹپک رہی ہو ۔ یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ خطبہ دینے کےلیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض لوگ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں اللہ کی قسم! میںا ن سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اگر مجھے وہ بات پہلے ہی معلوم ہوتی جواب معلو ہوئی ہے تو میں قربانی کے جونر اپنے ساتھ نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ قربنای کے جانور نہ ہوتے تو میں بھی احرام کھول دیتا۔
بْنِ عَبَّاسٍ ← طَاوْسٍ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Hadith 11420
