Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الفيء والغنيمة ‹ جماع أبواب تفريق ما أخذ من لربعة أخماس الفيء غير الموجف عليه · حديث 13006

[ 12785 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي قالا أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا أحمد بن صالح المصري ثنا بن وهب أخبرني يونس عن بن شهاب قال أخبرني عروة بن الزبير أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت لما استخلف أبو بكر رضى الله تعالى عنه قال لقد علم قومي ان حرفتي لم تكن تعجز عن مؤنة أهلي وقد شغلت بأمر المسلمين فسيأكل آل أبي بكر من هذا المال واحترف للمسلمين فيه

حضرت عائشہ فرماتی ہیں : جب ابو بکر خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے کہا: میری قوم جانتی ہے کہ میرا کاروبار میرے گھر والوں کی گزر بسر کے لیے کافی ہے اور اب میں مسلمانوں کا والی بنا دی اگیا ہوں پس اب آل ابو بکر بھی اسی سے کھائیں گے اور ابو بکر مسلمانوں کا مال تجار ت بڑھا تا رہے گا۔

لَقَدْ عَلِمَ قَوْمِي أَنَّ حِرْفَتِي لَمْ تَکُنْ تَعْجِزُ ← لما استخلف أبو بكر رضى الله تعالى عنه ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← أحمد بن صالح المصري، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Book Department of Fae and Booty › The gathering of the doors of separating what was taken from four-fifths of the space that is not approved · Hadith 13006

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الفيء والغنيمة ‹ جماع أبواب تفريق ما أخذ من لربعة أخماس الفيء غير الموجف عليه · حديث 13007

[ 12786 ] قال بن شهاب وأخبرني عروة عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت لما استخلف عمر رضى الله تعالى عنه أكل هو وأهله واحترف في مال نفسه رواه البخاري في الصحيح عن إسماعيل بن أبي أويس عن بن وهب

13007 – حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب عمر خلیفہ بنائے گئے وہ اور ان کے گھر والے کھاتے تھے اور وہ اپنے مال میں کاروبار کرتے تھے ۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Book Department of Fae and Booty › The gathering of the doors of separating what was taken from four-fifths of the space that is not approved · Hadith 13007

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الفيء والغنيمة ‹ جماع أبواب تفريق ما أخذ من لربعة أخماس الفيء غير الموجف عليه · حديث 13008

[ 12787 ] أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا بن نمير عن الأعمش عن شقيق عن مسروق عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت قال أبو بكر رضى الله تعالى عنه حين حضر انظري كل شيء زاد في مالي منذ دخلت في هذه الإمارة فرديه إلى الخليفة من بعدي قالت فلما مات نظرنا فما وجدنا زاد في ماله إلا ناضحا كان يسقى بستانا له وغلاما نوبيا كان يحمل صبيا له قالت فأرسلت به إلى عمر رضى الله تعالى عنه قالت فأخبرت أن عمر رضى الله تعالى عنه بكى وقال رحم الله أبا بكر لقد أتعب من بعده تعبا شديدا

13008 – حضڑت عائشہ سے روایت ہے کہ حضڑت ابو بکر نے وفات کے وقت کہا؛ میرے مال میں خلافت کےئ دوران ہر چیز کی زیادتی دیکھو پس میرے بعد خلفہ تک لوٹا دینا عائشہ کہتی ہیں جب وہ فوت ہو گئے ہم نے دیکھا ان کے مال میں صرف ایک اونٹنی زائد پائی جس سے باغ کو پانی دیتے تھے اور غلام جو بچوں کو اٹھاتا تھا۔

مَسْرُوقٍ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← بن نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Book Department of Fae and Booty › The gathering of the doors of separating what was taken from four-fifths of the space that is not approved · Hadith 13008

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الفيء والغنيمة ‹ جماع أبواب تفريق ما أخذ من لربعة أخماس الفيء غير الموجف عليه · حديث 13009

[ 12788 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن طاهر بن يحيى حدثني أبي ثنا محمد بن أبي خالد الفراء ثنا أبي ثنا المبارك بن فضالة عن الحسن أن أبا بكر الصديق رضى الله تعالى عنه خطب الناس فحمد الله واثنى عليه ثم قال إن أكيس الكيس التقوى وأحمق الحمق الفجور ألا وإن الصدق عندي الأمانة والكذب الخيانة ألا وان القوي عندي ضعيف حتى آخذ منه الحق والضعيف عندي قوي حتى آخذ له الحق ألا واني قد وليت عليكم ولست بأخيركم قال الحسن هو والله خيرهم غير مدافع ولكن المؤمن يهضم نفسه ثم قال ولوددت أنه كفاني هذا الأمر أحدكم قال الحسن صدق والله وإن أنتم أردتموني على ما كان الله يقيم نبيه من الوحي ما ذلك عندي إنما أنا بشر فراعوني فلما أصبح غدا إلى السوق فقال له عمر رضى الله تعالى عنه أين تريد قال السوق قال قد جاءك ما يشغلك عن السوق قال سبحان الله يشغلني عن عيالي قال تعرض بالمعروف قال ويح عمر إني أخاف أن لا يسعني أن آكل من هذا المال شيئا قال فانفق في سنتين وبعض أخرى ثمانية آلاف درهم فلما حضره الموت قال قد كنت قلت لعمر إني أخاف أن لا يسعني أن آكل من هذا المال شيئا فغلبني فإذا أنا مت فخذوا من مالي ثمانية آلاف درهم وردوها في بيت المال قال فلما أتى بها عمر رضى الله تعالى عنه قال رحم الله أبا بكر لقد اتعب من بعده تعبا شديدا

13009 – حسن سے روایت ہے کہ ابو بکر نے لوگوں کو خطبہ دیا اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر کہا عقل مندی تقویٰ ہے اور حماقت برائی ہےاور صدق مریے نزدیک امانت ہے اور جھوٹ میرے نزدیک خیانت ہے خبر دار ! قوی میرے نزدیک ضعیف ہے یہاں تک کہ اس سے حق نے لوں اور کمزور میرے نزدیک قوی ہے یہاں تک کہ اس کا حق لے لوں خبر دار ! میں تمہارا والی بنا ہوں او رمیں تم میں بہتر نہیں ہوں حس نے کہا: اللہ کی قسم وہ ان میں بہتر تھے اور لیکن مومن اپنے آپ کو کم تر سمجھتا ہے پھر کہا میں پسند کرتا ہوںکہ تم میں سے کوئی مجھے اس عہدے پر کافی ہو جائے حسن نے کہا اس نے سچ کہا اللہ کی قسم اور اگر تم ارادہ رکھتے ہو کہ جہاں اللہ نے نبی ﷺ کو قائم کیا تھا وہ میرے پاس رہے تو میں؟ ایک انسان ہوں پس میرا خیال رکھنا جب صبح ہوئی تو بازار کی طرف گئےے عمر نے ان سے کہا تم کہاں کا ارادہ رکھتے ہو ابو بکر نے کہا: بازار کجا عمر نے فرمایا:تحقیق آپ کے پاس ایسا معاملہ اگیئا ہے جس نے آپ کو باززار سے مشغول کر دیا ہے ابوبکر نے کہا: سبحان اللہ میرے گھر والوں سے بھی مشغول کر دیا ہے عمر نے کہا : معروف طریقے سے مال لے لو ابو بکر نے کہا؛ اے عمر ! میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میں اس بیت المال سے نہ کھاؤں کہا انہوںنے دو سال او چند مہینوں میں آٹح ہزار درہم خرچ کیے جب موت آئی تو کہا: میں ے عمر سے کہا تھا میں ڈرتا ہوں کہ بیت المال سے نہ کھا لوں کہا انہوں نے دو سال اور چند مہینوں میں آٹھ ہزار درہم خرچ کیے ۔

الْحَسَنِ، ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← أَبِي ← محمد بن أبي خالد الفراء ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ يَحْيَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Book Department of Fae and Booty › The gathering of the doors of separating what was taken from four-fifths of the space that is not approved · Hadith 13009

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الفيء والغنيمة ‹ جماع أبواب تفريق ما أخذ من لربعة أخماس الفيء غير الموجف عليه · حديث 13010

[ 12789 ] أخبرنا أبو حازم عمر بن أحمد العبدوي الحافظ أنا أبو الفضل محمد بن عبد الله بن محمد بن خميرويه ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا سفيان ثنا أيوب عن محمد بن سيرين عن الأحنف بن قيس قال كنا بباب عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه ننظر أن يؤذن لنا فخرجت جارية فقلنا سرية أمير المؤمنين فسمعت فقالت ما أنا بسرية أمير المؤمنين وما أحل له اني لمن مال الله تعالى قال فذكر ذلك لعمر بن الخطاب فدخلنا عليه فأخبرناه بما قلنا وبما قالت فقال صدقت ما تحل لي وما هي لي بسرية انها لمن مال الله عز وجل وسأخبركم بما استحل من هذا المال استحل منه حلتين حلة للشتاء وحلة للصيف وما يسعني لحجي وعمرتي وقوتي وقوت أهل بيتي وسهمي مع المسلمين كسهم رجل لست بأرفعهم ولا أوضعهم

13010 - احنف بن قیس فرماتے ہیں : ہم عمر بن خطاب کے دروازے پر تھے کہ آپ ہمیں اجازت دیں ایک لونڈی آئی ہم نے کہا: امیر الممنین کی لونڈی ہو اس نے سنا کہا میں امیر المومنین کی لونڈی نہیں ہوں اور میں آپ کے لیے حلال نہیں ہوں بے شک میں اللہ کے مال میں سے ہوں عمر بن خطاب سےت اس کا ذکر کیا گیا انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا وہ میرے لیے حلال نہیں ہے اور نہ وہ میری لوندی ہے اور وہ اللہ ک نال میں سے ہے اور میں تم کو خبر دیتا ہوں میرے اس میں سے کیا حلال ہے میں اس سے اپنے لیے دو چادریں حلال کیں ہیں ایک گرمی کی اور ایک سردی کی اور میرے حج عمر و میرے کھانے اور گھر والوں کا کھانا اور میرا حصہ مسلمانوں کے ساتھ ان جیسے ایک آدمی کی طرح ہے میں ان میں بلندہی بالا نہیں ہوں۔

كنا بباب عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه ننظر ← الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل محمد بن عبد الله بن محمد بن خميرويه ← أبو حازم عمر بن أحمد العبدوي الحافظ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Book Department of Fae and Booty › The gathering of the doors of separating what was taken from four-fifths of the space that is not approved · Hadith 13010

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الفيء والغنيمة ‹ جماع أبواب تفريق ما أخذ من لربعة أخماس الفيء غير الموجف عليه · حديث 13011

[ 12790 ] أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور العباس بن الفضل النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن اليرفأ قال قال عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه إني أنزلت نفسي من مال الله بمنزلة والي اليتيم أن احتجت أخذت منه فإذا أيسرت رددته وإن استغنيت استعففت

13011 - یرفاء غلام کہے ہیں؛ مجھے عرم بن خظابنے فرمایا: میں نے اپنے آپ کو بیت المال میں ایسے رکھا ہے جیسے یتیم والی ہوتا پے اگر میں حج کرتا ہوں تو اس سے لے لیتا ہوں جب مین آسانی میں ہوتا ہون تو لوتا دیتا ہوں اور اگر میں آس سے بے پرواہ ہوں تو اس سے بچ جاتا ہوں۔

اليرفأ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو منصور العباس بن الفضل النضروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Book Department of Fae and Booty › The gathering of the doors of separating what was taken from four-fifths of the space that is not approved · Hadith 13011

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الفيء والغنيمة ‹ جماع أبواب تفريق ما أخذ من لربعة أخماس الفيء غير الموجف عليه · حديث 13012

[ 12791 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أحمد بن عبيد الله النرسي ثنا روح ثنا بن أبي عروبة عن قتادة عن اللاحق بن حميد قال لما بعث عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه عمار بن ياسر وعبد الله بن مسعود وعثمان بن حنيف إلى الكوفة بعث عمار بن ياسر على الصلاة وعلى الجيوش وبعث بن مسعود على القضاء وعلى بيت المال وبعث عثمان بن حنيف على مساحة الأرض جعل بينهم كل يوم شاة شطرها وسواقطها لعمار بن ياسر والنصف بين هذين قال سعيد ولا أحفظ الطعام قال نزلتكم وإياي من هذا المال بمنزلة والي مال اليتيم من كان غنيا فليستعفف ومن كان فقير فليأكل بالمعروف وما أرى قرية يؤخذ منها كل يوم شاة إلا كان ذلك سريعا في خرابها

13012 - لاحق بن حمید فرماتے ہیں: جب عمر بن خطاب نے عمار بن یاسر عبداللہ بن مسعود عثمان بن حنیف کو کوفہ بھیجا تو عمار کو نماز اور لشکر پر امیر مقرر کیا اور ابن مسعود کو قضاۃ اور بیت المال کا نگران بنایا اور عچمان بن حنیف کو زمین پر نگران بنایا ان کے لیئ ہر روز ایک بکری کا نصف مقرر کیا عمار بن یاسر کے لیے اور نصف ان دونوں کے درمیان سعید نے کپ میں نے کھانا یاد نہیں رکھا پھر کہا میں ے بیت المال سے اس درجہ پر رکھا ہے جس پر تیم کا والی ہوتا ہے۔

اللاحق بن حميد ← قَتَادَةَ ← بن أَبِي عَرُوبَةَ ← رَوْحٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Book Department of Fae and Booty › The gathering of the doors of separating what was taken from four-fifths of the space that is not approved · Hadith 13012

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الفيء والغنيمة ‹ جماع أبواب تفريق ما أخذ من لربعة أخماس الفيء غير الموجف عليه · حديث 13013

[ 12792 ] أخبرنا أبو الحسين بن بشران العدل ببغداد أنا أبو عمرو بن السماك ثنا حنبل بن إسحاق بن حنبل ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا عامر بن شقيق أنه سمع أبا وائل يقول استعملني بن زياد على بيت المال فأتاني رجل منه بصك فيه أعط صاحب المطبخ ثمانمائة درهم فقلت له مكانك ودخلت على بن زياد فحدثته فقلت ان عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه استعمل عبد الله بن مسعود على القضاء وبيت المال وعثمان بن حنيف على ما يسقي الفرات وعمار بن ياسر على الصلاة والجند ورزقهم كل يوم شاة فجعل نصفها وسقطها واكراعها لعمار بن ياسر لأنه كان على الصلاة والجند وجعل لعبد الله بن مسعود ربعها وجعل لعثمان بن حنيف ربعها ثم قال ان مالا يؤخذ منه كل يوم شاة ان ذلك فيه لسريع قال بن زياد ضع المفتاح واذهب حيث شئت

13013 – ابو وائل کہتے ہیں: مجھے ابن زیاد نے بیت المال پر امیر مقرر کر دیا میرے ہاس ایک آدمی آیا میں اسے آٹھ سو درہم دے دیے میں نے اسے کہا تیرے مقام کی وجہ سے ہے پھر میں ابن زیاد کے پاس گیا اسے بتایا پھر میں نے کہا: عمر بن خطاب نے عبداللہ بن مسعود کو قضا اور بیت المال پر نگران بنایا اور عثمان بن حنیف کو فرات سے سیراب ہونے والی زمین پر نگران مقر رکیا اور عمار بن یاسر کو نماز اور لشکروں پر مقرر کیا اور ہر روز ان کو ایک بکری دی ۔

عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Book Department of Fae and Booty › The gathering of the doors of separating what was taken from four-fifths of the space that is not approved · Hadith 13013

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الفيء والغنيمة ‹ جماع أبواب تفريق ما أخذ من لربعة أخماس الفيء غير الموجف عليه · حديث 13014

[ 12793 ] أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسه ثنا أبو داود ثنا أبو الوليد الطيالسي ثنا ليث عن بكير بن عبد الله بن الأشج عن يسر بن سعيد عن بن الساعدي قال استعملني عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه على الصدقة فلما فرغت أمر لي بعمالة فقلت إنما عملت لله قال خذ ما أعطيت فإني قد عملت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فعملني رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة بن الليث وقال عن بن السعدي

13014 – ابن ساعدی فرماتے ہیں: عمر بن خطاب نے مجھے صقہ پر عامل بنایا جب میں اپنے کام سے فارغ ہوا تو میں ن ے کہا: میں اللہ کے لیے عامل بنا تھا عمر نے کہا: جو تجھے دیا جا رہا ہے وہ لے لے میں نے رسول اللہﷺ کے دور میں کام کیا تھا آپ نے مجھےع امل مقر رکیا تھا۔

بن الساعدي ← يسر بن سعيد ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← لَيْثٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Book Department of Fae and Booty › The gathering of the doors of separating what was taken from four-fifths of the space that is not approved · Hadith 13014

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الفيء والغنيمة ‹ جماع أبواب تفريق ما أخذ من لربعة أخماس الفيء غير الموجف عليه · حديث 13015

[ 12794 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو علي حامد بن محمد الهروي ثنا علي بن محمد الحكماني ثنا أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري أخبرني السائب بن يزيد أن حويطب بن عبد العزى أخبره أن عبد الله بن السعدي أخبره أنه قدم على عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه في خلافته فقال له عمر ألم أحدث أنك تلي من أعمال الناس أعمالا فإذا أعطيت العمالة كرهتها قال فقلت بلى قال فقال عمر رضى الله تعالى عنه فما تريد إلى ذلك قال فقلت إن لي أفراسا وأعبدا وأنا بالخير وأريد أن تكون عمالتي صدقة على المسلمين فقال عمر رضى الله تعالى عنه فلا تفعل فإني قد كنت أردت ذلك وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعطيني العطاء فأقول أعطه أفقه إليه مني حتى أعطاني مرة مالا فقلت أعطه افقر إليه مني فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم خذه فتموله أو تصدق به وما جاءك من هذا المال وأنت غير مشرف ولا سائل فخذه وما لا فلا تتبعه نفسك رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان وأخرجه مسلم من حديث عمرو بن الحارث عن بن شهاب

13015 - عبداللہ بن ساعدی فرماتے ہیں کہ وہ عمر بن خطاب کے پاس ان کی خلافت میں ائے عمر نے ان سے کہا: کیا میں تمہیں بیان نہ کروں کہ تو لوگوں ے کاموں کا والی بناجا پس جب تجھے اجرت دی جائے گی تو تو اسے نا پسند کرے گا ؟ میں نے کہا: ہاں عمر نے کہاؒ تیرا ارادہ کیا ہو گا؟ میں نے کہا: میرے پاس گھورے ہیں غلام ہیں اور میں بہتر حالت میں اور میں ثاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو عمر نے کہا : اسا نہ کر میں نے بھی یہ ارادہ کیا تھا رسول اللہﷺ مجھے دیتےتھے آپﷺ نے فمایا: اسے پکڑ لو اور ا سکے مالک بن جاؤ پھر صدہ کر دو اور جو مال اس طرح آئے کہ تجھے اس کی خؤاہش نہ تھی اور نہ تو اس کا حلب گار تھا تو اسے لے لینا۔

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← علي بن محمد الحكماني ← أبو علي حامد بن محمد الهروي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Book Department of Fae and Booty › The gathering of the doors of separating what was taken from four-fifths of the space that is not approved · Hadith 13015

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الفيء والغنيمة ‹ جماع أبواب تفريق ما أخذ من لربعة أخماس الفيء غير الموجف عليه · حديث 13016

[ 12795 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو سعيد بن أبي عمرو قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث حدثني هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه أنه قال لما كان يوم عام الرمادات واجدبت بلاد العرب كتب عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه إلى عمرو بن العاص من عبد الله عمر أمير المؤمنين إلى عمرو بن العاص انك لعمري ما تبالي إذا سمنت ومن قبلك أن أعجف أنا ومن قبل ويا غوثاه فذكر الحديث وقال فيه ثم دعا أبا عبيدة بن الجراح فخرج في ذلك فلما رجع بعث إليه بألف دينار فقال أبو عبيدة إني لم أعمل لك يا بن الخطاب إنما عملت لله ولست آخذ في ذلك شيئا فقال عمر رضى الله تعالى عنه قد أعطانا رسول الله صلى الله عليه وسلم في أشياء بعثنا لها فكرهنا ذلك فأبى علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاقبلها أيها الرجل فاستعن بها على دينك ودنياك فقبلها أبو عبيدة

13016 – زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ کٹائی کا سال تھا اور عرب کے لوگ فسل کاٹ رہے تھے تو عمر بن خطاب نے عمرو بن عاص کو لکھا اللہ کے بندے امیر المومنین عمر کی طرف سے عمرو بن عاص کو پھر ابو بعیدہ کو بلایا وہ نکلے اس میں جب وہ لوٹے تو وہ ایک ہزار دیتا لے کر آئے ابو عبیدہ نے کہا: اے عمر ! میں نے اللہ کے لیے یہ کام کیا ہے اور میں کچھ نہین لوں گا عمر نے کہا: ہمیں رسول اللہﷺ دیتے تھے جب ہمیں بھیجتے تھے ہم نے یہ مکروہ سمجھا تو رسول اللہﷺ نے انکار کر دیا وہ آدمی اس قبول کر لیتا تو بھی اس سے مدد حاصل کر اپنے قرض پر اور دنیا میں پھر ابو عبیدہ نے اسےقبول کر لیا۔

أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Book Department of Fae and Booty › The gathering of the doors of separating what was taken from four-fifths of the space that is not approved · Hadith 13016

سنن الکبری البھیقی · كتاب قسم الفيء والغنيمة ‹ جماع أبواب تفريق ما أخذ من لربعة أخماس الفيء غير الموجف عليه · حديث 13017

[ 12796 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو إسحاق إبراهيم بن فراس الفقيه بمكة ثنا بكر بن سهل الدمياطي ثنا شعيب بن يحيى التجيبي ثنا الليث بن سعد عن هشام بن سعد فذكره بإسناده مثله وذكر ما ترك من الأول فقال فكتب عمرو السلام أما بعد لبيك لبيك اتتك عير أولها عندك وآخرها عندي مع أني أرجو أن أجد سبيلا أن أحمل في البحر فلما قدم أول عير دعا الزبير رضى الله تعالى عنه فقال اخرج في أول هذه العير فاستقبل بها نجدا فاحمل إلى كل أهل البيت قدرت ان تحملهم إلي ومن لم تستطع حمله فمر لكل أهل بيت ببعير بما عليه ومرهم فليلبسوا كسائين ولينحروا البعير فيجملوا شحمه وليقددوا لحمه وليحتذوا جلده ثم ليأخذوا كبة من قديد وكبة من شحم وجفنة من دقيق فيطبخوا ويأكلوا حتى يأتيهم الله برزق فأبى الزبير أن يخرج فقال أما والله لا تجد مثلها حتى تخرج من الدنيا ثم دعا آخر أظنه طلحة فأبى ثم دعا أبا عبيدة بن الجراح فخرج في ذلك وذكر باقي الحديث بنحوه

13017 – عمرو نے لکھا : السلام علیکم او ر امابعد ! میں حآجر ہوں آپ کے پا س اونٹ آرہے ہیںپہلا اونٹ آپ کے پاس او رخ اری میرے پاس ا س امیر کے ساتھ کہ میں مسندر میں ڑاستہ پاؤں گا جب پہلا اونٹ آیا عمر نے زبیر کوبلایا کہا اس پہلے اونٹ کو نجد کی طرف لے جاؤ اور تو میری طرف ہر اس گھر والے کو بھیج جس پر نو میری طرف بھیجنے کی قوت رکھتا ہے اگر و اس کو بھینے کی طاقت نہیں رکھتا تو ہر گھر والے کو حکم دے کہ اس کے بدلے میں دانت دیں جو ان پر واجب ہے اور ان کو حکم دے کہ وہ لباس پہنیں اور وہ اونٹ ذبح نہ کریں اور اس کی چربی کو جمع کر لیں اس کے گوشت کے ٹکڑے کر کے سھا لیں آور اس کے چمڑے کے جوے بنا لیں پھر وہ گوشت کے ٹکڑوں کا ایک کوفتہ لیں اور چربی سے بھ اور آنے کا ایک پیالہ لیں پھر سالن پکائیں اور کھائیں یہاں تککہ اللہ تعالیٰ ان کے ہاںرزق لے آئے پس حضرت زبیر نے انکار کر دیا کہ وہ نکلیں حضرت عم رنے فرمایا: اللہ کی قسم! تو اس جیسی نہ پائے گا یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہو جائے پھر ایک دوسر ا آدمی بلایا میر اخیال ہے کہ وہ طلحہ تھا اس نے بھی انکار کر دیا پھر حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو بلایا پس وہ اس معاملے میں نکل گئے باقی حدیث اس طرح ہے ۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Book Department of Fae and Booty › The gathering of the doors of separating what was taken from four-fifths of the space that is not approved · Hadith 13017

chevron_left Previous
1…252627…34
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead