سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب صلاة المسافر والجمع في السفر · حديث 5414
[ 5198 ] أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب حدثني عبد الله بن محمد ثنا إسحاق بن إبراهيم أنبأ جرير عن الأعمش عن أبي الضحى عن مسروق عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرا فترخص فيه فبلغ ذلك ناسا من أصحابه فكأنهم كرهوه وتنزهوا عنه فقال ما بال برجال بلغهم عني أمرا ترخصت فيه فكرهوه وتنزهوا عنه فوالله لأنا أعلمهم بالله وأشدهم له خشية رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب عن جرير وأخرجه البخاري من حديث حفص بن غياث عن الأعمش
مسروق سے روایت ہے کہ عائشہ فرماتی ہیں کہ رسو ل اللہﷺ نے ایک کام کیا اور اس میں رخصت دی پھر آپﷺ کو لوگوں کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ اس کو ناپسند کرتے ہیں اور بچتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہوا کہ ان کو میری طرف سے کوئی حکم پہنچتا ہے اور میں نے اس میں رخصت دی ہے اور وہ اسے ناپسند کرتے ہیں اور بیچتے ہیں اللہ کی قسم! میں اللہ کو ان سے زیدہ جانتا ہوں اور میں اللہ سے بہت زیادہ ڈرتا ہوں۔
مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← الْاَعْمَشِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،
Hadith 5414
