سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب الحدث · حديث 663
[ 647 ] أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا يونس بن بكير ثنا محمد بن إسحاق حدثني صدقة بن يسار عن عقيب بن جابر عن جابر بن عبد الله قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة ذات الرقاع من نخل فأصاب رجل من المسلمين امرأة رجل من المشركين فلما أنصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم قافلا أتى زوجها وكان غائبا فلما أخبر الخبر حلف لا ينتهي حتى يهريق في أصحاب محمد دما فخرج يتبع أثر رسول الله صلى الله عليه وسلم فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم منزلا فقال من رجل يكلأنا ليلتنا هذه فانتدب رجل من المهاجرين ورجل من الأنصار فقالا نحن يا رسول الله فقال فكونا بفم الشعب فلما أن خرجا إلى فم الشعب قال الأنصاري للمهاجري أي الليل أحب إليك أن أكفيكه أوله أو آخره قال بل أكفني أوله فاضطجع المهاجري فنام وقام الأنصاري يصلي وأتى زوج المرأة فلا رأى شخص الرجل عرف أنه ربيئة القوم فرماه بسهم فوضعه فيه فنزعه فوضعه وثبت قائما يصلي ثم رماه بسهم آخر فوضعه فيه فنزعه فوضعه وثبت قائما يصلي ثم عاد له الثالثة فوضعه فيه فنزعه فوضعه ثم ركع فسجد ثم أهب صاحبه فقال اجلس فقد أثبت فوثب فلما رآهما الرجل عرف أنه قد نذرا به فهرب فلما رأى المهاجري ما بالأنصاري من الدماء قال سبحان الله أفلا أهببتني أول ما رماك قال كنت في سورة أقرأها فلم أحب أن أقطعها حتى أنفدها فلما تابع علي الرمي ركعت فآذنتك أيم الله لولا أن أضيع ثغرا أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم بحفظه لقطعت نفسي قبل أن أقطعها أو أنفدها
سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں کھجوروں کے موسم میں نکلے تو ایک مسلمان کسی مشرک عورت پر واقع ہوا جب رسول اللہﷺ واپسی کے لیے چلے تو اس عورت کا خاوند آیا اور وہ صحابی غائب تھا جب اس کو خبر ہوئی تو اس نے قسم اٹھاےئ کہ وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک اصحاب محمد ﷺ میں خون ریزی نہ کر لے پھر وہ رسول اللہﷺ کے نشا نات قدم کے پیچھے پیچھے چلا ۔ رسول اللہﷺ نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا او رکہا: آج رات ہماری پہرے داری کون کرے گا ؟َ ایک مہاجر ار ایک انصار کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ہم ۔ آپﷺ نے فرمایا: دونوں دادی کے شروع میں چلے جاؤ۔ جب وہ دادی کے شروع والے حصے میں جانے کے لیے نکلئ تو ایک انصاری نے مجاجر سے کہا : تجھے رات میں کون سا حصہ پسند ہ ے یعنی تو رات کے ابتدائی حصے میں۔ مہاجر لیٹ کر سو گیا انصاری نے کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی ۔ اس ورت کا خاوند آیا اس نے دیکھا کہ محافظ ہے تو اس نے تیر پھینکا جو اس کے جس میں پیوست ہو گیا انصاری نے کھینچ کر نکل دیا اور اپنی جگہ کھڑے نماز جاری رکھی اس نے دوسرا تیر پھیکا وہ بھی جسم میں پوست ہو گیا انصاری نے کھینچ کر نکال دیا اور نماز جاری رکھی تیسری مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا پھر اس نے رکوع وسجود کیا پھر اپنے ساتھی کو بیدا کیا اور کہا: اٹھ بیٹھ اب تیری باری ہے تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ جب آدمی نے دونوں کو دیکھا تو وہ سمجھ گیا کہ وہ چوکنے ہوگئے ہیں تو وہ دوڑ گیا جب مہاجر نے انصاری کے خون کو دیکھا تو ہا ؒ سبحان اللہ! تو نے مجھے تیر لگنے کے بعد کیوں نہ اٹھا دیا انصاری نے کہا: میں ایسی سورت پڑھ رہا تھا کہ میں نے ناپسند کیا کہ اسے مکمل کرنےسے پہلے روک دوں۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عقيب بن جابر ← صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Gathering the doors of the event · Hadith 663
