سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب سنة الوضوء وفرضه · حديث 245
[ 248 ] أخبرنا أبو علي الروذباري ثنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا عبد العزيز بن يحيى الحراني حدثني محمد يعني بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن محمد بن طلحة بن يزيد بن ركانة عن عبيد الله الخولاني عن بن عباس قال دخل علي علي وقد أهراق الماء فدعا بوضوء فأتيناه بتور فيه ماء حتى وضعناه بين يديه فقال يا بن عباس ألا أريك كيف كان يتوضأ رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت بلى قال فأصغى الإناء على يده فغسلهما ثم أدخل يده اليمنى فأفرغ بها على الأخرى ثم غسل كفيه ثم تمضمض واستنشق ثم أدخل يده في الإناء جميعا فأخذ بهما حفنة من ماء فضرب بها على وجهه ثم انضم أبهاميه ما أقبل من أذنيه ثم الثانية ثم الثالثة مثل ذلك ثم أخذ بكفه اليمنى قبضة من ماء فصبها على ناصيته فتركها تستن على وجهه وذكر باقي الحديث
245 - سیدنا ابن عباس سے روایت ہے کہ میرے پاس علی تشریف لائے انہوں نے قضا ئے حآجت کی پھر پانی منگوایا ہم آپ کے پاس برتن میں پانی لے کر آئے اور آپ کے سامنے رکھ دیا ۔ سیدنا علی نے فرمایا: اے ابن عباس ! کیا میں آپ کو نہ دکھلاؤں کہ رسول اللہﷺ کیسے وضؤ کیا کرتے تھے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں! تو انہوں نے برتن اپنے ہاتھ پر جھکایا اور ہاتھوں کو دھویا ۔ پھر اپنا دائیں ہاتھ برتن میں داخل کیا اس ہاتھ سے پانی دوسرے ہاتھ پر ڈالا پھر اپنی ہتھیلیوں کو دھویا پھر کلی کی اور ناک جھاڑا۔ پھر اکٹھے انے ہاتھوں کو برتن میں داخل کیا اور دونوں ہاتھوں کے ساتھ چلو لے کر اس کے اپنے منہ پر مارا پھر اپنے انگوٹھے کا ان کی اگلی جانب داخل کیے ۔ پھر دوسری اور تیسری مرتبہ بھی ایسے ہی کیا پھر دائیں ہاتھ سے پانی کا چلو لیا تو اس کو اپنی پیشانی پر ڈالا۔ پر اس پانی کو چھوڑ دیا ۔ پانی آپ کو پیشانیپر بہہ رہا تھا۔
بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللهِ الْخَوْلاَنِيِّ ← محمد بن طلحة بن يزيد بن ركانة ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← محمد يعني بن سلمة ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَی الْحَرَّانِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Combining the doors of the year of ablution and imposing it · Hadith 245
