سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب سنة الوضوء وفرضه · حديث 413
[ 417 ] أخبرنا أبو الحسين بن بشران العدل ببغداد أنا أبو جعفر محمد بن عمرو بن البخترى الرزاز نا محمد بن عبد الله يعني بن المنادي ثنا إسحاق بن يوسف يعني الأزرق ثنا القاسم بن عثمان البصري عن أنس بن مالك قال خرج عمر متقلدا بسيفه فذكر الحديث وفيه قيل له إن ختنك وأختك قد صبوا وتركا دينك الذي أنت عليه فمشى عمر حتى أتاهما وعندهما رجل من المهاجرين يقال له خباب وكانوا يقرؤون طه فقال عمر أعطوني الكتاب الذي هو عندكم فأقرأ قال وكان عمر يقرأ الكتاب فقالت أخته إنك رجس وإنه لا يمسه إلا المطهرون فقم فاغتسل أو توضأ قال فقام عمر فتوضأ ثم أخذ الكتاب فقرأ طه ولهذا الحديث شواهد كثيرة وهو قول الفقهاء السبعة من أهل المدينة
413 – سیدنا انس بن مالک فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر اپنی تلوار لٹکا کر نکلے پھر انہوں نے حدیث بیان کی ا س میں ہے کہ ان سے کہا گیا کہ آپ کا بہنوئی اور بہن بے دین ہو گئے ہیں اور انہوں نے تیرے دین کو چھوڑ دیا ہے تو سیدنا عمر چلے اور یہاں تک انکے پاس آئے ان کے پاس مہاجرین میں سے ایک شخص تھا جس کو خباب کہا جاتا تھا وہ دونوں سورۃ کی تلاوت کر رہے تھے عمر نے فرمایا: تمہارے پاس جو کتاب ہے وہ مجھے دو انہوں نے ان کو پڑھ کر سنایا اور سیدنا عمر کتاب پڑھا کرتے تھے ۔ ان کی بہن نے کپا : بلاشبہ تم ناپاک ہو اس کو تو صرف پاک لوگ ہی چھوتے ہیں آپ جا کر غسل کریں یا وضؤ راوی کہتا ہے : سیدنا عمر کھڑے ہوئے وضو کی کتاب پکڑی اور سورۃ کی تلاوت کی ۔ اس حدیث کے بہت سے شواہد ہیں۔ اہل مدینہ کے فقہاے سبعہ کا قول ہے ۔
الحديث وفيه قيل له ← خرج عمر متقلدا بسيفه ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ يَعْنِي: الْأَزْرَقَ ← محمد بن عبد الله يعني بن المنادي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ،
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Combining the doors of the year of ablution and imposing it · Hadith 413
