Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب سنة الوضوء وفرضه · حديث 377

[ 382 ] أخبرنا أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران العدل ببغداد أنا أبو علي إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر وسفيان وداود بن قيس عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن بن عباس قال ألا أخبركم بوضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فدعا بإناء فيه ماء فجعل يغرف غرفة غرفة لكل عضو رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن يوسف عن سفيان بإسناده وقال توضأ النبي صلى الله عليه وسلم مرة مرة

سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں : کیا میں تم کو رسول اللہﷺ کے وضو کے متعلق خبر دوں پھر انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور ہر عضو کے لیے اس سے چلو بھر شروع ہوئے ۔ ایک دسری روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: نبیﷺ نے ایک ایک مرتبہ وضو کیا۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Combining the doors of the year of ablution and imposing it · Hadith 377

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب سنة الوضوء وفرضه · حديث 378

[ 383 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا موسى بن الحسن نا معلي بن أسد ثنا وهيب عن عمرو بن يحيى بن عمارة بن أبي الحسن عن أبيه قال سمعت عمرو بن أبي الحسن يسأل عبد الله بن زيد بن عاصم عن وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم فدعا بتور من ماء فتوضأ لهم وضوء النبي صلى الله عليه وسلم فأكفأ على يديه من التور ثلاث مرات ثم أدخل يده في التور فمضمض واستنشق واستنثر ثلاث غرفات ثم أدخل يده فغسل وجهه ثلاثا ثم أدخل يديه فغسل يديه مرتين إلى المرفقين ثم أدخل يديه فمسح رأسه فأقبل بهما وأدبر مرة واحدة غسل رجليه إلى الكعبين رواه البخاري في الصحيح عن موسى بن إسماعيل وغيره عن وهيب وأخرجه مسلم من وجه آخر عن وهيب

عمرو بن یحییٰ بم عمارہ بن ابو حسن اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عمرو بن ابو حسن سے سنا وہ عبداللہ بنزید بن عاصم سے رسول اللہﷺ کے وضؤ کے متعلق پوچھ رہے تھے تو انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور لوگوں کے سامنے نبیﷺ کے وضو کا طریقہ بیان کیا تو انہوں نے برتن سے تی مرتبہ اپنے ہاتھ پر ڈالا پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور ناک جھاڑا یہ سب تین چلووں سے کیا پھر اپنا ہاتھ داخؒ کیا پھر اپنا چہرہ تین مرتبہ دھویا پھر اپنے ہاتھ داخل کیے پھ اپنے ہاتھوں کو دو مرتبہ کہنیوں سمیت دھویا پھر اپنے ہاتھوں کے داخل کیا پھر اپنے سر کا مسح کیا ایک مرتبہ آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لے ئے ھر اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Combining the doors of the year of ablution and imposing it · Hadith 378

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب سنة الوضوء وفرضه · حديث 379

[ 384 ] أخبرنا أبو حازم العبدوي الحافظ أنا أبو أحمد الحافظ أنا أبو عروبة الحسين بن أبي معشر السلمي بحران ح وأخبرنا أبو سعد يحيى بن أحمد بن على الصائغ بالري وأبو أحمد بن علوسا بأسد آباد همدان قالا ثنا أبو الحسن علي بن الحسن القاضى الجراحي ثنا عبد الله بن سليمان بن الأشعث قال نا المسيب بن واضح ثنا حفص بن ميسرة عن عبد الله بن دينار عن بن عمر قال توضأ النبي صلى الله عليه وسلم مرة مرة ثم قال هذا وضوء من لا تقبل له صلاة إلا به ثم توضأ مرتين مرتين ثم قال هذا وضوء من يضاعف له الأجر مرتين ثم توضأ ثلاثا ثلاثا ثم قال هذا وضوئي ووضوء المرسلين من قبلي لفظ حديث أبي عروبة في حديث عبد الله بن سليمان لا يقبل الله له الصلاة إلا به وقال يضاعف الله له وهذا الحديث من هذا الوجه ينفرد به المسيب بن واضح وليس بالقوي وروي من وجه آخر عن بن عمر

سیدنا ابن عمر فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے ایک ایک مرتبہ وضو کیا پھ فرمایا : یہ وضؤ ہے ۔ اس کے بغیر نماز وبل نہیں ہوتی ۔ پھر دو دو مرتبہ وضؤ کیا پھر فرمایا: یہ اس شخص کا وضو ہے جس کو دو ہرااجر دیا جائے گا ۔ پھر تین تین مرتبہ وضؤ کیا اور پھر فرمایا یہ میرا وضو ہے اور مجھ سے پہلے انبیا کا وضو ہے ۔

بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي الْجَرَّاحِيُّ، ← أبو أحمد بن علوسا بأسد آباد همدان ← أَبُو سَعْدٍ يَحْيَى بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِىٍّ الصَّائِغُ بِالرَّىِّ ← أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِى مَعْشَرٍ السُّلَمِىُّ ← أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ ← أبو حازم العبدوي الحافظ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Combining the doors of the year of ablution and imposing it · Hadith 379

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب سنة الوضوء وفرضه · حديث 380

[ 385 ] أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد بن الخليل الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا بن أبي سويد الذراع ومحمد بن عبد السلام بن النعمان ثنا أبو الربيع الزهراني ثنا سلام الطويل عن زيد العمي عن معاوية بن قرة عن عبد الله بن عمر قال دعا النبي صلى الله عليه وسلم بماء فتوضأ واحدة واحدة فقال هذا وضوء لا يقبل الله الصلاة إلا به ثم دعا بماء فتوضأ مرتين مرتين فقال هذا وضوء من يؤتى أجره مرتين ثم دعا بماء فتوضأ ثلاثا ثلاثا فقال هذا وضوئي ووضوء الأنبياء قبلي وهكذا روي عن عبد الرحيم بن زيد العمي عن أبيه وخالفهما غيرهما وليسوا في الرواية بأقوياء والله أعلم

سیدنا عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے پانی منگوایا اور دو دو مرتبہ وضو کیا پھر فرمایا: یہ وضو ہے اس کے بغیر اللہ نماز قبول نہیں کرتے پھر پانی منگوایا تو دو دو مرتبہ وضؤ کیا اور فرمایا: یہ اس شخص کا وضو ہے جس کو دو ہرا اجر دیا جائے گا پھر پانی منگوایا اور تین تین مرتبہ وضو کیا پھر فرمایا: یہ میرا اور مجھ سے پہلے انبیا کا وضو ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← سَلَّامُ الطَّوِيلُ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← محمد بن عبد السلام بن النعمان ← بن أبي سويد الذراع ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أبو سعد أحمد بن محمد بن الخليل الماليني

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Combining the doors of the year of ablution and imposing it · Hadith 380

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب سنة الوضوء وفرضه · حديث 381

[ 386 ] أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق وبكر بن الحسن قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنا بن وهب ح قالا وحدثنا أبو العباس نا بحر بن نصر قال قرئ على بن وهب أخبرك مالك بن أنس عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال إذا توضأ العبد المسلم أو المؤمن فغسل وجهه خرج من وجهه كل خطيئة نظر إليها بعينيه مع الماء أو مع آخر قطر الماء فإذا غسل يديه خرج من يديه كل خطيئة بطشتها يداه مع الماء أو مع آخر قطر الماء فإذا غسل رجليه خرجت كل خطيئة مشتها رجلاه مع الماء أو مع آخر قطر الماء حتى يخرج نقيا من الذنوب رواه مسلم في الصحيح عن أبي الطاهر عن بن وهب

سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: جب مسلمان یا مومن بندہ وضؤ کرتا ہے اور اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے ہر گناہ نکل جاتا ہے۔ جس کو اپنی آنکھوں سے پانی کی شکل میں دیکھتا ہے یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اور جبط اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کو اس کے ہاتھ نے کیا پانی کے ساتھ یا فرمایا : پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اور جب اپنے پاؤں کو دھوتا ہے تو اسکے پاؤن سے ہر وہ گناہ جاتا ہے جس وک اس کے پاںؤ نے کیا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ ۔ حتیٰ کہ گناہوں سے بالکل پاک صاف ہو کر نکل جاتا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← قرئ على بن وهب أخبرك مالك بن أنس ← بحر بن نصر ← وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ← بن وَهْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق وبكر بن الحسن

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Combining the doors of the year of ablution and imposing it · Hadith 381

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب سنة الوضوء وفرضه · حديث 382

[ 387 ] أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا محمد بن أيوب أنا أبو الوليد نا عكرمة بن عمار ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب وأبو عمرو محمد بن أحمد قالا ثنا عبد الله بن محمد بن شيرويه ثنا العباس بن عبد العظيم العنبري ثنا النضر بن محمد ثنا عكرمة بن عمار ثنا شداد بن عبد الله أبو عمار ويحيى بن أبي كثير عن أبي أمامة قال قال عمرو بن عبسة السلمي فذكر حديثا طويلا في قدومه على النبي صلى الله عليه وسلم مكة ثم قدومه عليه بالمدينة قال قلت يا رسول الله ما الوضوء حدثني عنه قال ما منكم من رجل يقرب وضوء فيمضمض ويستنشق فينثر إلا خرجت خطايا فيه وخياشيمه مع الماء ثم إذا غسل وجهه كما أمره الله إلا خرجت خطايا وجهه من أطراف لحيته مع الماء ثم يغسل يديه إلى المرفقين إلا خرجت خطايا يديه من أنامله مع الماء ثم يمسح رأسه إلا خرجت خطايا رأسه من أطراف شعره مع الماء ثم يغسل قدميه إلى الكعبين إلا خرجت خطايا رجليه من أنامله مع الماء فإن هو قام فصلى فحمد الله وأثنى عليه ومجده بالذي هو له أهل وفرغ قلبه لله إلا انصرف من خطيئته كهيئته يوم ولدته أمه أخرجه مسلم في الصحيح عن أحمد بن جعفر المعقري عن النضر بن محمد وفي رواية أبي الوليد عن عكرمة ثم يغسل قدميه إلى الكعبين كما أمره الله ولم يذكر في إسناده يحيى بن أبي كثير وقد رواه محمد بن إسحاق بن خزيمة عن محمد بن يحيى الذهلي عن أبي الوليد واحتج به في وجوب غسل القدمين

382 – سیدنا عمرو بن عبسہ سلمئ نے نبی ﷺ کے مکہ تشریف لے جانے اور مدینہ واپس تشریف لانے کے متعلق طویل حدیث ذکر کی ۔ فرماتے ہیں: یں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! وضو کیا ہے ؟ مجھے بتلائیے ! آپ ﷺ نے فرمایا: جب انسان پانئ اپنے قریب کرتا ہے اس کے بعد کلی کرات ہے اور ناک میں پانی چڑھاتا ہے ۔ پھر ناک جھاڑتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے منہ اور ناک کے بانسے سے گناہ نکل جاتے ہیں پھر جب اپنا چہرہ دھوتا ہے جس طرح اللہ نے اس کو حکم دیا تو پانی کے ساتھ اس کے چہرے کے اطراف اور داڑھی سے گناہ نکل جاتے ہیں پھر اپنے ہاتھوں کو کہنہوں سمیت دھتوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے انگلیوں کے گناہ نکل جاتے ہیں پھر سر کا مسح کرتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے بالوں کے اطراف سے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں پھر ٹخنوں تکاپنے قدموں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے پاںؤ کی ا نگلیوں سے گناہ نکل جاتے ہیں پھر کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا کرتا ہے تو اس کی بزرگی بیان کرتا ہے جس کے وہ اہل ہیں اور اپنے دل کو اللہ کے لیے فارغ کر دیتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے آج ہی اس کی والدہ ے اس کو جنم دیا ہے ۔ عکرمہ سے روایت ہے کہ پھر آپ نے اپنے قدموں کو ٹخنوں تک دھویا جس طرح اللہ نے اس کو حکم دیا ۔ اس کی سند میں یحییٰ بن کثیر کا ذکر نہیں ہے ۔

قُلْتُ ← حديثا طويلا في قدومه على النبي مكة ثم قدومه عليه بالمدينة ← عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← شداد بن عبد الله أبو عمار ويحيى بن أبي كثير ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ← أبو عبد الله محمد بن يعقوب وأبو عمرو محمد بن أحمد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Combining the doors of the year of ablution and imposing it · Hadith 382

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب سنة الوضوء وفرضه · حديث 383

[ 388 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو زكريا بن أبي إسحاق وأبو بكر أحمد بن الحسن قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بحر بن نصر الخولاني قال قرئ على عبد الله بن وهب أخبرك مالك بن أنس عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن عبد الله الصنابحي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إذا توضأ العبد فمضمض خرجت الخطايا من فيه فإذا استنثر خرجت الخطايا من أنفه فإذا غسل وجهه خرجت الخطايا من وجهه حتى تخرج من تحت أشفار عينيه فإذا غسل يديه خرجت الخطايا من يديه حتى تخرج الخطايا من تحت أظفار يديه فإذا مسح برأسه خرجت الخطايا من رأسه حتى تخرج من أذنيه فإذا غسل رجليه خرجت الخطايا من رجليه حتى تخرج من تحت أظفار رجليه ثم كان مشيه إلى المسجد وصلاته نافلة له أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول سمعت العباس بن محمد الدوري يقول سمعت يحيى بن معين يقول يروي عطاء بن يسار عن عبد الله الصنابحي ويقال أبي عبد الله والصنابحي صاحب أبي بكر عبد الرحمن بن عسيلة والصنابحي صاحب قيس بن أبي حازم يقال له الصنابح بن الأعسر كذا قال يحيى بن معين وزعم البخاري أن مالك بن أنس وهم في هذا وإنما هو أبو عبد الله عبد الرحمن بن عسيلة الصنابحي لم يسمع من النبي صلى الله عليه وسلم وهذا الحديث مرسل وعبد الرحمن هو الذي روي عن أبي بكر الصديق رضى الله تعالى عنه والصنابح بن الأعسر صاحب النبي صلى الله عليه وسلم قال الإمام أحمد وقد رواه البخاري في التاريخ من حديث مالك بن أنس هكذا ثم قال وتابعه بن أبي مريم عن أبي غسان عن زيد ورواه إسحاق بن عيسى بن الطباع عن مالك فقال عن الصنابحي أبي عبد الله واحتج بآثار ذكرها على أن الأمر فيه كما قال

383 – عبداللہ صنا بحی سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب بندہ وضو کرتا ہے اور کلی کرتا ہے تو اس کے منہ سے گناہ نکل جاتے ہیں اور جب ناک جھاڑتا ہے وت اس کے ناک سے گناہ نکل جاتے ہیں جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے س اس کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کے اس کی پلکوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں پھر جب اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ نکل جاتے ہیں پھر جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اسکے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے کانوں کے بھی گناہ نکل جاتے ہیں ۔ پھر جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو ا س کے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے کانوں کے بھی گناہ نکل جاتے ہیں ۔ ہھر جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اسکے پاںؤ کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ ا سکے قدموں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جااتے ہیں پھر اس کا مسجد کی طرف چلنا اور نماز ادا کرنا اس کے لیے اجرو ثواب میں زیادتی کا باعث ہے ۔ یحییٰ بن مین عطا ء بن ابو حازم کے دوست ہیں اور وہ صنابح بن اعس کے نام سے مشہور ہیں یہ قول یحییٰ بن معین کا ہے ۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ مالکبن انس کو ان کے نام کے متعلق وہم ہوا ہے وہ تو ابو عبداللہ کے نام سے مشہور ہیں۔ عبدالرحمٰن بن عسیلہ کا نبی ﷺ سے سماع ثابت نہیں یہ حدیث مرسل ہے عبدالرحمٰن نے سیدنا ابو بکر صدیق سے روایت کیا ہے اور صنابح بناعسر صحابی رسول ہیں۔ امام احمد کہتے ہیں کہ امام بخاری نے تاریخ میں مالک بن انس سے اسی طرح روایت کیا ہے پھر فرمایا: ان کی متابعت ابن ابی مریم عن ابو غسان عن زید کی ہے ۔ امام مالک نے صنابحی ابو عبداللہ نے روایت بیان کی ہے اس کی رواۃ اور آثار کو قابل حجت سمجھتا ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Combining the doors of the year of ablution and imposing it · Hadith 383

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب سنة الوضوء وفرضه · حديث 384

[ 389 ] أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا محمد بن عبد الله ثنا محمد بن عبيد الطنافسي وأبو بدر شجاع بن الوليد قالا نا سليمان بن مهران الأعمش عن سالم بن أبي الجعد عن ثوبان عن النبي صلى الله عليه وسلم قال استقيموا ولن تحصوا واعلموا أن من أفضل قال أبو بدر من خير أعمالكم الصلاة ولن يحافظ على الوضوء إلا مؤمن

384 – سیدنا ثوبان سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: سیدھے رہو اور تم شمار نہیں کیے جاؤ گے جان لو بے شک افضل ابو بدر نے یہ الفا ظ بیان کیے ہیں کہ تمہارے اعمال میں سے بہتر نماز ہے اور وضؤ پر محافظت صرف مومن کرتا ہے ۔

أبو بدر من خير أعمالكم الصلاة ولن يحافظ على الوضوء إلا مؤمن ← استقيموا ولن تحصوا واعلموا أن من أفضل ← النَّبِيِّ ← ثَوْبَانَ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← سُلَيْمَانَ بْنَ مِهْرَانَ الْأَعْمَشَ ← محمد بن عبيد الطنافسي وأبو بدر شجاع بن الوليد ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Combining the doors of the year of ablution and imposing it · Hadith 384

Sahih

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب سنة الوضوء وفرضه · حديث 385

[ 390 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو زكريا يحيى بن إبراهيم وأبو بكر بن الحسن قالوا أنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنا بن وهب قال أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بحر بن نصر قال قرئ على عبد الله بن وهب أخبرك عمرو بن الحارث أن الحكم بن عبد الله القرشي حدثه أن نافع بن جبير وعبد الله بن أبي سلمة حدثاه أن معاذ بن عبد الرحمن حدثه عن حمران مولى عثمان عن عثمان بن عفان قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من توضأ للصلاة فأسبغ الوضوء ثم مشى إلى الصلاة المكتوبة فصلاها مع الناس أو مع الجماعة أو في المسجد غفر له ذنبه أخرجه مسلم بن الحجاج في الصحيح عن أبي الطاهر وغيره عن بن وهب

سیدنا عثمان بن عفان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپﷺ فرماتے تھے : جس نے نماز کے لیے مکمل وضو کیا پھر فرض نماز پڑھنے کے لیے چلا اور اس نے لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ یا مسجد میں نماز ادا کی تو اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔

قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← بن وَهْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو بكر بن الحسن ← أبو زكريا يحيى بن إبراهيم، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Combining the doors of the year of ablution and imposing it · Hadith 385

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب سنة الوضوء وفرضه · حديث 386

[ 391 ] أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ويحيى بن إبراهيم بن محمد بن يحيى وأحمد بن الحسن ومحمد بن عبد الرحمن بن محمد بن محبوب الدهان قالوا أنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنا بن وهب ح قالوا وأخبرنا أبو العباس ثنا بحر بن نصر قال قرئ على بن وهب أخبرك مالك بن أنس عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال ألا أخبركم بما يمحو الله به الخطايا ويرفع به الدرجات إسباغ الوضوء على المكاره وكثرة الخطا إلى المساجد وانتظار الصلاة بعد الصلاة فذلكم الرباط فذلكم الرباط فذلكم الرباط

386 –سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تم کو نہ بتلاؤں کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اور درجات بلند کر دیتا ہے نا گواری میں مکمل وضو کرنا مسجدوں کی طرف زیادہ جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری کا انتظار کرنا : یہ رباط ہے تین مرتبہ فرمایا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← قرئ على بن وهب أخبرك مالك بن أنس ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← بن وَهْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← محمد بن عبد الرحمن بن محمد بن محبوب الدهان ← أَحْمَدُ بْنُ الحَسَنِ ← يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Combining the doors of the year of ablution and imposing it · Hadith 386

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب سنة الوضوء وفرضه · حديث 387

وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن موسى الأنصاري وعبد الرحمن بن بشر العبدي قالا ثنا معن بن عيسى نا مالك فذكره بنحوه ورواه مسلم بن الحجاج في الصحيح عن إسحاق بن موسى

387 - مالک نے اس حدیث کو پچھلی روایت کی طرح بیان کیا ہے ۔

إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَی ← مالك فذكره بنحوه ورواه مسلم بن الحجاج في الصحيح ← مَعْن بن عيسی ← إسحاق بن موسى الأنصاري وعبد الرحمن بن بشر العبدي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Combining the doors of the year of ablution and imposing it · Hadith 387

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب سنة الوضوء وفرضه · حديث 388

[ 392 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال أخبرني أبو النضر الفقيه نا محمد بن أيوب نا إسماعيل بن أبي أويس قال حدثني مالك ح وأخبرنا أبو أحمد عبد الله بن محمد بن الحسن المهرجاني نا أبو بكر محمد بن جعفر المزكي ثنا محمد بن إبراهيم البوشنجي نا بن بكير نا مالك عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج إلى المقبرة فقال السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون وددت أني قد رأيت إخواننا قالوا يا رسول الله أو لسنا بإخوانك قال بل أنتم أصحابي وإخواننا الذين لم يأتوا بعد وأنا فرطهم على الحوض قالوا يا رسول الله كيف تعرف من يأتي بعدك من أمتك قال أرأيت لو كان لرجل خيل غر محجلة في خيل دهم بهم ألا يعرف خيله قالوا بلى يا رسول الله قال فإنهم يأتون يوم القيامة غرا محجلين من الوضوء وأنا فرطهم على الحوض فليذادن رجال عن حوضي كما يذاد البعير الضال أناديهم ألا هلم ألا هلم ألا هلم ثلاثا فيقال إنهم قد بدلوا فأقول فسحقا فسحقا فسحقا

388 – سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ قبر ستان کی طرف نکلے تو دعا پڑھی اے اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: تممیرے صحابہ ہو اور میرے وہ بھائی وہ ہیں جو ابھی تک ہیں آئے اور میں ان کا حوض پر اانتظار کروں گا صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ اپنی امت کے اس شخص کو کس طرح پہنچا نو گے ؟ آپ ْ نے فرمایا مجحے بتأ اگر ایک شخص کے پاس انتہاءی سیاہ گھوڑوں میں سفید پیشانی والے ہوں تو کیا وہ اپنے گھورے کو پہچان لے گا ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ! آپﷺ نے فرمایا: بے شک وہ قیامت دن آئیں گے اور ان کے وضؤ کے اعضا چمک رہے ہوں گے اور میں ان کا حوض پر انتظار کروں گا اور کچھ لوگ میرے حوض سے اس طرح ہٹا دیے جائیں گے جس طرح آوارہ ہٹایا جاتا ہے میں ان کو بلاؤں گا کہ آجاؤ آجاؤ آجاؤ تین مرتبہ کہوں گا تو کہا جائے گا انہوں نے آپ کے بعد دین کو بدل دیا تو میں جہوں گا : دور رہو دور رہو دور رہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مَالِكٍ، ← بن بكير ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ← وأخبرنا أبو أحمد عبد الله بن محمد بن الحسن المهرجاني ← مَالِكٍ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Combining the doors of the year of ablution and imposing it · Hadith 388

chevron_left Previous
1…161718…21
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead