Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب الفرائض ‹ جماع أبواب الجد · حديث 12429

[ 12209 ] أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنا عبد الله بن جعفر بن درستويه ثنا يعقوب بن سفيان حدثني أبو طاهر أحمد بن عمرو بن السرح أنا بن وهب أخبرني عبد الرحمن بن أبي الزناد قال أخذ أبو الزناد هذه الرسالة من خارجة بن زيد بن ثابت ومن كبراء آل زيد بن ثابت بسم الله الرحمن الرحيم لعبد الله معاوية أمير المؤمنين من زيد بن ثابت فذكر الرسالة بطولها وفيها ولقد كنت كلمت أمير المؤمنين عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه في شأن الجد والأخوة من الأب كلاما شديدا وأنا يومئذ أحسب أن الأخوة أقرب حقا في أخيهم من الجد ويرى هو يومئذ أن الجد هو أقرب من الأخوة فطال تحاورنا فيه حتى ضربت له بعض بنيه مثلا بميراث بعضهم دون بعض فأقبل علي كالمغتاظ فقال والله الذي لا إله إلا هو لو أني قضيت اليوم بعضهم دون بعض لقضيته للجد ولرأيت أنه أولى به ولكن لعلهم أن يكونوا ذوي حق ولعلي لا أخيب سهم أحد منهم وسوف أقضي بينهم ان شاء الله تعالى نحو الذي أرى يومئذ فحسبته وأستغفر الله ان ذلك من آخر كلام حاورت فيه أمير المؤمنين عمر في شأن الجد والاخوة ثم حسبت أنه كان يقسم بعدهم ثم أمير المؤمنين عثمان بن عفان رضى الله تعالى عنه بين الجد والاخوة نحو الذي كتبت به إليك في هذه الصحيفة وحسبت اني قد وعيت ذلك فيما حضرت من قضائهما وزاد فيه غيره عن بن أبي الزناد عن أبيه عن خارجة بن زيد عن أبيه أن عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه لما استشارهم في ميراث الجد والاخوة قال زيد وكان رأيي يومئذ ان الاخوة هم أولى بميراث أخيهم من الجد وعمر بن الخطاب يرى يومئذ ان الجد أولى بميراث بن ابنه من إخوته قال زيد فضربت لعمر رضى الله تعالى عنه في ذلك مثلا فقلت له لو أن شجرة تشعب من أصلها غصن ثم تشعب من ذلك الغصن خوطان ذلك الغصن يجمع ذينك الخوطين دون الأصل ويغذوهما ألا ترى يا أمير المؤمنين أن أحد الخوطين أقرب إلى أخيه منه إلى الأصل قال زيد أضرب له أصل الشجرة مثلا للجد واضرب الغصن الذي تشعب من الأصل مثلا للأب وأضرب الخوطين اللذين تشعبا من الغصن مثلا للأخوة

12429 - عبدالرحمٰن بن ابی زناد نے خبر دی کہ ابو زناد نے یہ رسالہ خارجہ بن زید اور آل زید بن ثابت کے بڑے لوگوں سے لیا ہے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اللہ کے بندے معاویہ امیر المومنین کے لیے زید بن ثابت کی طرف سے ہے پس رسالہ کی لمبائیاور جو اس میں ٹھا اس کا ذکر کیا تحقیق میں نے عمر بن خطاب سے دادا کے بارے میں کافی سخت بات کی ہے اور علاقی بھائیوں کے بارے میںآ ور اس دن میرے خیال میں بھائی اپنے بھائیوں کی وجہ سے دادا سے زیادہ قریبی حق دار ہے اور عمر کا خیال تھا کہ داد ا بھائیوں سے زیادہ حق دار ہے ہم دونوں کی باتیں لمبی ہو گئیں یہاں تک ک ہ میں نے بعض بیٹوں کی بعض کے ساتھ میراث کی مثال بیان کی علی غصہ کی حالت میں آگئے اور کہا: اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی الہۃ نہیں اگر میں آج اس بارے فیصلہ کرتا تو دادا کے حق میں فیصلہ کرتا اور میرے خیال وہ ا س کا زیادہ حق دار ہے لیکن ہو سکتا ہے وہ حق والے ہوں اور شاید می ان میں سے کسی حصہ دار کو محروم نہ کروں اور عنقریب اگر اللہ نے چاہا تو میں ان کے درمیان فیصلہ کروں گا اسی طرح جس طرح میں اس دن خیال کرتا ہوں اور میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور بے شک یہ آخر ی باتیں ہیںھو میں نے دادا اور بھائی کے بارے میں عمر بن خطاب سے کیں ہیں پھر میں نے خیال کیا کہ وہ اس کے بعد ان میں تقسیم کریں گے ۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← بن وَهْبٍ ← أَبُو طَاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Obligations › Intercourse with grandparents' doors · Hadith 12429

سنن الکبری البھیقی · كتاب الفرائض ‹ جماع أبواب الجد · حديث 12430

[ 12210 ] أخبرنا أحمد بن علي الأصبهاني الحافظ أنا إبراهيم بن عبد الله أنا إسماعيل بن إبراهيم بن الحارث القطان ثنا الحسن بن عيسى أنا بن المبارك أنا سفيان عن عيسى المدني عن الشعبي قال كان من رأي أبي بكر وعمر رضى الله تعالى عنهما أن يجعلا الجد أولى من الأخ وكان عمر يكره الكلام فيه فلما صار عمر جدا قال هذا أمر قد وقع لا بد للناس من معرفته فأرسل إلى زيد بن ثابت فسأله فقال كان من رأي أبي بكر رضى الله تعالى عنه ان نجعل الجد أولى من الأخ فقال يا أمير المؤمنين لا تجعل شجرة نبتت فانشعب منها غصن فانشعب في الغصن غصن فما يجعل الغصن الأول أولى من الغصن الثاني وقد خرج الغصن من الغصن قال فأرسل إلى علي رضى الله تعالى عنه فسأله فقال له كما قال زيد إلا أنه جعل سيلا سأل فانشعبت منه شعبة ثم انشعبت منه شعبتان فقال أرأيت لو أن هذه الشعبة الوسطى رجع أليس إلى الشعبتين جميعا فقام عمر رضى الله تعالى عنه فخطب الناس فقال هل منكم من أحد سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر الجد في فريضة فقام رجل فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكرت له فريضة فيها ذكر الجد فأعطاه الثلث فقال من كان معه من الورثة قال لا أدري قال لا دريت ثم خطب الناس فقال هل أحد منكم سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر الجد في فريضة فقام رجل فقال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم ذكرت له فريضة فيها ذكر الجد فأعطاه رسول الله صلى الله عليه وسلم السدس قال من كان معه من الورثة قال لا أدري قال لا دريت قال الشعبي وكان زيد بن ثابت يجعله أخا حتى يبلغ ثلاثة هو ثالثهم فإذا زادوا على ذلك أعطاه الثلث وكان علي بن أبي طالب رضى الله تعالى عنه يجعله أخا حتى يبلغ ستة هو سادسهم فإذا زادوا على ذلك أعطاه السدس

12430 –شعی فرماتے ہیں: میری رائے ہے کہ ابو بکر اور عمر کی رائے یہ تھی کہ دادا بھائی سے زیادہ حق دار ہے اور عمر اس میں کلا م کرنے کو ناپسند کرتے تھے جب عمر دادا بن گئے تو کہا: ایسا معاملہ بن گیا ہے کہ لوگوں کے لیے اس کی پہچان ضروری ہے پس زید بن ثابت سےس وال کیا کہ ابو بکر کی رائے ہے کہ ہم ھد کو بھائی سے زیادہ حق دار رکھیں زید نے کہا اے امیر المومنین ! آپ نہ بتائیں ایسا درخت کہ وہ اگے اس سے ایک ٹہنی نکلے اس ٹہنی سے ایک اور ٹہنی نکلے پس کیسے پہلی ٹہنی دوسرت ست افضل بن گئی حالانکہ وہ اسی سے نکلی ے ھر عمر نے حضرت علی سے سوال کیا تو انہوں نے بھی زید کی مانند کہا مگر انہوں نےد ریا کی طرح کاہ کہ وہ بہا اس سے ایک حصہ علیحدہ ہو جاتے ہیں پھر کہا : آپ کا کیا خیال ہے اگر درمیا والا حقہ علیحدہ ہو جائے تو کای دونوں حصہ مل نہ جائیں گے ؟ حضرت عمر کھڑے ہوئے لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: کیا تم میں سے کوئی ہے جس نے رسول اللہﷺ سے دادا کے بارے میں سا ہو؟ ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپ کے سامنے فرائض کا ذکر کیا گیا تو اس میں دادا بھی شامل تھا آپﷺ نے دادا کو ثلث دیا عمر نے کہا اس کے ساتھ اور کون وارث تھا اس نے کہا میں نہیں جانتا عمر نے کہا: تو نے جانے پھر لوھوں کو خطبہ دیا اور کہا کیا تم می سے کوئی ہے جس نے رسول اللہﷺ سے دادا کے حصہ کے بارے سنا ہو۔ ایک آدمی کھڑا ہوا س نے کہا: میں نے سنا ہے رسول اللہﷺ سے آپ کے سامنے فرائض کا ذکر کیا گیا اس میں دادا بھی شامل تھا آپﷺ نے اسے سدس دیا عمر نے کہا اس کے ساتھ اور کون وارث تھا ؟ اس نے کہا: میں نہیں جانتا عمر نے کہا تو نہ جانے ۔

كان من رأي أبي بكر وعمر رضى الله تعالى عنهما ← الشَّعْبِيِّ، ← عِيسَى الْمَدَنِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← بن الْمُبَارَكِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عِيسَی ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أحمد بن علي الأصبهاني الحافظ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Obligations › Intercourse with grandparents' doors · Hadith 12430

Daif

سنن الکبری البھیقی · كتاب الفرائض ‹ جماع أبواب الجد · حديث 12431

[ 12211 ] ورواه عبد الله بن الوليد العدني عن سفيان بمعناه إلا أنه قال فقال زيد يا أمير المؤمنين لا تجعل شجرة نبتت فانشعب منها غصن فانشعب في الغصن غصنان فما جعل الأول أولى من الثاني وقد خرج الغصنان من الغصن الأول فأرسل إلى علي رضى الله تعالى عنه فسأله فقال لعلي رضى الله تعالى عنه كما قال لزيد فقال علي كما قال زيد إلا أن عليا جعله سيلا سأل فانشعبت منه شعبة ثم انشعبت منه شعبتان فقال أرأيت لو أن ماء هذه الشعبة الوسطى يبس أكان يرجع إلى الشعبتين جميعا أخبرناه أبو بكر الأردستاني ثنا أبو نصر العراقي ثنا سفيان بن محمد ثنا علي بن الحسن ثنا عبد الله بن الوليد فذكره قال الشيخ وكان عبد الله بن مسعود يشرك بين الجد والأخوة والأخوات لأب وأم أو لأب

12431 - حضرت زید نے کہا: اے امیر المومنین ! نہ آپ بنائی درخت کو کہ وہ اُگے اس سے ٹہنی نکلے اس ٹہنی سے دوٹہنیاں نکلیں پس کیسے پہلی کو دوسری سے اعلیٰ بناتے ہو حالانکہ دونوں پہلی سے نکلیں پس کیسے پہلی کو دوسری سے اعیلیٰ بناتے ہو حالانکہ دوںؤں پہلئی سے نکلیں ہیں پس عمر نے حضرت علی سے سوال کیا اور جو زید سے کہا تھا وہی کہا حضرت علی نے بھی زید کی مانند کہا مگر علی نے دریا کی طرح بنایا جو بہتا ہے اس سے ایک حصہ جدا ہوتا ہے پھر اس سے دو حصے جدا ہوتے ہیں اور کہا آپ کا کیا خیال ہے اگر دمریان والے حصہ کا پانی خشک ہو جائے تو کای دونوں حصے مل جائیں گے ؟

سفيان بمعناه إلا ← وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Obligations › Intercourse with grandparents' doors · Hadith 12431

Daif

سنن الکبری البھیقی · كتاب الفرائض ‹ جماع أبواب الجد · حديث 12432

[ 12212 ] أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن نصر ثنا الحسن بن عيسى أنا بن المبارك ح وأخبرنا أحمد بن علي الحافظ أنا إبراهيم بن عبد الله أنا إسماعيل بن إبراهيم بن الحارث القطان ثنا الحسن بن عيسى أنا بن المبارك أنا يونس عن الزهري قال حدثني سعيد بن المسيب وعبيد الله بن عبد الله بن عتبة وقبيصة بن ذؤيب أن عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه قضى ان الجد يقاسم الأخوة للأب والأم والأخوة للأب ما كانت المقاسمة خيرا له من ثلث المال فإن كثرت الأخوة أعطى الجد الثلث وكان للأخوة ما بقي للذكر مثل حظ الأنثيين وقضى ان بني الأب والأم أولى بذلك من بني الأب ذكورهم واناثهم غير أن بني الأب يقاسمون الجد لبني الأب والأم فيردون عليهم ولا يكون لبني الأب مع بني الأب والأم شيء إلا أن يكون بنو الأب يردون على بنات الأب والأم فإن بقي شيء بعد فرائض بنات الأب والأم فهو للأخوة للأب للذكر مثل حظ الأنثيين

قبیصہ بن زوئب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے دادا کی تقسیم کا فیصلہ کیا حقیقی اور علاقی بھائیوں کے ساتھ کہ ثلث مال سے جوان کے لیے بہتر ہو اگر بھائی زیادہ ہوں تو دادے کو ثلث اور بھائیوں کے لیے باقی ماندہ ہوگا کے تحت اور فیصلہ کیا کہ حقیقی اولاد علاقی اولاد مذکر ہو یا مونث سے زیادہ حق دار ہے اس کے علاوہ کہ علاقی بھائی حقیقی بہن بھائیوں کی مقاسمہ جد میں ہوں تو وہ حقیقی بہن بھائیوں پر لوٹائی جائے گی۔

الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← بن الْمُبَارَكِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عِيسَی ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أحمد بن علي الحافظ ← بن الْمُبَارَكِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عِيسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Obligations › Intercourse with grandparents' doors · Hadith 12432

سنن الکبری البھیقی · كتاب الفرائض ‹ جماع أبواب الجد · حديث 12433

[ 12213 ] أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد ثنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان حدثني أبو طاهر أنا بن وهب أخبرني عبد الرحمن بن أبي الزناد قال أخذ أبو الزناد هذه الرسالة من خارجة بن زيد بن ثابت ومن كبراء آل زيد بن ثابت بسم الله الرحمن الرحيم لعبد الله معاوية أمير المؤمنين من زيد بن ثابت فذكر الرسالة بطولها وفيها أني رأيت من نحو قسم أمير المؤمنين يعني عمر رضى الله تعالى عنه بين الجد والأخوة من الأب إذا كان أخا واحدا ذكرا مع الجد قسم ما ورثها بينهما شطرين فإن كان مع الجد أخت واحدة قسم لها الثلث فإن كانتا اختين مع الجد قسم لهما الشطر وللجد الشطر فإن كان مع الجد أخوان فإنه يقسم للجد الثلث فإن كانوا أكثر من ذلك فإني لم أره حسبت ينقص الجد من الثلث شيئا ثم ما خلص للأخوة من ميراث أخيهم بعد الجد فإن بني الأب والأم هم أولى بعضهم من بعض بما فرض الله لهم دون بني العلة فلذلك حسبت نحوا من الذي كان عمر أمير المؤمنين يقسم بين الجد والأخوة من الأب ولم يكن يورث الاخوة من الأم الذين ليسوا من الأب مع الجد شيئا قال ثم حسبت أمير المؤمنين عثمان بن عفان رضى الله تعالى عنه كان يقسم بين الجد والأخوة نحو الذي كتبت به إليك في هذه الصحيفة

12433 - عبدالرحمٰن بن ابو الزناد کہتے ہیں: یہ رسالتہ ابو الزناد نے خارجہ بن زید اور آل زید ب ثابت کے بڑوں سے لیا ہے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اللہ کے بندے معاویہ امیر المومنین کے لیے زیہد بن ثابت کی طرف سے ہے اس کےلمبا ہونے اور جو اس میںٹ ھا اس کا ذکر کیا او ر میں نےا میر المومنین عمر بن خطاب کی تقسیمدادا اور علاقی بھائیوں کے درمیان کو دیکھا جب ایک بھائی ہو دادا کے ساتھ تو دونوں کے درمیان وراثت دو حصوں میں تقسیم ہو گی اگر دادا کے ساتھ ایک بہن ہو تو بہن کے لیے ثلث اور اگر دادا کے ستاھ دو ہوں تو دونوں کے لیے نصف اور نصف دادا کے لہے اگر دادا کے ساتھ دو بھائی ہوں تو دادا کے لیے ثلث اور اگر بھائی زیادہ ہوں تو میرےخیال میں وہ ثلث سے کچھ بھی کم نہ کرتے تھے ۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← بن وَهْبٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Obligations › Intercourse with grandparents' doors · Hadith 12433

سنن الکبری البھیقی · كتاب الفرائض ‹ جماع أبواب الجد · حديث 12434

[ 12214 ] وأخبرنا أبو أحمد المهرجاني ثنا أبو بكر محمد بن جعفر المزكي ثنا محمد بن إبراهيم ثنا بن بكير ثنا مالك بن أنس عن يحيى بن سعيد أنه بلغه أن معاوية بن أبي سفيان رضى الله تعالى عنه كتب إلى زيد بن ثابت يسأله عن الجد فكتب إليه زيد بن ثابت انك كتبت إلي تسألني عن الجد والله أعلم وذلك ما لم يكن يقضي فيه إلا الأمراء يعني الحلفاء وقد حضرت الخليفتين قبلك يعطيانه النصف مع الأخ الواحد والثلث مع الإثنين فإن كثر الأخوة لم ينقصاه من الثلث قال وأنا مالك أنه بلغه عن سليمان بن يسار أنه قال فرض عمر بن الخطاب وعثمان بن عفان وزيد بن ثابت رضى الله تعالى عنهم للجد الثلث مع الأخوة

12434 - حضرت معاویہ بن ابی سفیان نے زید بن ثابت کو خط لکھا اور دادے کے بارے میں سوال کیا زید بن ثابت نے جواب دیا کہ آپ نے مجھ سے داداے کے بارے میں صوال کیا ہے اللہ بہتر جانتے ہیں اور اس مسئلہ میں کلفاء فیصلہ کرتے تھے میں آپ سے پہلے دو خلفا کے پاس گیا ہوں وہ دونوں دادے کو ایک بھائی کے ساتھ نصف دیتے تھے اور دو بھائیوں کے ساتھ ثلث دیتےت ھے اگر بھائی زیادہ ہوتے تو ثلث سے کم نہ کرتے تھے ۔

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مالک بن أنس ← بن بكير ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ← أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Obligations › Intercourse with grandparents' doors · Hadith 12434

سنن الکبری البھیقی · كتاب الفرائض ‹ جماع أبواب الجد · حديث 12435

[ 12215 ] أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله بن يعقوب ثنا محمد بن نصر ثنا إسحاق من كتابه أنا جرير عن الأعمش عن إبراهيم عن عبيدة السلماني قال كان علي رضى الله تعالى عنه يعطي الجد مع الأخوة الثلث وكان عمر رضى الله تعالى عنه يعطيه السدس وكتب عمر إلى عبد الله رضى الله تعالى عنهما إنا نخاف أن نكون قد أجحفنا بالجد فأعطه الثلث فلما قدم علي رضى الله تعالى عنه ههنا أعطاه السدس فقال عبيدة فرأيهما في الجماعة أحب إلي من رأي أحدهما في الفرقة

12435 – عبیدہ سلیمانی فرماتے ہیں کہ حضرت علی دادے کو بھائیوں کے ساتھ ثلث دیتے تھے اور عمر سدس دیتے تھے جب علی یہاں آئے تو سدس دیتے تھے عبیدہ نے کہا: ان دونوں کی رائے تمام جماعت میں میرے نزدیک کسی ایک کی رائے کی یہ نسبت زیادہ پسندیدہ ہے ۔

عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Obligations › Intercourse with grandparents' doors · Hadith 12435

سنن الکبری البھیقی · كتاب الفرائض ‹ جماع أبواب الجد · حديث 12436

[ 12216 ] وأخبرنا أبو سعيد أنا عبد الله ثنا محمد بن نصر ثنا محمد بن بشار حدثنا عبد الرحمن ثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم عن عبيد بن نضلة أن علي بن أبي طالب رضى الله تعالى عنه كان يعطي الجد الثلث ثم تحول إلى السدس وأن عبد الله كان يعطيه السدس ثم تحول إلى الثلث

12436 – عبیدہ بن نفیلہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب دادے8 کو ثلث دیتے تھے پھر سدس دینا شروع کر دیا اور عبداللہ پہلے سدس دیتے تھے پھر ثلث پر آگئے ۔

إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Obligations › Intercourse with grandparents' doors · Hadith 12436

سنن الکبری البھیقی · كتاب الفرائض ‹ جماع أبواب الجد · حديث 12437

[ 12217 ] أخبرنا أبو سعيد أنا أبو عبد الله ثنا محمد بن نصر ثنا يحيى بن يحيى أنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن عبيد بن نضلة قال كان عمر وعبد الله يقاسمان بالجد مع الاخوة ما بينه وبين أن يكون السدس خيرا له من مقاسمتهم ثم ان عمر كتب إلى عبد الله ما أرانا إلا قد أجحفنا بالجد فإذا جاءك كتابي هذا فقاسم به مع الاخوة ما بينه وبين أن يكون الثلث خيرا له من مقاسمتهم فأخذ بذلك عبد الله

12437 – عبیدہ بن نفیلہ فرماتے ہیںکہ حضرت عمر اور عبداللہ دونوں دادے کے لیے بھائیوں کے ساتھ سدس بہتر سمجھتے تھے پھر عمر نے عبداللہ کی طرف لکھا کہ ہم نے مقاسمتہ الجد میں اپنی رائے زیادتی کی ہے یعنی نقصان پہنچایا ہے جب تیرے پاس میرا خط آئے تو ان کے دمریان ثلث کی تقسیم رکھنا یہ بہتر تقسیم ہے پس عبداللہ نے اسی پر عمل لیا۔

عبيد بن نضلة ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Obligations › Intercourse with grandparents' doors · Hadith 12437

سنن الکبری البھیقی · كتاب الفرائض ‹ جماع أبواب الجد · حديث 12438

[ 12218 ] أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن نصر ثنا يحيى بن يحيى أنا وكيع عن سفيان عن فراس عن الشعبي قال كتب بن عباس إلى علي رضى الله تعالى عنهما يسأله عن ستة أخوة وجد فكتب إليه اجعله كأحدهم وامح كتابي

12438 - شعی کہتے ہیں: ابن عباس نے حضرت علی کو لھا کہ چھ بھائی اور دادے کے بارے میں بتائیں حضرت علی نے جواب دیا : اسے بناؤ گویا کہ وہ ان میں سے کوئی ایک ہے اور میرے خط میں مٹا دے ۔

ستة أخوة وجد فكتب إليه اجعله كأحدهم وامح كتابي ← بن عباس إلى علي رضى الله تعالى عنهما يسأله ← الشَّعْبِيِّ، ← فِرَاسٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Obligations › Intercourse with grandparents' doors · Hadith 12438

سنن الکبری البھیقی · كتاب الفرائض ‹ جماع أبواب الجد · حديث 12439

[ 12219 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب أنا يزيد بن هارون أنا قيس بن الربيع عن أبي إسحاق الشيباني عن الشعبي قال كتب بن عباس إلى علي رضى الله تعالى عنهما من البصرة في ستة أخوة وجد فكتب إليه علي رضى الله تعالى عنه ان أعطه سبع المال

12439 - شعی کہتے ہیں: ابن عباس نے حضرت علی کو بصرہ سے لکھا کہ چھ بھائیوں اور دادے کے بارے میں فیصلہ کریں تو علی نے جواب دیا اسے مال کا ساتواں حصہ دے دو۔

الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Obligations › Intercourse with grandparents' doors · Hadith 12439

سنن الکبری البھیقی · كتاب الفرائض ‹ جماع أبواب الجد · حديث 12440

[ 12220 ] أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو وأخبرنا أبو عبد الله بن يعقوب ثنا محمد بن نصر ثنا عبيد الله بن معاذ ثنا أبي ثنا شعبة عن عمرو بن مرة قال سمعت عبد الله بن سلمة يحدث عن علي بن أبي طالب رضى الله تعالى عنه أنه كان يجعل الجد أخا حتى يكون سادسا

12440 – عبداللہ بن سلمہ حضرت علی سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ دادے کو بھائی کی مانند بناتے تھے یہاں تک کہ وہ چھ ہو جائیں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Obligations › Intercourse with grandparents' doors · Hadith 12440

chevron_left Previous
1234…31
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead