سنن الکبری البھیقی · كتاب الفرائض ‹ جماع أبواب الجد · حديث 12429
[ 12209 ] أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنا عبد الله بن جعفر بن درستويه ثنا يعقوب بن سفيان حدثني أبو طاهر أحمد بن عمرو بن السرح أنا بن وهب أخبرني عبد الرحمن بن أبي الزناد قال أخذ أبو الزناد هذه الرسالة من خارجة بن زيد بن ثابت ومن كبراء آل زيد بن ثابت بسم الله الرحمن الرحيم لعبد الله معاوية أمير المؤمنين من زيد بن ثابت فذكر الرسالة بطولها وفيها ولقد كنت كلمت أمير المؤمنين عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه في شأن الجد والأخوة من الأب كلاما شديدا وأنا يومئذ أحسب أن الأخوة أقرب حقا في أخيهم من الجد ويرى هو يومئذ أن الجد هو أقرب من الأخوة فطال تحاورنا فيه حتى ضربت له بعض بنيه مثلا بميراث بعضهم دون بعض فأقبل علي كالمغتاظ فقال والله الذي لا إله إلا هو لو أني قضيت اليوم بعضهم دون بعض لقضيته للجد ولرأيت أنه أولى به ولكن لعلهم أن يكونوا ذوي حق ولعلي لا أخيب سهم أحد منهم وسوف أقضي بينهم ان شاء الله تعالى نحو الذي أرى يومئذ فحسبته وأستغفر الله ان ذلك من آخر كلام حاورت فيه أمير المؤمنين عمر في شأن الجد والاخوة ثم حسبت أنه كان يقسم بعدهم ثم أمير المؤمنين عثمان بن عفان رضى الله تعالى عنه بين الجد والاخوة نحو الذي كتبت به إليك في هذه الصحيفة وحسبت اني قد وعيت ذلك فيما حضرت من قضائهما وزاد فيه غيره عن بن أبي الزناد عن أبيه عن خارجة بن زيد عن أبيه أن عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه لما استشارهم في ميراث الجد والاخوة قال زيد وكان رأيي يومئذ ان الاخوة هم أولى بميراث أخيهم من الجد وعمر بن الخطاب يرى يومئذ ان الجد أولى بميراث بن ابنه من إخوته قال زيد فضربت لعمر رضى الله تعالى عنه في ذلك مثلا فقلت له لو أن شجرة تشعب من أصلها غصن ثم تشعب من ذلك الغصن خوطان ذلك الغصن يجمع ذينك الخوطين دون الأصل ويغذوهما ألا ترى يا أمير المؤمنين أن أحد الخوطين أقرب إلى أخيه منه إلى الأصل قال زيد أضرب له أصل الشجرة مثلا للجد واضرب الغصن الذي تشعب من الأصل مثلا للأب وأضرب الخوطين اللذين تشعبا من الغصن مثلا للأخوة
12429 - عبدالرحمٰن بن ابی زناد نے خبر دی کہ ابو زناد نے یہ رسالہ خارجہ بن زید اور آل زید بن ثابت کے بڑے لوگوں سے لیا ہے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اللہ کے بندے معاویہ امیر المومنین کے لیے زید بن ثابت کی طرف سے ہے پس رسالہ کی لمبائیاور جو اس میں ٹھا اس کا ذکر کیا تحقیق میں نے عمر بن خطاب سے دادا کے بارے میں کافی سخت بات کی ہے اور علاقی بھائیوں کے بارے میںآ ور اس دن میرے خیال میں بھائی اپنے بھائیوں کی وجہ سے دادا سے زیادہ قریبی حق دار ہے اور عمر کا خیال تھا کہ داد ا بھائیوں سے زیادہ حق دار ہے ہم دونوں کی باتیں لمبی ہو گئیں یہاں تک ک ہ میں نے بعض بیٹوں کی بعض کے ساتھ میراث کی مثال بیان کی علی غصہ کی حالت میں آگئے اور کہا: اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی الہۃ نہیں اگر میں آج اس بارے فیصلہ کرتا تو دادا کے حق میں فیصلہ کرتا اور میرے خیال وہ ا س کا زیادہ حق دار ہے لیکن ہو سکتا ہے وہ حق والے ہوں اور شاید می ان میں سے کسی حصہ دار کو محروم نہ کروں اور عنقریب اگر اللہ نے چاہا تو میں ان کے درمیان فیصلہ کروں گا اسی طرح جس طرح میں اس دن خیال کرتا ہوں اور میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور بے شک یہ آخر ی باتیں ہیںھو میں نے دادا اور بھائی کے بارے میں عمر بن خطاب سے کیں ہیں پھر میں نے خیال کیا کہ وہ اس کے بعد ان میں تقسیم کریں گے ۔
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← بن وَهْبٍ ← أَبُو طَاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Obligations › Intercourse with grandparents' doors · Hadith 12429
