سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب صفة الصلاة · حديث 2483
[ 2313 ] أخبرنا أبو الحسين بن بشران أخبرنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا محمد بن عبيد الله ثنا عاصم بن علي ثنا أبو عوانة ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ واللفظ أخبرنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه بالطابران ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا موسى بن إسماعيل ثنا أبو عوانه ثنا عبد الملك بن عمير عن جابر بن سمرة قال شكا أهل الكوفة سعدا إلى عمر فعزله واستعمل عليهم عمارا فشكوا حتى ذكروا أنه لا يحسن يصلي فأرسل إليه فقال يا أبا إسحاق إن هؤلاء يزعمون أنك لا تحسن تصلي قال أما أنا والله فإني كنت أصلي بهم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أخرم عنها أصلي صلاة العشاء فأركد في الأوليين وأحذف في الأخريين قال ذاك الظن به يا أبا إسحاق فأرسل معه رجلا أو رجالا إلى أهل الكوفة يسأل عنه أهل الكوفة فلم يدع مسجدا إلا سئل عنه ويثنون معروفا حتى دخل مسجد بني عبس فجلس فقام رجل منهم يقال له أسامة بن قتادة يكنى أبا سعدة قال أما إذا نشدتنا فإن سعدا كان لا يسير بالسرية ولا يقسم بالسوية ولا يعدل في القضية قال سعد أما والله لأدعون الله بثلاث اللهم إن كان عبدك هذا كاذبا قام رياء وسمعة فأطل عمره وأطل فقره وعرضه بالفتن وكان بعد إذ يسئل يقول شيخ كبير مفتون أصابتني دعوة سعد قال عبد الملك فأنا رأيته بعد قد سقط حاجباه على عينيه من الكبر وإنه يتعرض للجواري في الطريق يغمزهن رواه البخاري في الصحيح عن موسى بن إسماعيل
2483 - حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ کوفہ والوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص کی شکایت حضرت عمر سے کی ۔ حضرت عمر نے انہیں معزول کر دیا اور عمار کو کوفہ والوں کا حاکم بنایا ۔ کوفہ والوں نے سعد کی کئی شکایتیں کیں حتیٰ کہ یہ بھی کہہ دیا کہ وہ اچھی طرح نماز پڑھا سکتے ۔ حضرت عمر نے سعد کو بلا بھیجا اور کپا:اے ابو اسحٰق !کوفہ کے لوگ کہتے ہیں: تم اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے ۔انہوں نے عرض کیا:میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان کو اسی طرح نماز پڑھاتا تھا جس طرح رسول اللہﷺ نماز پڑھایا کرتے تھے ۔میں نے اس میں ذرا کو تاہی نہیں کی ۔ میں عشا کی نماز پرھاتا ہوں تو پہلی دو رکعتوں کو لمبا اور بعد والی دو رکعتوں کو ہلکا کرتا ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا: اے ابو اسحٰق ! تم سے یہی گمان تھا۔ حضرت عمر نے ان کے ساتھ ایک یا چند آدمی روانہ کر کے کہا کہ کوفہ والوں سے سعد کی شکایات دریافت کریں۔انہوں نے کوئی مسجد نہ چھوڑی جہاں سعد کے بارے میں نہ پوچھا ہو ۔سب نے ان کی تعریف ہی کی ۔ پھر بنی عبس کی مسجد میں گئے وہاں ایک شخص کھڑا ہوا جس کو اسامہ بن قتادہ کہتے تھے اس کی کنیت ابو سعدہ تھی ۔ اس نے کہا: جب تم ہمیں قسم دیتے ہو سچ یہ ہے کہ سعدکسی فوج کے ساتھ لڑائی کے لیے نہیں جاتے تھے اور مال غنیمت برابر تقسیم نہیں کرتے تھے اور جھگڑے میں انصاف کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے تھے ۔
جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ← أبو عبد الله الحافظ واللفظ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse doors recipe prayer · Hadith 2483
