سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الكلام في الصلاة · حديث 3395
[ 3210 ] قال الوليد وأخبرني الليث بن سعد وعبد الرحمن بن نمر عن بن شهاب أنه حدثهم عن المسور بن مخرمة أنه كان يقول يستأنف قال الشافعي رحمه الله أحب الأقاويل إلي فيه أنه قاطع للصلاة وهذا قول المسور بن مخرمه قال وقول المسور أشبه بقول العامه فيمن ولى ظهرة القبلة عامدا أنه يبتدأ قال ولا يجوز أن يكون في حال لا يحل له فيها الصلاة ما كان بها ثم يبني على صلاته والله أعلم وكان في القديم يقول يبني وقال في الإملاء لولا مذهب الفقهاء لرأيت أن من تحرف عن القبلة لرعاف أو غيره فعليه الاستتيناف ولكن ليس في الآثار إلا التسليم قال ذلك بهذه المسئلة ومسائل أخر وقد رجع في الجديد إلى قول المسور بن مخرمة وبالله التوفيق
3395 – مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ نئے سرےسے نماز دوبارہ سے پرھے ۔ امام شافعی بیان کرتے ہیں : میرے نزدک سب سے بہتر قول یہی ہے کہ اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور یہ مسور بن مخرمہ کا قول ہے اور یہ عام حضرات کے قول کے بہت زیاہد مشابہ ہے ۔ اس بارے میں کہ جب وہ اپنی پیٹھ قبلہ سے پھیر لے یہ یقین رکھتے ہوئے کہ وہ دوبارہ شروع کرے گا ۔ فرماتے ہیں نماز میں کپڑا لٹکانے کی کراہت کا بیان جائز نہیں کہ وہ ایسی حا لت میں ہو جس میں نماز درست نہیں ہوتی پھر اسی طرح اپنی نماز پر بنا رکھے ۔ ان کا قدیم قول اسی پر بنا کے بارے میں ہے ۔ الا ملاء میں کہتے ہیں کہ اگر فقہا ء کے مذاہب نہ ہوتے تو مین یہ رائے دیتا کہ جو بھی قبلہ سے پگر جائے چاہے نکسیر بہنے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے اس کے لیے نماز از سر نو شروع کرنا ضروری ہے ۔ لیکن آثار میں صرف سلام آیا ہے ۔ فرماتے ہیں: یہ اس مسئلہ اور دوسرے مسائل کے بارے میں ہے اور تحقیق انہوں نے اپنے نئے قول میں مسور کے قول کی طرف رجوع بھی کر لیا ہے ۔ وبا اللہ التوفیق ۔
بن شِهَابٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، ← الْوَلِیْدُ
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse doors of speech in prayer · Hadith 3395
